محمد عرفات وانی
بھارت اکثر اپنے نوجوانوں کو قوم کا مستقبل قرار دیتا ہے۔ ہر سال لاکھوں طلبہ اپنی زندگی کے سنہری خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے دن رات محنت کرتے ہیں۔ انہی خوابوں میں ایک خواب ڈاکٹر بننے کا بھی ہوتا ہے اور اس خواب تک پہنچنے کے لیے NEET-UG جیسے مشکل ترین امتحان سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ امتحان صرف چند گھنٹوں کا امتحانی مرحلہ نہیں بلکہ برسوں کی قربانیوں، بے شمار جاگتی راتوں، ذہنی دباؤ، آنسوؤں، دعاؤں اور امیدوں کا حاصل ہوتا ہے۔مگر آج ہندوستان بھر کے لاکھوں طلبہ شدید مایوسی، بے یقینی اور ذہنی اذیت کا شکار ہے کیونکہ NEET-UG 2026 کو منسوخ کر دیا گیا۔ یہ امتحان 3 مئی 2026 کو نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) کے تحت منعقد ہوا تھا مگر بعد میں پیپر لیک اور امتحانی بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آنے کے بعد اسے رد کر دیا گیا۔ بائیس لاکھ سے زائد طلبہ جنہوں نے اس امتحان میں شرکت کی، اب اپنے مستقبل کے حوالے سے شدید اضطراب میں مبتلا ہیں۔رپورٹس کے مطابق معاملے کی شروعات اس وقت ہوئی جب راجستھان میں گردش کرنے والا ایک ’’گس پیپر‘‘ اصل NEET امتحان سے حیران کن حد تک مشابہ پایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق تقریباً 100 سے 120 سوالات خصوصاً بائیولوجی اور کیمسٹری کے، اصل پرچے سے ملتے جلتے تھے۔ یہ مواد مبینہ طور پر واٹس ایپ اور ٹیلیگرام گروپس کے ذریعے بھاری رقم کے عوض فروخت کیا گیا۔معاملہ سنگین ہونے کے بعد راجستھان کی اسپیشل آپریشنز گروپ نے تحقیقات کا آغاز کیا اور کئی مشتبہ افراد کو حراست میں لیا۔ بعد ازاں یہ معاملہ مختلف ریاستوں تک پھیل گیا جس کے بعد حکومتِ ہند نے تحقیقات سنٹرل بیورو آف انویسٹیگیشن (CBI) کے حوالے کر دیں۔ بالآخر NTA نے امتحان منسوخ کرنے اور دوبارہ امتحان لینے کا اعلان کر دیا۔
بعض لوگوں کے لیے شاید یہ محض ایک امتحانی تنازع ہو ،لیکن طلبہ اور والدین کے لیے یہ ایک گہرا انسانی المیہ ہے۔ ہر NEET امیدوار کے پیچھے ایک ایسی داستان چھپی ہوتی ہے جو قربانیوں، جدوجہد اور امیدوں سے عبارت ہوتی ہے۔ بیشتر طلبہ گیارہویں جماعت سے ہی اس امتحان کی تیاری شروع کر دیتے ہیں۔ کئی طلبہ چار چار سال تک مسلسل محنت کرتے ہیں۔ وہ روزانہ بارہ سے سولہ گھنٹے مطالعہ کرتے ہیں، تقریبات سے دور رہتے ہیں، دوستوں سے کٹ جاتے ہیں، ذہنی دباؤ برداشت کرتے ہیں اور اپنی پوری جوانی ایک خواب کے نام کر دیتے ہیں۔ہزاروں طلبہ اپنے گھروں اور خاندانوں سے دور کوٹا، دہلی، حیدرآباد، پٹنہ اور سری نگر جیسے شہروں کا رخ کرتے ہیں تاکہ بہتر کوچنگ حاصل کر سکیں۔ دوسری جانب والدین بھی اپنی اولاد کے خوابوں کی خاطر بے شمار قربانیاں دیتے ہیں۔ بہت سے والدین لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں، قرض لیتے ہیں، اپنی ضروریات قربان کرتے ہیں، صرف اس امید پر کہ ان کا بچہ ایک دن کامیاب ڈاکٹر بن سکے گا۔یہ تیاری صرف کتابوں اور ٹیسٹ پیپرز تک محدود نہیں ہوتی بلکہ یہ مسلسل خوف، بے چینی، ذہنی دباؤ اور مستقبل کی فکر کے ساتھ جینے کا نام ہے۔ طلبہ دن رات اس یقین کے ساتھ محنت کرتے ہیں کہ ایک دن ان کی ایمانداری اور محنت ضرور رنگ لائے گی۔لیکن جب ایک امتحان بدعنوانی، نااہلی اور نظامی ناکامی کی وجہ سے منسوخ ہو جائے تو طلبہ اندر سے ٹوٹ جاتے ہیں۔ ایسے واقعات کا ذہنی اور جذباتی نقصان آسانی سے ناپا نہیں جا سکتا۔ کئی طلبہ جو اچھے نمبروں کی امید رکھتے تھے، اب دوبارہ امتحان کے خوف، ذہنی تھکن اور اعتماد کی کمی کا شکار ہیں۔ ان کے لیے دوبارہ اسی اذیت ناک مرحلے سے گزرنا آسان نہیں۔
یہ واقعہ ایک مرتبہ پھر ہندوستانی نظامِ تعلیم کی سنگین خامیوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ NEET-UG 2026 پہلا امتحان نہیں جو تنازعات کی زد میں آیا ہو۔ گزشتہ چند برسوں میں CUET، SSC، ریلوے ریکروٹمنٹ امتحانات، CTET اور دیگر کئی مسابقتی امتحانات بھی پیپر لیک، تکنیکی خرابیوں، نقل، گریس مارکس اور ناقص انتظامات جیسے مسائل کا شکار رہے ہیں۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ صرف ایک امتحان تک محدود نہیں بلکہ پورا نظام اندر سے کمزور ہو چکا ہے۔آج ہندوستان میں مسابقتی امتحانات ایک بڑی تجارتی صنعت بن چکے ہیں۔ کوچنگ سینٹرز اربوں روپے کے کاروبار میں تبدیل ہو چکے ہیں، جبکہ کرپشن نیٹ ورکس طلبہ کی بے بسی اور خوابوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں پیپر لیک مافیا اور دھوکہ دہی کے گروہ مسلسل مضبوط ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کا سب سے زیادہ نقصان ایماندار اور محنتی طلبہ کو اٹھانا پڑتا ہے۔ایک اور بڑا مسئلہ ہندوستان کا’’سنگل ایگزام سسٹم‘‘ ہے جہاں ایک ہی امتحان پورے مستقبل کا فیصلہ کرتا ہے۔ کروڑوں طلبہ اور محدود مواقع کے درمیان شدید مقابلہ طلبہ کو ذہنی طور پر تباہ کر دیتا ہے۔ کسی طالب علم کی پوری زندگی صرف چند گھنٹوں کے امتحان پر منحصر نہیں ہونی چاہیے۔ان امتحانی نظاموں کی بار بار ناکامی نے طلبہ کے اندر ایک خوفناک عدمِ اعتماد پیدا کر دیا ہے۔ اب طلبہ صرف ناکامی سے نہیں ڈرتے بلکہ ناانصافی سے بھی خوفزدہ ہیں۔ انہیں ڈر ہے کہ برسوں کی محنت کے باوجود بدعنوانی اور لاپرواہی ان کے خواب چھین سکتی ہے۔یہ کسی بھی قوم کے لیے انتہائی خطرناک صورتحال ہے۔ جب طلبہ اپنے اداروں اور نظام پر اعتماد کھو دیتے ہیں تو ملک کا تعلیمی ڈھانچہ کمزور ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ کسی بھی ترقی یافتہ قوم کے لیے ضروری ہے کہ اس کے نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں پُرامید ہوں اور انہیں یقین ہو کہ ان کی محنت ضائع نہیں جائے گی۔اسی لیے NEET-UG 2026 کا یہ بحران حکومت اور تعلیمی اداروں کے لیے ایک سبق بننا چاہیے۔ امتحانی لیک اور دھوکہ دہی میں ملوث افراد کو سخت ترین سزا دی جانی چاہیے، تاکہ مستقبل میں کوئی شخص نوجوانوں کے خوابوں سے کھیلنے کی جرات نہ کر سکے۔ امتحانی نظام میں شفافیت، سیکورٹی اور جوابدہی کو یقینی بنانا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔اس کے ساتھ ساتھ طلبہ کی ذہنی صحت کو بھی سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ ہندوستانی نظامِ تعلیم میں ذہنی دباؤ، اضطراب، ڈپریشن، تنہائی اور ذہنی تھکن جیسے مسائل کو تقریباً نظر انداز کر دیا جاتا ہے، حالانکہ لاکھوں طلبہ خاموشی سے ان مشکلات کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں۔
پالیسی سازوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طلبہ مشینیں نہیں بلکہ جذبات رکھنے والے انسان ہیں۔ ان کے خواب ہیں، احساسات ہیں اور ان کے کندھوں پر اپنے خاندانوں کی امیدیں ہوتی ہیں۔ ایک منسوخ شدہ امتحان صرف ان کے کیریئر کو متاثر نہیں کرتا بلکہ ان کے اعتماد، حوصلے اور ذہنی سکون کو بھی شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ہندوستان اس وقت تک ایک مضبوط اور ترقی یافتہ ملک نہیں بن سکتا جب تک وہ اپنے طلبہ کی جدوجہد کو سنجیدگی سے نہ سمجھے۔ ایسا نظام جہاں بدعنوانی میرٹ کو شکست دے دے، درحقیقت وہ قوم کے مستقبل کو آہستہ آہستہ تباہ کر دیتا ہے۔لہٰذا NEET-UG 2026 کی منسوخی محض ایک امتحانی تنازع نہیں بلکہ ہندوستانی نظامِ تعلیم کی بنیادی خامیوں — یعنی جوابدہی، شفافیت، انصاف اور دیانتداری کی کمی کا واضح ثبوت ہے۔اگر واقعی ایک قوم اپنی آنے والی نسلوں کی فکر کرتی ہے تو اسے یہ یقینی بنانا ہوگا کہ کوئی بھی مخلص اور محنتی طالب علم کبھی نظام کی ناکامیوں کی سزا نہ بھگتے۔ کیونکہ کسی بھی قوم کا مستقبل دراصل انہی کلاس رومز اور امتحانی ہالز میں تشکیل پاتا ہے، جہاں طلبہ اپنی محنت، ایمانداری اور خوابوں پر یقین رکھتے ہیں۔
( رابطہ۔9622881110)