پروفیسر سید وحید اللہ
نماز تراویح کی ادائیگی رمضان المبارک کا ایک خاص عمل ہے ،جس کے ذریعہ بندہ ربّ کائنات اس کے حبیب ؐکی رضا و خوشنودی حاصل کرتا ہے۔ جس طرح روزہ مسلمان کے دن کے لمحات کو عبادت میں تبدیل کردیتا ہے اسی طرح نماز تراویح رات کی ساعتوں کو عبادت سے متبدل کردیتی ہے۔ احناف کے یہاں رمضان المبارک میں ہر روز نماز تراویح ادا کرنا مرد و زن دونوں کے لیے سنت موکدہ ہے ۔ فقہی اصطلاح میں سنت موکدہ نبی کریمؐ اور صحابہ کرام ؓکے اس عمل کو کہتے ہیں، جس پر آپؐ نے اور آپ کے صحابہ کرامؓ تواتر و ہمیشگی اور استمرار و دوام اختیار کیا ہواور بغیر کسی معتبر عذر شرعی آپؐ نے یا آپؐ کے صحابہ کرام نے کبھی ترک نہ کیا ہو۔ جیسے نماز فجر سے قبل دو ، ظہر سے پہلے کی چار اور بعد کی دو، مغرب کے بعد کی دو، عشاء کے بعد کی دو اور نماز جمعہ سے پہلے اور بعد کی چار رکعتیں ۔ ہر مسلمان ان سنتوں کی ادائیگی کا خاص اہتمام کرتا ہے لیکن نماز تراویح کی ادائیگی میں کوتاہی کرتا ہے جبکہ دونوں کا حکم برابر ہے۔ سنت موکدہ درجہ واجب کے قریب ہے چونکہ سنت موکدہ فرائض و واجبات کی تکمیل و حفاظت کا اہم ذریعہ ہے۔سنت موکدہ کو ترک کرنے کی عادت بنالینا انسان کو سخت گناہگار ، مستحق ملامت بلکہ بسا اوقات انسان کو کفر تک پہنچادیتا ہے، لہٰذا ہمیں نماز تراویح سے بے اعتنائی برتنے کی روش کو بدلنا ہوگا چونکہ رمضان المبارک اللہ کی رحمت و مغفرت کے حصول اور جہنم سے نجات پانے کا مہینہ ہے۔ اس مبارک و مقدس مہینہ میں بھی اگر ہم غلط روش اختیار کرتے ہوئے نماز تراویح کی ادائیگی میں کوتاہی سے کام لیں گے تو یہ ہمارے لیے بڑی حرمان نصیبی اور بدبختی کی بات ہوگی۔ آسان الفاظ میں سنت موکدہ کی تعریف یوں بھی بیان کی جاسکتی ہے ،وہ عمل جس کے متعلق حضور اکرمؐ نے مسلمانوں کو تاکید کی ہو اور بہت زیادہ ترغیب دلائی ہو۔اس لئے کتنی معیوب بات ہے کہ جس عمل کی تاکید نبی رحمتؐ نے فرمائی ہو اور اس کی ترغیب دلائی ہو، اس عمل کی جانب ہماری کوئی خاص توجہ نہیں ہوتی،جبکہ ایمانِ کامل کا تقاضہ ہے کہ ہم تمام رشتوں اور تعلقات سے ز یادہ اہمیت و فوقیت نبی پاکؐ کی ذات اطہر اور آپؐ کے فرامین اقدس کو دیں اور تمام رمضان المبارک میں انتہائی خشوع و خضوع کے ساتھ نماز تراویح ادا کریں ،چنانچہ جو لوگ نماز تراویح ادا کرتے ہیں، رحمت عالم نےؐ اُن کے لئے گناہوں کی بخشش و مغفرت کی بشارت سنائی ہے۔بعض لوگ تھکاوٹ، مصروفیات اور وقت کی عدم دستیابی کو بہانا بناکرنماز تراویح کو ترک کردیتے ہیں جبکہ نماز تراویح گھر پر بھی ادا کی جاسکتی ہے ۔رمضان المبارک اللہ تعالی کی رحمت و رافت، بخشش و مغفرت، عنایاتِ خاصہ اور دوزخ سے خلاصی پانے کا بہترین موقع ہے جو رب کائنات نے خاص مسلمانوں کو عطا فرمایا ہے جس کا بنیادی تقاضہ ہے کہ مسلمان اس ماہ مبارک میں ہر عمل صمیم قلب ،خلوص و للہیت اور خوشی و نشاط کے ساتھ انجام دے۔لیکن ایسے مبارک و مقدس مہینے میں بھی بعض مسلمان بالخصوص نوجوان نسل اس عظیم مہینے کی ناقدری کرتے ہوئے ایسے افعال و اعمال کا ارتکاب کررہی ہے جس کی وجہ سے دنیاو آخرت کے تباہ ہونے کے امکانات قوی ہوجاتے ہیں ۔ دین ِاسلام ناراحتی اور ناپسندیدگی سے ادا کئے جانے والے ایسے تمام افعال و اعمال سے بیزار ہے۔ سرتاپا کسالت و سستی سے نماز (تراویح )ادا کرنا بد باطن منافقین کی صفت اور پسندیدہ مشغلہ ہے اور ایسا اشخاص اجر و ثواب کے نہیں بلکہ دُنیوی سزا و اُخروی عذاب اور حسرتناک انجام کے مستحق بن جاتے ہیں۔ قرآن مجید نے اس طرح سے عبادت بجالانے کی صریح الفاظ میں مذمت فرمائی ہے۔ایسے شرمناک حرکات کو عبادت کا نام دینا زمانہ جاہلیت کی اقوام کی علامت تھی ۔ایسے حرکات کرکے ایک طرف ہم رمضان المبارک، نماز تراویح کی ناقدری کررہے ہیں تو دوسری طرف ربّ کی ناراضگی اور عذابِ الٰہی کو دعوت دے رہے ہیں اور مرور زمانہ کے ساتھ ایسے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہاہے۔ جبکہ رمضان المبارک کے پرنور لمحات، مبارک ساعتوں اور نورانی راتوں کا تقاضہ یہ ہے کہ مسلمان کثرت سے ایسے افعال و اعمال بجالائیں، جس کی وجہ سے انہیں جہنم سے آزادی مل جائے۔ لہٰذا ہم تمام مسلمانوں اور بالخصوص والدین کی اولین ذمہ داری بن جاتی ہے کہ وہ بالترتیب اپنے دینی بھائیوں اور اولاد کی اسلامی تعلیمات کے مطابق ایسی تربیت کریں کہ خود انہیں نماز تراویح کی ادائیگی میں کمال درجہ کی لذت و راحت ملے اور انہیں ہر لمحہ قرب خاص میں رہنے کا احساس ہو۔ اگر مسلم نوجوان نسل نماز تراویح کے دوران آخری صفوں میں بیٹھ کر گفتگو کرے گی اور دیگر مصلیوں کی نمازوں میں خلل ڈالنے کا سبب بنے گی تو اس کے لیے والدین بھی بحیثیت سرپرست ربّ کے پاس ماخوذ ہوں گے۔