محمدعرفات وانی
رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے، ایسا مہینہ جو انسان کو خود سے اپنے رب سے اور اپنے اعمال سے دوبارہ جوڑنے کے لیے آتا ہے۔ یہ مہینہ صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں بلکہ دلوں کو زندہ کرنے، نفس کو قابو میں لانے اور زندگی کے بگڑے ہوئے رخ کو درست کرنے کا موقع ہے۔ رمضان کی راتوں کو اللہ تعالیٰ نے خاص برکت عطا فرمائی ہے اور انہی راتوں میں نماز تراویح وہ عبادت ہے جس کے ذریعے مسلمان قرآن پاک سنتے ہیں، اس پر غور کرتے ہیں اور اپنی روح کو غذا فراہم کرتے ہیں۔ تراویح دراصل ایک ایسا روحانی سفر ہے جو ہمیں پورے قرآن سے جوڑتا ہے مگر افسوس کہ آج ہم اس سفر کی قدر و قیمت بھولتے جا رہے ہیں۔
آج اگر ہم رمضان میں مساجد کے حالات پر نظر ڈالیں تو دل دکھ سے بھر جاتا ہے۔ مساجد جو کبھی سکون وقار اور خشوع کا مرکز ہوا کرتی تھیں آج وہاں ایسے مناظر دکھائی دیتے ہیں جو سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں کہ ہم عبادت کو کس رخ پر لے جا رہے ہیں۔ نوجوان نماز تراویح میں کھڑے تو ہوتے ہیں مگر ان کا دل اور دماغ موبائل فون میں قید ہوتا ہے۔ کوئی واٹس ایپ کے پیغامات دیکھ رہا ہے کوئی سوشل میڈیا پر انگلیاں چلا رہا ہے کوئی کرکٹ میچ کا اسکور چیک کر رہا ہے اور کوئی گیم کھیلنے میں مصروف ہے۔ موبائل فون کی روشنی، بار بار جیب میں ہاتھ ڈالنا اور اسکرین پر نظریں جمائے رکھنا صاف بتاتا ہے کہ جسم مسجد میں ہے مگر دل دنیا کے تماشوں میں کھویا ہوا ہے۔
کچھ نوجوانوں کا رویہ تو اس سے بھی زیادہ افسوسناک ہے۔ وہ ہر دو یا چار رکعت کے بعد فوراً فون نکال لیتے ہیں جیسے نماز کوئی بوجھ ہو جسے وقفوں میں برداشت کیا جا رہا ہو۔ تسبیح اور دعا کے وہ قیمتی لمحات جو اللہ سے تعلق مضبوط کرنے کے لیے ہوتے ہیں، اسکور دیکھنے، چیٹ کرنے اور پیغامات بھیجنے میں ضائع ہو جاتے ہیں۔ بعض لوگ دیواروں سے ٹیک لگا کر، بے دلی سے رکوع و سجدہ کرتے ہیں اور دل ہی دل میں یہی سوچتے رہتے ہیں کہ بس کسی طرح نماز ختم ہو جائے۔ ایسی نماز نہ دل کو بدلتی ہے نہ کردار سنوارتی ہے اور نہ ہی رمضان کے اصل مقصد کو پورا کرتی ہے۔
قرآنِ پاک ہمیں بتاتا ہے کہ کامیابی انہی مومنوں کے لیے ہے جو اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔ خشوع کا مطلب یہ ہے کہ انسان جسم اور دل دونوں کے ساتھ اللہ کے سامنے حاضر ہو۔ اگر نماز میں جسم کھڑا ہو مگر دل غافل ہو تو وہ نماز صرف حرکات کا مجموعہ بن کر رہ جاتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان کو نماز سے اتنا ہی حصہ ملتا ہے جتنا وہ توجہ اور سمجھ کے ساتھ ادا کرتا ہے۔ آج ہمارا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہم نماز چھوڑ چکے ہیں بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نماز کو دل سے پڑھنا چھوڑ چکے ہیں۔
اس غفلت کی ایک بڑی وجہ ہمارا مسلسل موبائل اور اسکرین سے جڑا رہنا ہے۔ ہم نے اپنے دل اور دماغ کو ہر وقت مصروف رکھنے کی عادت ڈال لی ہے۔ خاموش بیٹھنا، غور کرنا اور اللہ کے سامنے خود کو مکمل طور پر جھکا دینا ہمیں مشکل لگنے لگا ہے۔ عبادت اب ہمارے لیے سکون کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک ایسی ذمہ داری بن گئی ہے جسے جلدی ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان آتا ہے جاتا ہے مگر ہماری زندگیوں میں کوئی حقیقی تبدیلی نظر نہیں آتی۔
مساجد میں کم سن بچوں کی موجودگی بذات خود خوشی کی بات ہے۔ پانچ یا چھ سال کے بچے اگر مسجد آتے ہیں تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ ان کا رشتہ اللہ کے گھر سے جڑ رہا ہے۔
ایسے بچوں کو مسجد سے روکنا بالکل غلط ہے چاہے وہ شور بھی کریں یا غلطیاں بھی کریں کیونکہ یہی سیکھنے کا وقت ہے مگر مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں گیارہ سال بارہ سال بچوں کو مسجد کا ادب اور نماز کی سنجیدگی نہیں سکھائی جاتی۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ بچے نماز کے دوران مٹھائیاں، چپس اور بسکٹ کھاتے ہیں، ایک دوسرے کو دکھاتے ہیں، بانٹتے ہیں، ہنستے ہیں اور صفوں کے درمیان دوڑتے ہیں۔ مسجد کا ماحول جو سکون اور وقار کی علامت ہونا چاہیے بعض اوقات بازار جیسا بن جاتا ہے۔
بارہ یا تیرہ سال کی عمر کوئی اتنی کم عمر نہیں ہوتی کہ بچے کو سمجھ نہ ہو۔ اس عمر میں اگر نظم و ضبط نہ سکھایا جائے تو آگے چل کر بے حسی عادت بن جاتی ہے۔ بچے وہی سیکھتے ہیں جو وہ دیکھتے ہیں۔ اگر وہ دیکھیں گے کہ بڑے خود نماز میں لاپرواہ ہیں، خود موبائل استعمال کر رہے ہیں تو وہ بھی یہی سمجھیں گے کہ یہ سب معمول کی بات ہے۔ اس لیے اصل ذمہ داری بچوں سے زیادہ بڑوں پر عائد ہوتی ہے۔
یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ اصل قصور صرف بچوں یا نوجوانوں کا نہیں بلکہ والدین، اساتذہ اور پورے معاشرے کا ہے۔ ہم نے بچوں کو مسجد تو بھیج دیا مگر یہ نہیں سکھایا کہ مسجد میں کیسے بیٹھا جاتا ہے، نماز میں کیسے کھڑا ہوا جاتا ہے اور اللہ کے سامنے کیسا ادب ہونا چاہیے۔ والدین خود مسجد میں موبائل فون استعمال کرتے ہیں تو پھر بچوں کو روکنے کا اخلاقی حق بھی کھو دیتے ہیں۔ بچہ زبان سے زیادہ عمل سے سیکھتا ہے اور جب عمل ہی غلط ہو تو تربیت ممکن نہیں رہتی۔
نماز تراویح کے حوالے سے رکعات کا مسئلہ بھی آج کل بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ کوئی بیس رکعت پڑھتا ہے کوئی آٹھ۔ یہ ایک فقہی مسئلہ ہے جس پر علماء کرام نے تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور عام آدمی کو اس پر جھگڑا نہیں کرنا چاہیے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کچھ نوجوان آٹھ رکعت اس لیے پڑھتے ہیں کہ انہیں دلائل معلوم ہیں بلکہ اس لیے کہ یہ آسان ہے، جلدی ختم ہو جاتی ہے اور اس کے بعد فون یا میچ دیکھنے کا وقت مل جاتا ہے بغیر علم اور سمجھ کے صرف سہولت کی بنیاد پر عبادت کا انتخاب کرنا دراصل اپنے ساتھ ناانصافی ہے۔
یہاں یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ نوجوان فطری طور پر برے نہیں ہوتے۔ آج کا نوجوان ایک ایسے دور میں جی رہا ہے جہاں ہر طرف اسکرینیں، نوٹیفکیشنز اور فوری لذتیں موجود ہیں۔ وہ ایک ڈیجیٹل یلغار میں گھرا ہوا ہے۔ اگر اسے صحیح رہنمائی، اچھا ماحول اور عملی مثال ملے تو یہی نوجوان سب سے بہتر ثابت ہو سکتے ہیں۔ نوجوان بگڑے ہوئے نہیں بلکہ الجھے ہوئے ہیں۔ انہیں ڈانٹ اور ذلت نہیں بلکہ محبت، سمجھ اور سمت کی ضرورت ہے۔
ایک نہایت افسوسناک منظر یہ بھی ہے کہ تراویح کے دوران کرکٹ میچ چل رہا ہوتا ہے اور نوجوان نماز پڑھ پڑھ کر اسکور دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ یہ سمجھ نہیں آتا کہ یہ نماز ہے یا کوئی تفریحی سرگرمی۔ مسجد اللہ کا گھر ہے اور اللہ کے گھر میں دنیاوی کھیلوں کا تماشہ لگانا خود سوچنے کا مقام ہے۔ میچ دیکھنا بذات خود گناہ نہیں مگر ہر چیز کا ایک وقت اور ایک حد ہوتی ہے۔ عبادت کے وقت عبادت، اور دنیا کے وقت دنیا یہی توازن اسلام ہمیں سکھاتا ہے۔
یہ مسئلہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا ہے۔ مسجد صرف انفرادی عبادت کی جگہ نہیں بلکہ اجتماعی تربیت کا مرکز ہے۔ اگر مسجد میں بے ترتیبی عام ہو جائے تو اس کا اثر سب پر پڑتا ہے۔ جو شخص خشوع کے ساتھ عبادت کرنا چاہتا ہے اس کی توجہ بھی بٹتی ہے، اس کا دل بھی دکھتا ہے اور آہستہ آہستہ وہ بھی بے دل ہو جاتا ہے۔ یوں ایک فرد کی غفلت کئی لوگوں کی عبادت کو نقصان پہنچا دیتی ہے۔
ہم نے دین کو معلومات تک محدود کر دیا ہے جبکہ دین دراصل تربیت کا نام ہے۔ قرآن پڑھ لینا کافی نہیں جب تک اس کا ادب اور اثر ہمارے کردار میں نظر نہ آئے۔ اگر ایک بچہ قرآن پڑھتا ہو مگر مسجد میں شور کرے اور بڑوں کی بات نہ مانے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ ہم نے اسے الفاظ تو سکھائے مگر معنی نہیں سکھائے۔ دین کا اصل مقصد انسان کو باادب، باکردار اور با شعور بنانا ہے۔
نظم و ضبط کوئی غیر اسلامی تصور نہیں بلکہ عبادت کی روح ہے۔ صفیں سیدھی کرنا، امام کی پیروی کرنا، خاموشی اختیار کرنا اور وقت کی پابندی کرنا یہ سب عبادت کا حصہ ہیں۔ اگر ہم مسجد میں نظم و ضبط سیکھ لیں تو یہی نظم و ضبط ہماری زندگی کے ہر شعبے میں منتقل ہو سکتا ہے مگر افسوس کہ ہم مسجد میں بد نظمی کو معمولی سمجھتے ہیں اور پھر شکایت کرتے ہیں کہ ہماری قوم میں ڈسپلن کیوں نہیں۔
اصلاح کا طریقہ بھی بہت اہم ہے۔ اگر کسی بچے یا نوجوان کو ٹوکا جائے تو سختی، چیخ یا ذلت کے بجائے نرمی اور حکمت سے بات کی جائے۔ سخت لہجہ وقتی خاموشی تو پیدا کر سکتا ہے مگر دلوں کو دور کر دیتا ہے جبکہ محبت بھری نصیحت دل میں اتر جاتی ہے۔ ہمیں یہ خوف نہیں ہونا چاہیے کہ کہیں سمجھانے سے بچے مسجد آنا ہی نہ چھوڑ دیں بلکہ اصل خوف یہ ہونا چاہیے کہ کہیں وہ مسجد آ تو جائیں مگر مسجد ان کی زندگی میں کوئی مثبت تبدیلی نہ لا سکے۔
آخر میں ہمیں یہ سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ اگر ہم نے آج عبادت کی روح کو نہ بچایا تو آنے والی نسلیں عبادت کی شکلیں تو جان لیں گی مگر اس کی حقیقت سے ناواقف رہ جائیں گی۔ وہ نماز پڑھیں گی مگر نماز انہیں برائی سے نہیں روکے گی، وہ قرآن سنیں گی مگر قرآن ان کے کردار میں نظر نہیں آئے گا۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ہم مسجد میں کتنی دیر کھڑے رہے بلکہ یہ ہے کہ مسجد نے ہمیں کتنا بدل دیا۔ عبادت کی قبولیت صرف تعداد سے نہیں بلکہ نیت، ادب اور اس اثر سے پہچانی جاتی ہے جو وہ ہماری زندگی میں چھوڑتی ہے۔ آئیے ہم سب مل کر خود سے آغاز کریں، مسجد میں موبائل کو خاموش کریں، دل کو اللہ کے سامنے حاضر کریں اور اپنی اولاد کے لیے عملی مثال بنیں۔ مسجد کو صرف بھیج دینے کی جگہ نہیں بلکہ ایک ایسی تربیت گاہ بنائیں جہاں سے نکلنے والا انسان زیادہ باادب، زیادہ باکردار اور زیادہ با شعور ہو۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ایسی نماز عطا فرمائے جو ہمیں بدل دے، ہمیں سنوار دے اور ہماری آنے والی نسلوں کو دین، ادب اور شعور کے ساتھ جوڑ دے۔ آمین۔
رابطہ۔9622881110
[email protected]
��