صدائے کمراز
اِکز اِقبال
گزشتہ ہفتہ جموں و کشمیر کی تاریخ میں صرف چند دل خوش کرنے والے واقعات نے جنم لیا۔ ایک جذباتی بیداری، ایک روحانی جھرجھری اور اجتماعی سطح پر انسانیت کی دوبارہ دریافت کا لمحہ تھا۔ کئی برسوں سے ہم نے خبروں میں دکھ سنا، بحثوں میں زہر دیکھا اور سوشل میڈیا پر تلخی کو عام ہوتے دیکھا۔ مگر اس ہفتے، اچانک کہیں سے امید نے سر اٹھایا — اور پوری وادی و جموں نے اسے سینے سے لگا لیا۔
کہانی کی ابتدا اس وقت ہوئی جب صحافی عرفاز احمد ڈینگ کا گھر انتظامیہ نے مسمار کر دیا۔ اس واقعے نے ایک شور بپا کیا، سوالات اٹھے، دل زخمی ہوئے، مگر انہی لمحوں میں اچانک ایک ایسی روشنی پھوٹی جس نے ماحول بدل کر رکھ دیا۔
جموں کے رہائشی کلدیپ شرما نے بغیر کسی لالچ، شرط یا ہچکچاہٹ کے عرفاز کے اہلِ خانہ کو پانچ مرلے زمین تحفے میں دے دی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب پوری وادی نے محسوس کیا کہ ابھی انسانیت زخموں کے باوجود زندہ ہے، سانس لے رہی ہے، اور موقع ملتے ہی خود کو ظاہر بھی کرتی ہے۔یہ واقعہ یہاں ختم نہیں ہوا۔ اس کے فوراً بعد پانپور کے ایک دردمند تاجر، جنہوں نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا، آگے بڑھے اور کلدیپ جی کو ایک کنال زمین بطور شکریہ اور انسان دوستی کے جذبے کے تحت پیش کی۔یہ صرف زمین کا تبادلہ نہیں تھا — یہ محبت، شکرگزاری اور بھائی چارے کا ایسا اظہار تھا جو برسوں بعد دیکھنے کو ملا۔
سوشل میڈیا پر، چائے کی ٹپریوں پر، گھر کے کچن میں، ہر جگہ ایک ہی بات گردش کر رہی تھی:یہ ہے اصل کشمیر۔ یہ ہے اصل جموں۔ یہ ہے اصل ہم!
یہ تمام واقعات ہمیں اس حقیقت کی یاد دہانی کرواتے ہیں کہ انسان کسی بھی بیانیے، سیاست یا تعصب سے بڑا ہے۔ لوگ دلوں سے فیصلہ کریں تو تاریخ بدل جاتی ہے۔
James Kirkup نے اپنی مشہور نظم “No Men Are Foreign” میں انسانیت اور بھائی چارے کا ایک طاقتور پیغام دیا ہے۔
“Let us remember, whenever we are told
To hate our brothers, it is ourselves
That we shall dispossess, betray, condemn.”
’’یاد رکھیں، جب بھی ہم سے کہا جائے کہ اپنے بھائیوں (انسانوں) سے نفرت کریں، تو درحقیقت یہ ہم خود ہی ہوں گے جنہیں ہم بے دخل کریں گے، جن سے غداری کریں گے اور جن کی مذمت کریں گے۔‘‘ان اشعار میں ایک پوری تاریخ چھپی ہوئی ہے۔
نفرت جب کسی دوسرے کی طرف پھینکی جاتی ہے تو اصل زخم بھیجنے والے کے دل میں لگتا ہے۔ بھائی بھائی سے لڑے تو مٹی بھی رو پڑتی ہے۔ اور اس ہفتے جموں و کشمیر نے ثابت کیا کہ زخم چاہے کتنے ہی پرانے کیوں نہ ہوں، مرہم آج بھی موجود ہےاور پھر ہمارے عظیم صوفی بزرگ نندہ ریش نے صدیوں پہلے وہی پیغام یوں دیا:(تمام انسان ایک خاندان ہیں، تمام فرق محض دھوکے ہیں)۔یہ فقط ایک صوفیانہ مصرعہ نہیں — یہ وہ بنیادی سوچ ہے جس نے صدیوں تک کشمیر اور جموں دونوں کو ایک ساتھ باندھے رکھا۔
مگر آج کے شور میں یہی بنیادی سچائی کہیں دب گئی تھی۔ خوشی یہ ہے کہ گزشتہ ہفتے وہ سچائی پھر زندہ ہو اٹھی۔
یہ پہلا حقیقی قدم ہے اُس سماجی تانے بانے کی بحالی کی طرف جو کبھی ہماری پہچان تھا۔ وہ زمانہ جب مذہب، نسل، زبان یا خطہ لوگوں کے درمیان دیوار نہیں بنتا تھا۔ لوگ پڑوسیوں کو اپنے گھر کا فرد سمجھتے تھے۔ دکھ سُکھ مشترکہ ہوتے تھے۔ عید ہو یا پوجا، ایک دوسرے کے آنگن میں خوشی بانٹی جاتی تھی۔
آج جب دنیا بھر میں نفرت کی مہمیں طاقتور ہو رہی ہیں، سوشل میڈیا پر منفی خبریں تہذیب کو دبوچ رہی ہیں، ایسے وقت میں یہ طرزِ عمل ایک تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔یہ ثابت کرتا ہے کہ اگر کسی خطے میں امید ابھی بھی سانس لے رہی ہے تو وہ یہی دھرتی ہے — ریشیوں اور بزرگوں کی دھرتی، جس نے دنیا کو بھائی چارے کا سبق دیا تھا۔
ہم نے یہ بھی ثابت کیا کہ کشمیر یت محض ایک سیاسی یا ثقافتی نعرہ نہیں، بلکہ ایک جیتی جاگتی حقیقت ہے۔یہ ایسے لمحات میں جاگتی ہے جب ایک انسان دوسرے کی بقا، عزت یا ضرورت کو اپنی ترجیح بنا لیتا ہے۔یہ سچ ہے کہ ہر خبر قابلِ تصدیق نہیں ہوتی، مگر ہر جذبہ قابلِ احترام ضرور ہوتا ہے۔ اور اس ہفتے جذبات کی دنیا میں جو روشنی پھیلی وہ برسوں بعد آئی ہے۔ہم امید کرتے ہیں کہ یہ سلسلہ ابھی پہلی اینٹ ہے، — آنے والا وقت مزید مضبوط دیواریں تعمیر کرے گا، محبت کی دیواریں، اخوت کی دیواریں، بھروسے کی دیواریں۔
میں دل سے دعا کرتا ہوں کہ یہ جذبہ زندہ رہے۔یہ صرف ایک ہفتے کی کہانی نہ ہو، بلکہ آنے والے برسوں کی بنیاد بنے۔ہم اس خطے کی پرانی شناخت — محبت، رواداری اور بھائی چارہ — کو دوبارہ زندہ ہوتا دیکھیں۔جموں و کشمیر نے اس ہفتے نہ صرف زمین بانٹی، بلکہ دل بانٹ دیے۔ اور یہی وہ تحفہ ہے جس سے دنیا ایک بہتر جگہ بن سکتی ہے۔شاید تاریخ ہمیشہ بڑے واقعات سے نہیں بدلتی، کبھی کبھی ایک چھوٹا سا نرم ہاتھ بھی صدیوں کے زخموں پر مرہم رکھ دیتا ہے۔ اس ہفتے ہم نے وہ ہاتھ دیکھ لیا۔ اب فیصلہ ہمارے پاس ہے کہ ہم اس لمس کو وقت کے دھول میں گم ہونے دیں، یا اسے اپنے کلچر، اپنے کردار اور اپنے مستقبل کا مستقل حصہ بنا دیں۔
آخر میں بس اتنا ہی کہنا ہے کہ یہ چند ذاتی ہمدردیاں نہیں تھیں، یہ وہ چراغ تھے جنہوں نے ہماری اجتماعی روح کو دوبارہ روشن کر دیا۔ اگر ہم نے اس روشنی کو سنبھال لیا، تو یقین جانئے — جموں و کشمیر ایک بار پھر وہی زمین بن سکتا ہے جہاں دلوں کی گرمی موسموں سے زیادہ طاقتور ہوا کرتی تھی۔خدا کرے یہ روشنی کبھی مدھم نہ ہو۔جموں و کشمیر یوں ہی محبت بانٹتا رہےاور ہم سب انسانیت کے اس راستے پر چلتے رہیں۔
(مضمون نگار مریم میموریل انسٹیٹیوٹ پنڈت پورا قاضی آباد میں پرنسپل ہیں)
رابطہ۔ 7006857283
[email protected]