رئیس یاسین
کشمیر کا تعلیمی نظام کسی حادثے کا شکار نہیں ہوا بلکہ اسے دانستہ پالیسی فیصلوں کے ذریعے کمزور کیا جا رہا ہے۔ سرکاری اسکولوں سے اساتذہ کو بار بار ہٹایا جاتا ہے، اس لیے نہیں کہ کلاس روم غیر ضروری ہو چکے ہیں، بلکہ اس لیے کہ اساتذہ کو انتخابی ڈیوٹی، سروے، تصدیقی مہمات، مردم شماری اور دیگر غیر تدریسی کاموں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ہر ایسی تعیناتی طلبہ کو یہ واضح پیغام دیتی ہے کہ ان کی تعلیم انتظار کر سکتی ہے۔
ایک ایسے خطے میں جو پہلے ہی طویل تعطل اور عدم استحکام سے گزر چکا ہے، یہ رویہ ادارہ جاتی غفلت کے مترادف ہے۔ کشمیر میں اسکولوں کو تسلسل، فکری نشوونما اور ذہنی استحکام کا مرکز ہونا چاہیے، مگر انہیں انتظامی سہولت کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے۔ تعلیمی نظام الاوقات بکھر جاتے ہیں، نصاب عجلت میں مکمل کیا جاتا ہے یا ادھورا رہ جاتا ہے، اور بنیادی تعلیم بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ نتیجتاً امتحانی نتائج گرتے ہیں اور الزام اساتذہ اور طلبہ پر ڈال دیا جاتا ہے، جبکہ اس نظام کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے جو مسلسل کلاس رومز کو اساتذہ سے خالی کر دیتا ہے۔
اس کے نتائج شدید عدم مساوات کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ نجی اسکول وسائل اور لچک کے باعث اکثر ضائع شدہ وقت کی تلافی کر لیتے ہیں، مگر سرکاری اسکولوں کے طلبہ ایسا نہیں کر پاتے۔ یوں ریاست خود تعلیمی عدم مساوات کو فروغ دیتی ہے، باوجود اس کے کہ وہ شمولی ترقی کے دعوے کرتی ہے۔
اس بحران کی جڑ میں ایک خطرناک سوچ کارفرما ہے:یہ خیال کہ تدریس کوئی خصوصی پیشہ نہیں بلکہ ایک متبادل خدمت ہے۔ کشمیر میں اساتذہ سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کلرک، نگران اور انتظامی عملے کا کردار ادا کریں، اور ساتھ ہی محدود وسائل اور بھرے ہوئے کلاس رومز میں بہترین تعلیمی نتائج بھی دیں۔ جب نتائج خراب ہوتے ہیں تو جوابدہی ہمیشہ نیچے کی طرف جاتی ہے، کبھی پالیسی سازوں تک نہیں پہنچتی۔
کشمیر میں تعلیم محض نصابی کتب تک محدود نہیں۔ یہ اعتماد کی بحالی، تنقیدی سوچ کی پرورش اور ایک غیر یقینی ماحول میں پلنے والی نسل کو سمت دینے کا ذریعہ ہے۔ جب بھی کسی استاد کو کلاس روم سے دور رکھا جاتا ہے، یہ نازک عمل کمزور پڑ جاتا ہے۔ بچے ایک خاموش سبق سیکھتے ہیں کہ ان کی تعلیم ثانوی ہے اور ان کا مستقبل قابلِ سودے بازی ہے۔
اگر کشمیر واقعی اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ ہے تو اسے سب سے پہلے اپنے تعلیمی اداروں کا احترام کرنا ہوگا۔ اسکولوں کو غیر تعلیمی ذمہ داریوں سے محفوظ رکھا جانا چاہیے اور اساتذہ کو وقار اور تسلسل کے ساتھ تدریس کا موقع دیا جانا چاہیے۔ تدریس کوئی کلرکی ذمہ داری نہیں بلکہ قوم سازی کی بنیاد ہے۔ جب تک پالیسی اس حقیقت کی عکاسی نہیں کرے گی، کشمیر میں تعلیم معطل رہے گی اور اس کی قیمت آنے والی نسلیں چکاتی رہیں گی۔
[email protected]