ڈاکٹر اشرف لون
ذاکر فیضی اُردو افسانے کا اہم نام بن چکا ہے۔ ملک و بیروں کے جرائد میں ان کے افسانے شائع ہوتے رہتے ہیں ۔’’نیا حمام ـ‘‘ کے عنوان سے ان کا افسانوی مجموعہ شائع ہوچکا ہے اور قارئین و ناقدین سے خوب پذیرائی حاصل کرچکا ہے۔ حال ہی ذاکر فیضی کا ناول ’ نئی فیکٹری‘‘ منظر عام پر آچکا ہے۔یہ ناول ۱۷ ابواب پر مشتمل ہے۔ ’نئی فیکٹری ‘ آج کے دور کا اعلامیہ ہے۔ جرائم پیشہ افراد کی کہانی اور پھرسماج میں پنپ رہے ان جرائم کے خلاف اپنے اندر جوش و جذبہ لئے ہوئے یونیورسٹی کے نوجوان طلاب کا لڑنا اس ناول کے موضوعات ہیں ۔ یہ نوجوان اپنے اندر دنیا میں انصاف لانا چاہتے ہیں اور ظلم و نا انصافی کو روکنا چاہتے ہیں۔ناول میں موجود ہ دور میں پنپ رہے مختلف مسائل کو بھی جگہ دی گئی ہے۔ یہ جملے ملاحضہ ہوں:’’ لیکن آزادئ اظہار پر بالکل ہی پابندی لگا دینا۔۔ظلم ہے بھائی۔۔‘‘ناول کا مرکزی کردار معراج ہے جو سیزوپھیرنیا کا مریض ہے۔ وہ دنیا کو بدل دینا چاہتا ہے لیکن اس کی یہ خواہش آخر تک خواہش ہی رہتی ہے۔ وہ حالات سے اور نفرت کی سیاست سے نالاں ہے:’’ ایسے ہی حالات کی وجہ سے ملک میں انتشار پیدا ہوتا ہے۔ ملک برباد ہوجاتے ہیں۔ تہذیبیں فنا ہوجاتی ہیں۔‘‘
معراج کا کردار ایک ایسے حساس انسان کی عکاسی کرتا ہے جو ظلم سے تنگ آچکا ہے۔ یہ ایک حساس کردار ہے اور سماج میں پھیلی بے حسی کو دور کرنا چاہتا ہے، ہمیشہ کتابوں کے مطالعے میں گُم رہتا ہے۔اس کردار کے علاوہ، علی، دیپا، مانو، ابھے اس ناول کے اہم کردار ہیں۔ جو سماج میں پھیلی برائیوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ایک نیا انقلاب لانا چاہتے ہیں جو انصاف پر مبنی ہو۔ ابھے اور مانو بھی کے کردار بھی اہم ہیں۔
ناول علامتی نہیں لیکن اس ناول میں کہیں کہیں علامتی انداز میں بچوں کی تسکری یا سمگلنگ کے کاروبار کو موضوع بنایا گیا ہے۔ بچوں کو غائب کرنا اور پھر ان سے بھیک منگوانا، ان کا اجنسی استحصال کرنا یعنی Child Trafficking اس ناول کا بنیادی موضوع ہے۔ مرادی پور سے تعلق رکھنے والی شاہد اور صبا کی بیٹی پِنکی کو غائب کیا جاتا ہے۔ پنکی کا باپ شاہد پولیس تھانہ میں رپورٹ لکھواتا ہے، لیکن پولیس والوں کے برتائو سے اسے مایوسی ہوجاتی ہے۔یہاں پولیس کے برتائو کی عکاسی نہیں کی گئی ہے جو فنی سطح پر ایک کمزوری ہے۔شاہد کے دوست علی نے اُس کو دلاسہ دیا اور کہا کہ وہ پنکی کو واپس لائے گا۔ وہ اپنے دوستوں کو بھی اس کام پر لگا دیتا ہے۔ علی اور اس کے دوستوں کی ملاقات ایک بھکاری سے ہوجاتی ہے جو ان کو پرکاش فرنیچر کے بارے میں بتاتا ہے کہ شائد بچی وہی ہے۔ اس کو اغوا کیا جاچکا ہے اور شائد یہ بچہ تسکری کا معاملہ ہے۔’’دیپا یہ بات صر ف پنکی کی نہیں بلکہ ہمارے دیش کی ہی نہیں ، ساری انسانیت کی ہے۔‘‘ابھے اور علی اس بچہ تسکری کو روکنا چاہتے ہیں ۔ وہ نہیں چاہتے کہ دوسروں کے بچے اس جرم کا شکار ہوجائیں۔
راوت ریستورنٹ کے بارے میں یہ خبر پھیل جاتی ہے کہ اس میں انسانوں کا گوشت کھلایا جاتا ہے۔ خبر ملک کے بڑے اخباروں میں پھیل جاتی ہے ۔ یونیورسٹی اور کالجوں میں اس کے خلاف مظاہرے ہوتے ہیں۔ راوت شاہ ملک کے ایک اہم سیاست داں سے ملنے جاتا ہے اور اپنی صفائی پیش کرتا ہے لیکن وہاں گالیاں کھاتا ہے کہ سودے بازی میں کچھ گڑبڑ ہوئی ہے۔سیاست داں کے جملے:’’ دو گاڑیوں کی بات ہوئی تھی۔ صرف ایک ہی گاڑی آئی ہے آپ کی طرف سے۔‘‘ یہاں پر سیاست دانوں کے مکروہ چہروں سے شرافت کو نقاب اتار دیا گیا ہے کہ کس طرح سیاست داں تاجر پیشہ افراد سے اپنے مفاد کی خاطر سودا کرتے ہیں اور مفاد پورا نہ ہونے پر الٹا وار کرتے ہیں۔ راوت شاہ کے ساتھ بھی یہی ہوتا ہے۔
شاہد کی بچی کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے علی اور اس کے دوستوں ، معراج، دیپا، ابھے، مانو کوگلابی کلب میں نوکری کرنی پڑتی ہے ۔ یہاں ناول ایک نیا رخ اختیار کرتا ہے اور اس میں ایک طرح کی سنسنی خیزی پیدا ہوجاتی ہے کیوں کہ علی اور اس کے دوستوں پر اب نئے نئے رازوں کا پردہ فاش ہورہا ہے وہاں دیپا اور ابھے سے جنسی کام لیا جاتا ہے اور یوں ان کی ان حرکات کا ویڈیو بنا کر ان کا مزید استحصال کیا جاتا ہے۔اس طرح یہ سب جرائم کی دنیا میں خود پھنس جاتے ہیں۔ان کو ’ نئی فیکٹری ‘ میں منتقل کیا جاتا ہے ۔ وہ اب وہاں سے بھاگ جانا چاہتے ہیں۔ وہ نئی فیکٹری کے مالک کے جرائم کا پردہ فاش کرنا چاہتے ہیں لیکن بھاگتے بھاگتے وہ مارے جاتے ہیں۔ صرف معراج بچ جاتا ہے لیکن وہ اس حالت میں نہیں رہتا کہ دنیا کے سامنے ’’ نئی فیکٹری‘‘ کے جرائم کو سامنے لائے۔ وہ دنیا اور دنیا کے لوگوں سے مایوس ہوجاتا ہے۔ وہ لوگوں کی مفاد پرستی اور نفس پرستی سے دور کہیں بھاگنا چاہتا ہے۔ دنیا میں پھیلی منافقت ، نفرت اور جرائم اس کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔’’یہاں موجود تما م انسان اپنی روزمرہ کے کام میں مصروف تھے۔ جیسے تھوڑی دور کے فاصلے پر انقلاب سے ان کا کوئی واسطہ نہ ہو۔یا پھر دیگر کام کی طرح انقلاب لانا ، بدلائو کی باتیں کرنا بھی صرف ایک مشغلہ ہے۔ یہ لوگ بھی محض اپنا کام انجام دت رہے ہیں۔‘‘بھاگتے بھاگتے ایک بس سٹینڈ پر اپنے دوستوں کی مرنے کی خبر اور ان کی تصاویر اخبار میں دیکھ معراج کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ وہ لوگوں کی منافقت سے مزید پاگل پن کا شکار ہوجاتا ہے۔انقلاب سے اس کا یقین اٹھ جاتا ہے۔ اسے ہر موڑ پر جرم اور نا انصاٖفی کا ننگا ناچ دکھائی دیتا ہے۔ ناول’’نئی فیکٹری‘‘ دراصل آج کے انسان کے دُکھ کی داستان بھی ہے اور قاری کو آخر پر سوچنے پر مجبور کرتاہے کہ آخر اس دنیا سے کب جرائم ختم ہوں گے۔ یہ ایک ’’ کرائم تھرلر ‘‘ ناول ہے ۔ ایک اچھا ناول ہے لیکن کوئی بڑا ناول نہیں ۔ اس میں کچھ کمزوریاں بھی ہیں۔ کوئی بھی اچھا یا بڑا ناول جس دانشورانہ سطح پر ہم سے مکالمہ کرتا ہے یا کرنا چاہیے وہ اس میں بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے۔ منظر نگاری کمزور ہے ۔پولیس شاہد کے ساتھ کیا برتائو کرتی ہے اس کا کوئی ذکر نہیں۔ یہ برتائو دکھانے یعنی عکاسی( To Show) سے تعلق رکھتا ہے۔ حالانکہ بیچ بیچ میں ملک و سماج میں پھیلے مسائل پر مکالمے، مباحث ملتے ہیں لیکن ان مکالموں میں کچھ خاص گہرائی نہیں ۔ مصنف کی آواز) Voice ) کہیں کھو سی گئی ہے، پوری طرح ابھر کر سامنے نہیں آتی۔حالی کے ’ مطالعہ کائنات‘ کی آج بھی وہی اہمیت ہے جو ان کے وقت میں تھی۔ مطالعہ کائنات ( یہاں موضوع کا پورا مطالعہ ) یا تجربہ جب فنکار کے اندرپختہ ہو جاتا ہے تب کوئی بڑا فن پارہ وجود میں آتا ہے۔ ذاکر فیضی جواہر لال نہرو یونیورسٹی ( نئی دہلی) میں میرے ہم جماعت رہے ہیں۔انہیں زبان پر قدرت حاصل ہے ۔ایک حساس فکشن نگار ہیں۔ ان کے اندر ایک بڑا ناول لکھنے کی بھر پور صلاحیت ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ آنے والے وقت میںوہ نہ صرف ایک اچھا بلکہ ایک بڑا ناو ل ضرور لکھیں گے۔ اُردو زبان کو ایسے ناول کی تلاش ہے۔ میری نیک خواہشات ذاکر فیضی کے ساتھ ہیں۔
(پتہ : جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی)