شاہد حسین
وادیٔ کشمیر جسے دنیا جنتِ ارضی کے نام سے جانتی ہے، صرف اپنی فطری خوبصورتی کی وجہ سے ہی نہیں بلکہ اپنی علمی، روحانی اور تہذیبی وراثت کے باعث بھی ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ یہاں کے برف پوش پہاڑ، سرسبز وادیاں، بہتے دریا اور خاموش جھیلیں نہ صرف قدرت کے حسن کی عکاسی کرتی ہیں بلکہ ایک ایسے معاشرے کی گواہی بھی دیتی ہیں، جہاں علم کو عزت، استاد کو مرتبہ اور تعلیم کو عبادت کا درجہ حاصل رہا ہے۔کشمیر کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہاں تعلیم ہمیشہ ایک جامع تصور کے طور پر موجود رہی ہے۔ یہ صرف کتابی علم تک محدود نہیں تھی بلکہ اس میں اخلاق، تہذیب، روحانیت اور معاشرتی ذمہ داریوں کا شعور بھی شامل تھا۔ یہی وجہ تھی کہ کشمیر کو ایک وقت میں’’علم و عرفان کی سرزمین‘‘ کہا جاتا تھا، جہاں سے نہ صرف علماء بلکہ صوفیاء، مفکرین اور دانشور بھی پیدا ہوئے۔لیکن وقت کے ساتھ ساتھ حالات بدلتے گئے اور آج ہم ایک ایسے دور میں کھڑے ہیں، جہاں تعلیم کا تصور یکسر تبدیل ہو چکا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹلائزیشن اور عالمی رجحانات نے تعلیم کو ایک نئی شکل دے دی ہے۔ بظاہر یہ تبدیلیاں ترقی کی علامت ہیں مگر اگر ہم گہرائی سے جائزہ لیں تو ایک تشویشناک خلا بھی نظر آتا ہے، وہ خلا جو نئی تعلیم اور پرانے اصولوں کے درمیان پیدا ہو چکا ہے۔
ماضی کے کشمیر میں جب ایک بچہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے مکتب یا مدرسہ جاتا تھا تو اس کا مقصد صرف پڑھنا لکھنا سیکھنا نہیں ہوتا تھا ،بلکہ وہ ایک بہتر انسان بننے کی تربیت بھی حاصل کرتا تھا۔ اُستاد شاگرد کے لئے ایک مثالی شخصیت ہوتا تھا، جس کی باتوں میں وزن، عمل میں اخلاص اور کردار میں پاکیزگی ہوتی تھی۔ شاگرد اپنے اُستاد کا احترام ایسے کرتا تھا جیسے وہ اپنے والدین کا کرتا ہے، بلکہ بعض اوقات اس سے بھی بڑھ کر۔
تعلیم کا ماحول نہایت سادہ مگر بامقصد ہوتا تھا۔ وسائل محدود تھے، مگر جذبہ بے پناہ تھا۔ کتابیں کم تھیں مگر علم کی قدر زیادہ تھی۔ وقت کی کمی نہیں تھی، مگر اس کا استعمال انتہائی مؤثر طریقے سے کیا جاتا تھا۔ طلبہ گھنٹوں بیٹھ کر مطالعہ کرتے، غور و فکر کرتے اور اپنے اساتذہ سے رہنمائی حاصل کرتے تھے۔آج کا منظر اس سے یکسر مختلف ہے۔ جدید تعلیمی ادارے، اعلیٰ عمارتیں، جدید کلاس رومز، سمارٹ بورڈز اور ڈیجیٹل وسائل نے تعلیم کو ایک نئی جہت دی ہے۔ کشمیر کے نوجوان اب دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھ کر علم حاصل کر سکتے ہیں۔ آن لائن کورسز، ویڈیو لیکچرز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے علم کو عام کر دیا ہے۔لیکن اس تمام ترقی کے باوجود ایک اہم سوال اپنی جگہ برقرار ہے۔کیا ہم نے اس سہولت کو صحیح معنوں میں علم کے فروغ کے لئے استعمال کیا ہے یا ہم اس کے ہاتھوں اپنی اصل پہچان کھو بیٹھے ہیں؟
آج کے طلبہ کی زندگی مصروفیت، دباؤ اور مقابلے سے بھرپور ہے۔ انہیں ہر وقت بہتر کارکردگی دکھانے کا دباؤ ہوتا ہے۔ امتحانات، اسائنمنٹس، ٹیسٹس اور مقابلے ان کی زندگی کا محور بن چکے ہیں۔ اس دوڑ میں کہیں نہ کہیں سیکھنے کا اصل مقصد کھو جاتا ہے۔
کشمیر جیسے خطے میں یہ صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ یہاں کے طلبہ کو نہ صرف تعلیمی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ وہ سماجی اور سیاسی حالات کے اثرات سے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ کبھی انٹرنیٹ کی بندش، کبھی اسکولوں کی بندش اور کبھی ذہنی دباؤ یہ سب عوامل ان کی تعلیمی زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔مزید برآں سوشل میڈیا نے طلبہ کی توجہ کو شدید متاثر کیا ہے۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ جہاں ایک طرف علم کا خزانہ ہیں، وہیں دوسری طرف وقت کے ضیاع اور ذہنی انتشار کا سبب بھی بن چکے ہیں۔ طلبہ کا رجحان گہرے مطالعے کے بجائے مختصر معلومات کی طرف بڑھ رہا ہے، جس سے ان کی فکری صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔
سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اخلاقی تربیت، جو کبھی تعلیم کا لازمی حصہ ہوا کرتی تھی، اب تقریباً ختم ہوتی جا رہی ہے۔ استاد اور شاگرد کے درمیان وہ رشتہ جو کبھی احترام اور محبت پر مبنی ہوتا تھا، اب رسمی ہوتا جا رہا ہے۔ طلبہ میں صبر، برداشت، دیانتداری اور ذمہ داری جیسی اقدار کمزور پڑتی جا رہی ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں رُک کر سوچنے کی ضرورت ہے۔ کیا واقعی ہم ترقی کر رہے ہیں یا ہم صرف ایک ظاہری چمک دمک کے پیچھے بھاگ رہے ہیں؟ کیا ہماری تعلیم ہمیں بہتر انسان بنا رہی ہے یا صرف ایک کامیاب مشین؟تاہم، اس تمام تنقید کے باوجود ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ جدید تعلیم کے اپنے فوائد ہیں۔ کشمیر کے نوجوان آج دنیا کے مختلف میدانوں میں نمایاں مقام حاصل کر رہے ہیں۔ وہ ڈاکٹر، انجینئر، محقق، مصنف اور کاروباری افراد بن کر نہ صرف اپنے خاندان بلکہ اپنے علاقے کا نام روشن کر رہے ہیں۔یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے نوجوانوں میں صلاحیت کی کوئی کمی نہیں۔ کمی صرف اس بات کی ہے کہ ہم نے انہیں ایک متوازن نظام فراہم نہیں کیا۔ ہم نے انہیں علم تو دیا، مگر اس کے ساتھ حکمت نہیں دی۔ ہم نے انہیں مہارتیں تو سکھائیں، مگر اقدار نہیں سکھائیں۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے تعلیمی نظام کو از سر نو ترتیب دیں۔ ہمیں ایک ایسا نظام تشکیل دینا ہوگا جو جدید تقاضوں کے مطابق ہو، مگر اپنی جڑوں سے جڑا ہوا بھی ہو۔ ہمیں اپنے نصاب میں اخلاقی تعلیم، کردار سازی اور روحانی تربیت کو شامل کرنا ہوگا۔اساتذہ کو چاہیے کہ وہ صرف کتابی علم تک محدود نہ رہیں بلکہ طلبہ کی شخصیت سازی پر بھی توجہ دیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو صرف کامیابی کے پیمانوں پر نہ پرکھیں بلکہ ان کی تربیت پر بھی توجہ دیں اور طلبہ کو چاہیے کہ وہ علم کو صرف ایک ذریعہ نہ سمجھیں بلکہ اسے ایک مقصد بنائیں۔
کشمیر کی سرزمین آج بھی اس صلاحیت سے بھرپور ہے کہ وہ ایک مثالی تعلیمی نظام پیش کر سکے۔ اس کے لئے ہمیں صرف اپنی ترجیحات کو درست کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ تعلیم کا اصل مقصد ایک بہتر انسان بنانا ہے، نہ کہ صرف ایک کامیاب پیشہ ور۔اگر ہم نے آج اس حقیقت کو نہ سمجھا تو آنے والی نسلیں ایک ایسے معاشرے میں پروان چڑھیں گی، جہاں علم ہوگا مگر حکمت نہیں، ترقی ہوگی مگر سکون نہیں، اور کامیابی ہوگی مگر خوشی نہیں۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ہم ایک نازک موڑ پر کھڑے ہیں۔ ایک طرف جدید تعلیم کی چمک دمک ہے اور دوسری طرف ہماری روایات، اقدار اور اصول ہیں۔ اگر ہم نے ان دونوں کے درمیان توازن قائم کر لیا تو ہم نہ صرف ایک مضبوط تعلیمی نظام قائم کر سکیں گے بلکہ ایک مثالی معاشرہ بھی تشکیل دے سکیں گے۔ورنہ یہ سوال ہمیشہ ہمارا پیچھا کرتا رہےگا کہ کیا ہم واقعی آگے بڑھ رہے ہیں یا ہم اپنی اصل سے دور ہوتے جا رہے ہیں؟
(رابطہ۔6005339879)
[email protected]
�����������������