سعادت عظمیٰ
مقصوداحمدضیائی
ارشاد باری تعالیٰ ہے،’’ اور یہ (قرآن) ایک برکت والی کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے، سو اس کی پیروی کرو اور (گناہوں سے) بچو ،تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ ابن کثیرؒ نے سورہ یوسف میں قرآن عظیم الشان کا بیان کیا ہے کہ یہ بہترین کتاب قرآن مجید، بہترین رسول محمدرسول اللہؐ پر، بہترین فرشتے جبریل امینؑ کے ذریعے، بہترین مہینے رمضان المبارک میں، بہترین شہر مکہ مکرمہ اور عالم میں بہترین لغات عربی ، بلسان عربی مبین میں نازل ہوا ہے۔ قرآن کریم بحر ہے، یہ زمین پر جو بحر سمندر ہم دیکھتے ہیں یہ تو بہت چھوٹے ہیں۔ انسانیت ہمیشہ قرآن کریم کی محتاج رہی ہے۔ جن لوگوں کو قرآن کریم نہیں پہنچا ،آپ اُن کی زندگی دیکھیں گے تو آپ کو بہت افسوس ہوگا کہ انسان کے رنگ میں یہ کیا مخلوق ہے اور جن لوگوں کو قرآن کریم پہنچ چکا ہے۔ ان کی زندگی، ان کے حسانات، ان کے انقلابی خیالات، ان کا اللہ سے خوف و خشیت اور ان کی اپنے پاک پیغمیرؐکے ساتھ عقیدت و احترام اور ان کے آپس میں حسن سلوک یہ سب قرآن مجید کے محاسن اور معارف اور مقاصد ہیں۔ جن سے اللّٰہ تعالیٰ نے سرفراز فرمایا ہے۔ جس طرح انسان میں ایک روح ہے اس کو کوئی مانے یا نہ مانے لیکن روح کا انکار گدھا اور خچر کرسکتے ہیں۔ جو شعور نہیں رکھتے، لیکن انسان کہ جن کو انسانیت کا رنگ لگا ہے، وہ کبھی بھی یہ نہیں کہے گا کہ روح کوئی چیز ہی نہیں ہے۔ روح موجود ہے تو انسان زندہ ہے۔ روح گئی تو کائنات کا کوئی کتنا ہی بڑا انسان ہے وہ بھی مرا ہے۔ روح العالم، روح السموت، روح الارضی کل کائنات کی روح قرآن عظیم الشان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ میں نے اس کو نازل کیا ہے اور میں ہی اس کو بچاؤں گا۔ اس سے پہلے جو کُتب نازل ہوئیں وہ سب ختم ہوگئیں ۔ یہ انسانوں کا کام نہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا،’’ہم نے ہی اس کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ یہ میرا کام ہے۔‘‘ کلام جب اس کا ہے تو کوئی عالم دین بھی کیا کرسکتا ہے ،وہ تو ترجمہ تشریح و تفسیر کا کام ہی کرسکتا ہے بچا تو نہیں سکتا۔ بچا صرف اللہ ہی سکتا ہے۔ احادیث میں ہے کہ قرب قیامت میں جب قیامت قائم ہوگی تو دو کام عجیب ہوجائیں گے۔ ایک دن کعبہ غائب ہوجائے گا اور لوگ اس غم میں ڈوبے ہوں گے اور پتہ چلے گا کہ قرآن شریف بھی موجود نہیں ہے، صرف کاغذپڑے ہوں گے، چونکہ کاغذ کسی بھی پریس میں بن سکتا ہے۔ لیکن جو عبارات ہیں جو ملہمات ہیں اور جو کلام اللّٰہ ہے، وہ موجود نہیں ہوگا۔ بس اسی کے ساتھ زلزلے در زلزلے آنا شروع ہوجائیں گے۔ آسمان کا پھٹ جانا، پہاڑوں کا اڑ جانا، زمین کا درہم برہم ہوجانا اور ایک ایسی وبا اور آفات کہ ذالک یوم التغابن، لوٹ کھسوٹ کا دن، ذالک یوم التناد، ہر طرف چیخ و پکار، الحاقة المحاقة، یہ تو ہوکے رہنے والا ہے۔ القارعة المالقارعة سب چیزیں ایک دوسرے سے ٹکر جائیں گی اور قیامت یہی ہے کہ دنیا سے اللّٰہ تعالیٰ نے روح کھینچ لی اور وہ قرآن شریف ہے۔ پھر دنیا کی کوئی قیمت باقی نہیں ہے۔ میرے لیے لمحہ سعادت و صد مسرت ہے۔ الحمدللّٰہ! میرے مخلص دوست احباب اور قابل صداحترام والدین ، بھائی بہنوں، رشتہ داروں اور عزیزوں کی دعاؤں اور مادر علمی جامعہ ضیاءالعلوم پونچھ جموں و کشمیر کے روحِ رواں استاذالعصر حضرت مولانا غلام قادرصاحب اور حضرت مدظلہ کے نقش جمیل صاحبزادے مولانا سعیداحمدحبیب صاحب نائب مہتمم جامعہ ہذا اور اساتذہ کرام کے دعاؤں اور شبانہ محنتوں سے اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بتاریخ 12 ذی قعدہ 1447ھ مطابق 30 اپریل 2026ء بروز جمعرات میرا چھوٹا بیٹا عزیزم معاذاحمد سلمہ کم عمری میں حافظ قرآن ہوگیا۔ ماشاءاللہ! اور بچے کے حفظ کا استاذ بھی یہ عاجز ہی ہے۔ جامعہ ضیاءالعلوم پونچھ میں میرا درجہ حفظ پڑھانے کا عرصہ اٹھائیس برسوں پر محیط ہے۔ میری قلبی خواہش تھی کہ اپنے بیٹے کو میں خود ہی حفظ کراؤں اور آج اس دیرینہ خواب کی تکمیل پر میں جس خوشی سے سرشار ہوں۔ اس کے اظہار کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ مدارس اسلامیہ کا وجود برصغیر کے مسلمانوں کے لیے عموماً اور مجھ جیسے غریبوں کے لیے خصوصاً عظیم نعمت ہے۔ جہاں پر ہمارے بچے پڑھتے بھی ہیں۔ پلتے بھی ہیں اور خرچ کچھ بھی نہیں ہوتا۔ مادر علمی جامعہ ضیاءالعلوم کا احسان تو میں کیا ہماری نسلیں کبھی بھلا نہیں سکتیں کہ جس کے سرسبزوشاداب غنچوں میں میرا بچپن گزرا لڑکپن گزرا جوانی گزری اور اب قریب قریب بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھنے کو ہوں خاکسار نے اس مرکز علمی میں تعلیم و تربیت پائی اور پھر بحیثیت خادم التدریس زندگی کی اٹھائیس بہاریں پوری آب و تاب کے ساتھ بتائیں بہت کچھ سیکھا اور سمجھا۔ نشیب و فراز دیکھے اور اس وقت بھی اس دیار میں سب سے زیادہ تین چیزیں مجھے بے حد محبوب ہیں۔مرکزی جامع مسجد بگیالاں کی پنجگانہ نماز اور اس میں بھی نماز فجر کی امامت۔ دوسرے میری درسگاہ جہاں حفظ کی تدریس میں میرے شب و روز کٹتے ہیں اور تیسرے جامعہ میں میرا کمرہ جہاں مجھے کتاب و قلم سے عشق لڑانے کا زریں موقع میسر رہا لگ بھگ ایک درجن کتب منصہ شہود پر آئیں اور مختلف موضوعات پر سینکڑوں مضامین اخبارات رسائل و جرائد میں شائع کرنے اور مختلف بین الاقوامی و ملکی و ریاستی اور صوبائی سطح کے سیمیناروں میں شرکت کے لیے مقالات لکھنے اور سیمیناروں میں پڑھنے کی سعادت میسر رہی۔ اسی پر سکون ماحول اور علمی فضاء کی بدولت میرے بیٹے کو بھی تکمیل حفظ قرآن مجید کی سعادت میسر آئی، اس کے ساتھ ہی میری دیرینہ آرزو کی تکمیل ہوئی۔ جس پر میرے دوست احباب کی طرف سے بھی مبارکبادی کا سلسلہ جاری ہے اور اس سعادت عظمیٰ کے حصول پر میرا دل باغ و بہار ہوا جا رہا ہے۔ بلاشبہ یہ خوشی تمام خوشیوں سے بلند و بالا تر ہے۔ اس موقع سے حفاظ کرام کی خدمت میں چندگزارشات کرنا چاہوں گا کہ تکمیل حفظ کے بعد حفاظ کرام کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں،ان کو عبادات کے اہتمام کے ساتھ غلط صحبت سے بچنے کی ضرورت ہے،آج نوجوان شعائر اسلام سے دور ہوتا جارہاہے، مالک نے ہم کو ایک ایسی کتاب عظیم عطا فرمائی ہے۔ جس میں ہماری کام یابی مضمر ہے،اگر ہم رسول اکرمؐ کے راستے سے ہٹیں گے تو نقصان ہی نقصان ہے۔ دنیا چند روزہ ہے۔ جو فنا ہونے والی ہے۔ انسان کی عمر مثل برف پگھل رہی ہے،ہم کو اپنی جوانی اپنے رب پر فدا کرنا چاہیے، سچ یہ ہے کہ ہم یہود و نصاریٰ کے کلچر کو اختیار کئے ہوئے ہیں۔ سچ کہا ہے کہنے والے نےکہ
جس شخص نے قرآن کو سینے میں بسایا
فردوس معلیٰ میں مکاں اپنا بنایا
دس اہل جہنم کی سفارش وہ کرے گا
فردوس میں لے کر وہ انہیں ساتھ چلے گا
جس شخص کی اولاد ہوئی حافظ قرآن
محشر میں ملے گا اُسے تاج درخشاں
فرمان نبویؐ کا مفہوم ہے کہ جو شخص قرآن مجید کو حفظ کرنے کے بعداس پر عمل کرتا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ اسے اجر عظیم سے نوازتے ہیں اور اسے اتنی عزت وشرف سے نوازا جاتا ہے کہ وہ کتاب اللہ کو جتنا پڑھتا ہے۔ اسی حساب سے اسے جنت کے درجات ملتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان فرماتے ہیں کہ نبی اکرمؐ نے ارشاد فرمایا کہ (صاحب قرآن سے بروزمحشر کہا جائے گا کہ جس طرح تم دنیا میں ترتیل کے ساتھ قرآن مجید پڑھتے تھے آج بھی پڑھتے جاؤ اور جہاں تم آخری آیت پڑھو گے وہی تمہاری منزل ہوگي) ۔سنن ترمذی حدیث نمبر ( 2914 ) سنن ابوداود حدیث نمبر ( 1464 ) ۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے حفاظ کو بہت فضیلت سے نوازا ہے اور جناب نبی اکرمؐ نے مختلف احادیث مبارکہ میں حفاظ کے بیسیوں اعزازات و امتیازات کا تذکرہ فرمایا ہے، جو قیامت کے دن قرآن کریم کے حافظوں کو عطا ہوں گے۔ ان میں سے ایک کا تذکرہ کروں گا کہ جناب نبی اکرم ؐ نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حافظ قرآن کو اپنی برادری اور خاندان کے دس افراد کی سفارش کا حق دیں گے جو اس کی سفارش پر جنت میں داخل ہوں گے۔ لہٰذا صرف قرآن کریم یاد کر لینا کافی نہیں ہے بلکہ اسے زندگی بھر یاد رکھنا بھی ضروری ہے۔ اگر کوئی حافظ اپنی غفلت اور بے توجہی کی وجہ سے قرآن کریم یاد کرنے کے بعد بھول گیا تو اس کے لیے سخت وعید اور سزا کا بھی ذکر احادیث مبارکہ میں کیا گیا ہے۔ پھر قرآن کریم پر عمل بھی اس کا لازمی تقاضہ ہے۔ اپنے معمولات میں، کھانے پینے میں، لین دین میں، کار و بار میں، معاملات میں اور زندگی کے تمام امور میں حلال و حرام کے فرق کو ملحوظ رکھے۔ چنانچہ حفاظ کرام سے گزارش ہے کہ وہ قرآن کریم کو یاد کرنے کا اعزاز حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اسے بعد میں یاد رکھنے کا بھی اہتمام کریں اور خاص طور پر حفاظ کے والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس طرف توجہ دیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعاگوں ہوں کہ ہم سب کو وہ اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آخری بات : عزیزم معاذاحمد سلمہ کے تکمیل حفظ کے موقع پر اپنے درجہ کے طلبہ کے روبرو حفظ قرآن عظیم الشان کی اہمیت کے عنوان سے چند باتیں عرض کرنے کا اتفاق ہوا۔ اللّٰہ پاک کے فضل اور اس کے احسان و کرم سے قیمتی باتیں ذکر ہوگئیں اور جب یہ مضمون زیر قلم آیا تو خیال ہوا کیوں نہ افادہ عام کی غرض سے ان باتوں کو بھی مضمون کا حصہ بنالیا جائے۔ شاید ابن آدم میں سے کسی کو فائدہ پہنچے اور کسی کا کوئی نونہال اس نعمت عظمی سے مشرف ہوجائے۔ لاریب یہ اعجاز ہرکسی کو ملتا نہیں۔