ماجد مجید
مکالمہ مطلب زبانی سوال و جواب، گفتگو،ہمکلامی ۔یہی مکالمہ اگر چار ہزار سال پہلے ہوا ہو اور آج تک بغیر کسی ردو بدل کے دنیا میں موجود ہوں جیسے ابھی ابھی یہ مکالمہ ہوا ہے تو کیا کہئے ! یقین کریں گے ! جی بالکل! جواب اقرار میں پائیں گے ۔ آج سے لگ بھگ چار ہزار سال پہلے کا واقعہ بیان کرنے جارہا ہوں جب حضرت موسی علیہ السلام مدین میں شعیب علیہ السلام کے گھر مقررہ مدت گزارکے اپنے اہل وعیال کے ساتھ مصر روانہ ہوئے ۔شاید یہ رات کا وقت تھا، کڑاکے کی ٹھنڈ تھی، تو موسی علیہ السلام نے ایک آگ دیکھی تو کہا ،’’میں نے آگ دیکھی ،تم یہاں ٹھہرو میں وہاں جاکر تمہارے لئے وہاں سے کوئی انگارہ لائوں تاکہ تم تاپ سکو یا کوئی راہنمائی مل جائے۔ جب موسی علیہ وسلم وہاں پہونچھے تو ندا دی گئی ،’’اے موسی! یہ تو میں تمہارا پروردگار ہوں ،اپنی جوتیاں اُتاردو، کیونکہ اس وقت تم وادی طوی میں ہو ،میں نے تم کو چن لیا تو اب ذرا توجہ سے سنو، میں ہی اللہ ہوں، پس تم میری بندگی کرو اور تمہارے ہاتھ میں جو عصا ہے وہ پھینکو ۔‘‘ عصا پھینکتے ہی وہ دوڑتا ہوا سانپ بن گیا اور ہاتھ بغل کے ساتھ ملانے سے چمکتا ہوا نکلا، اب جائو فرعون کی طرف وہ بڑا سرکش ہوگیا ہے ۔‘‘ موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون کے ذریعے اپنی کمر مضبوط کرنے کی درخواست کی اور مقبول بھی ہوئی (طۂ 36-9) پھر جب بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم و ستم سے نجات ملی تو اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کو چالیس راتوں کے لئے کوہ طور پر بلایا تو اس نے اپنے بھائی ہارون کو بنی اسرائیل میں تبلیغ کی ذمہ داری سونپی۔ کوہ طور پر جانے کے بعد موسیٰ کی قوم کے کچھ لوگوں نےسامری کے بنائے بچھڑے کی پرستش کی ۔موسیٰ غضبناک ہوکے تورات کی تختیاں لےکے جب اپنی قوم کی طرف آئے تو اپنے بھائی کے سر کے بال پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگے۔ بھائی نے کہا کہ دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دیں، وہ میرے قتل پر آمادہ ہوگئے تھے۔ پھر موسیٰ نے دعا کی اور سزا کے طور پر جن لوگوں نے بچھڑے کی پرستش کی ،ان کو ان لوگوں نے مارا، جنہوں نے بچھڑے کی پرستش نہیں کی تھی ۔اس کے بعد اجتماعی توبہ کے لئے موسیٰ نے اپنی قوم کے ستر (70) افراد کا کوہ طور پر جانے کاانتخاب کیا، وہاں جب انہیں زلزلے نے آپکڑ تو موسیٰ نے عرض کیا ،’’اے پروردگار! اگر تو چاہتا تو ہم میں سے کچھ بے وقوف لوگوں کی حرکت کی وجہ سے پہلے ہی ہلاک کردیتا، ان سب کو بھی اور مجھے بھی مگر یہ تیری طرف سے ایک آزمائش ہے ،پس ہمیں بخش دے اور ہمارے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی۔‘‘ (اللہ نے) فرمایا کہ میری رحمت ہر شے پر چھائی ہوئی ہے، یعنی میری اس رحمت عامہ سے میری تمام مخلوق حصہ پارہی ہیں۔ لیکن جہاں تک میری رحمت خاصہ کا تعلق ہے جس کے لئے تم لوگ ابھی سوال کررہے ہو، تو میں اسے لکھ دوں گا ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ کی روش اختیار کریں گے۔ زکوٰۃ دیتے رہیں گے اور ہمارے رسول نبی اُمّی صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع کریں گے، جن کو رسول بناکر بھیجا جائے گا اور جسے وہ پائیں گے۔ تورات اور انجیل میں بھی یعنی آخری نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بارے میں پیشین گوئیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں واضح علامات ان کو تورات اور انجیل دونوں میں ملیں گی،‘‘ یہی ہے وہ مکالمہ جو آج سے چار ہزار سال پہلے اللہ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام بیچ ہوا ہے اور اس مکالمہ کے بعدچودہ سو سال تک بغیر کسی وقفے اور انقطاع کے بنی اسرائیل کے ہاں نبوت کا وہ سلسلہ جو دو پیغمبروں(موسیٰ اور ہارون ) سے شروع ہوا جاری رہا۔ اس دوران ان کے ہاں پے در پے نبی آئے، اور نبوت کی کڑی کے ساتھ کڑی یوں ملتی گئی کہ ایک مسلسل زنجیر بن گئی۔ چنانچہ دو پیغمبروں سے آغاز ہوا اور اختتام بھی دو پیغمبروں(حضرت یحیٰ اور حضرت عیسیٰ )پر ہوا۔ مذکورہ بالا مکالمہ آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ پر بغیر کسی ردو بدل کے نازل ہوا، (اللہ نے) فرمایا ’’اے نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیجئے، میں ہی وہ رسول نبی امی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہوں ۔یہ گویا اعلان عام ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کہ میری بعثت اس وعدے کے مطابق ہوئی ہے جو اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کیا تھا اور نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ کی آخری امت کے لئے اللہ نے اپنے کلام میں اپنی رحمت خاصہ کا ذکر فرمایا ہے۔ (الاعراف 158-154) ۔اگر آج ہم اپنے کردار کا جائزہ لیں تو ہم اب اللہ کے اس رحمت خاصہ کے لائق نہیں رہے ہیں المیہ ہے۔ اللہ ہم سب پر رحم فرمائے ۔آمین
( ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی سرینگر)