سائنس و طب
فلپا راکسبی
برطانیہ میں پہلی بار ایک ایسے بچے نے جنم لیا ہے جو ایک مردہ ڈونر کی بچہ دانی کے ٹرانسپلانٹ کے ذریعے پیدا ہوا۔اس بچے کی والدہ اپنی عمر کی 30 کی دہائی میں ہیں۔ پیدائشی طور پر ہی ان میں ایسی بچہ دانی نہیں تھی جس میں حمل ٹھہر سکے۔بچے کی عمر اب 10 ہفتے ہو چکی ہے۔بچےکی پیدائش ویسٹ لندن کے ایک ہسپتال میں ہوئی۔ پیدائش کے وقت بچے کا وزن تقریباً سات پاؤنڈ تھا۔بچے کی والدہ بیل اُن پانچ ہزار برطانوی خواتین میں شامل ہے جو ایم آر کے ایچ نامی سنڈروم کا شکار ہوتی ہیں۔ یعنی پیدائشی طور پر ان میں رحم نہیں ہوتا، انھیں ماہواری نہیں آتی لیکن ان کی بیضہ دانی بالکل معمول کے مطابق ہوتی ہے۔جب بیل 16 برس کی تھیں تو اُسے بتا دیا گیا تھا کہ وہ کبھی بچہ پیدا نہیں کر سکتی۔
اب اس جوڑے کے پاس بچہ پیدا کرنے کے دو راستے تھے، یا تو رحم کی پیوندکاری کرائیں یا سروگیسی (کسی دوسرے کی کوکھ سے بچہ پیدا کرنا) کا۔بیل کے مطابق جب انھیں رحم کا عطیہ مل گیا ہے اور ٹرانسپلانٹ ممکن ہوتو وہ ’ نہ صرف حیران بلکہ انتہائی پُر جوش تھیں۔ڈونر خاندان کے ’نا قابل یقین تحفے‘ کی بدولت وہ اپنے بچے کو خود اپنے بطن میں رکھ کر جنم دے سکیں ۔بیل کے جسم میں رحم کی پیوندکاری کا آپریشن جون 2024 میں آکسفورڈ کے چرچل ہسپتال میں ہوا، جو 10 گھنٹے تک جاری رہا۔ اس کے چند ماہ بعد جوڑے کو آئی وی ایف علاج ملا اور پھر ایمبریو ٹرانسفر۔آئی وی ایف ایک ایسا طریقہ کار ہے، جس کے دوران عورت کے ایگز (انڈوں) کو مرد کے سپرم سے لیبارٹری میں فرٹیلائز کیا جاتا ہے اور اس کے بعد ایمبریو کو عورت کے رحم (بچہ دانی) میں ڈالا جاتا ہے۔جب بچہ پیدا ہوا تو بیل نے کہا،’’یہ واقعی ایک معجزہ تھا۔‘‘مردہ ڈونر کے رحم کا بیل کے جسم میں کامیاب ٹرانسپلانٹ برطانیہ میں جاری کلینیکل ریسرچ ٹرائل کے تحت کئے جانے والے 10 ایسے آپریشنز میں سے ایک ہے۔ ان میں سے تین ٹرانسپلانٹ اب تک کئےجا چکے ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ کسی بچے کی پیدائش ہوئی ہے۔سنہ 2025 کے اوائل میں ایمی کی پیدائش ہوئی، یہ برطانیہ میں زندہ ڈونر کے رحم کے عطیے سے پیدا ہونے والی پہلی بچی تھی۔ جنوری 2023 میں ایمی کی ماں میں ان کی بڑی بہن کا رحم منتقل کیا گیا تھا۔ ان کی بہن پہلے ہی اپنے دو بچے پیدا کر چکی تھیں۔ٹرانسپلانٹ سرجن اور ٹیم کی مشترکہ سربراہ ازابیل کیروگا نے اس بچے کی پیدائش پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے برطانیہ میں اعضا کی پیوندکاری کے میدان میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔بقول اُن کےیورپ میں بہت کم ایسے بچے پیدا ہوئے ہیں جن کی ماؤں نے کسی مردہ ڈونر کا رحم حاصل کیا ہو۔ ہم تجربات کے ذریعے معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا یہ طریقہ علاج منظوری حاصل کر کے باقاعدہ طور پر ایسی خواتین کے لیے دستیاب ہو سکے گا جو بچہ پیدا کرنے کی عمر میں ہیں لیکن ان کے رحم میں حمل نہیں ٹھہر سکتا۔کسی مردہ ڈونر سے رحم کی پیوندکاری کے بعد پیدا ہونے والا بچہ ڈونر سے کوئی جینیاتی تعلق نہیں رکھتا۔دنیا بھر میں اب تک 100 سے زیادہ رحم کی پیوندکاریاں کی جا چکی ہیں اور ان کے نتیجے میں 70 سے زائد صحت مند بچوں کی پیدائش ہو چکی ہے۔رحم کا عطیہ کرنا گردہ اور دل جیسے دوسرے اعضا عطیہ کرنے سے مختلف ہے۔ جس خاندان نے اپنے فوت ہونے والے عزیز کے اعضا عطیہ کرنے پر پہلے ہی آمادگی ظاہر کر دی ہو، رحم کے عطیے ان سے الگ سے رضا مندی لی جاتی ہے۔اگر کوئی شخص اپنی وفات کے بعد اعضا عطیہ نہیں کرنا چاہتا تو برطانیہ میں اسے یہ بات خاص طور پر اپنی زندگی میں ہی بتانا پڑتی ہے۔ ورنہ سمجھا جاتا ہے کہ موت کے بعد وہ اعضا عطیہ کرنے پر رضا مند ہے۔(بی بی سی)