بارہمولہ //شیری نارواو بارہمولہ میں موسلادار بارشوں کا پانی دارالعلوم کالونی شیری کے رہائشی علاقے میں داخل ہوگیا جس سے مکانات اور میوہ باغات کو نقصان پہنچا ہے۔ادھر زنڈفرن دیہات میں بھی پانی رہائشی مکانات میں داخل ہوا ہے جس کے نتیجے میں لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ موسلادار بارشوں کے پانی سے سیلاب آیا جس نے شیری نارواو میں سڑکیں ، گلیاں اور سیب کے باغات کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے علاوہ پانی دارالعلوم شیری کے قریب رہائشی علاقے میں داخل ہوا ہے جس سے رہائشی مکانات اور باغات کو نقصان پہنچا ہے۔ہاکہ نار نالہ سرینگر مظفر آباد شاہراہ پر دریائے جہلم کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ نالہ کچرے اور کوڑا کرکٹ سے بھر گیا جس کی وجہ سے دارالعلوم شیری کے قریب رہائشی علاقے میں شاہراہ کے نزدیک پانی بھرگیا ہے کیونکہ نالے کی نکاسی کیلئے تعمیر کی گی ڈرین خستہ ہوچکی ہے جس کی تعمیر و تجدید کئی برسوں سے عمل میں نہیں لائی گئی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ’ محکمہ اریگیشن و فلڈ کنٹرول نے کئی گزارشات کے باوجود بھی نالے کو صاف نہیں کیا اور نہ ہی مرمت کی جس کے نتیجے میں پانی ہمارے گھروں میں داخل ہو گیا اور انہیں نقصان پہنچا ہے‘۔ادھر زنڈفرن دیہات میں بھی ڈرنیج سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے پانی رہائشی مکانات میں داخل ہوگیاہے جس کے نتیجے میں مقامی آبادی کو سخت مشکلات درپیش ہیں۔ایک مقامی شہری طارق احمد کاکہنا ہے کہ اگر چہ انہوں نے کئی مرتبہ متعلقہ محکمہ کو مطلع کیا تھا تاہم انہوں نے کوئی توجہ نہیں دی۔لوگوں کے مطابق ڈرینج سسٹم نہ ہونے سے یہاں کی رابطہ سڑک بھی خستہ ہوچکی ہے۔ لوگوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر بارہمولہ ، ایگزیکٹو انجینئر بارہمولہ اور بی ڈی او ناروا سے مطالبہ کیا ہے کہ ان مسائل کا نوٹس لیا جائے تاکہ لوگوں کو درپیش مشکلات سے نجات مل سکے۔