قارئین کرام پہلے یہ دو واقعات ملاحظہ فرمائیں۔ ایک پرانا اور دوسرا نیا۔ ۲۰۰۴ء کے پارلیمانی انتخابات سے قبل فیل گڈ فیکٹر اور انڈیا شائننگ کا دور دورہ تھا۔ وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی اور وزیر داخلہ ایل کے آڈوانی سمیت پوری حکومت اور پوری بی جے پی زبردست خود اعتمادی میں مبتلا تھیں۔ ان کو یقین کامل تھا کہ الیکشن میں فتح ہماری ہوگی۔ اسی لیے مقررہ وقت سے چار ماہ قبل ہی انتخابات کا اعلان کر دیا گیا۔ صحافیوں اور تجزیہ کاروں کا بھی یہی خیال تھا کہ واجپئی حکومت واپس آرہی ہے لیکن جب نتیجہ سامنے آیا تو سبھی چونک گئے۔ این ڈی اے کی شکست ہوئی اور ڈاکٹر من موہن سنگھ کی قیادت میں یو پی اے کی حکومت قائم ہوئی۔ اسی دوران ایک تقریب میں صحافیوں نے واجپئی کو گھیر لیا۔ انھوں نے پوچھا کہ ’آپ ہار گئے کیا، آپ کو ہارنے کی امید تھی؟‘‘ واجپئی نے اپنے مخصوص اسٹائل میں کہا کہ ’’ہم ہار گئے، ہمیں ہارنے کی اُمید نہیں تھی۔ وہ جیت گئے انھیں جیتنے کی اُمید نہیں تھی۔‘‘ اب اس منظر کو اُلٹ کر دیکھئے تو آپ کو یوں کہنا پڑے گا کہ’ ’این ڈی اے جیت گیا، اُسے جیتنے کی اُمید نہیں تھی، یو پی اے ہار گیا، اُسے ہارنے کی امید نہیں تھی۔‘‘ اب دوسرا واقعہ ملاحظہ فرمائیں جو بالکل تازہ بہ تاہ ہے۔ ووٹوں کی گنتی سے ایک روز قبل ایک نیوز چینل پر نصف درجن سے زائد صحافی ایگزٹ پول پر بحث کر رہے تھے۔ بیش تر صحافیوں کا خیال تھا کہ ایگزٹ پول کے نتائج غلط ہیں۔ ووٹوں کی گنتی ہوگی تو نتیجہ کچھ اور نکلے گا۔ ایک صحافی نے بڑے پرجوش انداز میں کہا کہ کل ایگزٹ پول کرنے والے کان پکڑ کر اٹھک بیٹھک کریں گے۔ اس پر زوردار قہقہہ پڑا۔ ایک صحافی نے ہنستے ہوئے کہا کہ کل آپ کو بھی بلایا جائے گا اور یہی شرط ہوگی۔ ایک اور قہقہہ بلند ہوا۔ اب یہ تو نہیں معلوم کہ اگلے روز انھیں بلایا گیا یا نہیں لیکن وزیر اعظم نریندر مودی نے ایگزٹ پول کو غلط بتانے والوں کو کان پکڑوا کر اُٹھک بیٹھک ضرور کروا دی۔ انھوں نے نتیجہ آنے کی شام کو بی جے پی ہیڈ کوارٹرس پر اپنی تقریر میں کہا کہ اب سیاسی پنڈتوں کو جائزہ لینے کا اپنا پرانا طریقہ بدل دینا چاہیے۔ یہ نیا ہندوستان ہے، کوئی نیا طریقہ ڈھونڈو۔
مودی کی باتیں سولہ آنہ سے بھی زیادہ سچ ہیں۔ عہد حاضر میں مودی اور امت شاہ سیاسی میدان کے سب سے دھرندھر کھلاڑی ہیں۔ اپوزیشن والے تو ان کے سامنے طفلِ مکتب ہیں۔ ان لوگوں کی حکمت عملی جس انتہا پر جا کر ختم ہو جاتی ہے، مذکورہ جوڑی کی حکمت عملی وہاں سے شروع ہوتی ہے۔ انتخابی مہم کے دوران جب مودی اور شاہ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ ملک میں Pro-Incumbency یعنی حکومت حامی لہر ہے اور این ڈی اے تین سو کے پار جائے گا تو تمام سیاسی پنڈت ٹی وی اسٹوڈیو میں ان کا مذاق اڑاتے تھے، لیکن سچ یہی ہے کہ اس جوڑی نے سیاسی حریفوں کو پانی پلایا ہی، سیاسی پنڈتوں کو بھی پانی پلا دیا۔ صحافت میں پوری زندگی گزار دینے والے صحافی اور اخباروں میں کالم لکھ لکھ کر بوڑھے ہو جانے والے تجزیہ کار بھی سر پکڑ کر بیٹھ جانے پر مجبور ہو گئے، لیکن سوال یہ ہے کہ ایسا کیسے ممکن ہوا؟ ارے آپ نے سنا نہیں کہ مودی ہے تو ممکن ہے۔ در اصل مودی شاہ کی جوڑی نے انتہائی دور اندیشی کے ساتھ اپنی حکمت عملی بنائی تھی۔ یوں تو اس حکمت عملی کا آغاز الیکشن شروع ہونے سے بہت پہلے ہو گیا تھا لیکن اس پر عملی کارروائی پلوامہ خود کش حملے کے ساتھ ہوئی۔ یہ حملہ بڑا مشکوک الحال رہا۔ یہ کیوں ہوا؟ کیسے ہوا ؟اور کس نے کرایا؟ یہ سوالات وقت کی گرد میں دب گئے ہیں جنھیں اب بظاہر کوئی کریدنا نہیں چاہتا، لیکن کیا یہ بات شکوک و شبہات سے بالاتر ہے کہ ایک چھوٹے سے واقعہ کی بھی جانچ کا حکم دے دیا جاتا ہے لیکن اتنے بڑے سانحہ کی جانچ کا حکم آج تک نہیں دیا گیا۔
مذکورہ جوڑی نے اس واقعہ پر ایسا رنگ چڑھایا کہ اپوزیشن کے تیز طرار سیاست دان بھی کوئی سوال نہیں اٹھا سکے۔ اس کے بعد آپریشن بالا کوٹ ہو گیا۔ تین سو سے چار سو ملی ٹینٹوں کی ہلاکت کا مژدہ سنایا گیا لیکن آج تک ایک بھی لاش نہیں دکھائی گئی۔ نہ ہندوستان نے دکھائی نہ پاکستان نے۔ اس واقعہ پر دیش بھکتی، حب الوطنی اور فوج پرستی کا ایسا لیبل لگایا گیا کہ اگر کسی نے چشم و ابرو کے اشارے سے بھی کچھ پوچھنے کی کوشش کی تو حکومت اور بی جے پی کے ساتھ ساتھ پانچ برسوں کے دوران بڑی محنت سے تیار کی گئی بھکتوں کی فوج ٹوٹ پڑی اور پھر خاموش ہو جانے میں ہی عافیت سمجھی گئی۔ فوج کی آڑ میں نام نہاد دیش بھکتی کا راگ چھیڑا گیا اور اس راگ کو مزید موثر اور دلچسپ بنانے کے لیے پہلے ’’ٹکڑے ٹکڑے گینگ ‘‘کی اصطلاح گھڑی گئی اور پھر’’ خان مارکیٹ گینگ‘‘ کی اصطلاح آگئی۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ثانی الذکر اصطلاح کے خالق خود مودی جی ٹھہرے۔ اس اصطلاح نے ایسا رنگ دکھایا کہ ایک خاتون صحافی کو حق بات کہنے پر اس کے باپ نے اسے خان مارکیٹ گینگ کا رُکن ٹھہرا دیا۔ اس نام سے بھی ایک پیغام جاتا ہے۔ خان ہے تو دہشت گرد ہے خواہ شاہ رُخ خان اس کی رد میں ایک نہیں کئی فلمیں بنا لیں۔ یہ باتیں بظاہر بڑی چھوٹی لگتی ہیں مگر زخم کاری لگاتی ہیں۔’ ’دیکھن میں چھوٹے لگیں گھاؤ کریں گمبھیر‘ ‘والا معاملہ ہے۔
مودی شاہ کی جوڑی نے تقریباً چالیس دنوں تک چلنے والی انتخابی مہم کے ایک ایک دن کے لیے پلاننگ کر رکھی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن ایک بار بھی این ڈی اے پر حاوی نہیں ہو سکا۔ جب بھی ایسا لگا کہ وہ حاوی ہونے والا ہے تو مودی جی سامنے آگئے اور کوئی ایسا بیان دے دیا کہ اپویشن کے غبارے کی ہوا نکل گئی۔ ہمیشہ کی مانند پاکستان کو ایک بار پھر انتخابی دنگل میں گھسیٹ کر لے آیا گیا اور ایسا پیچیدہ ماحول بنایا گیا کہ جیسے پارلیمنٹ کا الیکشن نہیں ہو رہا ہے بلکہ پاکستان کے خلاف جنگ ہو رہی ہے۔ پاکستان کو درمیان میں لانے کے دو فائدے ہوتے ہیں: ایک تو اس سے ازلی بیر رکھنے والوں کے جذبات کی تسکین ہوتی ہے اور دوسرے مسلمانوں کو ایک دشمن کے طور پر سامنے کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ اس ملک میں ایسے ہندوؤں کی بہت بڑی تعداد ہے جو مسلمانوں کو اپنا دشمن سمجھتی ہے اور اگر کوئی پاکستان کو للکار رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ میں تو’’ گھر میں گھس کر مارتا ہوں‘‘ تو فطری طور پر یہ طبقہ اس کا جذباتی دیوانہ بن جاتا ہے۔ ان پانچ سالوں میں ایسا ماحول بنایا گیا کہ جن لوگوں کے دلوں میں مسلمانوں کے تعلق سے ذرا بھی بے اطمینانی تھی ،وہ بھی کھل کر سامنے آگئے اور وہ بے اطمینانی پہلے بدگمانی میں اور پھر دشمنی میں بدل گئی۔ اس سوچ کو دھار دینے کے لیے ہندو مائتھالوجی کا بھی خوب استعمال کیا گیا۔ مثال کے طور پر مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کا چہرہ ایک ہندو دشمن کے چہرے میں تبدیل کر دیا گیا۔ امت شاہ کے روڈ شو میں رام اور ہنومان اور دیوی دیوتاؤں کا سوانگ بھرنے والوں کی بڑی تعداد تھی۔ ممتا بنرجی چونکہ اپنی سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے مسلمانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتی ہیں، اس لیے ان کو ہندو دشمن کے طور پر پیش کرنا گویا ایک تیر سے دو شکار کرنا تھا۔ ایک ممتا کو نشانہ بنانا اور دوسرے مسلمانوں کو۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران گائے اور دوسرے حساس معاملات کا سہارا لے کر اکثریتی طبقے کے ذہنوں میں مسلم دشمنی کے جو بیج بوئے گئے ،اس کی فصل الیکشن کے دوران لہلہا اٹھی۔ جذباتی ایشوز کے ارد گرد وِکاس کے نام پر متعدد ایشوز کو زیب ِداستان کے طور پر سجا دیا گیا۔ اس سے ان لوگوں کو قریب لایا گیا جو جذبات کی رَو میں آسانی سے بہنے والے نہ ہوں۔ پانچ سالوں کے دوران شروع کی جانے والی متعدد اسکیموں کے نام پر ،خواہ نمائشی ہی کیوں نہ ہوں، سماج کے مختلف طبقات کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی جن میں خواتین کی بڑی تعداد تھی۔ یہاں تک کہ طلاق ثلاثہ کی شکار خواتین نے بھی مودی کو ووٹ دیا۔ اس کے علاوہ مودی خود کو ایک دبنگ لیڈر کے طور پر پیش کرنے میں بھی کامیاب رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان تمام چیزوں کی ایسی مارکیٹنگ کی گئی کہ گاہک کسی دوسری طرف دیکھ ہی نہیں سکا۔ ادھر ایک بڑے طبقے نے یہ سوچ کر کہ پانچ سال میں کام پورا نہیں ہوا ،چلو پانچ سال اور دے دو، این ڈی اے کو ووٹ دے دیا۔ پارلیمانی جمہوریت میں بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ عوام خود اپنے فیصلے پر دنگ رہ جاتے ہیں۔ اس بار بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ ہم ای وی ایم پر اظہار خیال کرنا نہیں چاہتے بلکہ اس بارے میں راحت اندوری کا یہ شعر پیش کرنا چاہتے ہیں جو آج کل خوب وائرل ہو رہا ہے ؎
لہو میں ڈوبی ہوئی آستین جیت گئی
چناؤ ہار گئے سب مشین جیت گئی