(سیدنا خواجہ غریب نواز علیہ الرحمة والرضوان)
لمحہ لمحہ رحمتی ہے خواجہ کے اجمیر میں
ہر سو برکت بٹ رہی ہے خواجہ کے اجمیر میں
جلوہء مولیٰ علیؓ ہے خواجہ کے اجمیر میں
مصطفےٰؐ کی روشنی ہے خواجہ کے اجمیر میں
مانگنے والوں کی صف میں بھیک لینے کے لئے
تاجداری بھی کھڑی ہے خواجہ کے اجمیر میں
نرگس وبیلا، چمیلی، مشک وعنبر کی نہیں
خوشبوئے آلِ نبی ہے خواجہ کے اجمیر میں
ایک کاسے میں انا ساگر کی وسعت بھر گئی
یہ کرامت بھی ہوئی ہے خواجہ کے اجمیر میں
لے کے اپنی آرزوئیں ان کے روضے کے قریب
سر خمیدہ سروری ہے خواجہ کے اجمیر میں
جس کی خوشبو سے معطر اولیائے ہندہیں
وہ گلابِ فاطمی ہے خواجہ کے اجمیر میں
آسماں کے چاند تارے جھک کے کرتے ہیں سلام
ایسی نوری ہر گلی ہے خواجہ کے اجمیرمیں
آؤ اے زاہدؔ اگر ہے شوقِ نظّارہ تمہیں
دلکشی ہی دلکشی ہے خواجہ کے اجمیر میں
محمد زاہد رضابنارسی
دارالعلوم حبیبیہ رضویہ گوپی گنج،بھدوہی یوپی