تندرستی ہزار نعمت ہے … جی ہاں …! بے شک تندرست اور صحت مند جسم اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے ۔ اِس کی قدر اور حفاظت کرنا فرض اوّلین ہے ۔ تندرست صحت انسان کے لئے اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے اور زندگی خالق کائنات کی امانت ہے ۔ عقلمند آدمی وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت کی قدر دانی کرے اور امانت الٰہی کی کسی بھی صورت میں خیانت نہ کرے ۔اِس حوالے سے کسی بھی غلط یا مُضر صحت غذا کا استعمال یا کھانے پینے کی مضر اشیاء سے پرہیز کریں ۔ خیال رہے کہ اللہ تعالیٰ کی عطاکر دہ نعمت کا شکر کرنے کی بجائے کفران نعمت نہ ہوا اور امانت الٰہی کا خیانت نہ ہو۔ صحت وہ عظیم دولت ہے جس کے بغیر تو دنیاوی امور انجام دئیے جاسکتے ہیں اور نہ ہی دینی امور ادا کر نے کا ایک اِنسان متحمل ہوسکتاہے ۔ اِسی لئے اسلام صرف انہی چیزوں کو کھانے کی اجازت دیتا ہے جو حلال ہوں اور حلال چیزوں سے ہی جسم میں طاقت پیدا ہوتی ہے اور اِنسان تندرست ہوتا ہے ۔ موجودہ معاشرہ میں ایسی چیزوں کی بہتات ہے جو انسانی صحت کے لئے بے حد ضرر رسان ہیں جن میں سر فہرست تمباکو ہے جس کے زہر نکوٹین Nicotine سے نہ جانے کتنے لوگ روزانہ موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں ۔ اِنسان جب مرض میںمبتلا ہوتا تو شفایاب ہونے کے لئے سب کچھ دائو پر لگادینے میں کوئی پس و پیش نہیں کرتا ۔ لیکن یہ انسان اپنی بساط کے مطابق ہزاروں روپے علاج پر تب خرچ کرنے پر مجبور ہوتا ہے جب مرض عروج پر پہنچ گیا ہو، اور مریض ہسپتال کی زینت بن چکا ہو، تو ایسے میں اگر علاج کارگر ہوا تو مبارک ورنہ ڈاکٹر صاحبان کی کاوشیں بھی کار آمد ثابت نہیں ہوتیں۔ اِس میں کسی کا کیا قصور؟
اِنسان بذات خود مجہول اور حد درجہ لاپرواہ ہے ۔ خاص طور اَپنی صحت کے ساتھ شعوری یا لاشعوری طور کھلواڑ کرنا اب لوگوں کا معمول بن گیا ہے ۔ مضر صحت غذائی اجناس کے علاوہ نشہ آور چیزوں کا استعمال عام لوگوں کا روزمرہ مشغلہ بن گیا ہے ۔ شراب نوشی ، سگریٹ نوشی ، تمباکو نوشی اور آج کل اب ڈرگز کا استعمال ایک فیشن کے طور پر عام لوگوں میں حیات جاودانی کا دلربا ذریعہ بنا ہوا ہے اور اِس خاموش ہوائی نے وبائی صورت اختیار کی ہے ۔ مردوں کے علاوہ عورتیں بھی اس بیماری میں مبتلا ہوچکی ہیں ۔ افسوس کا مقام ہے کہ معصوم نوجوان لڑکے او رلڑکیاں بھی اس مہلک بیماری کی شکار ہوئی ہیں۔ جبکہ سگریٹ نوشی کے مضر اثرات سے سب لوگ باخبر ہیں ۔ اس پر طرہ یہ کہ ہر ایک سگریٹ پیکٹ پر انتباہ کے طورپر واضح لکھا ہوا ہوتا ہے ’’ خبردار ‘‘ سگریٹ نوشی مضر صحت ہے ۔ اس کے باوجود سگریٹ نوشی کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اور ہمارے نوجوان شوقیہ طور سگریٹ نوشی اور تمباکو نوشی کو اپنے لئے فخر سمجھتے ہیں ۔ خاص طور کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ طالب علم اور طالبات سگریٹ نوشی کو اپنے لئے عزت وقار کا ذریعہ سمجھتے ہیں جب کہ یہ سوچ بالکل غلط اور ذہنی پستی کا ثبوت فراہم کر رہی ہیں ۔ تعجب کی بات ہے کہ ڈاکٹر صاحبان منع بھی کرتے ہیں اور خود سگریٹ نوشی کا ارتکاب بھی کررہے ہیں۔ جبکہ سگریٹ ساز کمپنیوں نے واضح طور تنبہ کے طور لکھا ہے ’’ خبردار ‘‘ سگریٹ نوشی مضر صحت ہے او رتمباکو نوشی کینسر اور دل کی بیماریوں کا باعث ہے ۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ باجود کہ تمباکو نوشی میں کوئی کمی نہیں آتی بلکہ حقہ، پائپ، سگار و سگریٹ کی شکل میں اس کا استعمال روز بروز بڑھتا جارہا ہے ۔ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے معصوم نوجوان اور ہماری نوجوان لڑکیاں بھی سگریٹ نوشی کے ذریعے چرس کی بھی عادی ہوچکی ہیں ۔ نشہ آور چیزوں میں چرس ، افیون ، کوکین ، ہیروئین ، برائون شوگر اور شراب کا استعمال روز افزوں ترقی پارہا ہے ۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ شراب پی کر ایک انسان بد مست ہو کر اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے اور اس کے سامنے ماں، بہن ، بیٹی ، بیوی میں کوئی تمیز اور کوئی پہچان نہیں رہتی ۔ چنانچہ حضور اَکرم ؐ کا فرمان ہے کہ ہر پینے کی چیز جو نشہ لائے حرام ہے ( متفق علیہ)
نشہ آور ادویات کے استعمال سے نفسیاتی اور جسمانی نقصانات ہونے کے باوجود ہمارے یہاں شراب کے ساتھ ساتھ چرس کے استعمال کی وبا ہماری نوجوان پود میں پھیل چکا ہے ۔ وادی کشمیرمیں محدود اور مخصوص لوگوں کا ایک گروہ جو بالکل سادہ طبیعت کے لوگ تھے ، چرس پینے کے عادی تھے جن کو کشمیر زبان میں ( شودہ ) کہتے تھے ان لوگوں کا مختلف مقامات پر اجتماعی طور ایک اڈہ ہوتا تھا ۔ اس اڈے کے شودہ تکیہ کہا جاتاتھا ۔ اب وقت گزر جانے کے بعد موجودہ دور میں چرس پینے کی بیماری ایک وبا کی صورت اختیار کر چکی ہے جوکہ سماج کے لئے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے ۔ ان کے غلط کاموں سے سماج اور معاشرہ تباہ ہوچکا ہے ۔ گھر گھر نوجوان لڑکیاں او رلڑکے اس کے شکار ہو رہے ہیں ۔ سماج میں اس وقت ہر طرف ہاہا کار ہے او رشراب کے ساتھ ساتھ دیگر منشیات کا دھندہ عروج پرہے اور ہماری نوجوان نسل برباد ہو رہی ہے ۔ حرام دولت کمانے والے خوب مزے لوٹ رہے ہیں اور پورا معاشرہ گندگی کے اتھاہ سمندر میں غرق ہوچکا ہے ۔
بین الاقوامی ادارہ صحت کے شائع کردہ اعداد شمار کے مطابق تمباکو نوشی سے کم از کم دس لاکھ لوگ سالانہ لقمہ اَجل بنتے ہیں۔ ان اعداد شمار کے مطابق پھیپھڑوں کے کیسنر سے نوے فیصد، امراض قلب کی بنا پر ۲۵ فیصد ،دمہ کی وجہ سے ۷۵ فیصد اموات براہ راست تمباکو نوشی کے باعث واقع ہوتی ہیں ۔ ایک رِپورٹ میں عالمی صحت تنظیم ( W.H.O) نے یہ بات واضح کی ہےکہ سگریٹ نوشی میں مرنے والے یا بد حال زندگی گزارنے والے تعداد میں ان لوگوں سے زیادہ میں جو طاعون ، صحت ، ٹی بی ، جذام اور ٹائی فائیڈ وغیرہ جیسے امراض کا شکار ہو کر مرجاتے ہیں ۔ ان خطرناک نتائج کے پیش نظر تمباکو نوشی کو وبا اور مہلک بیماری سے تعبیر کیا گیا ہے ۔
پھیپھڑوں کا کینسر ،دل کی شریانوں، خون کی بیماری ، پھیپھڑون کی قدیم سوزش اور کھانسی وغیرہ جیسی خطرناک بیماریوں کا تعلق سگریٹ اور تمباکو نوشی سے ہے ،جس کا نظام ہاضمہ پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے اور تمباکو نوشی سے استماء ( Asthama) جیسی خطرناک بیماری بھی لاحق ہوجاتی ہے۔ غرض تمباکو نوشی ہر لحاظ سے مضر صحت اور زہر قاتل ہے۔
اطباء کے نزدیک تمباکو کی خاصیت گرم خشک ہے یا سداری ہے،جو صحت کے لئے نہایت نقصان دہ او رخطرناک ہے۔ ڈاکٹر اوسٹ فیلڈ کہتے ہیں کہ سگریٹ نوشی آپ کے دل میں تباہی کرتی ہے کیوں کہ اس سے خون میں پھلکیاں بننے کا عمل تند ہوتا ہے اور ان پھلکیوں سے دل تک خون پہنچانے والی نالیاں بند یا تنگ ہوسکتی ہیں ۔ علاوہ ازیں سگریٹ نوشی سے شریانوں میں پلیک بھی جمع ہو سکتاہے ۔ جو لوگ سگریٹ نہیں پیتے لیکن سگریٹ کے دھوئیں سے آلودہ ماحول میں رہتے ہیں وہ بھی اپنی صحت کو یکسان نقصان پہنچارہے ہیں ۔ اس بالواسطہ سگریٹ نوشی سے امریکہ میں ہر سال تقریباً ۴۵ ہزار اَفراد امراض قلب میں مبتلا ہونے کے بعدلقمہ اجل بن جاتے ہیں۔تمباکو نوشی کے مسلمہ مضر اثرات کو مد نظر رکھتے ہوئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مہلک اور خطرناک بُری عادت سے چھٹکارا پانے کے لئے پہلے بذات خود اس کا استعمال ترک کریں۔ پھر معاشرہ کو اس بری عادت سے چھٹکارا دلانے میں کمر بستہ ہوجائیںاور اجتماعی طور اس مہلک وباء کی خلاف جہاد کریں ۔ منشیات کا کاروبار کرنے والوں سے مود بانہ گزارش ہے کہ ایسا کار وبار نہ کریں جو حرام ہو، جس کی ممانعت اللہ او راس کے رسول ؐ نے کی ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سماج کے نوجوان اس بُری عادت سے اپنے آپ کو بچالیں اور سماج کو بھی اس لعنت سے چھٹکارا دلادیں ۔ نوجوانو! آپ ذہن نشین کریں کہ آپ مستقبل کے معمار ہیں، لہٰذا اَپنی ذمہ داریوں کو خوب سمجھ لیں۔
اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے او رہمیں حفاظت فرما کر ہماری نوجوان نسل کو بدیوں اور برائیوں سے نجات فرما کر ہدایت کا راستہ اپنانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
رابطہ ۔ خواجہ بازار، سرینگر
فون: 2471176 0194-
�������