ملک منظور
ہمارا معاشرہ اس وقت متعدد سماجی برائیوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ شیخی بگھارنا، جھوٹ، دھوکہ دہی، ملاوٹ اور بہتان جیسی بیماریاں ناسور بن کر ہماری جڑوں کو کھوکھلا کر رہی ہیں۔ ان سب میں غیبت، تہمت اور منافقت وہ مہلک ترین ہتھیار ہیں جو انسانیت کا چہرہ مسخ کر دیتے ہیں۔ اگرچہ یہ تمام برائیاں بظاہر الگ نظر آتی ہیں، مگر درحقیقت یہ ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں جن کا منبع نفس پرستی ہے۔ منافقت محض ایک اخلاقی عیب نہیں، بلکہ اسے ایک حکمتِ عملی (Strategy) کے طور پر استعمال کیا جانے لگا ہے۔ منافق شخص نفسیاتی ماہر کی طرح سامنے والے کی کمزوریوں کا تجزیہ کرتا ہے، خوشامد کے ذریعے اس کا اعتماد جیتتا ہے اور پھر اسی اعتماد کو ڈھال بنا کر اپنے ذاتی مفادات کی منڈی سجاتا ہے۔ یہ خودغرضی آنکھوں سے بصارت نکال دیتی ہے اور خوشامدی سے دلی قویٰ بیکار بنا دیتی ہے۔ ایک ماتحت کا اپنے افسر کے سامنے حریف کی کردار کشی کرنا یا ایک کمزور شخص کا کسی بااثر فرد کی قربت حاصل کرنے کے لیے جھوٹے قصے سنانا، اب ہمارے دفتری اور سماجی کلچر کا حصہ بن چکےہیں۔ المیہ یہ ہے کہ سماجی تحقیق کا مادہ ختم ہو چکا ہے، لوگ سنی سنائی باتوں پر بلا تحقیق یقین کر لیتے ہیں، جس کا نتیجہ دیرینہ دوستیوں کی شکست اور خونی رشتوں میں دراڑ کی صورت میں نکلتا ہے۔ مظلوم شخص اپنی ہی دنیا میں مگن ہوتا ہے، جبکہ چغل خور پیٹھ پیچھے اس کے وقار کا جنازہ نکال چکا ہوتا ہے۔
خوشحالی ہر انسان کا فطری حق ہے، لیکن دوسروں کی پگڑیاں اچھال کر حاصل کی گئی ترقی دراصل انسانیت سے غداری ہے۔ مکاری اور لومڑی جیسی چالوں سے حاصل کیا گیا اثر و رسوخ کبھی مستقل نہیں ہوتا۔ دورِ جدید کی بے جا مادی امنگوں نے انسان کو بے حس بنا دیا ہے، اور یہی بے حسی اخلاقی اندھے پن کو جنم دیتی ہے۔ جب منزل صرف دولت قرار پائے، تو راستے خود بخود تاریک ہو جاتے ہیں۔ یاد رکھیے، ترقی کا کوئی بھی شارٹ کٹ اخلاقیات سے ہو کر نہیں گزرتا؛ جو لوگ مختصر راستے تلاش کرتے ہیں، وہ لازمی طور پر بہتان تراشی اور جھوٹے الزامات کا سہارا لیتے ہیں۔ ان تمام فتنوں کا مرکز گوشت کا وہ چھوٹا سا ٹکڑا ہے جسے ہم زبان کہتے ہیں۔ یہ زبان اگر ذکرِ خیر کرے تو مرہم، اور اگر چغلی کھائے تو زہریلا خنجر ہے۔ ہم بھول چکے ہیں کہ تمام الہامی کتابوں نے اس عضو کے غلط استعمال پر سخت وعیدیں سنائی ہیں۔قرآنِ کریم میں واضح طورپربیان کیاگیاہے،’’تباہی ہے ہر اس شخص کے لیے جو منہ در منہ عیب نکالنے والا اور پسِ پشت غیبت کرنے والا ہو۔‘‘ (سورہ الہمزہ)۔بائبل میں کہا گیا ہے ،’’اگر کوئی اپنی باتوں میں خطا نہ کرے تو وہ کامل شخص ہے اور وہ اپنے پورے بدن پر قابو پا سکتا ہے۔‘‘ (جیمز)۔بھگوت گیتا میں خدائی صفات میں ’’بہتان تراشی سے پاک ہونا اور تمام جانداروں کے لیے ہمدردی ‘‘کو بنیادی شرط قرار دیا گیا ہے (باب 16)۔گرو گرنتھ صاحب میں ’’بہتان تراش گناہوں کا وہ بھاری بوجھ اٹھاتا ہے جس کی اسے کوئی اجرت بھی نہیں ملتی۔‘‘ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہمارے مذہبی اسکالرز اور واعظ ان تعلیمات کی روح کو عام کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ آج مسلکی اختلافات نے منافقت کو ایک نیا لبادہ پہنا دیا ہے۔ جب منبر و محراب سے ایک دوسرے کے خلاف نفرت آمیز زبان استعمال کی جاتی ہے، تو عام آدمی کو غیبت اور بدگوئی کی مذہبی سند مل جاتی ہے۔
جدید دور میں سوشل میڈیا نے اس آگ پر تیل کا کام کیا ہے۔ اب کسی کی کردار کشی کے لیے محفلوں کی ضرورت نہیں رہی، بلکہ ایک ’’شیئر‘‘یا ’’اسٹیٹس ‘‘کے ذریعے جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کر دیا جاتا ہے۔اگر اس وبا کو فوری طور پر نہ روکا گیا، تو وہ دن دور نہیں جب معاشرہ ’’انسانی شکل میں پھرتے خونخوار درندوں‘‘ کا مسکن بن جائے گا۔ جہاں سچائی دم توڑ دے، وہاں روحانیت داغدار ہو جاتی ہے اور پوری قوم زوال کی پستیوں میں گر جاتی ہے۔اس کا واحد حل دو چیزوں میں ہے۔خود احتسابی: دوسروں کے عیب تلاش کرنے کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکنا۔تحقیق کا کلچر: قرآن کا حکم ہے کہ جب کوئی فاسق خبر لائے تو اس کی تحقیق کرو۔ کسی کی بات پر بلا تحقیق یقین نہ کرنا ہی منافقت کے وار سے بچنے کی بہترین ڈھال ہے۔آئیے عہد کریں کہ ہم اپنی زبانوں کو دوسروں کے وقار کے تحفظ کے لیے استعمال کریں گے، نہ کہ اسے کسی کی زندگی برباد کرنے کا ذریعہ بنائیں گے۔ اگر ہماری زبان سے دوسرا انسان محفوظ نہیں ہے تو ہم مسلمان بھی نہیں ہیں۔