عزم و استقلال کی فتح ،نائد کھئی بانڈی پورہ کے عرفان احمد لون کی داستان
فہم و فراست
ڈاکٹر فلک فیروز
حال ہی میں یونین پبلک سروس کمیشن دہلی کی جانب سے سال ٢٠٢٥ میں لیے گئے انڈین ایڈمنسٹریٹو مسابقتی امتحانات کے نتائج کا اعلان کیا گیا۔اس امتحان میں ملک کے لاکھوں امیدواروں نے اپنی قسمت ازمائی کی جن میں سے ٩٥٨ امیدوار اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئے ۔جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے ٣٨ امیدوار اس امتحان میں کامیابی حاصل کر پائے۔سوشل میڈیا پر گشت کر رہی اس خبر نے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا کہ اس امتحان میں 100فیصد بصیرت سے محروم عرفان احمد لون نے بھی اس کامیابی کا سہرا اپنے سر کر لیا ہے ۔جس کو مختلف ذرایع سے متعدد طبقوں کی جانب سے مبارکبادیاں مل رہی ہیں ان کے آبائی علاقہ نایدکھایی میں لوگ جوق درجوق ان کے گھر جاکر ان کے والد اور گھر والوں کو مبارکباد پیش کر رہے ہیں ۔ائیے عرفان احمد لون کی اس غیر معمولی کامیابی کو غیر معمولی انداز میں اپنے سر کرنے کی جدوجہد،عزم،استقلال،جان فشانیاں ،کشمکش کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
جموں وکشمیر کے گرمائی دارالخلافہ سے ٣٥ کلومیٹر کی دوری پر واقع آباد علاقہ نایدکھائی تحصیل حاجن ضلع بانڈی پورہ کے نام سے جانا جاتا ہے ۔اس علاقے کو کئی انفرادی حیثیتیں حاصل ہیں جیسے یہ علاقہ شعبہ زراعت ،شعبہ باغبانی میں خود کفیل ہے یہ علاقہ مقامی سیاست میں جوش وخروش اور سیاسی بیداری کے تئیں بھی مشہور ہے ۔تجارت کے پیشے کے لحاظ سے بھی جانا جاتا ہے واضح رہے یہاں علاقے کی چند مشہور شخصیات گزری ہیں ۔کشمیر کی سیاسی تاریخ میں اہم نام سابق سپیکر اسمبلی جموں و کشمیر اور ممبر پارلیمنٹ بارہمولہ ایڈوکیٹ محمد اکبر لون بھی اس سرزمین کی پیداوار ہے نیز موجود ممبر اسمبلی سوناواری ایڈوکیٹ ہلال اکبر لون بھی اس مٹی کا فرزند ہے ۔واضح رہے راج نام کا تعمیر کردہ تاج محل بھی اس علاقے کی شان کا امتیاز ہے ۔ اسی نائد کھائی سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان عرفان احمد لون کی داستان عزم و استقلال کی ایک درخشاں مثال بن کر سامنے آئی ہے۔ تیس برس کے اس باہمت نوجوان نے مکمل بصارت سے محرومی کے باوجود بھی باوقار سول سروس امتحان میں کامیابی حاصل کر کے ثابت کر دیا کہ ارادہ مضبوط ہو تو اندھیرے بھی راستہ روک نہیں سکتے۔عرفان احمد لون کی زندگی کا یہ کارنامہ دراصل بائیس برس پر محیط ایک صبر آزما جدوجہد کا حاصل ہے۔ بچپن میں ہم عمر بچوں کے ساتھ کھیلنے کے دوران عرفان کی ایک آنکھ کو حادثہ پیش آیا ۔اس کے بعد مقامی سکول میں دوسری آنکھ کو بھی حادثہ پیش آیا اور موصوف مکمل طور پر بینائی سے محروم ہو گئے۔ اس سانحے نے جہاں ان کے گھر والوں کو آزمائش میں ڈالا، وہیں گاؤں کے لوگوں کے دلوں میں بھی یہ سوال پیدا ہوا کہ اس نابینا بچے کا مستقبل کیا ہوگا۔ اکثر لوگ ہمدردی کے لہجے میں کہتے کہ اب اس بچے کا کیا حال ہوگا ۔مگر یہ خدشات دراصل معذور افراد کی صلاحیتوں سے ناواقفیت کا اظہار تھے۔ عرفان خود کہتے ہیں کہ لوگوں کو اس بات کا ادراک نہیں تھا کہ ایک معذور شخص بھی تعلیم، محنت اور عزم کے ذریعے زندگی میں بڑی کامیابیاں حاصل کر سکتا ہے۔ان کی زندگی کا سب سے روشن باب ان کے والد کی بے مثال ہمت اور حوصلہ افزائی ہے۔ ان کے والد محکمہ آبپاشی میں ایک معمولی ملازم ہے ، مگر اپنے بیٹے کی صلاحیتوں پر انہیں غیر متزلزل یقین تھا۔ کم عمری ہی میں عرفان اپنی والدہ سے محروم ہو گئے تھے، اس لیے باپ بیٹے کا رشتہ مزید مضبوط ہو گیا۔ان کے والد نے کمال جرات کا مظاہرہ اس وقت کیا جب انہوں نے اپنے فرزند عرفان احمد کو دہرا دون کے قومی ادارہ برائے نابینا میں ان کا داخلہ کرایا۔اس وقت یہ فیصلہ لینا خود ان کے والد اور عرفان احمد کے لیے کسی مشکل ازمائش سے کم نہیں تھا لیکن بقول عرفان اللہ نے اپنا فضل قائم کر کے میرے لیے اسائشیں پیدا کی جس کی وجہ سے میں بارہویں جماعت تک اپنی تعلیم وہاں مکمل کر سکا۔ اس کے بعد موصوف نے اعلیٰ تعلیم کے لیے دہلی کے ہندو کالج کا رخ کیا یہاں اپنی گریجویشن مکمل کی ۔بعد ازان انہوں نے ملک کے معروف ادارے جواہر لال نہرو یونیورسٹی دہلی سے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ابتدائی تعلیم کے دوران وہ بریل کے ذریعے مطالعہ کرتے رہے، لیکن بعد کے زمانے میں ٹیکنالوجی نے ان کے لیے نئی راہیں کھول دیں۔ انہوں نے موبائل پر TalkBack ر لیپ ٹاپ پر JAWS جیسے اسکرین ریڈر سافٹ ویئر کی مدد سے ای بکس، پی ڈی ایف اور دیگر تعلیمی مواد تک رسائی حاصل کی۔ اس کے ساتھ ساتھ ہندو کالج کے دوستوں نے بھی انہیں مطالعہ کے وسائل فراہم کر کے بھرپور تعاون کیا۔یونین پبلک سروس کی طویل اور غیر یقینی جدوجہد کے دوران انہوں نے عملی زندگی میں بھی اپنے قدم مضبوط رکھنے کی کوشش کی۔ کچھ عرصہ انہوں نے پنجاب نیشنل بینک کی انشورینس کمپنی میں افسر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور بعد ازاں اسسٹنٹ ایڈمنسٹریٹو آفیسر کے طور پر کام کرنے لگے۔راقم کے ساتھ فونک گفتگو کے دوران عرفان نے کہا ،اگرچہ میری موجودہ ملازمت مستحکم اور باوقار ہے، مگر میرے دل میں ہمیشہ عوامی خدمت کا جذبہ موجزن رہا۔ میرا اصل مقصد اپنے علاقے اور خاص طور پر بانڈی پورہ ضلع کے لوگوں کی خدمت کرنا ہے، جہاں شرحِ خواندگی نسبتاً کم ہے۔میرے سوال کہ جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے نام اپ کا کیا پیغام ہوگا کا جواب دیتے ہوئے کہا ۔ ہمارے نوجوانوں میں بے پناہ توانائی اور صلاحیت موجود ہے، لیکن کامیابی کی اصل کنجی تعلیم ہے۔ ہمیں صرف آسائشوں کے خواب دیکھنے کے بجائے معیاری تعلیم کو اپنی اولین ترجیح بنانا چاہیے۔ انہوں نے معذور بچوں کے والدین کے نام ایک دل چھو لینے والا پیغام دیا،’’ اگر عرفان احمد لون یہ کامیابی حاصل کر سکتا ہے تو آپ کا بچہ کیوں نہیں؟بس اپنے بچوں کو ایک موقع دیجیے ۔ وہ آپ کے ہر خواب کو حقیقت کا روپ دے سکتے ہیں۔واضح رہے عرفان احمد نے اس امتحان کے لیے کوئی کوچنگ نہیں کی تھی بلکہ سلف سٹیڈی سے کام لیا اور یہ امتحان انہوں نے چوتھی کوشش یعنی فورتھ اٹیمپٹ میں مکمل طور پر پاس کیا اس سے قبل کی کوششوں میں مینز کے مرحلے تک ہی پنج جاتے تھے۔ عرفان کے مطابق اس طویل سفر میں ہندو کالج کے دوستوں ،لایف انشورینس کارپوریشن کے افسران ،ان کے والد کا ہاتھ اور ساتھ رہا ہے۔عرفان لون کی اس جہد مسلسل پر مبنی سفر کی روداد واقعی قابل تعریف اور قابل ستائش ہے اس کے مثبت رویے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو اپنی صلاحیتوں پر پورا اعتماد ہونا چاہیے اور زندگی میں انے والے مسائل مصائب کا بہادری کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہیے جس طرح عرفان احمد نے ہمارے لیے ایک نئے راستے کا پتہ دیا ہے کہ کس طریقے سے باوجود مشکلات اور مسائل کے ایک انسان اپنے حوصلوں کی بنیاد پر اونچی اڑان بھر سکتا ہے چاہے مقابلہ خود سے ہو کمزوریوں سے ہو پہاڑ جیسی مضبوط چٹان بھی اگر درمیان میں حایل آجائے تو انہیں ہٹایا جا سکتا ہے۔عرفان احمد کی یہ کہانی واقعی طور پر ایک حقیقی کامیابی کی عظیم ترین داستان سکسس سٹوری ہے۔
رابطہ۔8825001337
[email protected]