بانہال // صوبہ جموں کے پہاڑی ضلع رام بن میں محکمہ تعلیم کو اپنی ملکیتی آراضی عطیہ کرنے اور اس پر اپنی رقومات سے سروشکھشا ابھیان کے تحت سکول عمارتیں تیار کرنے والے زمینداروں کی جان پر بن آئی ہے کیونکہ پچھلے کئی سال سے ایس ایس اے کی طرف سے ان زمیندار نما ٹھیکداروں کو بقایا رقومات ادا ہی نہیں کی جارہی ہیں۔ ضلع رامبن میں سرکاری سکولوں کیلئے اپنی زمینیں عطیہ کرنے والے کئی زمینداروں نے کشمیر عظمی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 2010 سے 2018 تک ضلع رامبن کے کئی علاقوں میں محکمہ تعلیم نے سرکاری سکول عمارتوں اور اضافی کمروں کو تعمیر کرنے کی منظوری دی تھی اور سکول کی اِن عمارتوں کو تیار کرنے کا کام یا ٹھیکہ اپنی ملکیتی اراضی دینے والے زمینداروں کو ہی دیا گیا تھا لیکن زمینداروں کی طرف سے قرض فرض کرکے بیشتر سکول عمارتوں کو سالوں پہلے مکمل کیا گیا ہے لیکن لاکھوں روپئے کی بقایا رقومات کے معاملے میں محکمہ تعلیم اب ٹال مٹول کررہا ہے جس کی وجہ سے ٹھیکدار ی میں پھنسائے گئے غریب زمینداروں کو ناقابل بیان مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مڈل سکول ہرواڑی نیل کی عمارت 2013 میں منظور ہوئی اور اسے 2018-19 میں مکمل بھی کیا گیا ہے اور اس پر 9 لاکھ نواسی ہزار روپئے کی رقم میں سے اڑھائی لاکھ روپئے کی رقم ابھی بھی محکمہ تعلیم سے واجب الوصول ہے۔ اٹھ لاکھ روپئے کی لاگت سے مڈل سکول ہی وگن رامسو کے اضافی کمرے تعمیر کئے گئے ہیں لیکن ابھی بھی آڑھائی لاکھ روپئے کی رقم بقایا ہے۔ مڈل سکول اپر چدوس نیل کی عمارت تقریباً مکمل ہے مگر چار لاکھ روپئے سے زائید کی رقم محکمہ سے واجب الوصول ہے۔ انہوں نے کہا کہ مڈل نرتھیال کو رقومات کی ادائیگی میں کی جارہی تاخیر کی وجہ سے سکول عمارت سالوں سے مکمل ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے اور اس سکول کا کام انجام دینے والے اراضی مالکان کی دو لاکھ روپئے محکمہ تعلیم سے واجب الوصول ہیں اور سکول عمارت کا چھت پچھلے دس سالوں سے محکمہ تعلیم سے واگزار کی جانے والی رقومات کا منتظر ہے۔ اسی طرح پرائمری سکول انرولہ رامبن ، پرائمری سکول گلی باس رامبن ، پرائمری سکول بھگوت رامبن زیر تعمیر ہیں اور ان کی بھی لاکھوں روپئے کی رقم ابھی بھی محکمہ تعلیم کے پاس بقایا پڑی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا اگست 2018 سے آگست 2021 تک بقایا رقومات ادا ہی نہیں کی جارہی ہیں جس کی وجہ سے قرض داروں نے ان زمینداروں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ رقومات محکمہ تعلیم کے متعلقہ زونل دفتروں میں پڑی ہوئی ہیں لیکن اس رقم کو کمشنر سیکریٹری ایجوکیشن کے دفتر سے منظوری نہیں مل رہی ہے جبکہ سیاسی بنیادوں اور اثر ورسوخ پر کئی زمینداروں کی رقم واگذار کی گئی ہے لیکن عام زمینداروں کی رقومات مسلسل روکے رکھی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رقومات کی ادائیگی میں مزید تاخیر کی صورت میں زمیندار اپنی اراضی میں اپنی رقومات سے تیار کئے گئے ان سکولوں کو یا تو مقفل کرینگے یا ان میں اپنا ڈیرہ ڈال دینگے جس کی زمہ داری محکمہ تعلیم کے حکام پر عائد ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اپنی ملکیتی اراضی دیکر سرکاری سکول بنانے والوں کا جینا مزدوروں اور سیمنٹ، ریت فراہم کرنے والوں نے دوبھر کر دیا ہے اور محکمہ ایجوکیشن کے حکام مسلسل چپی سادھے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ضلع رام بن کے درجنوں ایسے افراد محکمہ تعلیم کے جموں اور رامبن دفاتر کے چکر کاٹ کر اب تنگ آئے ہیں اور محکمہ تعلیم کے عہدیدار سالوں سے انہیں اجکل کرکے مسلسل ٹال رہے ہیں۔