ایف آزاد دلنوی
اس کے گھر سے ائر پورٹ تک اتنا لمبا فاصلہ نہ تھا کہ متین احمد ؔ یہ فاصلہ پیدل طے نہ کر سکے۔تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے دس منٹ لگتے اور اگر ٹہلتے ٹہلتے چلنے کا موڈ بنے تو بیس منٹ ۔وہ اکثر اوقات اکیلے ہی ائر پورٹ کی طرف جاتے۔یہ اکیلا پن اس کو اندرہی اندرتب سے کھائے جا رہا تھا جب اس کی بیوی نے تیسرے سیزیرین پر بھی فیمیل بچہ ہی جنما تھا۔آپریشن سے کچھ ایام پہلے اس کی بیوی سروہؔ ڈاکٹری معائنے کے لئے اسپتال گئی تھی تومتین احمدؔ بھی ہمراہ چلے۔ڈاکٹر صاحبہ سروہؔ کا معائنہ کرنے کے بعد بولی :
’’دیکھئے۔۔۔ اس کو اسپتال میں اب اڈمٹ کرنا ہوگا ۔اس کی نارمل ڈیلوری تو ہو نہیں سکتی اور اس سیزر کے بعدبچہ بھی بند کرنا ہو گا۔‘‘
یہ سنتے ہی متین احمدؔ کے چہرے سے ہوائیاں اڑنے لگیںاور متفکر ہو کر من ہی من میں سوچتے رہے
’’اگر اس بار بھی بچی ہوئی تو۔۔۔۔۔۔!!!‘‘ وہ بوکھلائے ہوئے ڈاکٹر صاحبہ سے بول پڑے
’’ڈاکٹر صاحبہ اگر اس بار بھی فیمیل بچہ ہوا تو آپ بچہ بند مت کر دیجئے گا ۔‘‘
ڈاکٹر نے متین احمد ؔ کی طرف نظریں اٹھا کرکہا
’’ گو آپ کو اپنی بیوی کی جان کی پروا ہ نہیں ہے۔ چوتھے سیزر پر آپ کی بیوی کو خطرہ ہوسکتا ہے اس لئے میل ہو فیمیل ہو ،اب برتھ کنٹرول لازمی ہے۔میں آ پ کو بیوی کی جان سے کھیلنے نہیں دوں گی ۔ اور ۔۔۔ ہاںبیٹی رحمت ہوتی ہے۔‘‘
اور ڈاکٹر صاحبہ کے بہت سمجھانے پرہی وہ راضی ہوئے تھے خدا کی مشیت ‘ اس مرتبہ بھی بچی ہی ہوئی تھی ۔تیسری بچی گھر میں آنے کے بعدمتین احمدؔ پوری طرح ٹوٹ چکے تھے وہ کھوئے کھوئے‘چپ چاپ رہنے لگے ۔ اپنا ہو ‘ پرایا ہو ‘وہ ہر ایک کے ساتھ بات کرنا اگنور کرتے۔اس کے من میں یخ کی طر ح یہ ملال جم گیا تھا کہ خدا اس بار بھی اُس سے بیزار رہااور بیٹے سے محروم رکھا۔متین احمدؔ کئی سال قبل ملازمت سے ریٹائر ہوچکے تھے۔ گھر والوں سے ہنسنا کھیلنا ‘دوستوں سے گپ شپ‘ اس سب سے جیسے دل بھر گیا تھا۔ اس کے چہرے سے ہر وقت سنجیدگی جھلکتی رہتی اور وہ اب کم بولتے تھے۔ کبھی کبھارجب اپنی چھوٹی بیٹی سے بات کرتے تو وہ باتوں باتوں میں کہتی
’’بابا ۔۔۔۔میں آپ کو کبھی چھوڑ کر نہیں جائوں گی۔‘‘
متین احمدؔ نم دیدہ اس کو دیکھتے رہتے اور نیلے آکاش کی طرف حسرت بھری نظروں سے دیکھ کرچپ ہوجاتے ۔اپنی بیٹی کے معصوم چہرے کی طرف دیکھ کر اندر ہی اندر سوچتے کہ ’’ بیٹیاں سماج میں آزادی سے گھوم پھر بھی نہیں سکتیں ہیں، روز سماج کاوحشی پن بڑھتا ہی جا رہا ہے، ایسے میں والدین کا فکر مند ہونا لازمی ہے۔‘‘
متین احمدؔکا معمول بن چکا تھا کہ وہ روز گھر سے نکل کر ائر پورٹ تک جاتے اور دن کابیشتر وقت گزار کر آتے۔ اب اس روڑ کا چپہ چپہ اس کے من میں نقش ہوچکا تھا۔وہ بے خطر فضا میں نظریں گھماتے پھرتے چلے جاتے۔ اُڑنے والے پرندوںکو دیکھتے ‘ نیلے آکاش کو دیکھتے اور فضا کی پرتوں میں گُم دل کے بوجھ کو ہلکا کرنے کی کوشش کرتے۔ وہ چلتے ہوئے بعضے بعضے کسی راہگیر سے ٹکرا جاتے اور sorryبول کر کھسک جاتے ۔اس روڑ پر ہمیشہ ہی بھیڑ رہتی ۔ائر پورٹ کے اغل بغل میں ایک مارکیٹ بھی تھاجہاں لوگ شاپنگ کرنے آتے۔
وقت گزرتاگیا ۔ متین احمدکی ؔ بیٹیاںپڑھ لکھ کراب بڑی ہو چکیں تھیں۔اس دن چھوٹی بیٹی کا رزلٹ آنے والا تھاKASکا امتحان پاس کرنے کے لئے اس نے بہت محنت کی تھی اور اسے یقین تھا کہ وہ کوالیفائی ہوجائے گی۔ گھر میں خوشیوں کا سا ماحول تھامگر متین احمدؔ روز کی طرح چپ چاپ اٹھ کر ائر پورٹ کی طرف گم صم نکلے، چہرے پر متانت کی گہرائی ہوئی ۔ائر پورٹ تک جاتے جاتے سفر کیسے کٹا اسے پتہ ہی نہ چلا۔مین گیٹ کے قریب ایک بزرگ آدمی ایک نو جوان لڑکے کا راستہ روکتے ہوئے نظر آیا۔ وہ اس کی جانب بڑھا اس بزرگ آدمی کو کہتے ہوئے سنا
’’بیٹے تمہارے سوا میرا کون ہے مجھے چھوڑ کر مت جائو‘‘
بزرگ آدمی بیٹے کو روکنے کی کوشش کرتا رہا کبھی اس کا ہاتھ پکڑتا‘ کبھی بانہوں میں جھکڑ لیتامگر بیٹے پر کرئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔ بیٹا خود کو چھڑاتے ہوئے بولا
’’مجھے جانے دو ۔اب یہاں کام نہ کوئی نوکری ہے میرے لئے یہاں کیا ہے۔‘‘
’’ میں ہوں نابیٹے ۔‘‘
کہتے کہتے یہ بزرگ بوسیدہ سپیدے کی طرح جیسے ٹوٹ کرزمین پر گر پڑااور حواس باختہ ہوکر رونے چلانے لگا اور اس کا بیٹا اس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ایک خوبصورت لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر مین گیٹ کے اندر گُھسا۔یہ منظر دیکھ کر متین احمد کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اسے اپنی چھوٹی بیٹی کی بات بے اختیار یاد آئی
’’بابا۔۔۔۔۔میں آپ کو کبھی چھوڑ کر نہ جائوں گی‘‘
متین احمدؔ کے چہرے کی متانت دور کہیں فضا کی پرتوں کے ملگجی ملبے میںسمٹ گئی اور یہ سوچ کرکہ ’’ بیٹی سچ میں رحمت ہے ‘‘آٹو روک کر گھر کی طرف نکل پڑے۔
���
دلنہ بارہمولہ، کشمیر
موبائل نمبر؛6005196878