آصف حسین الکشمیری
تاریخِ انسانیت میں بعض شخصیات ایسی ابھرتی ہیں جو محض اپنے عہد کی نمائندہ نہیں ہوتیں بلکہ ایک مکمل فکری و تہذیبی روایت کی امین بن جاتی ہیں۔ ان کی زندگی ایک فرد کی کہانی سے بلند ہو کر ایک عہد کی ترجمانی کرنے لگتی ہے۔ وہ اپنے علم کی گہرائی، بصیرت کی پختگی اور کردار کی سچائی سے زمانے کے دھارے کا رخ موڑنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ مفتی جمال الدین القاسمیؒ بھی انہی درخشاں ہستیوں میں شامل ہیں جنہوں نے اپنے اخلاص، علم اور فکری بصیرت کے ذریعے ایک ایسے معاشرے میں بیداری کی روح پھونکی جو جمود، روایت پرستی اور فکری کمزوری کا شکار تھا۔مفتی محمد جمال الدین القاسمیؒ 18 جون 1953ء بروز جمعہ ضلع پونچھ کے گاؤں اڑائی میں ایک دیندار، باوقار اور علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد گرامی حضرت عزیز الدین ایک نہایت متقی، پرہیزگار اور صاحبِ ذوق شخصیت تھے، جنہوں نے پنجابی زبان میں متعدد دینی کتب تصنیف کیں۔ اس علمی و روحانی فضا نے مفتی صاحبؒ کی شخصیت کو ابتدا ہی سے ایک خاص سمت عطا کی، جس نے آگے چل کر انہیں ایک عظیم عالم اور مصلح کی صورت میں نمایاں کیا۔
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کے پرائمری اسکول سے حاصل کی، جبکہ ناظرۂ قرآن مجید کی تکمیل اپنے چچا جان سے کی۔ کم سنی ہی میں علم دین سے لگاؤ اس بات کی علامت تھا کہ یہ بچہ آگے چل کر ایک بڑی علمی شخصیت بنے گا۔ آٹھ سال کی عمر میں آپ نے مدرسہ قاسم العلوم، قصبہ لسانہ، تحصیل سرنکوٹ میں داخلہ لیا، جہاں چار سال تک عربی و فارسی کی بنیادیں مضبوط کیں۔ بعد ازاں آپ مدرسہ امینیہ دہلی تشریف لے گئے اور پھر برصغیر کے عظیم علمی مرکز دارالعلوم دیوبند میں داخل ہو کر اکابر علماء سے کسبِ فیض کیا۔ یہاں آپ نے مولانا انظر شاہ کشمیریؒ اور علامہ وحید الزمان کیرانویؒ جیسے جلیل القدر اساتذہ سے علومِ دینیہ میں مہارت حاصل کی اور 1393ھ میں سندِ فراغت سے سرفراز ہوئے۔
فراغت کے بعد آپ نے مولانا عبدالرحمن آزادؒ کے ہمراہ دندی پورہ اسلام آباد (اننت ناگ) میں خدمات انجام دیں، پھر مدرسہ مدینۃ العلوم حضرت بل سرینگر میں کچھ عرصہ گزارا۔ 1973ء میں آپ مدرسہ تعلیم القرآن، مقام شاہ ولی، ضلع کپواڑہ تشریف لائے۔ یہ ادارہ 1964ء میں حضرت مولانا غلام حسن لولابیؒ کے ہاتھوں قائم ہوا تھا، مگر مفتی صاحبؒ کی آمد کے بعد اسے ایک نئی جہت اور استحکام حاصل ہوا۔ آپ نے ادارے کو دارالعلوم دیوبند کے منہج پر استوار کرتے ہوئے اسے ایک معیاری اور فعال دینی درسگاہ میں تبدیل کر دیا۔
مفتی جمال الدین القاسمیؒ کی پوری زندگی دراصل’’علم، بصیرت اور فکری بیداری‘‘ کی عملی تفسیر تھی۔ ان کے نزدیک علم محض معلومات کا ذخیرہ نہیں بلکہ ایک زندہ شعور تھا، جو انسان کو اس کے مقصدِ حیات سے روشناس کراتا ہے۔ وہ اپنے طلبہ کو صرف کتابی علم نہیں دیتے تھے بلکہ ان کے اندر سوچنے، سمجھنے اور حق کو پہچاننے کی صلاحیت پیدا کرتے تھے۔ ان کی بصیرت کا یہ عالم تھا کہ وہ اپنے معاشرے کے مسائل کو سطحی انداز میں نہیں بلکہ گہرائی کے ساتھ سمجھتے تھے۔ ان کی گفتگو میں حکمت، انداز میں سنجیدگی اور فکر میں توازن نمایاں تھا۔ وہ ہر مسئلے کا حل قرآن و سنت کی روشنی میں معتدل انداز سے پیش کرتے تھے۔
جس وقت انہوں نے اس علاقے میں اپنی خدمات کا آغاز کیا، اس وقت معاشرہ رسم و رواج کے جمود کا شکار تھا۔ لوگ قرآنی تعلیمات کی اصل روح سے دور ہو چکے تھے اور دینی شعور کمزور پڑ چکا تھا۔ ایسے حالات میں مفتی صاحبؒ نے صبر و استقلال کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکمت و دانائی کے ساتھ اصلاحی کام شروع کیا۔ ان کی مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں علاقے میں ایک فکری، تحقیقی اور تخلیقی انقلاب برپا ہوا، جس نے دینی فکر کو نئی زندگی عطا کی۔آپ مرکزی جامع مسجد، مقام شاہ ولی کے امام و خطیب رہے۔ آپ کے خطبات محض رسمی تقاریر نہیں ہوتے تھے بلکہ ایک فکری پیغام ہوتے تھے، جو سامعین کے دل و دماغ کو جھنجھوڑ دیتے تھے۔ آپ شرعی بورڈ کپواڑہ کے سرپرست بھی رہے اور علاقے کے دینی و سماجی مسائل میں رہنمائی فراہم کرتے رہے۔مفتی صاحبؒ کے شاگردوں کی ایک طویل فہرست ہے، جنہوں نے آپ سے علم حاصل کر کے مختلف علاقوں میں دین کی خدمت کا فریضہ انجام دیا۔ آپ کے شاگرد صرف علماء نہیں بلکہ ایک متوازن فکر رکھنے والے داعی اور مصلح بھی ہیں، جو آپ کے مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
24 اپریل 1995ء کو دہشت گرد بلوائیوں نے آپ کو اپنے گھر سے اغوا کر لیا اور 26 اپریل 1995ء بروز بدھ نہایت بے دردی کے ساتھ گولیوں کا نشانہ بنا کر شہید کر دیا گیا۔ یہ خبر علاقے کے لیے ایک قیامت سے کم نہ تھی۔ ہر آنکھ اشکبار، ہر دل غمزدہ اور ہر زبان پر یہی سوال تھا کہ آخر علم کا یہ چراغ کیوں بجھا دیا گیا؟ ضلع کپواڑہ کے تمام تعلیمی ادارے بند ہو گئے اور ایک گہرا سوگ پورے علاقے پر چھا گیا۔ راقم خود اس وقت دسویں جماعت کا طالب علم تھا اور اس سانحے نے دل پر ایک انمٹ نقش چھوڑ دیا۔ واقعی اس دن علاقہ علمی اعتبار سے یتیم ہو گیا۔شام تقریباً پانچ بجے آپ کے برادرِ اصغر حافظ محمد اکرم صاحب نے نمازِ جنازہ پڑھائی، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ آپ کو مدرسہ تعلیم القرآن کے احاطے میں حضرت شاہ ولیؒ کے پہلو میں سپردِ خاک کیا گیا۔آپ اپنے پیچھے چھ بیٹیاں اور ایک تیرہ سالہ فرزند محمد طیب چھوڑ گئے۔ آج مفتی محمد طیب القاسمی اپنے والد کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے اسی ادارے کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں،یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اہلِ حق کا فیض کبھی ختم نہیں ہوتا۔
مفتی جمال الدین القاسمیؒ کی زندگی علم، اخلاص، بصیرت اور فکری بیداری کا ایک روشن نمونہ ہے۔ انہوں نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ ایک مخلص عالم پورے معاشرے کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنی رہیں گی۔
مفتی جمال الدین القاسمیؒ ایسے ایک دیدہ ور تھے،جنہوںنے نہ صرف اپنے دور کے مسائل کو پہچانا بلکہ ان کا حل بھی پیش کیا۔ انہوں نے لوگوں کو دیکھنے کی نئی آنکھ دی، سوچنے کا نیا زاویہ دیا اور جینے کا ایک شعوری راستہ دکھایا۔ بلاشبہ ایسے لوگ چمنِ انسانیت کے وہ نادر پھول ہوتے ہیں جن کی خوشبو صدیوں تک باقی رہتی ہے۔اللہ تعالیٰ مفتی جمال الدین القاسمیؒ کے درجات بلند فرمائے اور کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین
رابطہ ۔ 9797888975
[email protected]
����������������