جموں۔جموںکے صدیوںپرانے روائتی خرمن امن کو ہر حالت میںبر قرار رکھا جائے گا،شرپسند عناصر کے مذموم ارادے خاک میںملانے کیلئے ہندو ،مسلم و سکھ ایک جٹ رہی ہے اور مستقبل میںبھی اس میںرتی برابر فرق نہ آنے دیا جائے گا۔سماج کی ترقی و خوشحالی کیلئے ہمیںہر حالت میںایک رہنا ہوگا ۔ان خیالات کا اظہار وارڈ نمبر 5/6کے معززین کی ایک غیر معمولی میٹنگ سے خطاب کے دوران معززین نے کیا ۔اس میٹنگ میںہندو مسلم و سکھ بھائیوںنے بھاری تعداد میںحصہ لیا ،مقررین نے کہا کہ مساجد اللہ کا گھر ہیں،یہ عبادت کے لئے و ملت اسلامیہ کے اتحاد کا مظہر ہیں،یہاںسے امن و سلامتی و بھائی چارہ کا پیغام دوسروںتک جانا چاہئے مگر بد قسمتی سے جرائم پیشہ کچھ عناصر جو نام نہاد جموںڈیولپمنٹ فورم کے چیئرمین ہے جس کے خلاف جموںکے متعدد پولیس سٹیشن میںجرائم کے کیس درج ہیں،جو شخص کچھ عرصہ قبل پی ایس اے میںگرفتار ہو کر پیرول پر باہر آیا ہے کچھ ساتھیوںکے ساتھ مسجد کے تقدس کو پائمال کرنے کی کوشش کر کے اپنی سیاست چمکانے و گمراہ کن بیان بازی کر کے سماج میںخلفشار پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے ،یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ جرائم پیشہ فرد کولگام ضلع کو رہنے والا ہے جو جان بوجھ کر جموںکے خرمن امن کو تباہ کرنے کی ناپاک کوشش کرتا رہا ہے ۔مقررین نے کہا کہ یہ وہی عنصر ہے جس پر کشمیر اور جموںمیںکئی معاملے درج ہیں۔جو من گھڑت آر ٹی آئی ڈال کر بلیک میلنگ کا پیشہ اختیار کر چکا ہے ،چاہے کوئی دکاندار ہو،سرکاری ملازم ہو ،تجارت پیشہ شخص ہو یا اسی کا پڑوسی اس کاکام بیلک میلنگ کرنا ہے ۔مقررین نے انتظامیہ و سرکار پر زور دیا کہ وہ ایسے شرارتی و جرائم پیشہ عنصر کے منحوس ارادوںکو خاک میںملانے کیلئے مطابق قانون کارروائی کر کے سماج کو ایسے عناصر سے پاک و صاف رکھنے میںاپنا کرداد ادا کریں۔کیونکہ یہاں کے لوگوںنے صدیوںسے روائتی بھائی چارہ کو تقویت دی ہے ۔یہاںہر تہوار ایک جان ہو کر منایا جاتا ہے ۔یہاںہندو مسلم و سکھ ایک دوسرے کے ساتھ صدیوںسے بھائیوںکی طرح رہتے ہیں،جو سماج دشمن عناصر کو پسند نہیںہے ۔اسلئے سماج کو توڑنے کیلئے ایسے عناصر کوشاںرہتے ہیں۔اسلئے ہماری سرکار و انتظامیہ سے پر زور اپیل ہے کہ وہ ایسے شرارتی و جرائم پیشہ افراد کی حرکات و سکنات پر کڑی نگاہ رکھ کر ان کا قلع قمع کرنے کیلئے موثر کارروائی کریںتاکہ یہاں کا ماحول گندے عناصر سے پاک رہے ۔اس موقعہ پر راجندر بازار ایسوسی ایشن کے صدر کرشن لعل گپتا نے زور دے کر کہا کہ ہم صدیوں سے ایک جسم ایک جان کی طرح رہ رہے ہیں،ہمارا ایک دوسرے کے ساتھ نزدیکیاںہیں،ایک دوسرے کے سکھ دکھ کے ساتھی ہیں۔یہ بھائی چارہ ایسے عناصر کو ناپسند ہے ۔اسلئے سماج کو توڑنے کی کوشش کی جا تی ہے ۔لیکن ہم ایسے سماج دشمن عناصر کو کبھی کامیاب نہ ہونے دیںگے ۔ہماری انتظامیہ سے اپیل ہے کہ وہ ایسے ناصر کے خلاف کڑی کارروائی کر کے سماج کو توڑنے والوںسے دور رکھیں۔شیخ ظہور نے بھی اپنے خطاب میںکہا کہ یہ شہر ہندو مسلم سکھ عیسائی کا ہے یہا ں ہر ایک بھائی بھائی کی مانند رہتا ہے ۔ہر مشکل وقت میںایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑا رہتا ہے ،مگر بیرونی سماج دشمن عناصر سماج میںبد دلی پیدا کرنے کی سازشوںمیںلگے ہیںجن سے انتظامیہ کو کڑائی سے نمٹنے کی ضرورت ہے ۔محمد اشرف و عاشق حسین نے بھی میٹنگ میںاپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے جرائم پیشہ عناصر سے پاک و صاف رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انتظامیہ کو متحرک ہونے کی اپیل کی ،کیونکہ جرائم ہیشہ افراد امن و امان کو درہم برہم کرنے کی ناپاک سازش کرتے رہتے ہیںتاکہ انتظامیہ و سرکار کو بد نام کیا جائے ۔اسلئے سرکار و انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ ایسے عناصر سے سختی سے نمٹے اور ان کو اسی جگہ رکھے جس کے یہ حقدار ہیںتاکہ سماج سکون سے رہ سکے ۔میٹنگ کے شرکاء نے ایک زبان میںاتحاد و اتفاق کو اور مظبوط بنانے اور بھائی چارہ کو ہر مکن بنائے رکھنے کا عہد کرتے ہوئے ایسے عناصر کے خلاف ڈٹ جانے کیلئے کہا ۔اس موقعہ پر دونو وارڈو ںکی ایک کوآرڈی نیشن کمیٹی تشکیل دی گئی ۔جو کرشن لعل گپتا ،شیخ ظہور ،شیخ محمود ،طائر انجم ،عمران سلاریہ ،شفقت کھوکھر ،محمد حسین ملک ،بشن داس ،جسپال سنگھ اور پورول پرگال پر مشتمل ہے ۔میٹنگ میںدیگران کے علاوہ شیخ ظہور احمد ،بشیر احمد ملک ،محسن سلاریہ ،بلال احمد بیگ ،روہت گپتا ،راجکمار ،غلام رسول ،ناصر،شہزاد خان ،عابد ملک ،بشیر ،محمد افرال ،پالا ،تیرتھ رام ،غلام محی الدین ،عاشق حسین ،صداقت خان ،نذیر احمد،ایم سلطان ،ایم رشید ،محبوب علی خان ،گورو وید ،جسپال سنگھ ،موہن ،راکیش پرگال ،سید قمر علی ،ماسڑ اکرم ،کرشن لعل گپتا ،ظہور احمد،نظام الدین ،ذیشان علی خان ،افضل شاہ ،محمد صدیق،عامر رسول ماگرے وغیرہ شامل تھے ۔