ایک تاثر
ڈاکٹر گلزار احمد وانی
غزل کے مقابلے میں نظم ایک ایسی صنف سخن ہے جو ہر تخلیق کار کے بس کی بات نہیں ہے۔ اسی لیے ہم جب بھی نظم کے ارتقاء پر ایک طائرانہ نگاہ دوڑاتے ہیں وہاں برصغیر میں چند ہی ایسے نام سامنے آتے ہیں کہ جنہوں نے ہر چند کہ نظم کی روایت اور تکرار سے ماورا ہو کر کلہم نظم کی نشو و نما کے لیے تخلیق کاری کی ہے۔ 1955 ء کے بعد جن نئے شعراء نے جدیدیت کے رجحان کے زیر اثر اپنے تخلیقی ذہن کی غیر معمولی کارگزاریوں کا احساس دلایا، ان میں محمد علوی، شمیم حنفی، زاہد ڈار وزیر آغا اور شہریار وغیرہ قابل ذکر نام سامنے آتے ہیں۔ اس سے قبل یا اس کے ساتھ ساتھ ناصر کاظمی، منیر نیازی ،خلیل الرحمن اعظمی اور ان سے پیشتر اقبال ، عظمت اللہ خان راشد،اختر الایمان اور میراجی خاص طور پر قابل ذکر شعراء ہیں۔ ان سبھی کے یہاں اسالیب الگ الگ ہی ہیں مگر فنی طریق کار یہ ہے کہ جس میں یہ دیکھا گیا ہے کہ یہ اصلاً بلواسطہ طرز اظہار کی شاعری ہے۔ تجربات، محسوسات، مشاہدات اور تصورات کو استعاراتی، علامتی اور تمثیلی انداز میں پیش کرنا ان شعراء کا بنیادی طریق کار رہا ہے ۔جس طرح غزل میں روایتی موضوعات کو آج بھی برتا جا رہا ہے اس طرح کا رجحان شاید ہی نظم میں دیکھنے کو مل جاتا ہے۔ نظم کی اقسام میں اگر چہ تنوع دیکھنے کو مل جاتا ہے،پر نثری نظم کا رجحان کچھ زیادہ ہی دیکھنے کو مل جاتا ہے۔ اگر چہ اس کا باقاعدہ آغاز بیسویں صدی کے وسط ہی سے ممکن ہو چکا تھا اور یہ ایک اہم ادبی تبدیلی کے طور پر سامنے آیا۔اس رجحان کو جسے بعد میں دراصل روایت اور جدید حساسیت کے باہمی تصادم کا نتیجہ بھی کہا گیا ہے۔
جہاں تک معراج زرگر کے’’ دل تاب روشن ‘‘ مجموعے کا تعلق ہے تو یہ بھی نثری نظموں پر مشتمل ہے جس میں ان کی کل 69نظمیں ہیں ۔ جو کہ آج کے فرد کی individualty کو بحال کرتی ہیں ۔ دیکھا گیا ہے کہ اگر چہ بعض ناقدین نے مذکورہ صنفی ہئیت کو اردو نظم کے زوال سے تعبیر کیا ہے مگر وہیں دوسری اور اس کی خصوصیات میں داخلی تجربے، شعور کی عکاسی، علامتیت اور تجریدیت جو اس کے اسلوب میں ہی پنہاں دکھائی دیتی ہیں ۔ نیز اس کی گہرائیوں کو ناپنا نہ صرف کٹھن ہے بلکہ ناممکن بھی ہے۔
معراج زرگر نے اپنے مافی الضمیر کو باہر نکالنے میں جو راہ متعین کی ہے وہ ہے نظم، جس میں ان کے داخلی تجربات اور ان کے شعور کی عکاسی بہت حد تک وا جاتی ہے۔ ان میں جدید فرد (individual) کی تنہائی(isolation) شکستہ اقدار اور داخلی کربناکی کے اثرات دور دور تک دیکھے جا سکتے ہیں۔ مذکورہ نظموں کے توسط سے آپ نے جدید دور کے انسان کی حالت و کیفیت کو بہت حد تک طشت از بام لانے میں کلیدی کردار نبھایا ہے۔
تم نہیں اب کسی شمع فروزاں کے پروانے
تم بجھی ہوئی راکھ کے ڈھیر میں جان سوزی کر چکے ہیں
تم کسی رقص درویشاں کے تماشائی بھی نہیں
تم لائق عشق ہی نہیں ،تم ہرجائی بھی نہیں
تم اپنے وجود کے دلال ہو، سودے باز ہو
تم رقیب روسیاہ کی ہتھیلی پہ ایک بے وقعت راز ہو
( نظم ۔ ’’اے میرے دور کے انسان‘‘)
مذکورہ نظم میں آج کے دور کے انسان کے مزاج و منہاج پر ایک گہرا زخم ہے جوایک تخلیق کار کے روح پر لگا ہے وہیں سے ایک درد کی ایک کراہ بھی ہوک کی مانند اٹھی ہے کیونکہ درد کا لہو جب انسانی رگوں میں سوکھ جاتا ہے تو انسان پھر انسانیت کی گمشدہ تلاش میں مارے مارے پھر رہا ہے۔ یہاں انسان کی انسانیت نہ صرف شرمسار ہے بلکہ انحطاط کی زد میں بھی ہے۔ کیونکہ اس دور کے فرد نے تو جاں سوزی کی ہوئی ہے۔ اب یہ اپنے ہی وجود کے لیے دلال بن بیٹھا ہے۔
اسی طرح ’’میرے روح کی اترن ‘‘نظم سے یہ تراشہ دیکھیے:
صدیاں ہوئیں
میرا بدن دریدہ ہو چکا
اور میری روح کی اترن
برزخ کی لامتناہی وسعتوں میں
تمہاری دی ہوئی بدن کی سوغات کے نشاں ڈھونڈھ رہی ہے۔
مذکورہ نظموں کے ان تراشوں سے ایک تخلیق کار کی تخلیقی حس کا نہ صرف علمیت بلکہ ایک واویلا بھی کف افسوس ملتا ہوا نظر آرہا ہے ،ان نظموں میں بھی دور جدید کے فرد کی وہ داستاں چھپی ہوئی ہے کہ جسے شاید سننے والا بھی داد رساں نظر نہیں آرہا ہے۔ میراجی ،سلام بن رزاق، افتخار جالب، انور سجاد اور شمس الرحمن فاروقی نے جس طرح سے اپنے نثری نظموں کے نمونے پیش کئے ہیں ان سے یہی اخذ ہورہا ہے کہ ان میں داخلی کرب تہہ بہ تہہ موجود ہے ۔ اسی طرح کی ایک سعُی یہاں بھی دیکھنے کو مل جاتی ہے۔
ہر بار کی طرح صبح عید
لے کے آتی ہے غم کی نوید
میرے شناشا ہیں محو خواب
فضا میں بوئے روغن و کباب
وہ میرے ہم نوا ہیں
یاران حرف
غم گساری ہے فقط اک رسم، اک رواج
دل نہیں کشادہ
چشم ہی تر
( نظم ۔’’ گھٹن ‘‘ )
تخلیق کار اب نشاط زدہ لمحات میں بھی شادماں نہیں ہے !،جہاں ان کے ہمنوا نہ جانے کیسی کیسی بھول بھلیوں میں کھو چکے ہیں اب جبکہ اس سوختہ سامانی میں صرف ایک انساں ہے اور اس صحرا میں اس کے دائیں بائیں اور اس کے آس پاس صرف اور صرف اک گھٹن ہے کہ جہاں سے وہ اک پل کے لیے بھی خود کو آزاد نہیں بلکہ آزار پسند ہی محسوس کرتا ہے اور اس کے لیے تو اب یہ دنیا ایک’’ عجائب خانہ ‘‘بن چکا ہے اوراسی عنوان پر پیش ہے ان کی یہ نظم:
وہ اک خیال
جو کسی حقیقت سے کم نہیں
وہ پیکر الفت
جس کا حرف ثبات
کسی الجھے ہوئے سوال سے کم نہیں
وہ کبھی ہم نفس ہے
کبھی اداسیوں کا حصے دار
کبھی بوجھل لمحوں سے ڈسا ہوا
اک دل بے قرار
۔۔۔۔
سورج نے اپنی راہ بدل لی
پھولوں نے اپنے منہ ڈھانپ لیے
ستارے بھی اچانک کانپ اٹھے
جہاں کا رشتہ کراہ سے ہے
جہاں ہر کوئی دوسرے سے نا آشنا ہے
جہاں کسی کو کوئی احساس نہیں ہے
جہاں کوئی کسی کے پاس نہیں ہے
جہاں اب مرنے کی بھی آس نہیں ہے
میرے خدا یہ دنیا کیسی ہے۔؟
(نظم ’’ترک انسیت ‘‘ سے ایک تراشہ)
۔۔۔ باد صبا کی صرصر اب
شاخ گلاب سے ہے بے زار
ہے نوائے غم آلودہ و مخمور
سرخ کفن میں لپٹی ہوئی باشندہُ مرگ زار
دل کے شامیانوں کو ہے خیر باد
روح کی بالا دری ہے یتیم و لاچار
اب نہیں کوئی دستگیری کا طالب
جابجا دیر و حرم ہیں خالی
بلبل خوش کلام کا دہن
سوزو ساز جگر سے ہے محروم
فردوس نظر کا ہر فریب
ننگی عقل کے صحرا کا سراب
معراج زرگر کی نظموں کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ خواب اور حقیقت اور لاشعور کی سرحدوں کو توڑتی اور پھلانگتی ہوئی ہیں۔ بالکل اسی طرح جس طرح میراجی کی بعض نظمیں جن میں سمندر کا بلاوا، نارسائی، کتھا،خواب اور جاگتے لمحے اور آدمی اور سایہ وغیرہ۔ یہاں بھی ہم بخوبی ایک تخلیق کار کے تخلیقی پیکروں سے نبرد آزما ہو جاتے ہیں کہ جن کی گوشت پوست ہئیت تو ہے پر دل میں انسانی درد نہیں اور جس سے وہ تہی دور حد امکاں سے بھی نظر آتے ہیں۔ چونکہ شاعر اس جگہ پہ خود کو پاتے ہیں، جہاں وہ یہ کہنے کے لیے مجبور ہیں کہ :
’’میرے لیے بھی یہی اندر سے اُگا ہوا درد یہی احساس و جذبے کی تغیانی میرا اصل سرمایہُ حیات ہے ‘‘
معراج زرگر کی نظموں میں جو زبان استعمال ہوئی ہے اس میں علامتیت کے ساتھ ساتھ تجریدیت (abstractism ) بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔ اس میں زندگی اور زندگی سے وابستہ تمام دیکھے اور ان دیکھے گوشوں کو وا کرنے کی جو سعئ کی گئی ہے وہ سراہنے کے قابل ہے۔ اس میں کہیں کہیں لاشعور (un consciusness) اور ازلی کشمکش کی علامتیں( symbols) بھی سامنے آجاتی ہیں۔ جس کے توسط سے ان کی اظہاری صلاحتیں نہ صرف اپنے بھرپور معنوی رنگت میں رنگی ہوئی نظر آتی ہیں بلکہ اس دور کے فرد کی ایک ناگفتہ بہ صورت حال بھی واشگاف کراتی ہیں اور شاید یہی ان کے معراج فن کی دلیل بھی ہے۔ ان کی بیشتر نظمیں جن میں نظم روح کا سفر، اے میرے دور کے انساں، دو بوند، خوابوں کا دستر خواں، کورنا کے دنوں میں، سال نو کی نوید، بینائی گھٹن اور عجائب خانہ وغیرہ ان کے فنی محاسن کی بخوب عکاسی کرتی ہیں۔ ان میں آج کے دور کا فرد جس تکلیف دہ صورت حال سے گذر رہا ہے جس موڑ سے وہ آگے زیست کا سفر طے کرنے کا خواہاں ہے، کا ایک ایسا نقشہ سامنے آتا ہے کہ جہاں اس کے دائروں میں لاشعور، تجریدیت ،انسانی خواہشیں ،محرومی اور وجودی کرب کا ایک لا متناہی سلسلہ پیش پا دکھائی دے رہا ہے اور جہاں سے نکلنا آج کے انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس میں تخلیق کار کا منفرد اسلوب، زباں مختصر مگر پر تاثیر و با آفرین، اختصاریت ،علامتیت تشبیہات، استعارات اور نرم و سبک لہجہ جس کی آڑ میں اس دور کی تمام تر کیفیات اور سچائیوں کا علم ایک قاری کو بخوبی ہو جاتا ہےاور یہی ایک تخلیق کار کی کامیابی کی بھر پور ضمانت بھی ہے۔ میں انہیں’’ دل تاب روشن ‘‘ کے شایع کرنے پر صمیم قلب سے مبارکباد پیش کر رہا ہوں اورامیدکرتا ہوں کہ ادبی حلقوں میں اس کی خوب اور مناسب پذیرائی ہو۔
۔