تھنہ منڈی// تھنہ منڈی کے علاقہ الال سے تعلق رکھنے والاایک معذور شہری پچھلے چار ماہ سے انصاف کا انتظار کررہاہے ۔اس کابجلی کرنٹ لگنے سے دائیں بازو کٹ گیا اور ایک ٹانگ اور پائوں بھی ناکارہ ہو گیالیکن محکمہ کی طرف سے اس کی کوئی امداد نہیں کی گئی ۔ یہ شخص اب زندگی بھر کیلئے محتاج و معذور بن چکاہے۔ 45 سالہ عبدالمجید ولد چنا سال رواں کے مارچ مہینے میں اپنے مویشیوں کا گوبر اپنے کندھوں پر اٹھا کر مکان سے تھوڑی دورکھیت میں ڈالنے جا رہا تھاکہ محکمہ بجلی کی تار ٹوٹ کر کھیت میں پڑی ہوئی تھی،جونہی یہ شخص اس تار کے نزدیک پہنچا تو بجلی کی کرنٹ نے اس شخص کو پکڑ لیاجس دوران وہ زمین پر گر گیا۔کرنٹ لگنے سے اس شخص کا دائیاں بازو جھلس گیا اور دائیں ٹانگ ران سے جل گئی۔عبدالمجید کو مضروب حالت میں تھنہ منڈی کے سرکاری ہسپتال میں لایاگیاجہاں پر ڈاکٹروں نے بنیادی طبی امدا ددینے کے بعد اسے نازک حالت میںضلع شفا خانہ راجوری منتقل کر دیا۔ وہاں بھی جب ڈاکٹروں سے اس کا علاج نہ ہوپایاتو اسے گورنمنٹ میڈیکل کالج و ہسپتال جموں منتقل کیاگیا۔عبدالمجید ڈیڑھ ماہ تک جموں میں زیر علاج رہااوراس کے علاج کی خاطر رشتہ داروں کوچندہ تک جمع کرنے پر مجبور ہوناپڑا۔عبدالمجید بچوں کا باپ ہے جسکے 3 بچے اور 2 بچیاں ہیں۔اگرچہ یہ بچے تھنہ منڈی کے سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم ہیں لیکن گھر کے معاشی حالت اس قدر خراب ہیں کہ نہ بچوں کی تعلیم کے اخراجات برداشت ہورہے ہیں اور نہ ہی گھر کا خرچہ ۔ستم ضریفی یہ ہے کہ محکمہ بجلی نے اس مضروب شخص کے علاج ومعالجہ کے اخراجات برداشت کرناتودور کی بات اس کی تیمار داری بھی نہیں کی۔اس سلسلے میں پولیس تھانہ تھنہ منڈی میں ایک رپورٹ بھی درج کرائی گئی ہے لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی ۔اب حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ عبدالمجید کے پاس دوائی خریدنے کیلئے پھوٹی کوڑی بھی نہیں۔ حکومت اور محکمہ سے انصاف نہ ملنے پر مایوس ہوکر اس نے اپنے تینوں بیٹوں کو تعلیم چھڑواکر مزدوری کے کام پر لگانے کا پروگرام بنایاہے کیونکہ اس کے مطابق گھرکا خرچہ چلانے کیلئے کوئی دوسرا ذریعہ نہیں۔عبدالمجید کا کہنا ہے کہ وہ اپنے عیال پر بوجھ بن گیاہے اور یہ زندگی محتاجی کی زندگی بن چکی ہے ۔سکا کہنا ہے کہ محکمہ بجلی کی لاپرواہی نے اس سے جیسے سب کچھ چھین لیالیکن افسوس کہ محکمہ نے پوچھا تک نہیں ۔ اس نے بجلی حکام سے مانگ کی کہ وہ اس کی مشکل بھری زندگی پر ترس کھاکر کنبے کو معاونت کریں تاکہ بقیہ زندگی قدرے آرام سے گزار ی جاسکے۔