اردو تنقید کے عصری منظر نامہ میں شمس الرحمن فاروقی اور گوپی چند نارنگ کی حیثیت آفتاب و ماہتاب کی رہی ہے ۔ اردو ادب کے دیرو حرم میں انہیں دو عظیم ہستیوں کے دم قدم سے رونق تھی ۔لیکن آج فاروقی کا اچانک محفل سے اُٹھ جانا اردو ادب میں بے سمتی اور کم عیاری کا سبب بن سکتا ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ پروفیسر نارنگ اپنی پیرانہ سالی کے باوجود سرگرم ہیں لیکن اپنے دیرینہ حریف اور حلیف کی عدم موجودگی میں شائد نارنگ صاحب بھی بد مزہ ہو جائیں ۔ نارنگ اور فاروقی دونوں ایک دوسرے کا آئینہ تھے ۔ لیکن اب یہ آئینہ ٹوٹ چکا ہے ۔
فاروقی ؛۱۰ جنوری ۔۱۹۳۶ء۔ کو اُتر پردیش کے ضلع پرتاپ گڑھ میں پیدا ہوئے، ۱۹۵۵ء۔ میں الہ آباد یونیورسیٹی سے انگریزی میں ایم ۔اے کیا ۔کچھ عرصہ ایس سی کالج بلیا (یوپی ) اور ایس۔این کالج ۔ اعظم گڑھ میں انگریزی کے لیکچرر کی حیثیت سے ملازمت کی ۔ بعد ازاں انڈین پوسٹل سروس جوائن کیا ۔اعلی عہدوں پر فائز رہے ۔ اور ۱۹۹۴ء۔ میں ممبر پوسٹل سروسیز بورڈ کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے ۔ ایک طویل علالت کے بعد ابھی گذشتہ ۲۵؍دسمبر۲۰۲۰ کو انتقال ہوا ۔
فاروقی کے اعمال نامے میں تیس سے زیادہ تصنیفات اور تالیفات ہیں۔ ان کی چند شاہکار تصنیفات کے نام اس طرح ہیں ۔
۱۔شعر غیر شعر ،اور نثر ۔ ۲۔تفہیم غالب ،۳۔شعر شور انگیز ‘‘۔ میر تقی میر سے متعلق اس تصنیف پر انہیں ہندوستان کے سب سے بڑے ادبی انعام ’’سرسوتی سمان ‘‘سے نوازا گیا ۔۴۔داستان امیر حمزہ ۔۵۔عروض،آہنگ اور بیان۔۶۔اردو کا ابتدائی زمانہ ۔۷۔افسانہ کی حمایت میں ۔ وغیرہ ۔فاروقی نے ارسطو کی کتاب POETICS کا ترجمہ ’’شعریات ‘‘کے نام سے ترجمہ کیا تھا ۔ فاروقی صاحب ملک اور بییرون ممالک کی کئی یونیورسیٹیوں سے مہمان پروفیسر اور پروفیسر اعزازی کی حیثیت سے وابستہ رہے ۔ فاروقی کے افسانوں کا ایک مجموعہ ’’سوار ‘‘ کے نام سے شائع ہو چکا ہے ایک ناول ’’کئی چاند تھے سرِآسماں بھی کئی سال پہلے شائع ہوا تھا ۔غالباً ان کا ایک اور ناول بھی شائع ہوا ہے ۔ ان کا شعری مجموعہ بھی شائع ہو چکا ہے ۔ فاروقی کا رسالہ ’’شب خون ‘‘ اردو کی ادبی صحافت میں ایک معجزے کا حکم رکھتا ہے۔
فاروقی نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز افسانہ نگاری سے کیا ۔ شعر بھی کہتے تھے۔ ادبی محفلوں میں شعر،نظم اور افسانے سنایا کرتے تھے ۔ ایک بار کسی محفل میں جدید طرز کا افسانہ پیش کر رہے تھے کہ کچھ لوگوں نے افسانہ کو فحش قرار دیتے ہوئے انہیں افسانہ پڑھنے سے روک دیا ۔ فاروقی بہت بد دل ہوئے اور افسانہ لکھنا ترک کردیا ۔ ممکن ہے بعد میں انہوں نے اپنی کتاب ’’افسانہ کی حمایت میں‘‘ صنف افسانہ کی مخالفت اسی وجہ سے کی ہو ۔
اردو میں تنقید فاروقی سے پہلے بھی تھی ،حالی ۔ محمد حسین آزاد سے کون واقف نہیں ۔کلیم الدین احمد،احتشام حسین ،محمد حسن ، اختر اورینوی ،قمر رئیس ،سبط حسن اور محمد علی صدیقی وغیرہ فاروقی کے بزرگ معاصرین تھے ۔ ان کے علاوہ وزیر آغا ، وہاب اشرفی ، حامدی کاشمیری ،شمیم حنفی ، عتیق اللہ ،محمد صادق، قاضی افضال حسین وغیرہ تقریباًً ہم عمر ہی تھے ۔ لیکن فاروقی صاحب کا سب سے زیادہ ساتھ ان کے بزرگ دوست گوپی چند نارنگ نے نبھایا۔ یہ دونوں اردو تنقید میں ایک دوسری کی تکمیل کرتے تھے ۔ انہیں دونوں کے ادبی ’دَھول دھپا ‘ سے اردو دنیا میں کئی طرح کی سرگرمیاں شروع اور ختم ہوتی تھیں ۔
ان دونوں ناقدین ،نارنگ اور فاروقی کی مقبولیت اور ’’رعب داب‘‘ کی بڑی وجہ یہ رہی کہ اردو زبان و ادب کا شاید ہی کوئی ایسا پہلو ہو جس پر ان دونوں نے بروقت نہ لکھا ہو ۔ یعنی لسانی و اسلوبیاتی موضوع اور اظہار و بیان کے حوالے سے عالمی سطح پر ہونے والے تجربات ، نظریات اورحجانات کے بارے میں یہ دونوں حضرات ہی سب سے پہلے اپنی تحریریں سامنے لا کر اردو دنیا کی رہنمائی کرتے تھے۔ یہ بات درست نہیں کہ ان دونوں بزرگوں نے اردو دنیا کو دو الگ الگ دو خیموں میں تقسیم کیا ہے ،سچ تو یہ ہے کہ ان دونوں عالموں نے ایک دوسرے کے نظریات و خیالات کے دوسرے پن (Otherness)کو کھولتے ہوئے اردو ادب کی سمت اور معیار مقرر کرنے کی کوششیں کیں ۔ ان مخلصانہ کوششوں کو کم نظروں نے ان دونوں دیدہ و ر ناقدین کی ’گروپ بازی ‘‘ سمجھنے کی غلطی کی ۔ دونوں ہی ایک دوسرے کا حد درجہ احترام کرتے تھے اور یہ مانتے تھے کہ اردو شعر و ادب کے کسی بھی نظریاتی، لسانی ، فنی یا جمالیاتی مسئلے کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ہی حل کیا جا سکتا ہے ۔اس میں شک نہیں کہ نارنگ اور فاروقی کے نظریات میں جہان بعض اختلافات تھے وہیں بہت سارے معاملات میں دونوں ہم خیال بھی رہے ہیں ۔مثلا ًدونوں اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ ’
’ روایتی تنقید کے موضوعی اور تاثراتی انداز کے بجائے ادبی فن پارے کا تجزیہ معروضی ،لسانی اور سائنٹفک بنیادوں پر کیا جائے ‘‘
اسی طرح دونوں یہ مانتے ہیں کہ
’’ اسلوب کوئی خارجی شئے نہیں جس سے ادب کی تزئین مقصود ہو ،بلکہ اسلوب عین ادب پارے ہی کا جزو لا ینفک ہے ‘
دونوں ناقدین کے بیچ اتفاق رائے کی متعدد مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ اگر اردو تنقید کے عصری منظر نامے کا تجزیہ کیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ
عتیق اللہ،شمیم حنفی،ڈاکٹر صادق، ابوالکلام قاسمی ،ناصر عباس نیرّ اور قاضی افضال وغیرہ اپنی اپنی انفرادیت قائم رکھتے ہوئے کسی نہ کسی زاوئے سے نارنگ اور فاروقی کی سُنت پر ہی عمل پیرا ہیں ۔
فاروقی سادہ سل انداز میں منطقی اور توضیحی تنقید کے قائل تھے ۔ نارنگ کی تنقید میں سحر کاری ہے ۔فاروقی کی تنقید حکیمانہ صفات رکھتی ہے ۔ نارنگ اور فاروقی دونوں نے اپنی تنقیدات میں مشرقی اور مغربی نظریات کو توازن اور تناسب کے ساتھ برتا ہے۔ لیکن فاروقی کا اختصاص یہ ہے کہ انہوں نے مشرقی شعریات کی بازیافت ، اردو شعریات کی تشکیل جدید اورادبی فن پارے کی تفہیم و تعبیر اور تشریح و تنقید کے نئے پیمانے وضع کئے ۔ فاروقی اردو میں جدیدیت کے رحجان کے امام تھے لیکن اردو میں کلاسیکی شعریات کی بازیافت میں فاروقی کا اہم کردار رہا ہے ۔ ترقی پسندی ،جدیدیت اور ما بعد جدید نظریات و تصورات پر بھی انہوں نے سیرحاصل مضامین لکھے ہیں ۔فاروقی نے کلاسیکل شعرا ء کے کلام کی معروضی انداز میں شرح و تعبیر پیش کر کے اردو تنقید میں کلاسیکیت پسندی کے ایک نئے دور کا آغاز کیا ۔ ۔فاروقی کی شاہکار تصنیف ’’شعر شور انگیز ‘‘ اس کی زندہ مثال ہے ۔ اردو کے ناقدین کو فاروقی نے ہی یہ سبق پڑھایا ہے کہ کسی بھی فن پارے کو اس تہذیب کے تناظر میں دیکھنا چاہئے ،جس تہذیب کے اندر وہ فن پارہ وجود میں آیا ہے ۔ اس ضمن میں اگر وہ مشرقی شعریات کی تفہیم و تشریح پر زور دیتے ہیں تو اس کی تعریف ہر شخص کرتا ہے ۔
فاروقی کی موت اردو تنقید کے ایک عہد کی موت ہے ۔یوں تو آج اردو میں کئی معتبر ناقدین ہیں ،لیکن شمس الرحمان فاروقی کی کمی کو ’’فاروقیت ‘‘ کے انداز میں کون پوری کرے گایہ آنے ولا وقت ہی بتائے گا ۔
���
سابق صدر شعبۂ اردو کشمیر یونی ورسٹی ،موبائل نمبر؛ 9419010472