مسرت آراء کشمیرکی ایک نومشق افسانہ نگار کے طور پر سامنے آرہی ہیں۔خوشی اس بات کی ہے کہ وہ اپنے سماج ومعاشرے میں رونماہونے والے حالات وواقعات کو دیکھ کر چُپ نہیں سادھ لیتی ہیں بلکہ اپنی جذباتیت وحسّاسیت کے اظہار کے لئے وہ افسانہ جیسی مقبول وموثر صنف ادب کا انتخاب کرچکی ہیں ۔اس لحاظ سے وہ مسلسل افسانے لکھ رہی ہیں اور اپنے سماج کے مسائل کو افسانوی انداز میں پیش کرنے کی کوشش کررہی ہیں ۔’’گنبد کی تلاش‘‘ اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے جسے وہ زیور طباعت سے آراستہ کرکے اردو والوں کی خدمت میں پیش کرنا چاہتی ہیں ۔تخلیقی ادب تخلیق کار سے خون جگر مانگتا ہے ۔مسلسل محنت وریاضت ذوق وشوق کے علاہ فنی مہارت حاصل کرنے کے لئے کثیر مطالعے ،مشاہدے اور حالات وواقعات کا درد وکرب جھیلنا پڑتا ہے اُس کے بعد پھر کہیں جاکرکسی شخص کومقبولیت حاصل ہوتی ہے ۔
مسرت آراء کے پاس افسانہ تخلیق کرنے کا جوہر موجود ہے ۔وہ افسانے لکھتی ہیں اور اُنھیں قارئین تک پہنچانے کے لئے اخبارات ورسائل کے مدیران کو اشاعت کے لئے بھی بھیجتی ہیں ۔اب وہ اپنے پندرہ افسانوں کا مجموعہ ’’گنبد کی تلاش ‘‘کے نام سے شائع کروانے کی خواہش مند ہیں ۔ان پندرہ افسانوں کے عنوانات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ مسرت آرا ء نے کھلی آنکھوں سے اپنے سماج میں رقصِ ابلیس دیکھا ہے ۔ ان افسانوں میں مصنفہ نے کہیں عبادت خانوں میں خدا کے نام پہ بت پرستی دکھائی ہے اور کہیں معصوم جانیں تلف ہوتی ہیں ،کہیں عورت ذات کے ساتھ ظالمانہ سلوک روا رکھنے والے دکھائے ہیں ،کہیں گھائل پرندہ دکھایا گیا ہے اور کہیں سوانگی قسم کے لوگ سیدھے سادے لوگوں کا استحصال کرتے دکھائے گئے ہیں ۔غرضیکہ ’’کراس’’گنبد کی تلاش’’خاموش جہلم’’بنت ِ حوا’’محافظ’’ڈی ۔این ۔اے’’صدر کا قتل’’ایک شام کی بات’’جھانسا’’آس’’پوسٹ مارٹم’’اندھیرے کا راز’’مرشد’’گھائل پرندہ‘‘اور ’’سوانگی‘‘ایسے افسانے ہیں جو موضوعاتی تنوّع کے حامل ہونے کے ساتھ بیان اور بیانیہ کی پیشکش کے لحاظ سے قاری کو کسی حد تک متاثر کرتے ہیں البتہ ان افسانوں کی زبان کو افسانوی بنانے کی ضرورت محسوس ہورہی ہے ۔افسانوی زبان تحقیق وتنقید اور انشائیے کی زبان سے بالکل مختلف ہوتی ہے جو اپنے اندر سحر انگیزی کا سا اثر رکھتی ہے ۔امیدہے وقت گزرنے کے ساتھ مسرت آراء کی زبان میں نکھار آتا چلا جائے گا لیکن اس کے لئے بلندپایہ فکشن نگاروں کے تخلیقی فن پاروں کا مطالعہ ناگزیر ہے ۔ایک بہترین افسانہ ،ناول یا ڈراما قاری کی نفسیاتی اور ذہنی دُنیا میں بصیرت اور لطف اندوزی کی ایک ایسی چھاپ چھوڑ دیتا ہے جو اُس کے شعور ،لاشعور اورتحت الشّعور کا حصہ بن جاتی ہے ۔
مجھے مسرت آرا ء کے افسانوں میں کہیں کہیں علامتیں اور طنزورمزکی کاٹ بھی نظر آئی ۔وہ اپنا مافی الضّمیر راست انداز میں بیان کرنے کو ترجیح دیتی ہیں اور کوشش کرتی ہیں کہ اُن کے سسکتے ہوئے جذبات واحساسات کو افسانوی طور مل جائے ۔اُن کے چند افسانے قاری کو دُور اور دیر تک غور وفکر کی دعوت دیتے ہیں ۔مثلاً ’’ڈی این اے’’گنبد کی تلاش’’گھائل پرندہ’’بنت حوا’’جھانسا ‘‘اور ’’اندھیرے کا راز‘‘مسرت آرا کی تخلیقی ذہنیت کے ہی غماز نہیں ہیں بلکہ ان افسانوں کے موضوعات عصری سماج خاص کر کشمیرمیں پیدا ہورہے تشویشناک حالات کی عکاسی کرتے ہیں ۔جس طرح شاعری کے لئے عروض کا جاننا نہایت ضروری ہے اُسی طرح افسانہ نگاری کے لئے اُس کے فنی تقاضوں اور لوازمات سے جانکاری کے علاوہ اُنھیں برتنے کا سلیقہ بھی ہونا چاہیے ۔مسرت آرا نے حتی الامکان اُن تقاضوں کا خیال رکھنے کی کوشش کی ہے لیکن پھر بھی کچھ افسانوں میں تاثر اور تحیر وتجسس کی کمی رہ گئی ہے ۔اُن کے افسانوں کے کردار اپنی بات چیت اور حرکات وسکنات کے اعتبار سے متحرک معلوم ہوتے ہیں جوواقعات کی وقوع پذیری کے ساتھ کہانی کو انجام تک پہنچانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں ۔میں یہاں مسرت آراء کے چند افسانوں کے اقتباسات بطور مثال پیش کرنالازمی سمجھتا ہوں تاکہ قارئین کو یہ معلوم ہوسکے کہ مسرت آراء کی افسانوی پیشکش کس نوعیت کی ہے:
’’ مجھے پتہ ہے ! لیکن ایک بات آپ بھی سوچو …وہ کس کے لیے غصہ ہیں ۔ جس مذہب پر ان کو ناز تھا ، جس شہر کی عورتوں کی وہ ہر مجلس میں مثالیں دیتے تھے اس شہر کی اسّی لڑکیاں چھپ چھپا کر عیسائی بن گئی ہیں …غصہ جائز ہے ‘‘ شاہدہ نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا ‘‘(افسانہ’’کراس‘‘)
’’ آپ خود کو ایک ذمہ دار چوکیدار سمجھ رہے ہیں عبدل علیم !۔ کسی بھی خطرے سے اس محلے کے لوگوں کو بچانے کا کام بے شک آپ کا ہے اور یہ بہت بڑا کام ہے مگر ہم نے تو بڑی ذمہ داری نبھائی ہے ، آپ کو کس بات پر غرور ہے ؟ صرف ایک محلے کی نگرانی کا ؟ ہم نے تو پوری انسانیت کی نگرانی کی ہے اور مذہب کے لیے تو اپنی زندگی کا بیشتر حصہ قربان کیا ہے ۔ لیکن پھر بھی ہماری بدنصیبی دیکھئے کہ یوں گمنام ہیں جو آپ ہم سے نا آشنا ہیں ‘‘ حسین نے مایوس بھرے لہجے میں منہ دوسری طرف کرکے جواب دیا ۔عبدل کو کسی حد تک اس کی باتوں میں سچائی نظر آئی تو اس کا جی بھر آیا ۔ وہ غور سے حسین کو سننے لگا ۔ اس نے گھر نہ جانے کا ارادہ کیا ۔ عبدل کی اپنی پریشانیاں بھی کچھ کم نہ تھیں جو وہ پرائے دکھ بھی اپنے دل میں سمیٹ لیتا ۔ نہ جانے کیا حقیقت ہے اورکیا فسانہ ؟‘‘(افسانہ’’گنبد کی تلاش‘‘)
’’میں گھر کی دہلیز پر یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی ۔ مگر اچانک میری نظر اس کی طرف گئی۔ وہ اپنے خیالوں میں نامعلوم کہاں جا رہا تھا۔ غور کرنے پر اس کا پریشان سا چہرہ دیکھا تو مجھے ایک جھٹکا سالگا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ بڑی تیز رفتار کے ساتھ جھاڑیوں میں کھو گیا۔اس انسان نے بھی بڑی عجیب فطرت پائی تھی ۔ میں اس کے پیچھے پیچھے دوڑی مگر کہیں دور تک نام و نشان نہ پایا ۔ بہر حال میں نے فون کیا تاکہ پتا کروں وہ اس حال میں کہاں کے سفر میں نکلا مگر فون بار بار کرنے پر بھی کوئی جواب نہیں آیا ۔ میں نا امید ہوکر گھر لوٹی اور گھر کے کام کاج میں مصروف ہوگئی ۔ شام کا وقت تھا مسجد میں مغرب کی اذان ہو چکی تھی‘‘ (افسانہ’’ڈی۔این ۔اے‘‘)
بہر حال یہ بات باعث مسرت ہے کہ مسرت آرا ء کا افسانوی سفر بیانیہ اسلوب کے ساتھ شروع ہوا ہے ۔وہ زیادہ تر واحد متکلم صیغے میں اپنے گرد وپیش کے حالات وواقعات اور مسائل ومعاملات پیش کرنے کی کوشش کرتی ہیں ۔مجھے امید ہی نہیں بلکہ پواریقین ہے کہ اگر مسرت آراء پورے ذوق وشوق، محنت ولگن ،کثیر مطالعے ،گہرے تجربے اور مسلسل مشق کے تحت اپنا افسانوی سفر جاری رکھیں گی تو وہ دن دُور نہیں جب اُن کا شمار کشمیر کی معتبر اور نمائندہ خواتین افسانہ نگار روںمیں ہونے لگے گا۔میری نیک خواہشات اوردعائیں اُن کے ساتھ ہیں ۔
رابطہ۔صدر شعبۂ اردو
بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری( جموں کشمیر)
فون نمبر۔7889952532