طارق علی میر
سرینگر شہر کی صبح ابھی پوری طرح بیدار بھی ہوتی کہ سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر زندگی کی دوڑ شروع ہو جاتی ہے۔ طلبہ بستے سنبھالے تیزی سے قدم بڑھاتے ہیں، مارکیٹنگ کرنے والے افراد ہاتھوں میں تھیلے اور رجسٹر لئے گاہکوں کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں، اور نچلی سطح کے تاجر روزی کی جستجو میں ادھر اُدھر پھرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس بھاگتی دوڑتی زندگی میں پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے مہلت کہاں؟
ایسے میں فٹ پاتھوں پر لگے چھوٹے چھوٹے ٹھیلے ان سب کے لیے کسی غنیمت سے کم نہیں۔ ایک مزاحیہ مگر سچی تشہیر سنائی دیتی ہے:
’’بھوک مٹانے کا فوراً علاج ،مسالہ ژَھٹ!‘‘محض بیس روپے میں ایک گرم روٹی، جسے کشمیری زبان میں لَوَاسہ کہا جاتا ہے، اس پر چنا مسالہ اور تیکھے ذائقے والی چٹنی لپیٹ کر ہاتھ میں تھما دی جاتی ہے۔ نہ کرسی، نہ میز، نہ تکلف ،بس چلتے چلتے کھا لینے کا بندوبست۔ یہی لواسہ اکثر پرانے اخبار کے تراشوں میں لپٹا ہوا ملتا ہے۔ اخبار کی سیاہی اور مسالے کی خوشبو مل کر ایک عجیب سی شہری فضا پیدا کرتی ہے۔
آج میں لال چوک میں تھا۔ اچانک دل میں اسی مسالہ ژھٹ کو کھانے کی خواہش جاگی۔ ایک ٹھیلے سے لے کر جب میں نے اخبار میں لپٹی یہ گرم روٹی کھولی تو نظر اُس تراشے پر ٹھہر گئی، جس میں اسے لپیٹا گیا تھا۔ وہ کسی ماہنامے کا ادبی صفحہ تھا، جس پر غالب کے حوالے سے ایک مضمون شائع تھا اور ساتھ غالب کی تصویر بھی چھپی تھی۔
میں مسالہ ژھٹ کے لقمے توڑتا رہا اور ساتھ ساتھ وہ تحریر پڑھتا رہا۔ اخبار کی سیاہی انگلیوں پر لگ رہی تھی اور چنے کے مسالے کی خوشبو فضا میں گھلی ہوئی تھی۔ ادب اور بھوک ، دونوں ایک ہی کاغذ پر سمٹ آئے تھے۔ افسوس کہ صفحے کا حاشیہ میری قسمت میں نہ تھا، اس لیے یہ معلوم نہ ہو سکا کہ وہ کس ماہنامے کا شمارہ تھا اور کب شائع ہوا تھا۔
ایک لمحے کو خیال آیا ، اگر غالب خود یہ منظر دیکھتے تو کیا کہتے؟ شاید مسکرا کر کوئی شعر کہہ دیتے، یا حیران ہوتے کہ ان کی تصویر اور ان پر لکھا مضمون آج ایک مزدور، ایک طالب علم یا مجھ جیسے راہگیر کی بھوک مٹانے کے کام آ رہا ہے۔ ادب کا یہ انجام نہیں، شاید یہی اس کی اصل زندگی ہے ، لوگوں کے بیچ، روزمرہ کی گرد میں، روٹی کے ساتھ لپٹا ہوا۔آخر ادب تو سماج کےبطن سے ہی پیدا ہوتا ہے۔