پروفیسر ہارون رشید کا مختصر علالت کے بعد انتقال
عظمیٰ یاسمین
تھنہ منڈی //کالج پروفیسر ہارون رشید مختصر علالت کے بعد انتقال ہو گیا ۔ان کے انتقال پر اضلاع راجوری پونچھ کی کئی سیاسی اور سماجی شخصیات نے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کیا ہے ۔موصوف کووڈ کی زد میں تھے اور پچھلے کچھ دنوں سے امرتسر کے ہسپتال میں زیر علاج تھے جہاں ان کی وفات ہو گئی ۔پروفیسر موصوف ضلع ترقیاتی کونسل رکن کے داماد بھی تھے ۔ان کی وفات پر خطہ کی کئی سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں نے اظہارِ تعزیت کیا جن میں چیئرمین میونسپل کمیٹی تھنہ منڈی شکیل احمد میر ، راہ حق کے سید منظر علی شاہ ، پہاڑی لیڈر شہباز خان ، پیرپنچال فورم تھنہ منڈی ، مسلم ایجوکیشنل کے سرپرست خورشید بسمل ، سینئر لیڈر مشتاق احمد شال ،نظیر احمد گنائی ،بشیر احمد وانی اور شمیم احمد مغل کے علاوہ دیگر کئی سیاسی اور سماجی شخصیت نے سوگواران کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا اور مرحوم کی جنت نشینی کے لئے خصوصی دعائیں کیں۔ مرحوم کو کووڈ ایس او پیز کے تحت آبائی گائوں میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
قیوم میر کیساتھ اظہار تعزیت
محمد بشارت
کوٹرنکہ //ڈی ڈی سی ممبر قیوم میر کے داماد پروفیسر ہارون رشید کی کووڈ سے ہوئی وفات پر متعدد سیاسی و سماجی شخصیات نے لواحقین کیساتھ تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کیلئے دعائے مغفرت کی ہے ۔پروفیسر ہارون رشید کا تعلق کوٹرنک کی پنچایت دھنڈوٹ سے تھا جبکہ مرحوم پی جی کالج راجوری میں بطور پروفیسر اپنی خدمات انجام دے رہے تھے ۔وفات کی خبر سنتے ہی پورے علاقہ میں صف ماتم بچھ گیا جبکہ کئی ایک سیاسی و سماجی شخصیات نے مرحوم کے اہل خانہ کیساتھ ساتھ ضلع ترقیاتی کونسل ممبر قیوم میر کیساتھ تعزیت کا اظہار کیا ہے ۔
فوج نے آن لائن روڈ سیفٹی پروگرام کا اہتمام کیا
پرویز خان
منجا کوٹ //فوج کی جانب سے ’روڈ سیفٹی ‘کے عنوان سے ایک آن لائن پروگرام منعقد کیا گیا ۔اس دوران فوجی آفیسران نے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے تلقین کی کہ روڈ سیفٹی کو مکمل سمجھنے کیساتھ ساتھ ٹریفک قوانین پر مکمل عمل کرنے سے ہی مسافر ،ڈرائیور ودیگر افراد محفوظ رہتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ معززین کیساتھ ساتھ نوجوانوں بالخصوص طلباء کو چائیے کہ وہ سماج میں بیداری کیلئے اپنا رول ادا کریں ۔انہوں نے کہاکہ نوجوانوں کے اس عمل سے حادثاتی طورپر ضائع ہونے والی ہزاروں جانوں کو بچایا جاسکتا ہے ۔اس دوران سڑک پر نصب ہونے والی سائن کی بھی نمائش کی گئی تاکہ لوگوں کو مکمل طورپر بیدار کیا جاسکے ۔غور طلب ہے کہ اس طرح کے پروگرام فوج کی جانب سے ماضی میں بھی منعقد کئے جاتے رہے ہیں ۔
فوج میں بھرتی کیلئے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی
مینڈھر //فوج کی جانب سے مینڈھر سب ڈویژن کے پٹھانہ تیر علاقہ میں ایک پروگرام منعقد کیا گیا جس کے دوران نوجوانوں کو فوج میں بھرتی ہونے کی تلقین کرتے ہوئے فوجی آفیسران نے ان کی حوصلہ افزائی بھی کی ۔اس موقعہ پر بولتے ہوئے فوجی آفیسران نے کہاکہ اس وقت ملک میں بے روز گاری ایک بڑے مسئلہ بن چکا ہے تاہم اس دوران نوجوانوں کو چائیے کہ وہ روز گار کیساتھ ساتھ ملک کی خدمت کیلئے بھی اپنے آپ کو تیار کریں ۔انہوں نے کہاکہ نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ فوج میں بھرتی کے سلسلہ میں اپنی اہلیت ودیگر لورزامات مکمل کریں اور بھرتی کیلئے اپنی پوری کوشش کریں تاکہ ان کو روز گار بھی مل سکے ۔اس بیداری پروگرام میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی جس کے دوران فوجی آفیسران نے بتایا کہ بھرتی کے سلسلہ میں فوج کی جانب سے کئی ایک مقاما ت پر تربیتی پروگراموں کا اہتمام بھی کیاجاتا ہے جبکہ وہ ان سے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں ۔
دیہی علاقوں میں کووڈ پرپولیس کے بیداری پروگرام | لوگوں کو کووڈ ایس او پیز پر عمل کیلئے ہدایت جاری
راجوری //راجوری ضلع میں کئی ایک پولیس سٹیشنوں کی جانب سے ضلع کے مختلف علا قوں میں کووڈ کے سلسلہ میں بیداری پروگراموں کا اہتمام کیا گیا جس کے دوران مکینوں کو کووڈ کے سلسلہ میں مکمل طورپر بیدار کیا گیا ۔پولیس حکام کی جانب سے کووڈ ایس او پیز کے تحت ہی میٹنگوں کا اہتمام کیا گیا جبکہ لوگوں کو تلقین کی گئی کہ وہ وائرس کے پھیلائو کو کم کرنے کیلئے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں ۔پولیس سٹیشن منجا کوٹ کی جانب سے دھیری ڈھڑا میں پنچایت ممبران کے علاوہ کلالی ،دبروٹ اور گھمبیر مغلاں علاقہ میں اجلاس منعقد کئے گئے جبکہ اسی طرح تھنہ منڈی پولیس سٹیشنوں کی ٹیم کی جانب سے راجدھانی اور پنچایت کھبلاں میں اجلاس منعقد کر کے لوگوں کو ہدایت جاری کی گئی کہ وہ کووڈ معاملات میں ہونے والے اضافے پر قابو پانے کیلئے کووڈ ایس او پیز پر مکمل عمل کریں ۔پولیس سٹیشن کنڈی کی جانب سے جگلانوں ،کوٹرنکہ اور سواڑی علاقوں میں جبکہ دھرمسالہ پولیس سٹیشن کی جانب سے سیوٹ لوہر اور سیوٹ اپر میں اجلاس منعقد کئے گئے ۔اسی طرح تریڑو موگلہ ،تریاٹھ ،لمبیڑی ،پیڑی ودیگر علاقوں میں بھی پولیس کی جانب سے پروگرام منعقد کئے گئے ۔ان پروگراموں میں پنچایتی اراکین کیساتھ ساتھ دیگر معززین نے بھی شرکت کی جبکہ پولیس نے ان کو لاک ڈائون میں ہوئے اضافے کیساتھ ساتھ معززین کی ذمہ داریوں کے سلسلہ میں بیدار کرتے ہوئے تلقین کی کہ وہ سماج کو بچانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں ۔
مغل شاہراہ کو بحال کئے جانے کے فیصلے کی سراہنا
حسین محتشم
پونچھ// لیفٹیننٹ گورنر کی جانب سے مغل شاہراہ کو بحال کئے جانے کے اعلان کی پونچھ کے لوگوں نے سراہنا کی ہے۔واضح رہے کہ خطہ پیر پنچال کے لوگ کافی عرصہ سے مغل شاہرا کو بحال کرنے کی اپیل کر رہے تھے اس حوالے سے حالیہ دنوں میں سرنکوٹ کے ڈی ڈی سی ممبران کی جانب سے احتجاجی مظاہرے بھی عمل میں لائے گئے تھے۔اب جب لیفٹیننٹ گورنر نے گوجر بکر والوں کو ڈھوکوں کی طرف جانے اور ضروری اشیاء جن میں سبزیاں ، پھل اور دیگر اشیاء شامل ہیںکی گاڑیوں کے لئے سڑک کو بحال کئے جانے کا اعلان کیا ہے تو لوگوں نے راحت کی سانس لی ہے۔محمد طارق خان چیئر مین شہید منجیت سنگھ والی بال کلب پونچھ نے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر نے بروقت فیصلہ لیا ہے جس کی جتنی سراہنا کی جائے وہ کم ہے۔انہوں نے کہا کہ مغل شاہراہ کے بند رہنے کی وجہ سے خصوصی طور پر گوجر بکروال طبقہ جو کہ موسمی طور پر نقل مکانی کرتے ہیں کو کئی طرح کی پریشانیوں کا سامناکرنا پڑرہا تھا۔انہوں نے کہا اس کے علاوہ کشمیر کے پھل اور سبزیاں بھی نہیں آرہی تھی جس کی وجہ سے پونچھ میں ان اشیاء کے نرخ آسمان چھو رہے تھے۔انہوںنے اپیل کی کہ ان لوگوں کو ضلع ترقیاتی کمشنر کی جانب سے سفر کی جازت دی جانی چاہئے جو کشمیر علاج معالجہ کے لئے جانا چاہیں یا جو کشمیر کے مختلف علاقوں میں ملازمت کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ایسے لوگوں کے لئے جموں سے ہو کر کشمیر جانانہایت ہی مشکل ہوتا ہے۔انہوں نے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ بلا وجہ سیر و تفریح کے لئے اس سڑک سے سفر نہ کریں بلکہ کوڈ19کے چلتے احتیاطی طور پر اپنے گھروں کے اندر رہیں محفوظ رہیں۔منجیت سنگھ منٹو اور دیگر سماجی و سیاسی کارکنان نے بھی مغل شاہرا ہ کے بحال کئے جانے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مجبوری کی صورت میں ہی اس سڑک سے سفر کریں۔
ایمر جنسی میں مغل شاہراہ کو براہ راست کھولنے کی مانگ
عشرت حسین بٹ
پونچھ //خطہ پیر پنچال کے مکینوں نے جموں وکشمیر انتظامیہ سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ مغل شاہراہ کو مریضوں و دیگر مکینوں کیلئے ایمرجنسی میں براہ راست کھولا جائے تاکہ عام لوگوں کو مشکل وقت میں طبی سہولیات دستیاب ہو سکے ۔انہوں نے کہاکہ خطہ پیر پنچال بالخصوص پونچھ کی عوام کی وادی میں رسائی کیلئے مغل شاہراہ ایک آسان راستہ ہے ۔واضح رہے کہ خطہ پیر پنچال کی عوام کو وادی سے ملانے والی واحد نزدیک شاہراہ مغل روڈ گزشتہ کافی عرصہ سے سرکاری کی جانب سے گاڑیوں کی آمد و رفت کیلئے بند رکھی گئی ہے جبکہ شہراہ سے آج سے قبل دو ماہ برف ہٹانے کا کام مکمل کیا گیا ہے مگر نا معلوم وجوہات کی بنا پر اس شاہراہ پر گاڑیوں کی چلنے کی اجازت نہ تھی تاہم گزشتہ دن لیفٹیننٹ گورنر کی جانب سے ایک ٹویٹ کے ذریعہ شاہراہ پر گوجر بکروال طبقہ کیساتھ ساتھ مالبردار اور سبزیوں کی گاڑیوں کو آنے جانے کا حکم صادر کیا گیا تاہم عام لوگوں کی آمد ورفت کے سلسلہ میںکوئی واضح پیغام نہیں دیا گیا ۔مقامی لوگوں نے کہا کہ اس وقت سینکڑوں کی تعداد میں مریضوں کا علاج معالجہ وادی کے ہسپتالوں میں چل رہا ہے تاہم شاہراہ کے بند رہنے کی وجہ سے مذکورہ مریضوں کو شدید مشکلات درپیش ہیں ۔انہوں نے جموں و کشمیر انتظامیہ سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ وہ شاہراہ پر مسافروں بالخصوص مریضوں کیلئے براہ راست کھولنے کیلئے معیاری اقدامات اٹھائے تاکہ عام لوگوں کی دقتیں کم ہوسکیں ۔
محکمہ صحت کے بنیادی ڈھانچے کو فعال بنانے کی ضرورت :ڈاکٹر ادیش
حسین محتشم
پونچھ//کوڈ۔19 کا خوف بڑا ہے، سرکاری ہسپتال جانے سے مریض ڈرتے ہیں جو کہ حیرت کی بات ہے، پورے ملک میں کوڈ 19 میں ملوث مریض خوف کی وجہ سے ہسپتالوں سے بھاگ رہے ہیں ان باتوں کا اظہار سماجی کارکن ڈاکٹر ادیش پال شرما نے کشمیر عظمیٰ سے ایک خصوصی گفتگو کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ ملک میں کوڈ 19 مریضوں کو کہیں آ کسیجن کی کمی کا سامناہے تو بستروں کی کمی کی وجہ سے مریض تڑپ تڑپ کر موت کا شکار ہو رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ حال ملک کے بڑے شہروں کا ہے اگر ہم جموں کشمیر کے پونچھ ضلع کی بات کریں تو یہاں صورتحال مختلف ہے کیونکہ یہاں صحت کے انفراسٹرکچر کو نئی شکل دینے اور اپ گریڈیشن کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی ضلع پونچھ میں رہنے والے لوگوں کے لئے مزید خطرات ہیں کیونکہ یہاں کے سب سے بڑے راجہ سکھدیو سنگھ ضلع ہسپتال میں صحت کی سہولیات بدترین ہیں۔انہوں نے کہا کوویڈ 19 کی اس دوسری لہر میں ابھی بھی ڈسٹرکٹ ہسپتال میں آکسیجن پلانٹ کی تنصیب مکمل نہیں ہوئی ہے جس کی وجہ سے عام لوگوں کومسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہسپتال کا اوشیدی مرکز پچھلے ایک سال سے بند ہے جہاں سے سستے نرخوں پر مریض کوموثر دوائیں مہیا کی جاتی تھی ۔انہوں نے کہا کہ ہسپتال میںڈرمیٹولوجسٹ ، یورولوجسٹ ، آپٹالمولوجسٹ کی آسامیاں خالی ہیں۔انہوں نے کہا سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات میسر نہ ہونے کہ وجہ سے مجبور ہو کر لوگ نجی ہسپتالوں کا رخ کرکے جموں یا کشمیرکا سفر کرتے ہیں جو یہاں سے بہت دور ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈی آر ڈی او نے جموں میں بہت اچھا کام کر کے مختصر عرصے میں 500 بستروں پر مشتمل ہسپتال تیار کیا ہے۔اگر انتظامیہ متوجہ ہو تو پونچھ میں اس طرح کا ہسپتال تیار کرسکتے ہیں۔انہوں نے لفٹینٹ گورنر سے اپیل کی کہ پونچھ کے شعبہ صحت کی طرف خصوصی توجہ دے کر یہاں اس شعطہ میں بہتری لائیں تاکہ یہاں کے مقامی لوگوں کا اپنے ضلع کے اندر ہیں بہتر علاج معالجہ
ہو سکے،انہوں نے ملک کے تمام فرنٹ لائن کارکنوں کا شکریہ ادا کیا۔اور لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے گھروں میں رہیں محفوظ رہیں۔