پاکستان غیرمشروط مذاکرات کیلئے تیار:فواد
سرینگر//بھارت اور پاکستان کے درمیان جب بھی مذاکرات ہوںگے مسئلہ کشمیر پر بات ضرور ہوگی۔ اس بات کااظہار پاکستان کے وزیربرائے سائنس وٹیکنالوجی فواد چودھری نے کیا ہے۔سی این آئی کے مطابق اسلام آباد میںمیڈیا نمائندں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے پاکستانی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری کا کہنا تھا کہ کشمیر متنازعہ علاقہ ہے اور ہم اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت سے غیر مشروط مذاکرات کے لئے تیار ہے لیکن اس بارے میں ہمارا موقف واضح ہے کہ جب بھی مذاکرات ہوں گے کشمیر پر بات ہو گی۔انہوںنے کہا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف ہے ۔
ویکسینیوں کی قلت باعث تشویش:تاریگامی
سری نگر// جموں و کشمیر انتظامیہ کے کورونا وائرس ویکسین کی دستیابی کے بارے میں دعوؤں کو مسترد کرتے ، سی پی آئی (ایم) کے رہنما یوسف تاریگامی نے کہا ہے کہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں کیونکہ حالیہ دنوں میں جموں کشمیر میں ویکسینیوں کی عدم دستیابی سے مبینہ طور پر ٹیکہ کاری صفر کے برابر ریکارڈ کی گئی ہے، جو تشویش کی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔ ایک بیان میں تاریگامی نے کہا کہ جموں و کشمیر میں کورونا وائرس کے مثبت واقعات اور اموات میں بہت زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے اور اس کا سامنا کرنے کا واحد راستہ ٹیکے لگانا ہے لیکن اطلاعات کے مطابق حالیہ دنوں میں ایک بھی فرد کوٹیکے نہیں لگائے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ٹیکے لگانے کے بجائے جموں کشمیر میں انتظامیہ نے لوگوں کو بے سہارا چھوڑ دیا ہے جس نے کافی لوگوں میں بے یقینی پیدا کردی ہے۔انہوں نے کہا کہ پچھلے ہفتے کے دوران سرکاری طور پر ویکسینیشن کے اعدادوشمار غیر معمولی حد تک کم ہیں ، زیادہ تر دن خالی رہے ہیں۔ اس سے یہی اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ بہت سارے لوگ رہ گئے ہیں جو شدت سے ٹیکے لگانا چاہتے ہیں۔ حکومت کو صورتحال دیکھ کر یہ واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ ویکسین کب دستیاب ہوںگے تاکہ ٹیکہ کاری کے عمل کے بارے میں مزید بے یقینی اور الجھن پیدا نہ ہو۔
ویکسین اچانک کہاں گئے؟مونگاکاسوال
سرینگر//جموں کشمیر پردیشن کانگریس کمیٹی کے نائب صدر اور سابق ممبر قانون ساز کونسل غلام نبی مونگا نے جموں کشمیر کو لوگوں کو کووِڈ ٹیکے لگانے کیلئے انتظامیہ کے غیرسنجیدہ رویہ پر فکر مندی کااظہار کیا ہے ۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پچھلے ایک ہفتے سے کشمیرخطے میں18سے44برس اور45برس سے زیادہ عمر والے افراد کو کوئی ٹیکہ نہیں لگایا گیاہے جو باعث تشویش امر ہے۔انہوں نے کہاکہ اس وقت انتظامیہ کی پوری توجہ کووِڈٹیکہ کاری پر مرکوز ہونی چاہیے تھی،لیکن بدقسمتی سے اس مہم کو روک دیاگیا ہے کیوں کہ تیکے دستیاب نہیں ہیں ۔کانگریس نے انتظامیہ کی تیاریوں پر سوال کھڑا کرتے ہوئے کہا کہ کچھ ہفتوں قبل انتظامیہ یہ دعوے کررہی تھی کہ معقول تعداد میں کافی ویکسین دستیاب ہیں ۔اچانک یہ ویکسین کہاں گئے؟انہوں نے کہا کہ حکومتی دعوئوں اور حقیقت کے درمیان بڑی خلیج ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں جنہیں ویکسین کی دوسری خوراک لینی ہے کو بھی ویکسین مہیا نہیں کیاجاتا یہ ایک تشویشناک معاملہ ہے جس کی طرف حکومت کو توجہ دینی ہوگی۔
ٹیکوں کی نایابی سے عوام بے چین:میر
سرینگر// جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی نے جموں و کشمیر میں کووِڈ مخالف ویکسینوں کی کمی کو پریشان کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی ویکسین کی فراہمی کے سلسلے میں کی جانے والی کوششیں ابہام اور غیر یقینی صورتحال کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔کے این ایس کو بھیجے گئے ایک پریس بیان میں کانگریس پارٹی نے کہا کہ ویکسینوں کی فراہمی کو یقینی بنانے میں حکومت کی ناکامی لوگوں کے ذہنوں میں بہت سارے سوالات کو جنم دے رہی ہیں کیونکہ کورونا بیماری کے باعث جموں و کشمیر میں پہلے سے ہی پریشان کن صورتحال ہے اور اب حکومت کی غیر سنجیدگی موجودہ صورتحال میں افرا تفری کا سبب بن سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمگیر وبا کورونا وائرس کی وجہ سے اب تک جموں کشمیر میں سینکڑوں اموات کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ کانگریس نے حکومت سے اس بات کی وضاحت طلب کی ہے کہ وہ لوگوں کو ویکسین لگانے کے حوالے سے کیا اقدامات کررہی ہیں؟۔کانگریس پارٹی نے مزید کہا کہ اگرچہ انکی پارٹی گورنر انتظامیہ کے ہر اقدام کی حمایت کرتی ہے لیکن ساتھ ہی پارٹی جموں و کشمیر میں قیمتی جانوں کے زیاں ہونے پر انتہائی مایوسی کا اظہار کرتی ہے اور وائرس کے مزید پھیلاؤ پر قابو پانے کے حوالے سے زیادہ موثر اقدامات اٹھانے کی مرکزی اور گورنر انتظامیہ پر زور دیتی ہے۔ کانگریس پارٹی نے کہا کہ کورونا وائرس سے ہورہی اموات سے بچنے کے لئے ہر فرد کو ویکسین لگانا ہی واحد راستہ ہے اور اس عمل کو ہر حال میں یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔۔اس دوران جے کے پی سی سی صدر غلام احمد میر نے کہا ہے کہ ویکسین کی عدم فراہمی کی وجہ سے لوگوں میں بے چینی پھیل رہی ہے جبکہ جموں و کشمیر میں کورونا سے ہوئی مبینہ تباہی کے باوجود گزشتہ کئی دنوں سے ویکسین نہیں مل رہی ہے جو یقینی طور پر تشویشناک ہے۔
حج وعمرہ کمپنیاںتباہی کے دہانے پر | ایسوسی ایشن کی حکومت سے امدادکی اپیل
سری نگر // جموں و کشمیر ایسوسی ایشن آف حج اینڈ عمرہ کمپنیوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ انکی مدد کیلئے سامنے آئے کیونکہ انہیں ایک سخت مرحلے سے گزرنا پڑا ہے۔ ایسو سی این کے صدر نے کہا ہے کہ پچھلے سال لاک ڈاؤن کی وجہ سے اس شعبے کو بڑا نقصان ہوا ہے اور یہ سال گزشتہ برس سے مختلف نہیں ہے۔ بیان میں کہا گیا’’ہمارے شعبے اور اس کے متعلقین کی جانب سے ان بدترین حالات پر غور کرنے کے بعد ، ایسو سی ایشن نے خطرے کی گھنٹی کو سنا ہے اور حکام سے درخواست کی ہے کہ وہ شعبے کی مدد کریں اور اس کو بچائیں۔ ‘‘ ایسوسی ایشن نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ تجدیدوں ، بین الاقوامی رجسٹریشنوں ، بحالی ، کرایوں اور بجلی فیس کے بوجھ کو کم کرنے کے لئے آپریٹرز کے لئے ہنگامی طور پر غور کریں۔انہوںنے حکومت پر زور دیا کہ وہ دیوالیہ پن اور بندشوں سے بچنے کے لئے ہنگامی طور پرسود میں چھوٹ اور قرضوں میں توسیع پر بھی غور کرے۔ ایسو سی ایشن کا کہنا تھا کہ2020 میں جب پوری عالمی معیشت کو نقصان پہنچا تو سفر اور سیاحت کی صنعت سب سے زیادہ متاثر ہوئی۔ قومی اور بین الاقوامی سفرکی بکنگ منسوخ کردی گئی تھی۔ ایسوسی ایشن آف حج اینڈ عمرہ کمپنیوں نے بتایا کہ سفری شعبے کیلئے ایک غیر منقسم بازار ہے۔ان کا کہنا تھا’’ان غیر معمولی حالات میں ، حج عمرہ آرگنائزرز اور آپریٹرز کو سب سے زیادہ دھچکا لگا ہے اورکمپنیوں کے نقصانات اور قرضوں میں 200 سے300فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیزن اور بکنگ کے بیچ میں انھیں بے مثال نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسو سی ایشن نے کہا کہ ایسوسی ایشن آف حج اینڈ عمرہ کمپنیوں کے رقومات بھی مختلف شعبوں اور اداروں میں واجب الادا ہے،جس کے نتیجے میں ان کمپنیوں کو خسارہ برداشت کرنا پڑا،جبکہ کچھ چھوٹی کمپنیاں5ماہ قبل ہی ختم ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں 200 سے زائد چھوٹی اور درمیانی حج عمرہ کمپنیاں ہیں اور یہ سب آج کل آپریشنل ضروریات کو پورا کرنے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔
لاک ڈائون سے کاروبار وتجارت متاثر | بینکوں کے قرضہ داروں کوراحت دی جائے::نیشنل کانفرنس
سرینگر// نیشنل کانفرنس نے کووڈ – 19کی دوسری لہر میں تشویشناک حد تک اضافے کو روکنے کیلئے عائد کئے گئے لاک ڈائون سے متاثرہوئے لوگوں کیلئے راحت کاری کی اپیل کی ہے۔ پارٹی کے ترجمان عمران نبی ڈار نے ایک بیان میں حکومت پر زور دیا کہ عوام کی راحت کاری اور پریشانیوں کو کم کرنے کیلئے ایک مالی پیکیج کا اعلان کیا جائے اور ساتھ ہی ایسے افراد کو قرضوں میں راحت دی جائے جنہوں نے کاروباری یا دوسرے مقاصد کیلئے قرضے حاصل کئے ہیں۔پارٹی ترجمان نے کووڈ 19کے پھیلاؤ کے ذریعہ پیدا ہورہے بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وبائی مرض نے نہ صرف بڑے کاروباریوں ، چھوٹے اور پسماندہ تاجروں کو بری طرح متاثرہ کردیا ہے بلکہ اس سے یومیہ اجرتوں پر مشتمل انفرادی آمدنی کو بھی دھچکا لگا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بہت بڑا طبقہ ایسا ہے جنہوں نے گاڑیوں، مکانوں اور کاروبار کیلئے قرضے حاصل کئے تھے اور وہ اس وقت موجودہ بحران کی وجہ سے بینکوں کی قسطیں ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ حکومت سے توقع کی جارہی ہے کہ ایسے افراد کو کورونا بحران کے دوران قرضوں کی ادائیگی سے مستثنیٰ رکھا جائے اور اس مدت کے دوران قرضوں پر عائد ہونے والے سود کو معاف کیا جائے۔ ترجمان نے کہا کہ وبائی بیماری اور اس کے نتیجے ہوئے لاک ڈائون سے ایسے تمام افراد کی آمدنی بری طرح متاثر ہوئی ہے جنہوں نے گاڑیوں، مکانوں یا کاروبار کیلئے قرضے حاصل کئے تھے۔انہوں نے کہا کہ وائی ایس ایل ایس (یوتھ اسٹارٹ اپ لون اسکیم)، پی ایم ای جی پی اور کے سی سی کے مستفید افراد بھی قرضے ادا کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ لہٰذا حکومت کو بغیر تاخیر کے قرضہ داروں کی آمدنی پر جاری لاک ڈاؤن کے اثرات کا اندازہ لگاکر قرضوں پر راحت کیلئے کا فیصلہ لینا چاہئے۔
لالچوک سرینگر میں اچانک گاڑیوں کی تلاشی | صفا پورہ میں محاصرہ، جنگجو مخالف آپریشن
سرینگر//ارشاد احمد// شہر کے سول لائنز علاقوں بشمول تجارتی مرکز لالچوک میں منگل کو سی آر پی ایف اہلکار نجی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور عام شہریوں کی تلاشی لیتے ہوئے نظر آئے ۔ سرینگر کے دوسرے حصوں میں بھی سی آر پی ایف اہلکار گاڑیوں خاص کر دو پہیہ والی گاڑیوں کی تلاشی لے رہے تھے تاکہ جنگجوؤں کے کسی بھی منصوبے کو ناکام بنایا جا سکے ۔ آئی جی پی وجے کمار نے کہا ہے کہ سرینگر میں ابھی بھی پانچ جنگجو سرگرم ہیں جن کی تلاش جاری ہے ۔ تجارتی مرکز لالچوک میں منگل کو سی آر پی ایف اہلکار پرائیویٹ گاڑیوں کی تلاشی لے رہے تھے ۔ گاڑیوں کو روکا جا رہا تھا اور ان میں سوار افراد کو آگے جانے سے قبل پوچھ تاچھ کی جاتی تھی اور ان کے شناختی کارڈ بھی چیک کئے جاتے تھے ۔ دو پہیہ والی گاڑیوں کو بھی روکا جا رہا تھا اور ان پر سوار مسافروں سے پوچھ تاچھ کی جا رہی تھی۔ادھر صفاپورہ کے وازہ محلہ میں گھر گھر تلاشیاں لی گئیں۔پولیس نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ صفاپورہ کے وازہ محلہ میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد پورے علاقے کو گھیرے میں لیا گیا اس موقعہ پر تمام داخلی اور خارجی راستوں پر تار بندی کرکے گھر گھر تلاشیاں لی گئیں۔تلاشی مہم میں فوج کی 13 آر آر اور پولیس نے مشترکہ طور پر انجام دی۔ دو گھنٹے تک چلنے والے تلاشی مہم پرامن طور پر ختم کی گئی۔
پٹن میں غیر مقامی کی لاش سڑک کنارے پائی گئی
سری نگر// پٹن بارہمولہ میںسڑک کنارے ایک غیر ریاستی شخص کی لاش پائی گئی ۔ پولیس نے لاش کو اپنی تحویل میں لینے کے بعد مزید کارروائی تیز کر دی ہے ۔ کے این ایس کے مطابق بارہمولہ کے پٹن علاقے میں منگل کوایک غیر مقامی شخص کی لاش سڑک کے کنارے پائی گئی ۔ لاش کو دیکھتے ہی مقامی لوگوں نے پولیس کو مطلع کیا۔ پولیس نے موقعہ پرپہنچ کر فارنسیک ٹیم کو طلب کیا۔پولیس لاش کی شناخت کیلئے بھی کوشاں ہے جبکہ اس حوالے سے ایک کیس درج کر کے مزید تحقیقات شروع کی گئی ۔
ایڈیشنل ایس پی بڈگام کے اعزاز میں الوداعی تقریب
سرینگر//بڈگام پولیس نے ضلع میںایڈیشنل ایس پی امت ورما کے ضلع سے تبادلے کے اعزاز میں ایک الوداعی تقریب کا اہتمام کیا۔اس موقع پر ایس ایس پی بڈگام طاہر سلیم نے ضلع سے رخصت ہوئے افسر کی کارکردگی کو سراہا اور سخت ترین حالات میں ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور فیصلہ سازی کی تعریف کی۔اپنے الوداعی خطاب میں مذکورہ افسر نے ڈسٹرکٹ پولیس بڈگام کے تمام افسران کے تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
صحافیوں میں قوت مدافعت بڑھانے کی پہل | پریس کالونی میں آیوش کی جانب سے ادویات تقسیم
سرینگر//وادی کشمیر میں صحافیوں کی نازک حالات میں اپنے فرائض انجام دہی مد نظر رکھنے ہوئے محکمہ آیوش نے سرینگرکی پریس کالونی میں صحافیوں میں قوت مدافعت بڑھانے والی ادویات تقسیم کیں۔اس سلسلے میں محکمہ آیوش کی ایک ٹیم نے پریس کالونی پہنچ کر صحافیوں میں یہ ادویات تقسیم کیں۔مذخورہ ٹیم کے مطابق ان اویات کو تقسیم کرنے کا مقصدصحافیوں کو کورونا وائرس سے محفوظ رکھنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ان ادویات کا استعمال عمل میں لایا جائے تو انسان کی قوت مدافعت بڑھ جاتی ہے ۔ محکمہ کے ایک عہدیدار نے اس موقع پر بتایا کہ صحافیوں کا کام بہت ہی نازک ہے اور وہ لاک ڈاؤن کے دوران بھی فیلڈ میں کام کرتے ہیں تو ان کو کورونا وائرس کا شکار ہونے کے زیادہ امکانات رہتے ہیں۔لہٰذا محکمہ آیوش نے صحافیوں کے درمیان یہ ادویات تقسیم کیں تاکہ وہ ان ادویات کا استعمال کرکے اپنی قوت مدافعت کو بڑھائیں جو انہیں وائرس سے مقابلہ کرنے میں مدد فراہم کرے گی۔کے این ایس
رمضان المبارک میں60 لاکھ روپئے کی امدادی رقم تقسیم کی: یتیم فاؤنڈیشن
سرینگر//جے اینڈ کے یتیم فاؤنڈیشن رمضان المبارک کے دوران 2000 مستحق خاندانوں میں 60 لاکھ روپے سے زائد کی امدادی رقم تقسیم کی جن میں 800 کنبے جموںکے ہیں جن کی سربراہ بیوہ خواتین ہیں۔ راتھر نے کہا کہ ماہ مقدس کے دوران ضرورتمند خاندانوں کو 700 سے زائد فوڈ کٹ بھی مہیا کئے گئے۔انہوں نے کہا کہ 6000 سے زیادہ مریضوں اور ان کے خدمتگاروں کو الہلال تشخیصی مرکز اور صدرہسپتال میں قائم دو رسوئی گھروں پر مختلف خدمات بہم پہنچائی گئیں جس میں لیبارٹری کے ساتھ ساتھ یو ایس جی کی سہولت بھی شامل ہے جہاں 50 سے 70 فیصد تک کی رعایت دی جاتی ہے۔اس دوران کورونا وائرس میں مبتلا متعدد مریضوں کو ایمبولینس خدمات اورآکسیجن سلنڈر اور کنسنٹریٹر فراہم کیے گئے۔فائونڈیشن کے چیئرمین محمد احسن نے خیر خواہوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے تمام رضاکاروں کی انتھک ، مخلص اور پیشہ ورانہ محنت کو بھی سراہتے ہوئے ان سے اپیل کی کہ وہ ان مشکل حالات میں ضرورت مندوں کی ہر صورت میں مدد کریں۔انہوں نے تمام رضاکاروں پر زور دیا کہ وہ کسی بھی قسم کے ضرورتمندوں تک جوش و جذبے کے ساتھ کام کو جاری رکھیں۔
صحافی گلزار احمد کی وفات پر اظہار تعزیت
سرینگر//روز نامہ سرینگر نیوز سے وابستہ سینئر صحافی گلزار بٹ کے انتقال پرحقانی میموریل ٹرسٹ کے سرپرست اعلیٰ سید حمید اللہ حقانی نے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ انہوںنے کہا کہ یہ ایک صدمہ ہے اور شعبہ صحافت میں اسکی خدمات کوہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ٹرسٹ کے جنرل سیکریٹری بشیر احمد ڈار، ضلع صدر بڈگام سمیع اللہ حقانی اور ضلع صدر سرینگر مولانا محمد شفیع نے گلزار احمد بٹ کی وفات پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی مغفرت کیلئے دعا کی ہے۔
مالی پیکیج میں دستکاروں کو بھی شامل کیا جائے:ڈاکٹر کمال
سرینگر// نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر مصطفی کمال نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ تعمیراتی کامگاروں ، پالکی والوں، خچر برداروں اور پٹھو والوں کیلئے اعلان کردہ مالی پیکیج میں دستکاروں کو بھی شامل کیا جائے اور ساتھ ہی امدادی رقم میں اضافہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ شہر سرینگر کی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ سوزنی کام، قالین بافی، پیپر ماشی اور دیگر دستکاری کے ساتھ منسلک ہیں اور یہی ان کا روزگار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ شعبے براہ راست سیاحت کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور سیاحوں کے نہ آنے سے ان کا روزگار بری طرح متاثر ہوا ہے اور ان شعبوں سے منسلک لوگ زبردست دبائو میں ہیں۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ حکومت نے دیگر کامگاروں کیلئے جو مالی امداد کا اعلان کیا ہے وہ خوش آئند ہے تاہم اس میں اضافہ ناگزیر ہے اور ساتھ ہی دستکاری سے وابستہ لوگوں کو بھی اس میں شامل کرنا ضروری ہے۔
چمن لال گپتا ایک سنجیدہ سیاستدان تھے | فاروق خان ،ڈاکٹر فاروق ،آزاد اوراپنی پارٹی کا اظہار تعزیت
سرینگر// لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر فاروق خان ،نیشنل کانفرنس ،کانگریس اوراپنی پارٹی نے سابق رکن پارلیمان اور مرکزی وزیرچمن لال گپتا کی موت پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر فاروق خان نے پروفیسر جمن لال گپتا کی موت کو ملک کیلئے بالعموم اورجموں کشمیرکی سیاست کیلئے بالعموم ایک بہت بڑا نقصان قرار دیا۔ انہوں نے پروفیسر گپتا کے ساتھ اپنی طویل رفاقت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک مخلص سیاسی رہنما تھے جنہوں نے ہمیشہ لوگوں کی خاطر جدوجہد کی اور قوم کی خدمت میں دیرپا شراکت کی۔ انہوں نے انہیں ایک شاندار استاد کے طور پر بھی یاد کیا ، جو محبت اور پیار کی ایک مثال تھے ۔نیشنل کانفرنس صدرڈاکٹر فاروق عبداللہ نے موصوف کے جملہ سوگواران خصوصاً رمیش گپتا کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے آنجہانی کی آتما کی شانتی کیلئے دعا کی ۔ پارٹی کے صوبائی صدر جموں دیوندر سنگھ رانا، ایڈوکیٹ رتن لعل گپتا اور دیگر پارٹی لیڈران نے بھی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ سینئر کانگریس لیڈر اور جموں کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ غلام نبی آزادنے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر گپتا نے ممبر اسمبلی،پارلیمنٹ ممبر اور مرکزی وزیر کی حیثیت سے ہمیشہ عوام کی خدمت کی۔ آزاد نے سوگوار کنبے سے تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی روح کیلئے شانتی کی دعا کی۔اپنی پارٹی کے صوبائی صدر جموں منجیت سنگھ نے گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔ ایک بیان میں منجیت سنگھ نے کہا کہ چمن لال گپتا ایک ملنسار اور خوش اخلا ق شخص تھے اور اُن کا شمار جموں کے سینئرلیڈران میں شمار ہوتا تھا ۔انہوں نے کہاکہ گپتا کو عوام دوست رویہ کی وجہ سے جانا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ گپتا نے جموں وکشمیر کی سیاست میں اہم رول ادا کیا ہے۔اپنی پارٹی کے دیگر لیڈران نے بھی سینئر بی جے پی لیڈرکی موت پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
پروفیسر غلام محمد بٹ کا انتقال ایک ادارے کا خاتمہ | آن لائن تعزیتی اجلاس میں مرحوم کو خراج عقیدت
سرینگر//ڈین شعبہ الیکٹرانکس کشمیر یونیورسٹی پروفیسر جی ایم بٹ کے انتقال کے سلسلے میںجے کے ایجوکیشنل کونسل نے ایک ورچیول تعزیتی اجلاس منعقد کیا جس دوران مقررین نے مرحوم کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک اْستاد کی موت ایک صدی کی موت ہوتی ہے کیونکہ اْستاد صرف ایک اْستاد نہیں ہوتا بلکہ قوم و سماج کو صحیح سمت دینے میں راہنمائبھی ہوتا ہے۔ پروفیسر جی ایم بٹ ڈین الیکٹرانکس کشمیر یونیورسٹی رواں ماہ کی 11تاریخ کو سرینگر کے رعناواری ہسپتال میں انتقال کرگئے۔ مرحوم کے انتقال پر جہاں سماج کے مختلف طبقہ ہائے فکر سے وابستہ انجمنوں نے اپنے دکھ اور افسوس کااظہار کیا وہیں جے کے ایجوکیشنل کونسل کی جانب سے منگل کو ایک ورچیول تعزیتی اجلاس منعقد کیا گیاجس کی صدارت پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن کے صدرجی این وار نے انجام دی۔اجلاس جس میں مرحوم کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ اجلاس میں مشی گین اسٹیٹ یونیورسٹی امریکہ کے چیئرمین پروفیسر قاضی ایس اظہر اور چیئرمین سائنسی جائزہ کمیٹی ، مرکزی اسپیکر تھے جبکہ پروفیسر جاوید مسرت وائس چانسلر یونیورسٹی لکھنؤ نے اجلاس کی صدارت کی۔پروفیسر قاضی ایس اظہر نے کہا کہ پروفیسر موصوف کی موت ادارے کی موت ہے اور یہ پورے معاشرے کے لئے بہت بڑا نقصان ہے۔ انہوں نے کہا کہ پروفیسر کوئی عام آدمی نہیں ہوتا ہے ، پروفیسر کی تشکیل میں کئی دہائیاں لگتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی پروفیسر کیریئر کے اواخر میں ہی اس کی موت ہوجاتی ہے تو اسے ادارے اور پورے معاشرے کے لئے ایک بہت بڑی بدقسمتی کے طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔ پروفیسر بٹ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ، انہوں نے مشورہ دیا کہ ہر پروفیسر کو اپنی صحت کی پوری دیکھ بھال کرنی چاہئے اور وہ حتمی طور پر ملک ساز ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بھی بہت سے پروفیسر کووڈ کی وجہ سے انتقال کر گئے ، جس نے معیاری تعلیم کے شعبے میں ایک بہت بڑا خلا پیدا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پروفیسر بٹ ایک عظیم سائنسدان تھے۔ اس کے حوالہ جات ، اشاعتیں ان کے عظیم کام کی گواہی دیتی ہیں۔اس موقع پر پروفیسر جاوید مسرت نے کہا کہ پروفیسر بٹ ایک عظیم سائنسدان تھے جن کا نام 700 سے زیادہ جرائد میں درج ہے۔ انھیں 45 سے زیادہ پیٹنٹ کی رجسٹریشن کے لئے اعزاز حاصل ہے۔پروفیسر حمید نسیم رفیع آبادی ، ڈین سوشل سائنسز سنٹرل یونیورسٹی کشمیر نے کہا کہ پروفیسر بٹ کی شراکت کو فراموش نہیں کرنا چاہئے اور ان کی میراث کو زندہ رہنا چاہئے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ اس عظیم روح کے اعزاز کے لئے ایک ’’چیر‘‘قائم کی جائے اور لیکچرز کا ایک سلسلہ ترتیب دیا جائے۔آن لائن تعزیت اجلاس میں پروفیسر الطاف پنڈت ، ڈاکٹر مشتاق احمد گنائی ، ڈاکٹر طارق عبداللہ، ڈاکٹر علی محمد ، لوپا شاہ، منظور احمد وانگنو ، نذیر احمد ، ڈاکٹر سجاد اطہر، ڈاکٹر منان خان ، جی این خاموش اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔ اجلاس کے آخر پر مرحوم کے حق میں دعائے مغفرت کی گئی اور لواحقین کے ساتھ یکجہتی اور تعزیت کااظہار کیا گیا۔
حقانی ٹرسٹ کاپروفیسر فاروق فاضلی کی وفات پر تعزیت
سرینگر// حقانی میموریل ٹرسٹ جموں و کشمیر نامور ماہر تعلیم اور کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ حیاتیات میں پروفیسر مستحسین فاروق فاضلی کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ ٹرسٹ کے سرپرست اعلیٰ سید حمید اللہ حقانی نے انکی وفات پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موصوف کی موت ایک عظیم صدمہ ہے۔ ٹرسٹ کے ضلع صدر گاندربل محمد مقبول اور ضلع صدر بانڈی پورہ فاروق احمد بسو ،مرکزی کونسل کے سینئر ممبران محمد یوسف ڈار،محمد شفیع اور محمدحسین نے انکی وفات پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔
ایجیک کا اظہار تعزیت
سرینگر//جے کے ایمپلائز جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے صدرمحمدرفیق راتھر نے لیکچررس ایسوسی ایشن کے صدرفیصل نعیم کی ہمشیرہ کے انتقال پررنج وغم کااظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ فیصل نعیم صرف ایک مدرس ہی نہیں بلکہ ایک سینئرٹریڈیونین لیڈر بھی ہیں۔انہوں نے مرحومہ کی مغفرت اور لواحقین کیلئے صبر جمیل کی دعا کی۔