آئینی ضمانتوں کے ساتھ ریاستی درجہ کی بحالی | عوام میں اعتماد بحال ہوگا: پردیش کانگریس
سرینگر//پردیش کانگریس نے جموں و کشمیر کو آئینی ضمانتوں کے ساتھ ریاست کی بحالی کے مطالبہ کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدام سے عوام کو نہ صرف انکا کھویا ہوا اعتماد بلکہ انکا وقار بھی بحال ہوگا جو وہ سمجھتے ہیں کہ بی جے پی نے انکو دھوکے سے چھین لیا ہے۔ ایک بیان میںکانگریس پارٹی نے کہا کہ ریاستی حیثیت کی بحالی میں زیادہ تاخیر سے مرکز اور جموں کشمیر کے لوگوں کے مابین دوریاں مزید بڑھ سکتی ہیں کیونکہ جموں کشمیر کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی رضامندی کے بغیر تاریخی اور مکمل ریاست کو دو مرکزی علاقوں میں تقسیم کرنے کے مرکز کے اقدام کے بعد وہ تکلیف محسوس کررہے ہیں اور مرکز کو لوگوں کے خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس منقطع رابطے کی بحالی کے لئے نہ صرف موثر اقدامات کرنے ہونگے بلکہ اس پر پوری توجہ دینی ہوگی۔کانگرس نے کہا کہ عوامی منتخب حکومت کی عدم موجودگی میں جموں کشمیر کے لوگوں نے بدترین وقت دیکھا ہے جو اوپر سے نیچے تک بدعنوانی کا ذمہ دار ہے تاہم کانگریس نے کہا کہ مرکز کو ریاست کی بحالی کے بعد انتخابات کرانے کے لئے ہنگامی اقدام اٹھانے چاہئے ، کیونکہ اس عمل میں ہی جموں و کشمیر کے لوگوں کی خوشحالی اور جامع ترقی مضمر ہے۔بیان کے مطابق پیر کو سرینگر پارٹی دفتر پر منعقدہ پارٹی کے سینئر رہنماں کی ایک میٹنگ میں جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر غلام احمد میر نے مرکزی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ بغیر کسی تاخیر کے ریاست کی بحالی کا وعدہ پورہ کریں کیونکہ جموں و کشمیر کی عوام اس دن کا بے تابی کے ساتھ ریاست کا درجہ واپس لینے کا انتظار کر رہے ہیں جو کسی اتفاق رائے یا ان کی رضامندی کے بغیر ان سے چھین لیا گیا تھا اور وہ اپنا کھویا ہوا اعتماد جیتنے کے لئے دیگر آئینی ضمانتوں کے ساتھ ہی اسکی بحالی چاہتے ہیں اورمجھے یقین ہے کہ ریاست کی بحالی کا اقدام جموں و کشمیر کو 5 اگست 2019 کے بعد پیدا ہونے والے دلدل اور الجھن سے نکالنے میں مدد گار ثابت ہوگا ۔بیان کے مطابق میٹنگ میں غلام احمد میر کے علاہ جے کے پی سی سی کے نائب صدر عبد الرشید ڈار ، جنرل سیکریٹریز سریندر سنگھ چھنی ، شمیمہ اقبال ، اے آئی سی سی ممبران نثار احمد منڈو ، عابد کشمیری ، ڈی سی سی صدور عبد الثانی خان ، فیاض میر ، زاہد حسین جان ، ساحل فاروق ، ڈاکٹر ایوب وغیرہ شامل تھے جبکہ میٹنگ میں عمر جان ، مشتاق احمد کھنڈے ، امیر رسول ، منیر احمد میر ، نذیر احمد لون ارشاد احمد گنائی ، راشد ڈار سنگرامہ،ہارون حبیب ، بشارت بن قادر کے علاوہ صوبہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے پارٹی کے مختلف دیگر رہنماں بھی شامل تھے ۔
بصیر خان نے کووِڈ ۔19 سے نمٹنے کیلئے بڈگام کے تخفیفی اِقدامات کا جائزہ لیا | وائرس کے پھیلائو کو کم کرنے میں عوامی تعاون سودمند ثابت ہوا
بڈگام //لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر بصیر احمد خان نے ماگام بڈگام کا دورہ کرکے کووِڈ ۔19وَبائی اَمراض کی جاری دوسری لہر کیلئے کئے گئے اِنتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا ۔پروگرام میں ڈی ڈی سی چیئرمین نذیر احمد خان ، ضلع ترقیاتی کمشنر بڈگام شہباز احمد مرزا ، ایس ڈی ایم بیروہ ، سی ایم او ، اے سی ڈی ، تاجر اور ٹرانسپورٹ یونین ماگام کے نمائندوں اور مذہبی رہنمائوں نے شر کت کی۔اِس موقعہ پر مشیر بصیر خان نے اَپنے خیالات کا اِظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دورے کا مقصد تمام شراکت داروں کے ساتھ بات چیت کرنا ہے جو کووِڈ ۔19 وبائی امراض سے نمٹنے کے لئے اہم ہیں ۔اُنہوں نے کہا کہ عوام الناس کا تعاون کامیابی حاصل کرنے میں سود مند ثابت ہوا ہے اور کووِڈ ۔19 کی دوسری لہر سے نمٹنے کے لئے اسی طرح کی چوکسی اور لگن کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔اُنہوںنے کہا کہ اِنتظامیہ کی جانب سے سول سوسائٹی اور مذہبی رہنمائوں اور دیگر سماجی آرگنائزیشنوں کے ساتھ مل کرمتحرک اور جارحانہ انداز کا آغاز کیا گیا ہے جس نے مثبت معاملات کو کافی حد تک کم کیا ہے ۔مشیر نے وسائل کی دستیابی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے۔اُنہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور لیفٹیننٹ گورنر کی مداخلت سے یوٹی نے فرینکفرٹ جرمنی سے 9 اعلیٰ معیار والے آکسیجن پلانٹس حاصل کئے ہیں اور اس کے علاوہ9 مزید پلانٹس مل چکے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر یوٹی میں پنچایت کی سطح پر قائم کووِڈ کیئر سینٹردیہی علاقوں میں بستروں کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لئے ایک جرأت مندانہ اور مؤثر فیصلہ ہے جو کووِڈ۔19 وَبائی اَمراض کے پھیلائو کوروکنے میں اہم رول ادا کرے گا۔مشیر بصیر خان نے کہا کہ جموںوکشمیر میں کووِڈ۔19 منظم طریقے سے نمٹا گیا ہے جہاں بھی ضرورت ہو ڈھانچے کو بڑھایا گیا ہے اور وسائل کو بے مثال انداز میں متحرک کیا گیا ہے ۔اُنہوں نے مزید کہا کہ عوام کو ٹیلیفون مشاورت اور ٹیلی میڈیسن کے فوائد کے بارے میں آگاہ کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ اس اِقدام کے بہت بڑے نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔مشیرنے ضلع انتظامیہ کو کووِڈ ۔19 کے درمیان کسی بھی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے چوکس رہنے کی ہدایت دی ۔ انہوں نے جانچ میں تیزی لانے پر زور دیا اورلوگوں سے اپیل کی کہ وہ کووِڈ حفاظتی ٹیکے لگائیں۔اُنہوں نے مذہبی رہنمائوں ، سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ اَپنے اثر و رسوخ سے لوگوں کو ماسک پہننے ، سماجی دوری برقرار رکھنے ، غیرضروری مہم جوئی سے اجتناب کرنے اور اجتماعات جیسے ایس او پیز کی پاسداری کی اہمیت سے آگاہ کریں۔مشیر نے کہا کہ بجلی کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لئے خار دار سکیم کے تحت ضلع بڈگام کو 21کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔پروگرام کے دوران ڈی ڈی سی چیئرمین بڈگام نذیر احمد خان نے بھی اَپنے خیالات کا اِظہار کیا۔اِس سے قبل ضلع ترقیاتی کمشنر بڈگام شہباز احمد مرزا نے اِس وَبائی بیماری کے پھیلائو کو روکنے کے لئے ضلع انتظامیہ کی جانب سے کووِڈ ۔19 وبائی مخالف اِقدامات ، طریقہ کار اور دیگر تخفیفی اِقدامات اور آج تک ہونے والے معاملات کی ایک تفصیلی صورتحال پیش کی۔اُنہوں نے کہا کہ بڈگام میں صحتیابی کی شرح میں 87 فیصد اضا فہ کیا گیا ہے کیوں کہ آج تک کل 12,785 مثبت معاملات ضلع میں سامنے آئے ہیں جس میں سے اب صرف 1577 کووِڈ مثبت معاملات باقی رہ گئے ہیں ۔اس وقت ضلع میں مثبت معاملات کی شرح 5 فیصد سے کم ہو کر 4.93 فیصد ہوگئی ہے ۔اس وقت تمام کنٹین منٹ زونوں اور دیگر مطلوبہ مقامات پر آر اے ٹی اور آر ٹی پی سی آر کی جانچ سرعت سے جاری ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ کووِڈ۔19 کنٹرول روم قائم کئے گئے ہیں جن میں 10 میڈیکل بلاکوں کو 496 فون کالز موصول ہوئیں جن سے عوام کووِڈ۔19 سے متعلق دیگر سوالات کے علاوہ متعلقہ سوالات کے بارے میں پوچھا کرتے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ بیروہ میں آکسیجن پلانٹ کی تعمیر کا کام شروع ہوچکا ہے جبکہ ڈائریکٹوریٹ صحت کی ٹیم نے چرار شریف میں دیگر معامات کا معائینہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ماگا م اور چاڈورہ میں بھی آکسیجن پلانٹ لگانے کی کوششیں کی جاری ہیں۔ضلع ترقیاتی کمشنر نے کہا کہ ضلع بڈگام کے تمام متعلقہ اِداروں کی انتھک کوششوں سے 45فیصد یا اس سے زیادہ عمر والے شخص کے لئے 78فیصد ٹیکے لگانے ہدف حاصل کرچکے ہیںاور اس عمر کے زمرے سے اوپر کی باقی آبادی کو جلد از جلد کووِڈ حفاظتی ٹیکے لگائے جائیں گے۔
گاندربل اور کپوارہ کے ڈپٹی کمشنروں کی میڈیا بریفننگ | کورونا مثبت معاملات شرح میں نمایاں کمی ہوئی
گاندربل+کپوارہ// ضلع ترقیاتی کمشنر گاندربل کرتیکا جیوتسنا اور ضلع ترقیاتی کمشنر کپوارہ اِمام الدین نے کہاکہ مثبت معاملات کی شرح میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ کرتیکا جیوتسنا نے کہا کہ گاندربل میں مجموعی مثبت شرح 11.5 فی صد سے کم ہو کر 6 فیصد ہو گئی ہے ۔ اِس کے علاوہ صحتیابی کی شرح بھی 89 فی صد ہو گئی ہے۔اِن باتوں کا اِظہار ضلع ترقیاتی کمشنر گاندربل نے میڈیا اَفراد کو جانکاری دیتے ہوے کیا ۔اُنہوں نے کہا کہ گزشتہ چار ہفتوں کے دوران ضلع کے عوام الناس کے تعاون اورصحت کارکنوں کی انتھک محنت سے مثبت معاملات کی شرح میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے ۔اُنہوں نے ریڈ زون کے بارے میں تفصیل دیتے ہوئے کہا کہ ضلع میں تقریباً59 علاقوں کو ریڈ زون قرار دیا گیا ہے اور ان علاقوں میں قریباً 44 فی صد مثبت آبادی ہے۔ضلع ترقیاتی کمشنر گاندربل نے کووِڈ کیئر سینٹروں کے بارے میں بتایا کہ گزشتہ ہفتے 446 آر اے ٹی ٹیسٹ کئے گئے ہیں جن سے پانچ ٹیسٹ مثبت سامنے آئے تھے اور اُنہوں نے اَپنے گھروں میں آئیسولیشن کی سہولیت سے محروم لوگون کو اِن مراکز سے فائدہ اُٹھانے کی اپیل کی۔ضلع کی 126 پنچایتوں میں یہ مراکز سرگرم ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ ضلع میں کووِڈ کیئر سینٹر وں کا قیام کووِڈ وبائی مرض کی تیسری لہر کا مقابلہ کرنے میں لازمی سود مند ثابت ہوسکتا ہے۔ڈی سی نے کہا کہ ترجیحی گروپوں کے لئے 18 برس کی عمر سے 44 برس تک کی عمر کے 3180 اَفراد کو کووِڈ حفاظتی ٹیکے لگائے گئے ہیں ۔اُنہوں نے دوکانداروں ، ٹرانسپورٹروں اور اَمرناتھ سروس مہیا کرنے والوں سے اپیل کی کہ وہ ویکسی نیشن مراکز میں جا کر کووِڈ حفاظتی ٹیکے پہلا ڈوز لگائیں ۔اُنہوں نے عوام الناس سے ایک بار پھر اپیل کی کہ وہ اِنتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ پابندیوں اور ایس او پیز پر من و عن عمل پیرا رہیں کیوں کہ یہ کووِڈ وَباسے بچنے کے لئے لازمی ہے۔ادھر ضلع ترقیاتی کمشنر کپواڑہ اِمام الدین نے اپیل کا اعادہ کرتے ہوئے عوام الناس پر زور دیاہے کہ وہ کووِڈ حفاظتی ٹیکے لگانے کے لئے قریبی ویکسی نیشن مراکز میں جا کر لگائیں اور مذہبی طور پر بھی عمل کریں۔ اِن باتوں کا اِظہار ضلع ترقیاتی کمشنر کپواڑہ نے میڈیا کو بریفنگ دینے کے دوران کیا۔اُنہوں نے کہا کہ صحتیابی اور شفایابی کی شرح میں 89 فیصد تک بڑھ چکی ہے جبکہ اس وقت ضلع میں مثبت معاملات کی شرح 9.5فی صد سے کم ہو کر 5.33 فی صد ہو گئی ہے ۔ اُنہوں نے کووِڈ ۔19 تخفیفی کوششوں میں تمام اَفراد کو ان کی انتھک محنت اور اچھے نتائج کے لئے مبار ک باد دی ہے۔ڈی سی نے کہا کہ ضلع میں کل مثبت معاملات 12,735 سامنے آئے ہیں جبکہ صحتیاب مریضوں کی تعداد 11,323 ہے۔اُنہوں نے کنٹین منٹ اور ریڈ زون مینجمنٹ کے بارے میں کہا کہ ریڈ زون کی کل تعداد 76 ہے جہاں 507 مثبت معاملات ہیں۔دریں اثنا ٔ قارئیں ڈی سی کپواڑہ کے آفیشل ٹویٹر اکائونٹ @dckupwara اور ڈی آئی سی کپواڑہ کے آفیشل ٹویٹر اکائونٹ @infokupwara پر بھی دیکھ سکتے ہیں۔
ناظم صحت نے 2کووڈ ویریرس کو انعامات سے نوازا
سرینگر //ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر مشتاق احمد راتھر نے پیر کو 2کویڈورکروں کو انعام سے نوزا ہے۔ دونوں خاتون ہیلتھ ورکروں نے لگن اور محنت سے عالمی وباء کے دوران کام کیا ہے۔ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کے ترجمان نے بتایا کہ 2خاتون کویڈ ورکروںمیں سرکاری استانی ببلی رانی اور ایف ایمک پی یچ ورکر تبسم آرا شامل ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ ببلی سرکاری ٹیچر ہے اور پچھلے سال عالمی وباء کے دوران کویڈ ڈیوٹی پر تعینات تھی۔ جموں سے تعلق رکھنے وال استانی اسوقت گاندربل ضلع کے واکورہ میں تعینات ہے۔ ببلی رانی نے گذشتہ سال کویڈ ڈیوٹی کے دوران 10ہزار لوگوں کے کورونا ٹیسٹ کئے اورنمونے حاصل کرنے والی ٹیم کے ساتھ بلاک میڈیکل آفیسر واکورہ میں شامل تھی۔ عالمی وباء کے دوران وہ لگاتار کشمیر میں رہی اور لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے خود بھی اسکی سراہنا کی تھی۔اسی طرح پلوامہ میں تعینات ایف ایم پی ڈبلو ایچ تبسم آرہ کو ٹیکہ کاری کے کام پر تعینات کیا تھا اور وہ سرنولنس ٹیم کا بھی حصہ تھی۔ تبسم آراہ نے دودران علاقوں میں سرولنس کا کام کرنے کے علاوہ 7ہزار لوگوں کو کورونا مخالف ٹیکہ بھی لگائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تبسم نے کوئی بھی چھٹی نہیں کی اور وہ سرکاری افسران کے ساتھ بھی ڈیوٹی پر تعینات رہی اور ہیلتھ وکروں کیلئے ایک مثال ہے۔ مشتاق احمد راتھر نے دونوں کی سراہنا کی جبکہ انہوں نے بی ایمف او واکروہ ڈاکٹر جاوید احمد زرگر ، بی ایف او پلوامہ ڈاکٹر عرفانہ غنی کی بھی تعریف کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لففٹنٹ گورنر منوج سہنا نے بہترین کام کرنے والے ہیلتھ ورکروں کی سراہنا کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے تمام چیف میڈیکل افسران اور بلاک میڈیکل آفیسران کو ہدایت دی کہ وہ ایسے ہیلتھ ورکروں کی حوصلہ افزائی کریں جنہوں نے عالمی وباء کے دوران بہترین کام کیا ہے۔
بانڈی پورہ کا ’ویون ‘گائوں باقی علاقوں کیلئے رول ماڈل | 100فیصد کورونا مخالف ٹیکہ کاری عمل میں لائی گئی
بانڈی پورہ//عازم جان // ڈپٹی کمشنر بانڈی پورہ ڈاکٹر اویس احمد نے کہا کہ بانڈی پورہ کے ایک دورافتادہ گائوں 'ویون'میں 45برس سے اوپر عمر کے لوگوں کی 100فیصد ٹیکہ کاری کی گئی ہے جو ضلع بھر میں ایک مثال ہے اس ضمن میں تصدیق کرتے ہوئے بانڈی پورہ ضلع ہیڈکوارٹر سے 30کلومیٹر دور 'ویون 'کے ایک مقامی شہری ریاض احمد نے بتایا کہ' جب گزشتہ برس عالمی وباہ کورونا وائرس پھیل گیا تب سے ہمارے گائوں میں آج تک کوووڈ 19کا کوئی بھی معاملہ سامنے نہیں آیا ہے'۔ ریاض احمد نے کہاکہ گائوں میں لوگوں میں کورونا کیخلاف ٹیکہ کاری سے متعلق ابہام اور ہچکچاہٹ پائی جارہی تھی جس کے سبب کوئی بھی شہری ویکسین کرانے کیلئے آگے نہیں آتا تھا۔ مذکورہ شہری نے کہاکہ 'چند ہفتے قبل طبی اہلکار گاوں میں آئے اور اسے ویکسین کرانے کیلئے آمادہ کرنے کی کوشش کی لیکن میں نے ٹیکہ لگانے سے واضح انکار کیا'۔ ریاض نے مزید کہا کہ ' کہ میں نے کہیں سے یہ سنا ہے کہ ویکسین شاٹ لگانا خطرناک ہے اور اگر ڈاکٹر ویکسین لگاتا ہے تو اس سے بازو میں انفکشن ہوسکتا ہے اور شہری کو بچانے کیلئے بازو کو کاٹنا پڑے گا'۔ریاض احمد نے کہاکہ 'میری والدہ 80برس اور والد 87برس کا ہے اور انہیں ویکسین لگانے سے متعلق میں ڈرتا تھا اور ویکسین لگانے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتا'۔ ریاض احمد نے کہاکہ گاوں میں چند لوگوں نے ٹیکے لگوائے جس کے بعد ویکسین کے بارے میں اس کا اعتماد بڑھ گیا۔ جب سے ویون میں پہلی ٹیکہ کاری مہم شروع ہوئی ، ریاض احمد نے 4ماہ بعد منعقدہ کیمپ میں ویکسین کی پہلی خوراک لگائی اور اس کے بعد طبی اہلکاروں نے علاقہ میں362شہریوں کو ویکسین لگائے اور100فیصد ٹیکہ کاری 45سال سے اوپر عمرکی مکمل ہوئی جو دیگر دیہی علاقوں کیلئے ایک مثال ہے۔ ڈسٹرکٹ نوڈل آفیسر بانڈی پوہ معراج وانی (KAS)نے کہاکہ ویون ایک رول ماڈل کے طور پر ابھرا ہے۔ انہوںنے کہا کہ طبی اہلکاروں، آشاورکروں اور اساتذہ نے جو پہل شروع کی اور سخت مزاحمت کے باوجود جانکاری مہم چلائی، جس کیلئے وہ قابل سراہنا ہیں۔ معراج وانی بتایا کہ 'اب ہر کوئی گائوں 'ویون'بننا چاہتاہے'۔ انہوںنے کہاکہ ویکسین کرانے میں ہکچاہٹ کے علاوہ ویون میں نیٹ ورک کی عدم دستیابی تھی اور'co-win platform' پرویکسینیشن رجسٹر بھی کرنا تھا۔ انہوںن ے کہاکہ ویکسین کی آن لائن رجسٹریشن کیلئے ٹیم نے تمام اہل شہریوں کے شناختی کارڈ جمع کئے اور موبائل فونوں پر دستیاب انٹرنیٹ سہولیات سے استفادہ کیا۔ بلاک میڈیکل آفیسر ڈاکٹر مسرت اقبال نے بتایا کہ 'کووڈ 19کے بارے میں فرضی حکایات ویون میں ٹیکہ کاری کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔ انہوںنے کہاکہ جب گائوںمیں ٹیکہ کاری کی پہلی مہم شروع ہوئی ، لوگوںنے اس کی سخت مخالفت کی جیسے ان پر افواہوں کا اثر ہو۔'' ڈاکٹر مسرت نے کہاکہ 'سخت مائل کرنے کے بعد گائوں والے شارٹ لگانے کیلئے راضی ہوئے اور جب دوسری دفعہ خوراک لگانے کا وقت آگیا تو وہ واپس جاتے تھے۔ انہوںنے کہاکہ گائوں والوںمیں اعتماد بڑھانے کیلئے آشاورکروں، متعلقہ بی ایل او، ہیلتھ ایجوکیٹر اور طبی اہلکاروں پر مشتمل ٹاسک فورس بنائی جنہوںنے گائوں والوں کی غلط فہمیاں دور کیں ۔
کورونارہنماخطوط کی خلاف ورزیاں | 3افراد گرفتار 2,06,620روپے جرمانہ وصول
سرینگر//کورونا وائرس کی دوسری لہر کوقابو کرنے کیلئے جموں کشمیر پولیس نے اس متعدی بیماری کے پھیلائو کو روکنے کیلئے اپنی کوششوں کو تیزکردیا ہے اور گزشتہ24 گھنٹوں کے دوران کووِڈ- 19سے بچائو کے رہنماخطوط کی خلاف ورزی کرنے والے3افراد کو گرفتار کرکے 2ایف آئی آر درج کئے جبکہ 1912افراد سے 2,06,620روپے بطور جرمانہ وصول کیا۔ وادی کشمیرکے تمام اضلاع میں کورونا گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف پولیس کی مہم جاری رہے گی ۔پولیس نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ کووِڈ- 19ایس اوپیزاور رہنماخطوط کی ہرحال میں پاسداری کو یقینی بنائیں تاکہ اس متعدی بیماری کو پھیلنے سے روکا جائے۔
سیڈ فارم اونتی پورہ کے کیجول ملازمین | 30برسوں سے معمولی اجرتیں دینے پر نالاں
سید اعجاز
ترال//سیڈ فارم اونتی پورہ میں کام کر رہے درجنوں کیجول ملازمین نے اپنی مستقلی کے مطالبے کو لے کر پیر کے روز ایک پر امن احتجاج کیا ۔ احتجاجی ملازمین نے بتایا کہ وہ گزشتہ30 برسوں سے معمولی اجرتوں پر کام کر رہے ہیں لیکن محکمہ زراعت کے اعلی آفیسران انکی مستقلی کے بارے میں کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کررہے ہیں جسکی وجہ سے ان کے اہل خانہ فاقہ کشی کا شکار ہورہے ہیں۔ محمد سلطان نامی ایک کیجول ملازم نے بتایا کہ عالمی وباء کورونا وائرس کے دوران بھی وہ دل وجان سے فرائض انجام دے رہے ہیں لیکن بدلے میں انکو سوائے مایوسی کے کچھ حاصل نہیں ہوتا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ وہ اس، فارم کو گزشتہ تیس برسوں سے اپنا خون دے رہے ہیں لیکن بدلے میں سوا دو سو روپے تھماے جاتے ہیں جو آج کل کے دور میں کچھ معنی نہیں رکھتے ہیں۔ انہوںنے مطالبہ کیا کہ انکی نوکریوں کو مستقل کیا جائے تاکہ ان کے اہل عیال کو راحت مل سکے۔
پھر کوئی یکطرفہ اقدام ناعاقبت اندیشی ہوگی:آغاحسن
سرینگر// انجمن شرعی شیعیان کے صدر آغا سید حسن نے بھارت کی طرف سے ریاست جموں و کشمیر کے حوالے سے کسی اور غیر معمولی یکطرفہ اقدام کے خدشے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے واضح کیا کہ یکطرفہ اقدامات کے سلسلے سے بھارت کو تنازعہ کشمیر سے گلو خلاصی نہیں ہوسکتی ۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے کسی اور اقدام سے کشمیری عوام کی بے چینی اور بے اطمینانی میں مزید اضافہ ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام ابھی تک ریاست کی خصوصی پوزیشن والے دفعات کی واپسی کے منتظر ہیں ،اگر کشمیری عوام کے تحفظات سے صرف نظر ایک بار پھر کوئی اور غیر معمولی یکطرفہ اقدام کیا گیا تو یہ نا عاقبت اندیشی ہوگی ،اس طرح کا اقدام ناقابل قبول ہوگا ۔آغا حسن نے کہا کہ تنازعات کے حل کا واحد طریقہ مذاکرات اور افہام و تفہیم ہے خطے میں دیر پا امن و استحکام ہند پاک مذکرات میں مضمر ہے۔
بانڈی پورہ کا لاپتہ لڑکا9ماہ بعددلی سے بازیاب
عازم جان
بانڈی پورہ//بانڈی پورہ پولیس نے انتھک کوششوں سے 9مہینے قبل گم ہوئے کمسن لڑکے کو نئی دلی میں دہلی پولیس کے اشتراک سے بازیاب کرکے گھر والوں کے حوالے کردیا ہے۔ گمشدہ لڑکے کے والدین نے ایس پی بانڈی پورہ محمد زاہد اور بانڈی پورہ پولیس کا شکریہ اداکیاہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق آکاش رشید شیخ ولدعبدلرشیدشیخ ساکن کود بل حال رکھ اشم سوناواری 20ستمبر 2020 کو گھر سے لاپتہ ہوا تھا ۔کمسن لڑکے کے لاپتہ ہونے کی اطلاع سمبل پولیس میں درج کی گئی ۔بانڈی پورہ پولیس نے تب سے بازیابی کی کوششیں جاری رکھتے ہوئے بالآخر دہلی پولیس کے تعاون سے اُسے بازیاب کرکے قانونی لوازمات مکمل کرنے کے بعد والدین کے حوالے کردیا۔
سیموہ ترال میں بارود ی مواد ناکارہ بنانے کا دعویٰ
ترال/سید اعجاز /فورسز نے جنوبی کشمیر کے سیموہ ترال میں تلاشی کارروائی کے دوران اخروٹ درختوں کے ایک باغ میں موجودایک ٹین سے ساڑے سات کلو گرام کے قریب بارودی مواد کو پایا ۔اس دوران فورسز نے بم ناکارہ بنانے والے ا سکارڈ کو طلب کیا ، جس کے بعد اس مواد کو ناکارہ بنا دیا ۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ یہ واقعہ ترال کے سیمو علاقے میں پیش آیا جہاں پولیس اور فورسز نے ایک مشترکہ کارروائی کے دوران بارودی سرنگ برآمد کرنے کے بعد بم ناکارہ بنانے والے ماہرین کی مدد سے اِسے ناکارہ بنا دیا۔یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے جنوبی کشمیر کے پنجگا م علاقے میں بھی ایک بارودی سرنگ کوناکارہ بنایا گیا تھاجبکہ سیموگائوں کے نالے میں بھی بھی بارودی مواد ضبط کرنے کا دعویٰ کیا گیاہے ۔پولیس نے واقعے کے حوالے سے کیس درج کر کے مزید تحقیقات شروع کی ہے ۔
آنگن واڑی ورکروں کا پریس کالونی میں احتجاج
سری نگر//یو این آئی// آنگن واڑی ورکروں نے پیر کے روز ایک بار پھر پریس کالونی لالچوک میں جمع ہوکر اپنے مطالبات خاص کر تنخواہوں کی واگذاری کے حق میں احتجاج درج کیا۔احتجاجی ورکرس اپنے مطالبات کو لے کر جم کر نعرہ بازی کر رہی تھیں۔اس موقعہ پر ایک احتجاجی ورکر نے میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہمیں بار بار سڑکوں پر آنے کے لئے مجبور کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم سال 2019 سے تنخواہوں سے محروم ہیں اور ہمیں کورونا ڈیوٹی انجام دینے پر کوئی معاوضہ دیا جا رہا ہے۔مذکورہ ورکر نے کہا کہ حکومت نے سال گذشتہ ہمیں پانچ ہزار روپیے دینے کا اعلان تو کیا لیکن ہمیں پانچ پیسے بھی نہیں دئے گئے۔انہوں نے کہا کہ کورونا ڈیوٹی انجام دینے کے لئے ہم گھر گھر جاتے ہیں اس دوران دو ورکرس کورونا کا شکار ہوکر موت کی آغوش میں چلی گئیں لیکن حکومت نے ان کی کوئی مدد نہیں کی۔احتجاجی ورکروں نے مطالبہ کیا کہ تنخواہیں واگذار کرنے کے علاوہ وہ مراعات ملنے چاہئے جو ہیلتھ محکمے کے ملازمین کو مل رہے ہیں۔
کولگام میں سڑک حادثوں میں 2ہلاک،ایک زخمی
پلوامہ میں ریت نکالتے ہوئے نوجوان جہلم میں غرقآب
خالد جاوید+سید اعجاز
کولگام +ترال//کولگام میں سڑک کے دو الگ الگ حادثات میں ذہنی طور معذور نوجوان سمیت دوشہری لقمہ اجل بن گئے جبکہ ایک نوجوان شدید زخمی ہوا ۔ اس دوران پلوامہ میں ایک نوجوان ریت نکالنے کے دوران غرق آب ہواجس کی تلاش جاری ہے ۔ آہرہ بل دمہال ہانجی پورہ میں ایک آٹوموبائل اور موٹر سائیکل کے درمیان ٹکر ہوئی جس کے نتیجہ میں صہیب احمد ماگرے ولد جاوید احمد (مرحوم) اور ساحل اقبال ماگرے ولد محمد اقبال ساکن وٹو زخمی ہوئے۔ دونوں زخمیوں کو نزدیکی طبی مرکز پہنچایاگیا جہاں صہیب ماگرے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ بیٹھا۔ ساحل ماگرے کی حالت نازک بتائی جارہی ہے ۔ اس سلسلہ میں پولیس نے کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی ہے۔ ادھر میرپورا شموجی کولگام میں ایک ڈمپر گاڑی نے 31سالہ رئیس احمد بٹ کو ٹکر ماردی جس کے نتیجہ میں وہ شدید زخمی ہوگیا۔ اس موقعہ پر لوگوںنے خون میں لت پت رئیس بٹ کو فوری طور پر ضلع ہسپتال کولگام پہنچایا جہاں ڈاکٹروںنے اسے مردہ قراردیا۔ اس سلسلہ میں پولیس نے کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی ہے۔اس دوران جنوبی کشمیر کے پلوامہ کے کاکا پورہ علاقے میں پیر کی صبح اس وقت افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا جب علاقے میں یہاں دریائے جہلم سے ریت نکالنے کے دوران ایک نوجوان پھسلنے کے بعد پانی کی تیز لہروں میں گم ہوا ہے ۔ذرائع نے بتایاجنوبی ضلع پلوامہ کے کاکا پورہ علاقے میں پیر کو ایک24سالہ نوجوان منظور احمد ولد مشتاق احمد مراد ساکن حیات پورہ چاڈورہ پھسل کر دریائے جہلم میں ڈوب کر لاپتہ ہوگیا۔مقامی لوگوں نے بتایامذکورہ نوجوان دریائے جہلم سے ریت نکالنے میں مصروف تھا۔ اس دوران اْس کا پیر پھسل گیا اور وہ دریا میں جاگرا۔منظور کی تلاش کا کا م فوری طور پر شروع کیا گیا اور آخری اطلاعات موصول ہونے تک کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے ۔خیال رہے مذکورہ جگہ پر ہر سال اس طرح کے حادثات میںانسانی جانیں تلف ہوتی ہیں جبکہ آج تک اس حوالے سے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے ۔
رحمان راہی کاشرف ثقافت اعزازکہاں گیا؟: سوز
سرینگر//سابق مرکزی وزیرپروفیسر سیف الدین سوز لیفٹنٹ گورنرکے نام ایک مکتوب میں سوال کیا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے رحمان راہی صاحب کی عزت افزائی کیلئے جو شرف ثقافت اعزازانہیںدینے کااعلان کیاتھا،اُس اعزازکاکیاہوا۔ایک بیان میں سابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوز نے کہا ہے کہ مجھے اس بات کی حیرانی ہو رہی ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے رحمان راہی صاحب کی عزت افزائی کیلئے شرف ثقافت کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کے بعد جموں وکشمیر کے ساتھ ساتھ قومی سطح کے میڈیا نے بھی اس کا خیر مقدم کیا تھا اور کافی تشہیر کی تھی ۔انہوں نے کہاکہ میں نے ابھی حال ہی میں نوشین راہی (یعنی رحمان راہی کی دختر ) کو فون کر کے رحمان راہی کی صحت کے بارے میں تازہ حالات دریافت کرنے کی کوشش کی تھی۔خوش قسمتی سے اُس فون پر نوشین کے بجائے رحمان راہی خود تشریف لائے اور انہوں نے ابتدائی شوقیہ الفاظ کے بعد اپنی اولین فرصت میں یہی پوچھا تھا کہ آپ (یعنی میں ) سماجی معاملات میں بڑی دلچسپی لیتے ہو ،تو ذرا آپ پوچھے کہ سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے میرے حق میں جو شرفِ ثقافت کا اعلان کیا تھا، وہ کہاں گیا؟گویا ابھی تک رحمان راہی کو وہ شرف حاصل نہیں ہوا ہے ۔سوزنے بیان میں کہا کہ اور باتوں کے علاوہ رحمان راہی کے مطابق اُس ایوارڈ کے ساتھ پندرہ لاکھ روپے بھی اُن کو ملنے تھے ،مگر ایسا آج تک نہیں ہوا؟مجھے لگتا ہے کہ محبوبہ مفتی کی حکومت کا اختتام ہونے تک یہ انعام رہ گیا۔تاہم یہ کہا جا سکتا ہے کہ حکومت ایک رواں ادارہ ہوتا ہے تو اُس کیلئے اگلی حکومت یعنی موجودہ یونین ٹریٹری حکومت کو یہ ایوارڈ دینا چاہئے تھا۔سوزنے بیان میں کہا کہ میں نے اس پس منظر یہ معاملہ لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سہنا جی کے ساتھ اُٹھایا ۔ اس سلسلے میں میرا خط منوج سنہا کو مل چکا ہے۔مجھے اُمید ہے کہ منوج سنہا جی اس سلسلے میں جلد ہی فیصلہ کریںگے۔
شوپیان میںضلعی بجٹ کے تحت جاری کاموں کا جائزہ | مقررہ مدت میں تکمیل کیلئے افسران پر ضلع کمشنرکا زور
شوپیان//ضلعی ترقیاتی کمشنر شوپیان سچن کمار واشیا نے منی سیکرٹریٹ میں ڈسٹرکٹ کیپیکس بجٹ کے تحت ہونے والے کاموں کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لئے متعلقہ افسران کی ایک میٹنگ کی صدارت کی۔میٹنگ میں ضلع کی ترقیاتی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بجٹ پر تبادلہ خیال کیا گیا جس میں نچلی سطح کی جمہوریت کو مضبوط بنانے پر توجہ دی گئی۔ ڈسٹرکٹ کیپیکس پلان کے تحت سال 2020-21 میں مکمل ہونے والے منصوبوں کی حیثیت ، منریگا ، 14 ویں ایف سی کے تحت کاموں کی حیثیت اور پیشرفت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر نے دیہی ترقی ، تعلیم ، صحت ، کے پی ڈی سی ایل ، جل طاقت ، پی ڈبلیو ڈی اور دیگر شعبوں کے جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ وہ اپنی مقررہ مدت تک مختلف منصوبوں پر جاری کاموں کی رفتار کو تیز کرنے کے لئے ہر ممکن اقدامات کریں۔انہوں نے ترجیحی بنیادوں پر تمام زیر التواء کاموں کی تکمیل پر زور دیا تاکہ عوام کی امنگوں کو پورا کیا جاسکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مقررہ وقت کے اندر کام مکمل کرنے میں کسی بھی قسم کی کوتاہی کو ہر گز برداشت نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کے لئے مردوں اور مشینری کو متحرک کرنے کی تاکید کے علاوہ دستیاب وسائل کے نتیجہ خیز اور نتیجہ خیز استعمال کو یقینی بنانے کی بھی تاکید کی۔دریں اثنا ، متعدد امور اور منصوبوں کی تکمیل میں رکاوٹوں کو بھی متعلقہ افسران نے روشنی ڈالی اور ان مسائل کے جلد از جلد تدارک کی کوشش کی۔ضلع میں سڑکوں کی تعمیر اور اپ گریڈیشن کی پیشرفت کا جائزہ لیتے ہوئے ڈی ڈی سی نے عمل درآمد کرنے والی ایجنسیوں کو ہدایت کی کہ وہ ان سڑکوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنائیں۔
وائس چیئرمین ڈی ڈی سی کپوارہ نے میکڈامائزیشن کا افتتاح کیا
کپوارہ// ضلع ترقیاتی کونسل کپوارہ کے وائس چیئرمین حاجی فاروق احمد میر نے کہا ہے کہ کپوارہ خاص طور پر وادی لولاب جیسے دور دراز علاقوں میں ترقی کے لئے امن اور خوشحالی بنیادی ضرورت ہے۔انہوںنے اس بات کا اظہار متعلقہ افسران کی موجودگی میں پی ایم جی ایس وائی کے تحت شالہ گنڈ سیون روڈ کے میکڈامائزیشن کے افتتاح کے موقع پرکیا۔ وائس چیئرمین نے سڑکوں اور شاہراہوں کے مرکزی وزیر کو اس علاقے کے لوگوں کے دیرینہ مطالبے کو پورا کرنے کیلئے شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے چیف انجینئر اور ڈپٹی کمشنر کپوارہ سے اس علاقے کے لوگوں کے مطالبے کو پورا کرنے کے لئے بھرپور تعاون کرنے پر بھی شکریہ کا اظہار کیا۔انہوں نے متعلقہ انجینئروں کو ہدایت دی کہ وہ اکتوبر 2021 سے قبل سڑک کی تکمیل کو یقینی بنائیں تاکہ لولاب کے لوگوں کو مزید پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
شوپیان میں اپنی پارٹی کی عوامی رابطہ مہم
ڈی ڈی سی عہدیداروں اور ممبروں نے دیوپورہ اور ساربل کا دورہ کیا
سرینگر//عوامی رابطہ پروگرام کے تحت ڈی ڈی سی چیئرپرسن، وائس چیئرپرسن اور اپنی پارٹی کے متعدد ڈی ڈی سی ممبران نے ضلع شوپیان کے پسماندہ گاؤں دیوپورہ اور سربل کا دورہ کیا۔ انہوں نے وہاں پر متعدد عوامی وفود سے ملاقات کی اور عوامی مشکلات اور علاقہ میں ترقیاتی کاموں بارے جانکاری حاصل کی۔ ایک بیان میں عرفان منہاس ڈی ڈی سی وائس چیئرپرسن ضلع شوپیان نے بتایاکہ ایک طرف سڑکوں کی حالت انتہائی خستہ ہے دوسری اور اِن علاقہ جات میں صحت مراکز اور مطلوبہ طبی سہولیات کے قیام کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ ’’لوگ خاص طور سے ان دور دراز علاقہ جات میں قبائلی آبادی کو رابطہ سڑک نہ ہونے کی وجہ سے موسم سرما کے دوران سخت مشکلات کا سامناکرنا پڑتاہے۔ ڈی ڈی سی وائس چیئرپرسن سے علاقہ کے نوجوانوں نے تبادلہ خیال کرتے ہوئے اِس بات پر سخت ناراضگی ظاہر کی کہ کوئی کھیل کا میدان نہیں کہ وہ کھیل کود سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں۔ بیان میں ڈی ڈی سی وائس چیئرمین نے لوگوں کو یقین دلایاکہ علاقہ میں مطلوبہ ترقی کے لئے وہ ہرممکن کوشش کریں گے۔
ایکسائز محکمہ نے غیر قانونی پوست کی فصل کو تباہ کردیا
سرینگر//چرارشریف کے مضافاتی دیہات رہکائی، ڈھلون اور کئی دوسرے مقامات پر تحصیلدار چرارشریف ناصر احمد کی سربراہی میں مال، پولیس، جنگلات اور ایکسائز محکموں سے وابستہ افراد کی ایک مشترکہ چھاپہ مار ٹیم نے الگ الگ جگہوں پر بڑی تعداد میں پوست اور بھنگ کی فصل تباہ کرکے تین کنال اراضی کو خالی کردیا۔ تحصیلدار موصوف اور ایس ایچ او چرارشریف یاثر رشید کو کئی روز سے اس بارے میں عام لوگوں کی طرف سے اطلاع ملی تھی جس کے بعد یہ کارروائی عمل میں لائی گئی ۔ عام لوگوں نے پولیس اور محکمہ مال کی اس کارروائی پر اطمینان کا اظہارکیا۔جنوبی ، شمالی اور وسطی ایکسائز رینج میں جمعرات کوایکسائز انفورسمنٹ ٹیم نے مجموعی طور پر 95 کنال اور 16 مرلہ اراضی میں پھیلی غیر قانونی پوست کو ختم کردیا۔صوبائی کمشنر کشمیر اور ایکسائز کمشنر ، جموں و کشمیر حکومت کی ہدایت پر ڈپٹی ایکسائز کمشنر (ایگزیکٹو) کشمیر طاہر اعجاز کی نگرانی میں پوست کی فصل کو تباہ کیا گیا۔دریں اثناء یہ بتایا گیا کہ وادی کشمیر میں اب تک کل 726 کنال اور18مرلہ اراضی پر پھیلی ہوئی غیر قانونی پوست کی فصل کو تباہ کردیا گیا ہے اور اس میں ملوث 12 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کئے گئے۔
عوامی مجلس عمل کا مولوی مشتاق کو خراج عقیدت
سرینگر// عوامی مجلس عمل نے تنظیم کے سرکردہ رہنما اور میرواعظ خاندان کے چشم و چراغ مولوی مشتاق احمد کی 17ویں برسی پرخراج عقیدت ادا کرتے ہوئے ملت کشمیر کے تئیں اُن کی خدمات کو ناقابل فراموش قرار دیا۔کوروناوائرس ، لاک ڈائون اور سربراہ تنظیم میرواعظ محمد عمر فاروق کی نظر بندی کے پیش نظر فاتحہ خوانی اور خراج عقیدت کی تقریبات ملتوی کی گئی ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ موصوف ایک انتہائی مخلص ، بے لوث ، اپنوں اور پرائیوں کے تئیں درد دل رکھنے والے ایک ایسے رہنما تھے جنہوں نے اپنے خاندانی روشن روایات کے پیش نظر اہالیان کشمیر کی خدمات کا عمل جاری رکھا۔تنظیم نے عوام سے اپیل کی ہے کہ مرحوم کے درجات کی بلندی کیلئے دعائوں کا اہتمام کریں۔
سنگھٹن ہی سیوا | بی جے پی کی اننت ناگ میں امدادی کارروائی
سرینگر// بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر و نائب صدر جموں و کشمیر صوفی یوسف نے ضلع اننت ناگ میں’سنگھٹن ہی سیوا‘ مہم جاری رکھتے ہوئے نوگام ویری ناگ میں غریب کنبوں میں راشن کٹ تقسیم کئے ۔انہوں نے کہاکہ ان کی پارٹی ہمیشہ لوگوں کے دکھ اور درد میں ساتھ رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کے لیڈران وزیر بننے کے بعد لوگوں کا حال نہیں پوچھتے ہیںلیکن بھارتیہ جنتا پارٹی اس طرح کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی ہے ۔صوفی نے کہا کہ اس مہم کے تحت پارٹی نے سینکڑوں کی تعداد میں آج تک راشن کٹ تقسیم کئے ہیں ۔کے این ایس
اننت ناگ میں3افرادنشیلی ادویات سمیت گرفتار
سرینگر//اننت ناگ میں پولیس نے نشیلی ادویات ضبط کرکے 3افرادکو گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس چوکی جنگلات منڈی کے اہلکاروںنے شوالہ مندر کے قریب ایک ناکہ کے دوران آلٹوگاڑی زیر چیسز نمبر0869کو روک کر تلاشی لی۔ اس موقع پر پولیس نے گاڑی سے کوڈین فاسفیٹ کی50بوتلیں برآمد کیں۔ پولیس نے شاکر احمد نائیکوساکن بلبل نوگام، مدثر احمد ڈار اوروسیم احمد ڈار ساکنان براکہ پورہ اننت ناگ کو گرفتار کرکے گاڑی ضبط کی۔ اس سلسلے میں اننت ناگ تھانہ میں کیس زیر ایف آئی آر نمبر261/2021درج کرکے معاملہ کی تحقیقات شروع کی گئی۔کے این ایس
صورہ علاقے میں راشن کی فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ
سرینگر//صورہ ،بژھ پورہ اور اونتہ بھون کے علاقوں میں قائم راشن ڈیپوئوں پر راشن کی عدم دستیابی پر سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے ٹریڈ یونین لیڈر اشتیاق بیگ نے ان علاقوں میں راشن کی فراہمی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ رواں ماہ کا ایک ہفتہ گزر چکا ہے اس کے باوجود بھی راشن گھاٹوں پر راشن دستیا ب نہیں ہے ۔
علی محمد ساگر کا اظہارِ تعزیت
سرینگر// نیشنل کانفرنس کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے شہر خاص کے نوجوان تاجر محمد عرفان بٹ ساکن خانقاہِ معلی کے انتقال پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سوگواران کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہارکرتے ہوئے مرحوم کی جنت نشینی اور بلند درجات کیلئے دعا کی۔ ساگر نے صحافی نذیر مخدومی (ایڈیٹر بہارِ کشمیر) کی والدہ اور مؤذن خانقاہِ معلی منظور الحسین ہمدانی کے انتقال پر بھی صدمے کا اظہار کیا ہے۔