کشمیر کی صورتحال 90 کی دہائی کے بعد بدترین سطح پر
حکومت صورتحال کو سنبھالنے میں ناکام ، اقلیتیں غیر محفوظ محسوس کر رہی ہیں: رجنی پاٹل
سید امجد شاہ
جموں//وادی کشمیر میں 90 کی دہائی کے بعد بگڑتی صورتحال پر خبردار کرتے ہوئے آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) انچارج جموں و کشمیر اور رکن پارلیمنٹ (ایم پی) رجنی پاٹل نے حکومت پر تنقید کی کہ وہ کشمیر میں حالات کو سنبھالنے میں مبینہ طور پر ناکام رہی ہے جہاں اقلیتیں خود کو غیرمحفوظ محسوس کررہی ہیں۔پاٹل بشناہ روڈ پر میران صاحب کے قریب بشناہ میں پارٹی کارکنوں کی ایک عوامی ریلی سے خطاب کر رہی تھیں۔انہوںنے کہا’’ٹارگٹ کلنگ کے پیش نظر 90 کی دہائی کے بعداب کشمیر کی صورتحال خراب ہو گئی ہے۔ اس صورتحال نے اقلیتوں میں خوف کے احساس کو جنم دیا ہے جو تازہ ہجرت کے دہانے پر ہیں‘‘۔عوامی ریلی کے دوران سماجی کارکن اور ایڈوکیٹ دیپیکا سنگھ رجاوت نے رجنی پاٹل اور پردیش کانگریس کمیٹی صدر غلام احمد میر اور دیگر سینئر رہنماؤں کی موجودگی میں کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔انہوں نے کشمیر میں لوگوں کی حفاظت اور لوگوں میں عدم تحفظ کے احساس کو یقینی بنانے میں ناکامی پر بی جے پی پر تنقید کی۔انہوں نے مہلوک غریب مزدور کی لاش بہار منتقل کرنے میں ناکامی پر حکومت اور انتظامیہ کی مذمت کی جس کے خاندان اور بیٹیاں آخری بار اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکیں۔انہوں نے اجتماع پر زور دیا کہ وہ بھائی چارے کو ہر قیمت پر قائم رکھے کیونکہ کانگریس پارٹی اور اس کی قیادت قوم کو اس کے کثیرالجہتی کردار اور عظیم تنوع کے درمیان مضبوط بنانے کے لیے کھڑی ہے۔دریں اثناء جموں و کشمیر کانگریس کے سربراہ جی اے میر نے بی جے پی حکومت کی غلط پالیسیوں اور اس کی غلط ہینڈلنگ اور صورتحال کو غلط پڑھنے کی وجہ سے کشمیر میں بگڑتی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔انہوںنے کہا’’جموں نے ہمیشہ بڑی اشتعال انگیزیوں کے خلاف بھائی چارے کی پرانی روایات کو برقرار رکھا ہے۔ آر ایس پورہ نے ماضی میں سیکولرازم کی ایک منفرد مثال دی ہے۔ اسی طرح کشمیریت بھی جامع ثقافت اور باہمی بقائے باہمی کے لیے جانا جاتا ہے لیکن کچھ عناصر اس ثقافت کو تباہ کر رہے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ "اقلیتیں اپنے آپ کو غیر محفوظ اور خطرے میں محسوس کر رہی ہیں جبکہ دیگر تمام امن پسند شہری بھی ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہو چکے ہیں اور خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔"انہوں نے کہا کہ ڈوگرہ ریاست کی تنزلی ایک تاریخی غلطی تھی اور تمام حصوں اور تمام طبقات کے لوگ صورتحال کا شکار ہیں جبکہ عسکریت نے اپنا بدصورت سر اٹھایا ہے۔اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے دیپیکا سنگھ راجاوت نے بی جے پی کو اس کی تقسیم کی سیاست پر تنقید کا نشانہ بنایا۔
دفعہ 370 منسوخی کے بعد محبومہ مفتی کا پہلا دورہ کشتواڑ
مغل میدان میں پارٹی کارکنان سے کیا خطاب،کہا حالات ابتر
عاصف بٹ
کشتواڑ//پیپلز ڈیموکریٹ پارٹی کی صدر و سابق وزیرا علیٰ محبوبہ مفتی دفعہ 370 منسوخی کے بعد پہلی مرتبہ کشتواڑ کے دورے پر پہنچی جس دوران انھوں نے اندروال کے مغل میدان میں پارٹی ورکران سے خطاب کیا۔ انکے ہمراہ پارٹی کے سینئر لیڈر و سابق ایم ایل سی فردوس احمد ٹاک، سٹیٹ سیکریٹری شیخ ناصر ، طالب حسین و دیگران موجود تھے۔ اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ لوگ سخت مشکلات میں ہے۔ انھوں نے بتایا کہ370 ان کے سر پر تاج تھا جسے اتارا گیاجبکہ370 منسوخی کے بعد بتایا گیا تھا کہ یہاں کی ہر مشکل حل ہوگی اور سب ٹھیک ہوگا لیکن گزشتہ ڈھائی برسوں سے ہماری پگڑی کو اچھالا گیا ہے جبکہ زمینی سطح پر کوئی کام نہیں ہوا۔ان کا کہناتھا کہ وائیلو ٹنل کا ڈی پی آر انکی حکومت میں بناتھا لیکن آج تک کوئی کام نہیں ہوا، راشن کی قلت پائی جارہی ہے جبکہ مہنگائی آسمان چھورہی ہے اور لوگ آج دال بھی نہیں کھاسکتے اورروز گار کہیں نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ جس طرح جموں کشمیر مشکل حالات سے گزررہا ہے ،اسی طرح پارٹی بھی مشکلات سے گزررہی ہے۔
پچاس بسترو ںپر مشتمل سب ضلع ہسپتال مڑواہ کا کام شدومد سے جاری
30000کی آبادی کو فائدہ ہوگا ،اگلے سال مکمل ہونے کا امکان
عاصف بٹ
کشتواڑ//ضلع کشتواڑ کے دورافتادہ علاقہ سب ڈویژن مڑواہ میں زیر تعمیر پچاس بستروں پر مشتمل سب ضلع ہسپتال مڑواہ کا کام شدومد سے جاری ہے اور اگلے سال نومبر تک اسکے مکمل ہونے کے امکانات ہیں۔دورافتادہ علاقہ جات میں پہلا واحد ہسپتال ہوگا جس میں سبھی طرح کی سہولیات دستیاب ہونگیں۔ پچاس بستروں پر مشتمل تین منزلہ عمارت میں ایمرجنسی بلاک کے علاوہ دیگر بلاک بھی ہیں اور اسکی کل لاگت 18کروڑ روپے ہے۔ کشمیر عظمیٰ کے سات بات کرتے ہوئے جونیئر انجینئرنے بتایا کہ اس علاقہ میں نومبر کے بعد کام کرنا مشکل ہوجاتا ہے اوروہ کوشش کررہے ہے کہ باہری کام کو سردیوں سے قبل مکمل کیا جائے جسکے بعد اندر کا کام جاری رہے گا۔انہوںنے کہا کہ ہسپتال کا کام ایک سال قبل مکمل ہوا ہوتا لیکن لاک ڈائون کے سبب اس میں تاخیز ہوئی اور اب اگلے سال اسے مکمل کیا جائے گا۔ان کاکہناتھاکہ جہاں گرائونڈ فلور کو مکمل کیا گیا ہے وہیں پہلی و دوسری منزل کا کام جاری ہے۔ اس ہسپتال کی تعمیر سے 30000 آبادی کو فایدہ ہوگا اور عوام کو سردیوں کے دوران مشکلات سے دوچار نہ ہونا پڑے گا۔محمد یاسین نامی شہری نے بتایا کہ سردیوں میں کئی افراد کی موت وقت پر علاج نہ ملنے کے سبب ہوتی تھی جبکہ اس ہسپتال کی تعمیر سے عوام کی مشکلات کاازالہ ہوگا اور انہیں وقت پر علاج میسر ہوگا۔انھوں نے انتظامیہ سے اسکی جلد تعمیر کرنے کی مانگ کی ہے ۔
مرکزی وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات کا دو روزہ شوپیان دورہ اختتام پذیر
شوپیاں//مرکزی وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات اور ماہی گیری، جانوروں کی دیکھ بھال اور ڈیرینگ ڈاکٹر ایل مورگن نے آج اپنے شوپیان کے دورے کے اختتامی دن شیپ بریڈنگ بیٹن فلور شیڈ مانلو اور شیپ بریڈنگ فارم زاوورا کا افتتاح کیا جس کا تخمینہ 29لاکھ روپے اور 19.37لاکھ روپے لگایا گیا ہے جوکہ بالترتیب آر اینڈ بی محکمہ کے ذریعہ خرچ کئے گئے۔ انہوں نے منلو اور زاوورہ شوپیاں میں سیب کے باغات کا بھی دورہ کیا۔ڈی ڈی سی کے وائس چیئرپرسن، عرفان منہاس، ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کمشنر، شوپیاں، سچن کمار ویشیا، ایس ایس پی شوپیاں ، امرت پال سنگھ، ڈائریکٹر شیپ ہسبنڈری، بشیر احمد خان اور دیگر سینئر افسران بھی اس موقعے پر موجود تھے۔ اس موقع پر وزیر موصوف نے کہا کہ وزیر اعظم مودی جموں و کشمیر کی ہمہ جہت ترقی کے لیے بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور خواہش رکھتے ہیں کہ مرکزی علاقہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ترقی کرے اور کہا کہ نوجوانوں کو آگے آنا چاہیے اور اپنی مرکزی معاونت والی اسکیموں سے فائدہ اٹھانا چاہیے تاکہ ان کی آمدنی میں کئی گنا اضافہ ہو۔ انہوں نے نوجوانوں پر بھیڑوں کے فارم قائم کرنے پر زور دیا جو کہ ایک منافع بخش کاروباری سرگرمی ہے۔ انہوں نے بے روزگار نوجوانوں سے کہا کہ وہ آگے آئیں اور اس سیکشن میں حکومت کی طرف سے شروع کی گئی اسکیموں کے فوائد سے فائدہ اٹھائیں۔انہوں نے نوجوانوں، بھیڑ پالنے والوں، ممکنہ کاروباریوں وغیرہ کو یقین دلایا کہ حکومت قابل عمل اور پائیدار بھیڑوں کے یونٹس کے قیام کے لیے ان کی ہر ممکن مدد کرے گی۔مرکزی وزیر مملکت نے یقین دلایا کہ محکمہ کے کام کاج کو مزید بہتر بنانے کے لیے محکمے کے تمام مسائل پر ترجیحی بنیادوں پر غور کیا جائے گا۔ انہوں نے کسانوں پر بھی زور دیا کہ وہ کھیتوں میں پائیداری کے حصول کے لیے بھیڑ پالنے میں تنوع اختیار کریں۔ مرکزی علاقہ جموں و کشمیر میں بھیڑ اور مویشی پالنے کی بہت گنجائش ہے تاکہ کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کیا جا سکے۔انہوں نے کسانوں کو مشورہ دیا کہ وہ مربوط کاشتکاری کے نظام کا دورہ کریں اور اسے اپنے فارموں میں بروئے کار لائیں تاکہ ان کی آمدنی میں کئی گنا اضافہ ہو۔وزیر نے کہا کہ بھیڑوں کے شعبے کا یہ شاندار اقدام نوجوان کسانوں اور کاروباری افراد کو ان کے قیمتی اور جدید تجربات کے تبادلے کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لانے کی طرف مودی حکومت کے وژن کے مطابق کسانوں کی آمدنی بڑھانے میں بے حد مدد کرے گا۔وزیر نے بھیڑ پالنے والے محکمے کی تعریف کی کہ وہ شوپیاں ضلع میں بھیڑوں کی پیداوری اور پائیداری کو بہتر بنانے کے لیے ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے تیار کردہ جدید ٹیکنالوجی کے مظاہرے پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے تقریب کا اہتمام کر رہا ہے۔وزیر نے علاقے کی ترقی اور پائیداری کے لیے ہم آہنگی سے کام کرنے والے انتظامیہ اور دیگر محکموں کی تعریف کی۔وزیر نے پی آر آئی کے نمائندوں کے ساتھ ایک انٹرایکٹو سیشن بھی منعقد کیا اور اطمینان سے ان کے مسائل سنے۔ عوامی نمائندوں نے وزیر سے تبادلہ خیال کیا اور اپنے اپنے علاقوں میں ترقی اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق مختلف مسائل اور مطالبات پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر مورگن نے نمائندوں کو ان کے جائز مطالبات کے فوری ازالے کی یقین دہانی کرائی۔
مرکزی وزیر مملکت برائے فشریز کا ٹراؤٹ فش فارمنگ پروجیکٹ کوکرناگ کا دورہ
کوکرناگ// مرکزی حکومت کے عوامی آؤٹ ریچ پروگرام کے ایک حصے کے طور پر ، مرکزی وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات اور ماہی گیری ، جانوروں کی پرورش اور ڈیرینگ ڈاکٹر ایل مورگن نے ٹراؤٹ فش فارمنگ پروجیکٹ کوکرناگ کا دورہ کیا۔اپنے دورے کے دوران وزیر نے ماہی گیروں اور فش فارمرز سے بات چیت کے علاوہ فارم میں دستیاب پرورش یونٹس، مشینری اور دیگر سہولیات کا معائنہ کیا۔ انہوں نے مستحق افراد کو PMMSY ٹراؤٹ یونٹ الاٹمنٹ سونپے اور ماہی گیروں میں بہترین کارکردگی کے سرٹیفکیٹ تقسیم کیے۔قابل ذکر ہے کہ اس اسکیم کے تحت فش فارمرز کو 5.50 لاکھ روپے کی رقم فی یونٹ فراہم کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ماہی گیروں کو رہائش، منی فیڈ ملز قائم کرنے وغیرہ کے لیے مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔اس موقع پر وزیر کو محکمہ کے اہداف، کامیابیوں، پیداوار اور دیگر پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ماہی گیروں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ حکومت نے ماہی گیری کے لیے ایک علیحدہ وزارت تشکیل دی ہے جو کہ اس شعبے کی اہمیت کے مطابق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس شعبے کی بہتری کے لیے مناسب فنڈز مختص کیے گئے ہیں اور مختلف اہم اسکیمیں جن میں مالی معاونت کے ساتھ ساتھ تکنیکی مدد بھی شامل ہے شروع کی گئیں ہیں۔وزیر نے کہا کہ ماہی گیری کے شعبے اور متعلقہ سرگرمیوں کو بڑھانے کے علاوہ ماہی گیروں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کے لیے MMSY ، ایک کثیر جزو اور کثیر جہتی اسکیم شروع کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس کے بہتر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی فعال شمولیت یکساں طور پر اہم ہے۔ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کمشنر ڈاکٹر پیوش سنگلا، ڈائریکٹر فشریز بی اے بٹ، ایس ایس پی آشیش مشرا، جوائنٹ ڈائریکٹر فشریز جنوبی کشمیر ڈاکٹر پیرزادہ ارشاد احمد، ایس ڈی ایم کوکرناگ صارب سحران، چیف اینیمل ہسبنڈری آفیسر اننت ناگ ڈاکٹر عباس، ڈپٹی ڈائریکٹر فشریز صدیق احمد وانی اور دیگر پی آر آئی کے ارکان کے علاوہ متعلقہ افسران، ماہی گیر اور کسان وزیر کے ہمراہ تھے۔اختتام پر، پی آر آئی ممبران اور ماہی گیروں نے اپنے مطالبات جیسے مناسب مارکیٹ سہولیات کی فراہمی، انشورنس کا احاطہ وغیرہ، پیش کیے ۔وزیر نے صبر سے ان کی بات سنی اور یقین دلایا کہ ان کے جائز مطالبات کو وقت پر حل کیا جائے گا۔
ادھمپور ٹیمپو حادثہ میں سنگلدان کا ٹیمپوڈرائیور لقمہ اجل | سنگلدان میں صف ِ ماتم بچھ گئی،نماز جنازہ میں ہزاروںکی شمولیت
زاہدبشیر
گول// اتوارالالصبح ادھمپور میں ایک ٹیمپو زیر نمبرJK09A-7962ایک ٹرک سے ٹکرا گیا جس وجہ سے ٹیمپو ڈرائیور منظور احمد جٹ ولد عبدالرشید جٹ ساکنہ سنگلدان موقعہ پر ہی لقمہ اجل بن گیا ۔یہ خبر سنتے ہی سنگلدان میں صف ِ ماتم بچھ گئی ۔ ٹیمپو جموں سے سنگلدان کی جانب آ رہا تھا۔ اس ٹیمپو میں دیگر 9افراد سوار تھے جن میں پروین اختر ساکنہ چندرکوٹ ، سروین بٹ ولد شبیر احمد عمر گیارہ سال ساکنہ چیکاس تحصیل گندو ضلع ڈوڈہ ، شبیر احمد بٹ ولد عبداللہ بٹ ساکنہ چنکاس گندو، پرویز احمد ولد بشیر احمد عمر21سال ساکنہ سنگلدان ، سبرین بانو دختر شبیر احمد گیارہ سال ساکنہ چندرکوٹ، بلجیت سنگھ ساکنہ پرتاب سنگھ عمر 26سال ساکنہ سنگلدان ، شاہیدہ اختر زوجہ محمد عزیز عمر49سال ،عرفانہ بانو دختر محمد عارف ،شہمال بیگم زوجہ شاہدین شامل ہیں ۔ حادثہ کی خبر سنتے ہی سنگلدان میں کافی رنج و غم کا ماحول پیدا ہوا اور لوگ مہلوک کے گھر پہنچے ۔ منظور احمد کی وفات پر سیاسی سماجی لیڈران نے نہایت ہی رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ۔ ڈی ڈی سی چیئر پرسن ضلع رام بن ڈاکٹر شمشادہ شان ، سابق ایم ایل اے گول ارناس اعجاز احمد خان نے اپنے تعزیتی بیان میں منظور احمد کی وفات پر دکھ کا اظہار کیا اور لواحقین کے ساتھ اظہار ہمدردی کی ۔ منظور احمد کی تدفین و تکفین اُن کے آبائی گھر سنگلدان باندن شیل کنڈ میں ادا کی گئی ۔ ان کے نماز جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔
ضلع انتظامیہ رام بن کی یقین دہانیاں کام آئیں | پچاس سے زائد پنچائتی نمائندوں نے اپنے استعفے واپس لئے
محمد تسکین
بانہال// بانہال اور رامسو کے دیہی ترقیاتی بلاکوں میں چند روز پہلے اپنا استعفیٰ پیش کرنے والے پچاس سے زائد سرپنچوں اور پنچوں نے ضلع انتظامیہ کے عہدیداروں سے ملاقات کے بعد اپنے استعفے واپس لینے کی حامی بھر لی ہے ۔یہ فیصلہ اتوار کے روز بانہال میں ضلع افسروں اور پنچائتی نمائندوں کی ایک میٹنگ میں لیا گیا۔ اس سلسلے میں سنیچر کو رامسو اور اتوار کو بانہال میں اسسٹنٹ کمشنر را م بن ضمیر احمد ریشو اور ضلع پنچایت افسر رام بن اشوک سنگھ کٹوچ نے مستعفی پنچائتی نمائندوں سے ملاقات کی اور اس موقع پر متعلقہ بلاک دیہی ترقیاتی کونسل کے چیئرمین بھی موجود تھے۔ اتوار کے روز ڈپٹی کمشنر رام بن مسرت الاسلام نے بھی ایک ٹویٹ کے ذریعے اس پیش رفت کے بارے میں اطلاع دی ہے۔ سرپنچ کراوہ بانہال غلام رسول ماتو نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ انہیں اسسٹنٹ کمشنر رام بن اور ضلع پنچایت افسر رام بن نے یقین دلایا ہے کہ ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائینگے اور ان کی طرف سے اٹھائے گئے ڈھیر سارے مطالبات کو جلد از جلد کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے استعفے واپس لینگے لیکن پنچائتی نمائندوں کا استعفے واپس لینے کا فیصلہ بانہال اور رامسو بلاک کے پنچائتی نمائندوں کے جائز مطالبات کو پورا کرنے کی یقین دھانیوں کو پورا کرنے سے مشروط ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال آج یعنی پیر کے روز رام بن میں مرکزی وزیر مملکت سے ملنے کیلئے پنچائتی نمائندوں کو ملاقات کیلئے ضلع انتظامیہ رام بن نے ملنے والوں کے نام وغیرہ مانگے ہیں۔
پوگلی بزم ادب کا اعلیٰ سطحی وفد ڈپٹی کمشنر رام بن سے ملاقی
پہاڑی بولنے والوں کے حق میں ریزرویشن اور دیگر مراعات کا مطالبہ
کشمیر عظمی رپورٹر
بانہال// پوگلی زبان کی ترقی و ترویج، نشر و اشاعت،پی ایس پی کیٹیگری کے تحت ریزرویشن یعنی چھٹے شیڈول زبان کی حیثیت اور سکولی نصاب میں شامل کرنے کا مطالبہ شدت سے پیش کیا گیا۔ بزم ادب کا ایک اعلیٰ سطحی وفد ایم اے کٹوچ چیئرمین پوگلی بزم ادب کی قیادت میں BDC چیئرمین کرلیپ سنگھ بالی کے ہمراہ ڈپٹی کمشنر رام بن مسرت الاسلام سے ملاقی ہوا اور ایک عرضداشت پیش کی۔وفد نے پوگلی زبان کے فروغ اور ترقی کے حوالے سے کئی اہم مطالبات ڈی سی رام بن کے سامنے پیش کئے۔مطالبات میں پوگلی زبان کو چھٹے شیڈول میں داخل کرنے کی سفارشات پر زور دیا۔ اس کے علاوہ کلچرل اکیڈمی آف آرٹ کلچرل اور لنگویجز کے ایک آفس کے قیام کا بھی مطالبہ پیش کیا۔ اس کے علاؤہ نصابی کتابوں میں بھی پوگلی زبان کو شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔وفد نے ڈپٹی کمشنر رام بن کو آگاہ کیا کہ ضلع رامبن کی قریبا پچاس فیصد آبادی لوگ پوگل زبان بولتے ہیں جبکہ پوگل پرستان ، نیل، چملواس ، کھڑی ، چاپناڑی ، چنجلو ، چینینی ، ریاسی اور جموں میں بھی پوگلی بولی جاتی ہے جو ایک منفرد تہذیب وتمدن کا مرقع ہے،اس زبان کی ترویج وترقی کیلئے حکومت اقدامات اٹھائے۔کلچرل اکیڈمی کی طرف سے پروگرام منعقد کروائیں جائیں اور پوگلی کلچرل ہیرٹیچ سنٹر کا قیام عمل میں لایا جائے جو پوگلی تہذیب،تمدن اور ثقافت کو محفوظ کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہو گا۔اس کے علاوہ وفد نے بتایا کہ خطہ چناب میں بولی جانے والی پانچ اہم زبانیں پوگلی، بھلیسی ، بھدرواہی ، پاڈری اور سرازی بولنے والوں کو بھرتی کی پالیسی میں 4 فیصد ریزرویشن دی جائے اور تمام پہاڑی بولنے والوں کو اس زمرے میں شامل کیا جائے اور ان بولیوں اور زبانوں کے لیے کلچرل اکیڈمی میں ایک خاص سیکشن قائم کیا جائے۔الگ سیکشن کی تشکیل ، جے کے بورڈ کے تحت درسی کتابوں کی اشاعت پہلی سے پانچویں پرائمری ، اسٹیبلشمنٹ پہاڑی ہاسٹلز ،جے اینڈ کے اکادمی آف آرٹ کلچر کے تحت رام بن میں ضلعی ثقافتی دفتر کا قیام پر بھی زور دیا اور حکومت کو سفارشات بھیجنے کی اپیل کی۔وفد نے ڈپٹی کمشنر رام بن مسرت الاسلام کا خاطر خواہ نتائج کی یقین دہانے کرانے اور حوصلہ افزائی پر شکریہ ادا کیا۔ ڈی سی رام بن نے وفد کو ٹھوس عملی اقدامات اٹھانے کی یقین دہانی کرائی۔
کانگریس لیڈرو دیگر کارکنان بی جے پی میں شامل
عاصف بٹ
کشتواڑ//کانگریس کو آج کشتواڑ میں بڑا دھچکالگا جبکہ کانگریس کے سینئرلیڈرا ور دیگر کارکنان نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی۔ کشتواڑ کانگریس کے سینئرلیڈر راج کمار بڑیال و دیگر کانگریس کے ورکران نے باضابطہ طور بی جے پی کے جموں دفتر میں تقریب کے دوران پارٹی کا دامن تھاما۔اس دوران پارٹی کے یوٹی صدر رویندر رینہ ، جنرل سیکریٹری سنیل شرما ،اشوک کول، شکتی پریہار ، بھالی بھگت ، طارق کین و دیگر شامل تھے۔ اس موقعہ پر انھوں نے ان سبھی کا پارٹی میں استقبال کیا اور سبھی کی حوصلہ افزائی کی گئی۔س
بی جے پی کسان مخالف پالیسیوں سے باز آئے
منجیت سنگھ نے کسان مخالف قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کیا
سانبہ//اپنی پارٹی صوبائی صدر جموں منجیت سنگھ نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کسان مخالف پالیسیاں اپنانے سے باز رہے جن سے ملک میں کسانوں کی معاشی حالت کمزور ہوگئی ہے۔ سانبہ کے گاؤں رکھ امب تالی میں عوامی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے منجیت سنگھ نے کہاکہ کسان ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی پچھلے ایک سال سے اِن کے مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیاکہ کسانوں کے مفادات کے خلاف کام کرنا چھوڑیں اور کہاکہ کسان پچھلے ایک سال سے دہلی میں دھرنے پر بیٹھے ہیں لیکن اُن کسان مخالف قوانین کو واپس لینے کے مطالبے پورے نہیں کئے جارہے اور نہ ہی حکومت کی طرف سے کوئی یقین دہانی کرائی گئی ہے‘‘۔ انہوں نے کہاکہ حکومت خاص طور سے بی جے پی کسانوں کو نظر انداز کر رہی ہے اور ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں طویل جدوجہد اور حکومت کا آمرانہ رویہ ٹھیک نہیں۔ اس سے یہ لگ رہا ہے کہ غریب کسانوں کی بجائے حکومت بڑے تجارتی گھرانوں اور صنعتکاروںکو ترجیحی دی رہی ہے اور اُن کے مفادات کا تحفظ کیاجارہاہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک کی معیشت تبھی ترقی کر پائے گی اگر کسان مضبوط ہوں گے اور حکومت کو چاہئے کہ اُنہیں ہرممکن امداد فراہم کی جائے لیکن اِس کے اُلٹ ہورہاہے۔
سینک سکول نگروٹامیں داخلہ
آن لائن درخواستیں طلب
رام بن//سکول نگروٹا نے تعلیمی سال 2022-23 کے لیے 6 ویں کلاس میں داخلے کے لیے لڑکیوں اور لڑکوں دونوںزمروں کے اہل امیدواروں سے آن لائن درخواستیں طلب کی ہیں۔ڈپٹی کمشنر رام بن کے دفتر سے موصول ہونے والے مواصلات کے مطابق درخواست گزار اپنی آن لائن درخواستیں 27 ستمبر سے 26 اکتوبر 2021 تک شام 5 بجے تک جمع کروا سکتے ہیں۔آل انڈیا سینک اسکول داخلہ امتحان (AISSEE) 2022 کے مطابق تعلیمی سال 2022-23 کے لیے امتحان کا طریقہ قلم OMR شیٹ پر مبنی ہوگا۔ مزید تفصیلات کے لیے امیدوار انکی سرکاری ویب سائٹ www.sainikschoolnagrota.com پر جا سکتے ہیں۔ضلع رام بن کے تمام نوجوان طلباء لڑکے اور لڑکیاں دونوں کو ضلعی انتظامیہ کی طرف سے مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ یو ٹی جموں و کشمیر کے ایک معروف تعلیمی ادارے میں داخلہ لے کر موقع سے فائدہ اٹھائیں۔
ڈگری کالج اکھرال میںذہنی صحت کا عالمی دن منایاگیا
جموں//گورنمنٹ ڈگری کالج (جی ڈی سی) اکھرال کے نفسیاتی مشاورتی سیل نے "دماغی صحت اور فلاح و بہبود کی اہمیت" کے موضوع پر ایک مضمون نویسی کے مقابلے کا انعقاد کرتے ہوئے ذہنی صحت کا عالمی دن منایا۔اس مقابلے میں بڑی تعداد میں طلباء نے حصہ لیا اور انفرادی زندگی میں ذہنی صحت کی اہمیت اور اہمیت پر روشنی ڈالی۔کالج کے پرنسپل پروفیسر (ڈاکٹر) رنوجے سنگھ نے اپنے پیغام میں کہا کہ ذہنی صحت مجموعی ترقی اور ترقی کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے عوام کو ذہنی صحت کے بارے میں تعلیم اور آگاہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور انہیں اس موضوع پر بات کرنے کی ترغیب دی۔ اس پروگرام کو پروفیسر ذاکر حسین نائیک کنوینر نفسیاتی مشاورت سیل نے کالج کے قابل پرنسپل کی رہنمائی میں ترتیب دیا۔
mental health awareness program
ذہنی صحت کے عالمی دن پر ڈوڈہ میں آگاہی پروگرام
اشتیاق ملک
ڈوڈہ//ذہنی صحت کے عالمی دن پرڈوڈہ ضلع کے سبھی بلاکوں میں تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ ضلع کی سب سے بڑی تقریب ڈوڈہ میں منعقد ہوئی جس میں چیف جوڈیشل مجسٹریٹ پریم سنگھ (چیرمین ڈسٹرکٹ لیگل سروس اتھارٹی) نے بطور مہمان خصوصی و سی ایم او ڈاکٹر یعقوب میر مہمان ذی وقار کے طور پر شامل رہے۔ تقریب کے افتتاحی کلمات سی ایم او نے پیش کرتے ہوئے سی جے ایم سمیت سبھی مہمانوں کا استقبال کیا اور اس دن اغراض و مقاصد بیان کئے۔ اس موقع پر بولتے ہوئے مقررین نے کہا کہ 10اکتوبر کو ذہنی صحت کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے تاکہ ذہنی صحت کے مسائل کے تئیں شعور بیدار کیا جائے اور ذہنی مریض کو سہارا دینے کی کوششوں کو متحرک کیا جائے۔انہوں نے ذہنی بیماریوں کی وجوہات و اس کی روک تھام کیلئے کی جارہی کوششوں کے بارے میں بھی جانکاری دی۔ذہنی صحت کے ضلع پروگرام آفیسر ڈاکٹر ضیاء شوکت مغل نے تمام شرکاء کو ذہنی مرض کی وجوہات اور روک تھام کے بارے میں تفصیلی سے جانکاری دی۔چیف جوڈیشل مجسٹریٹ نے کہا کہ بناء پیسہ کے زندگی گذارنا آسان ہے لیکن صحت کے بغیر جینا مشکل بن جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت مند رہنے سے خوشحال زندگی گذارنا بہتر ہے۔ این سی ڈی آفیسر محمد سلیم بٹ نے شکریہ کی تحریک پیش کی۔ یہ پروگرام ڈائرکٹر ہیلتھ سروس کی ہدایت پر چیف میڈیکل آفیسر ڈوڈہ ڈاکٹر یعقوب میر کی زیر نگرانی ضلع ہیلتھ سوسائٹی نے این سی ڈی سیل کے اشتراک سے منعقدکیا۔
ڈوڈہ میں اتوار کو کوئی نیا کیس نہیں
۔6مریض صحتیاب، 417314 ٹیکے لگائے گئے
اشتیاق ملک
ڈوڈہ //ڈوڈہ ضلع میںاتوارکوکووڈ 19 کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا ہے تاہم قرنطینہ میں رکھے گئے مریضوں میں سے 6 مریض صحتیاب ہوئے ہیں۔اس طرح سے ضلع میں فعال کیسوں کی تعداد سمٹ کر 34 و شفایاب ہوئے مریضوں کی مجموعی 7638 پہنچ گئی ہے جبکہ اب تک کورونا وائرس سے 133 ہلاکتیں ہوئیں ہیں اور 417314 افراد کو ٹیکے لگائے گئے ہیں۔
ادھم پور میں تعمیراتی کارکنوں کیلئے تربیتی پروگرام اختتام پذیر
ادھم پور// ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن ادھم پور کی جانب سے ڈپٹی کمشنر اندو کنول چب کی نگرانی میں مستریوں (کنسٹرکشن ورکروں) کے لیے دو روزہ آگاہی وتربیتی پروگرام کا انعقاد کیا گیاتھاجوجل شکتی مرکز ادھم پور میں اختتام پذیر ہوا۔ضلع کے معماروں کی ایک بڑی تعداد نے چھت کے اوپر بارش کے پانی کے ذخیرہ کرنے کے ماڈل اور ان کی تنصیب کے طریقہ کار کے بارے میں تربیت حاصل کی۔تربیتی پروگرام کے دوران دیہی اور شہری علاقوں کے مستریوں نے تربیتی سیشن میں بہت جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا۔انہیں کم لاگت والا ماڈل اپنانے کی ترغیب دی گئی ہے جو کہ پورے معاشرے کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے اور ساتھ ہی تمام نئی تعمیرات پر کم لاگت والے رین واٹر ہارویسٹنگ ڈھانچے کو نصب کرنے کے بعد پانی کی طلب کو کم کر کے قوم کی تعمیر نو میں مدد کر سکتا ہے۔
ریاسی میںلاپتہ لڑکی بازیاب
ریاسی// ریاسی پولیس نے لاپتہ لڑکی کو بازیاب کرنے کا دعویٰ کیاہے ۔پولیس بیان کے مطابق 26 ستمبر کو کلدیپ کمارساکن ماری ریاسی نے پولیس سٹیشن ریاسی میں اطلاع دی کہ اس کی بیٹی گھر سے لاپتہ ہے۔ اس گمشدگی کی رپورٹ پر پولیس سٹیشن ریاسی میںکیس درج کیا گیا اور لاپتہ لڑکی کی تلاش شروع کی گئی۔بیان کے مطابق والدین ،رشتہ داروں اور دوستوں سے لاپتہ لڑکی کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی۔ اس کے مطابق پولیس کے ذرائع کومتحرک کیا گیا۔بیان میں کہاگیا ہے کہ پولیس سٹیشن ریاسی کی پیچیدہ پیروی اور مسلسل کوششوں کے بعد گاؤں پگیال (ٹکری) ضلع اودھم پور سے لاپتہ لڑکی کاسراغ لگاکراُسے بازیاب کرایاگیا۔لاپتہ ہونے کے معاملے کی مزید انکوائری جاری ہے جبکہ لڑکی کو خاندان کے ساتھ دوبارہ ملا دیا گیا ہے۔
فوج کی جانب سے ترکھانوں کیلئے کورس کا اہتمام
جموں//گاؤں کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع تلاش کرنے میں مدد کرنے کی بھرپور کوشش میںفوج نے ضلع کشتواڑ میں کارپینٹر کورس کا انعقاد کیا۔ کورس میں قریبی علاقوں سے چھ حوصلہ افزائی کرنے والے نوجوانوں نے شرکت کی۔ کورس مکمل ہونے پر مہارت کے سرٹیفکیٹ اور کارپینٹر کٹ تقسیم کیے گئے۔ تربیت کا مقصد خود روزگار کے لیے تربیت اور اختیارات پیدا کرنا اور شرکاء میں انٹرپرینیورشپ کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔ فوج کے اس اقدام کو نوجوانوں اور دیہاتیوں نے بہت سراہا جنہوں نے نوکری کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ایسا منفرد پلیٹ فارم مہیا کرنے پر فوج کا شکریہ ادا کیا۔ اس طرح کی تربیت کے انعقاد سے علاقے کے بے روزگار نوجوانوں کو فائدہ مند روزگار تلاش کرنے اور ان کے خاندانوں کی مالی مدد کرنے میں مدد ملے گی۔