میناکشی لیکھی نے گلمرگ میں لٹریری فیسٹیول کا افتتاح کیا
اننت ناگ میں مارتنڈ مندر مٹن کا بھی دورہ کیا
بارہمولہ //آزادی کا امرت مہوتسو کے تحت آئیکونک ہفتہ تقریبات کے ایک حصے کے طور پر مرکزی وزیر مملکت برائے امور خارجہ اور ثقافت میناکشی لیکھی نے گلمرگ میں پہلے ادبی میلے کا افتتاح کیا ۔ جموں و کشمیر حکومت کے زیر اہتمام ادبی میلے نے آزادی کے 75 سال مکمل ہونے پر ملک بھر سے متعدد ادبی شخصیات کو لایا ہے ۔ اس میلے میں نامور ادیبوں ، ابھرتے ہوئے شاعروں ، دانشوروں نے ادبی روایات کے کئی پہلوؤں پر گفتگو اور تجزیہ کیا ۔ اپنے تعارفی خطاب میں مسٹر دانش رانا نے کہا کہ یہ میلہ یقینی طور پر نوجوانوں کو اپنی موروثی تخلیقی صلاحیتوں کو تلاش کرنے کی ترغیب دے گا ۔ ادبی میلے کا افتتاح کرتے ہوئے میناکشی لیکھی نے اس قسم کے فیسٹیول کے انعقاد کیلئے جموں و کشمیر یو ٹی انتظامیہ کی کاوشوں کی تعریف کی اور کہا کہ اس قسم کے میلے ملک بھر کے نوجوانوں کو اپنی موروثی تخلیقی صلاحیتوں کو تلاش کرنے کی ترغیب دیتے ہیں اور ادب سے محبت کرنے والے لوگوں کو بھی راغب کر رہے ہیں ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ادبی میلے ابھرتے ہوئے ادیبوں اور نوجوان شایقین کو اپنے خیالات اور احساسات کے اظہار کیلئے ایک پلیٹ فارم مہیاء کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر قدیم زمانے سے ہمیشہ ثقافتوں کو سیکھنے کا مرکز رہا ہے اور اس نے برقرار رکھا کہ یہ روشن تہوار اس ہم آہنگی اور بقائے باہمی کو برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ ایک سیشن میں گیتیکا کوہلی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے معروف شاعر اور بالی ووڈ کے مشہور گیت نگار ارشاد کامل نے ان کے ادبی سفر پر روشنی ڈالی۔دیگر سیشنز جن میں تھیمز رائیٹنگ اینڈ رپورٹنگ ان اے فریکچرڈ ورلڈ ، میتھولوجی رومانس ، میموئیر ، ہسٹری فینٹسی اور فوکلور بھی تھے ۔ میلے کو نیٹ ورک 18 کی طرف سے لائیو کوریج دی گئی ۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر بارہمولہ بھوپندر کمار ، ایس ایس پی بارہمولہ رئیس محمد بھٹ سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے ۔ بعد میں وزیر موصوف نے اننت ناگ ضلع میں مارتنڈ مندر مٹن کا بھی دورہ کیا اور یہاں پوجا کی ۔ انہیں مندر کی تاریخ اور موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا گیا ۔ اس موقع پر وزیر نے مندر کو ملک کے سیاحتی نقشے پر لانے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات کی یقین دہانی کرائی تا کہ زیادہ سے زیادہ سیاح اس جگہ کی طرف راغب ہوں ۔ انہوں نے یہاں کچھ سیاحوں سے بھی بات چیت کی جنہوں نے وزیر کے ساتھ اپنا تجربہ شئیر کیا ۔ سیاحوں نے وادی کی مہمان نوازی کے حوالے سے اطمینان کا اظہار کیا ۔
امپا کا جموں اور سرینگر میں ویجی لنس بیداری ہفتہ کا اِنعقاد
جموں//جموںوکشمیر امپارڈ کے ڈائریکٹر جنرل سوربھ بھگت نے امپارڈ کے اَفسران اور ان تمام اَفسران اور ملازمین جو مختلف محکموں کی طرف سے امپارڈ مین کیمپس ایم اے روڈ سری نگر میں مختلف مختصر اور طویل مدتی تربیتی کورسوں کے لئے تعینات کئے گئے ہیں ، کو دیانتداری کا عہد دِلایا اور ویجی لنس بیداری ہفتہ منایا۔سا لمیت عہد کی تقریب کا فوکس ایریا عوامی مفاد کے انکشاف اور اِنفارمروںکے تحفظ اور تمام بقایا ویجی لنس معاملات کو صاف کرنے کے لئے خصوصی کلیئرنس مہم کے تحت شکایات پر زیادہ سے زیادہ بیداری لانا تھا۔سینٹرل ویجی لینس کمیشن کے ذریعے باضابطہ طور پر تجویز کردہ سا لمیت کا عہد لیا گیا تھا۔ڈائریکٹر جنرل نے فیصلہ لیا کہ دو پوسٹر جیسا کہ سینٹرل ویجی لنس کمیشن نے تجویز کیا ہے ، امپارڈ سری نگر اور امپارڈ جموں میں آویزاں کیا جائے گا جس میں عوام کو یہ اعلان کیا جائے گا کہ وہ پی آئی ڈی پی آئی کے تحت شکایت درج کریں ، اگر کوئی رشوت لیتے ہوئے نظر آئے ۔ویجی لنس بیداری ہفتہ’’26 ؍ اکتوبر سے یکم نومبر تک ‘‘ اِس وجہ سے اہم ہے کہ اِس ہفتے کے دوران سردار ولبھ بھائی پٹیل ( 31 ؍ اکتوبر ) کا یوم پیدائش ہے۔امپارڈ میں ویجی لنس بیداری ہفتہ منانے کا مقصد اَفسران کو رشوت کی لعنت کے خلاف بیدارکرنا ہے اور یہ کہ رشوت کے خلاف جنگ ایک اجتماعی کوشش تھی جس میں سب شامل تھے۔جوائنٹ ڈائریکٹر شریمتی پریا نکابھٹ نے اَپنے ریجنل سینٹر جموں میں امپارڈ کے اَفسران کو دیانتداری کا عہد دیا۔
سری نگر کا بوٹی نیکل گارڈن میںکلام خسروؒ ، قوالی ، للہ واکھ سے گو نج اُٹھا
موسیقی کی شام میں رشید حافظ ، گلزار گنائی ، وِدھا لال ، نظامی برادراںنامور فنکاروں نے سامعین کو محظوظ کیا
سری نگر//محکمہ سیاحت نے جاری ایک ہفتہ تک جاری آئیکونِک فیسٹول کے ایک حصے کے طور پر یہاں کل شام ایک صوفی موسیقی شام کا اہتمام کیا جس میں قومی اور بین الاقوامی شہرت کے فنکاروں نے خوبصورت بوٹی نیکل گارڈن کے صحن میں صوفی موسیقی سے سامعین کو مسحور کیا۔اِس فیسٹول کا اہتمام 75ویں یوم آزادی کی یاد میں کیا گیا ہے جو ملک بھر میں ’’ آزادی کا امرت مہااُتسو‘‘ کے طور پر منایا جارہا ہے ۔کشمیر کے مشہور فنکار عبدالرشید حافظ ، گلزار گنائی اور دیگر فنکاروں نے وہاب کھار اور دیگر صوفی شاعروں کے مشہور روایتی چھکری گیتوں سے سامعین کو محظوظ کیا۔اِس میوزیکل شام نے ملک بھر سے صوفی روایت میں قومی شہریت رکھنے والے کچھ دوسرے فنکاروں کو بھی اکٹھا کیا جیسے کہ ایک مشہور کتھک ماہر ودھالال اور وسعت اقبال خان جو دہلی رانہ کے ایک داستان گو ہیں ، اَپنے مسحور کن پرفارمنس صوفیانہ اور ادبی لیجنڈوں کی کہانیاں سناتے ہیں ۔ اس کے علاوہ نظامی برادراں نے اپنے مشہور و معروف قوالیوں سے سامعین کو مسحورکیا ۔فیسٹول میں کشمیر کے مقامی فنکاروں کی کچھ دِلکش پرفارمنس بھی دیکھی گئی جنہوں نے لعل دید کی واکھوں سے سامعین کو مسحور کردیا۔عوامی نمائندوں ، زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے اَفراد ، سیاحوں نے بھی موسیقی کی محفل کو دیکھا۔اِس تقریب میں سیاحوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی تھی جو اِس وقت وادی میں موجود ہیں، جو موسم خزاں کی سردی کے باوجود پرفارمنس سے چپکے رہے۔میوزیکل شام کا اہتمام پرامن اور ہم آہنگی کی روایات کو پھیلانے میں رشیوں اور صوفی سنتوں کے نمایاں کردار کو فروغ دینے کے مقصد سے کیا گیا تھا جس کے لیے جموں و کشمیر دنیا بھر میں جانا جاتا ہے۔
ریاسی میں خاتون کا اغوا اور عصمت ریزی | مطلوب 2ملزمان 19برس بعد گرفتار
جموں//پولیس نے ریاسی میںخاتون کے اغوا اور عصمت دری کرنے میں ملوث 19برسوں روپوش 2ملزموں کو گرفتار کیا ہے۔ ایس ایس پی شیلندر سنگھ کی قیادت میں پولیس کی ٹیم نے ایک مصدقہ اطلاع ملنے کی بنا پرمیاں خیریاں مہور میں چھاپے کے دوران عبدالرشید اور مکھنا کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کاکہنا ہے کہ مذکورہ ملزمان نے 2002میں ایک خاتون کو اغوا کیاتھا اور اس کی عصمت دری کی تھی۔ پولیس کاکہنا ہے کہ مذکورہ ملزمان 19برسوں سے گرفتاری سے بچنے کیلئے روپوش تھے۔ پولیس کاکہنا ہے کہ گزشتہ6مہینوں کے دوران 100روپوش ملزموںکو گرفتار کیاگیا جو مختلف نوعیت کے جرائم میں پولیس کو مطلوب تھے۔
ڈوڈہ ضلع کے مختلف مقامات پر عوامی ازالہ کیمپ کا انعقاد | کئی مسائل کا موقع پر نپٹارا کیا گیا، 64 اقامتی اسناد بھی تقسیم
اشتیاق ملک
ڈوڈہ //ہفتہ وار بلاک دیوس کے موقع پر ڈوڈہ ضلع کے مختلف مقامات پر عوامی ازالہ کیمپ کا انعقاد کیا گیا جس میں 89 مطالبات میں سے 86 کا موقع پر ہی نپٹارا کیا گیا جبکہ 64 اقامتی اسناد سمیت سو سے زائد سرٹیفکیٹ کو صارفین میں تقسیم کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر ڈوڈہ وکاس شرما کی زیر نگرانی ڈوڈہ، بھدرواہ، ٹھاٹھری و عسر کے بلاکوں میں منعقد عوامی ازالہ کیمپوں میں مختلف محکموں کے افسران و ملازمین نے شرکت کی اور پنچائتی اراکین کی موجودگی میں لوگوں کی مشکلات کا ازالہ کیا گیا۔اس دوران آیوشمان بھارت اسکیم کے تحت ضلع کے 7 کنبوں کو فائدہ پہنچایا گیا۔
آئی ٹی آئی کالج بھلیسہ میں نکڑ ناٹک کا اہتمام | قبائلی لوگوں کو مختلف سکیموں کے بارے میں جانکاری دی گئی
اشتیاق ملک
ڈوڈہ //'پوشن ابھیان' کے تحت محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ نے قبائلی امور محکمہ و این ایچ ایم کے باہمی اشتراک سے آئی ٹی آئی کالج بھنگرو گندوہ میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں قبائلی طبقہ کے لوگوں کو مرکزی معاونت والی سکیموں سے متعلق جانکاری دی گئی۔ اس دوران نکڑ ناٹک، گوجری و کشمیری گیت پیش کئے گئے. بیداری پروگرام کے دوران فنکاروں نے بچوں میں غذائیت کی کمی و و زیادہ وزن میں کمی، زچہ و بچہ کی دیکھ بھال، خواتین ونو عمر لڑکیوں میں خون کی کمی کو دور کرنے کے سے متعلق طریقہ کار بتلائے۔ پروگرام میں بی ڈی سی چیئرمین چنگا محمد عباس راتھر، تحصیلدار گندوہ ارشاد احمد شیخ ،میڈیکل آفیسر ڈاکٹر پرویز میر، کلچرل انچارج نگہت ناز، جماعت علی آگاہ، قبائلی طبقہ کے لوگوں کے علاوہ آنگن واڑی و آشا ورکروں نے بھی شرکت کی۔
سنگلدان نیابت کے اکثر علاقے پانی سے محروم | محکمہ جل شکتی کی لاپروائی سے عوام پریشان،لوگ انتظامیہ سے فریادی
زاہد بشیر
گول// قدرتی آبی ذخائر سے مالا مال سب ڈویژن گول میں پانی کی قلت ایک بڑامسئلہ بنی ہوئی ہے ۔محکمہ جل شکتی میں بیٹھے کچھ ملازمینمن مرضی سے کام کرتے ہیںاور قدرت کی طرف سے پانی گریوٹی میں ہونے کے باوجود لوگوں تک پانی نہیں پہچایا جاتا ہے۔ عوام جب بھی محکمہ کے کسی آفسر سے پانی کو لے کر اپنی پریشانی بتاتی ہے تو اسے کبھی گریوٹی کے ٹوٹنے کا بہانا تو کبھی حوض خالی ہونے کا بہانہ۔ غرضیکہ عوام کی پریشانیوں کا حل نہیں نکالا جاتا۔ سنگلدان کے کئی لوگوں نے محکمہ جل شکتی و مقامی انتظامیہ کو متنبہ کرتے ہوئے کہا اگر جلد از جلد نیابت سنگلدان میں پینے کے پانی کی قلت کو دور نہیں کیا گیا تو انہیں مجبوراً احتجاج کا راستہ اپنانا پڑے گا جس کی تمام تر ذمہ داریاں محکمہ جل شکتی و مقامی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔لوگوں کاکہنا ہے کہ سنگلدان وملحقہ جات میں لوگ بوند بوند کے لئے ترس رہے ہیں پہلے یہاں پر جو چشمے تھے وہ ریلوے کی وجہ سے سوکھ گئے ہیں اور پانی کی قت کو دور کرنے کے لئے ریلوے یارڈ کے نزدیک ایک بور ویل کی تعمیر بھی شروع کی گئی تھی لیکن اس کی تعمیر ادھوری چھوڑی گئی ۔لوگوں نے اس بور ویل کی جلد تعمیر کرنے کی بھی مانگ کی ۔
سینٹرل یونیورسٹی جموں کا نام بریگیڈئر راجندر سنگھ سے منسوب کیاجائے:منجیت سنگھ
جموں//اپنی پارٹی صوبائی صدر جموں اور سابقہ وزیر منجیت سنگھ نے مطالبہ کیا ہے کہ سینٹرل یونیورسٹی جموں کا نام بریگیڈئر راجندر سنگھ کے نام سے رکھاجائے جنہوں نے جموں وکشمیرمیں سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے قوم کے لئے عظیم قربانی دی۔ منجیت سنگھ ضلع سانبہ کے آر ایس پورہ میں بریگیڈئر راجندر سنگھ کے آبائی گاؤں میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کررہے تھے ، جس کا اہتمام بہادر بریگیڈئر کی خدمات کو یاد کرنے کے لئے کیاگیاتھا، جس دوران آرمی افسر کو گلہائے عقیدت پیش کیاگیا۔ منجیت سنگھ نے مطالبہ کیاکہ سینٹرل یونیورسٹی وجے پور میں ہے، لہٰذا حکومت کو چاہئے کہ بریگیڈئر راجندر سنگھ پر اِس کا نام رکھاجائے ۔ بریگیڈئر راجندر سنگھ کو خراج ِ عقیدت پیش کرتے ہوئے منجیت سنگھ نے کہاکہ بریگیڈئر راجندر نے سرفہرست رہ کر انڈین آرمی اہلکاروں کی قیادت کی اور آخری سانس تک بہادری کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کیا۔ یہی وجہ تھی کہ جموں وکشمیر کی سرحدیں محفوظ ہوئیں اور قبائلیوں کا موثر دفاع کیاگیا۔انہوں نے کہاکہ انڈین آرمی کے بہادروں خاص کر بریگیڈئر راجندر سنگھ کی حیات وخدمات متعلق اسکولی نصاب میں بچوں کو سبق پڑھایاجانا چاہئے۔
پونچھ میں بھی کرگل جیسی صورتحال تو نہیں ہے : انکور شرما
جموں//اک جٹ جموں کے چیئر مین ایڈوکیٹ انکور شرما کا کہنا ہے کہ جموں وکشمیر کی سیکورٹی پر بھارتی سرکار کی خاموشی کوئی نئی بات نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ پونچھ سیکٹر میں گذشتہ 17دنوں سے تصادم چل رہا ہے لیکن حکومت نے چپ سادھ لی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ پونچھ کے جنگلوں پر فدائین جنگجوؤں کا قبضہ ہے ۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ واضح کرے کہ کہیں پونچھ میں بھی کرگل جیسی صورتحال تو نہیں بنی ہوئی ہے ۔موصوف چیئر مین نے ان باتوں کا اظہار بدھ کے روز یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے کہا’’جموں و کشمیر کی سیکورٹی پر بھارتی سرکار کی خاموشی کوئی نئی بات نہیں ہے ، پونچھ میں 17 دنوں سے انکاؤنٹر چل رہا ہے اس سے پہلے یہاں 17دنوں تک کوئی آپریشن نہیں چلا‘‘۔ان کا کہنا تھا’’ایسا لگتا ہے کہ پونچھ کے جنگلوں پر فدائین جنگجوؤں کا قبضہ ہے‘‘۔انکور شرما نے کہا کہ وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی حالیہ دورہ جموں و کشمیر کے دوران اس تصادم آرائی کے متعلق کوئی بات نہیں کی۔انہوں نے کہا’’وزیر داخلہ نے جموں وکشمیر کا دورہ کیا اس دورے کے دوران بھی پونچھ میں انکاؤنٹر چلتا رہا ہمارے جوان شہید ہو رہے ہیں لیکن موصوف نے کوئی بات نہیں کی ‘‘۔ان کا کہنا تھا’’جموں وکشمیر انتظامیہ اور سیکورٹی فورسز نے بھی اس کے متعلق خاموشی اختیار کی ہوئی ہے ‘‘۔موصوف نے کہا کہ پونچھ کا یہ تصادم اقلیتوں کے لئے ایک سیکورٹی تھرٹ بن گیا ہے اور وہ ڈر محسوس کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس تصادم کے دوران جنگجوؤں کو کوئی خاص نقصان نہیں ہوا ہے۔ انکور شرما کا کہنا تھا کہ حکومت کو واضح کرنا چاہئے کہ کہیں پونچھ میں بھی کرگل جیسی صورتحال تو نہیں بنی ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کو تحفظ کا احساس دلانے کے لئے حکومت کو اس سلسلے میں ایک بیان لے کر سامنے آنا چاہئے ۔
فوج کی شمالی کمان نے ادھم پور میں یوم انفنٹری منایا
جموں//جموں و کشمیر کے ضلع اودھم پور میں قائم فوج کی شمالی کمان نے بدھ کی روز دھرو وا جنگی میموریل پر پھول مالا چڑھا کر یوم انفنٹری منایا۔ایک دفاعی ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یوم انفنٹری کے موقع پر شمالی کمان کے چیف آف سٹاف ہیڈکوارٹرز لیفٹیننٹ جنرل ایس ہری موہن ایئر نے شمالی کمان کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل یوگیش کمار جوشی کی جانب سے دھرو وا جنگی میموریل پر پھول مالا چڑھا کر انفنٹری کے تمام عہدیداروں و اہلکاروں کو مشکل ترین حالات میں انتہائی جانفشانی اور جذبے کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے کی سراہنا کی۔انہوں نے کہا کہ اس موقع پر موصوف لیفٹیننٹ جنرل نے ملک کی سالمیت کے تحفظ اور ملی ٹنسی کا مقابلہ کرنے کے لئے انفنٹری کی قربانیوں کو سلام پیش کیا۔قابل ذکر ہے کہ ملک میں 27 اکتوبر کو یوم انفنٹری کے طور پر منایا جاتا ہے ۔سال 1947 میں اسی دن بھارتی فوج نے کشمیر میں پاکستانی قبائیلوں کو شکست دے دی تھی۔
ویجی لنس بیداری ہفتہ کے سلسلے میں کشتواڑ پولیس کی تقریب
عاصف بٹ
کشتواڑ//کشتواڑ پولیس نے ضلع پولیس لائن میں پولیس کے تمام پولیس اداروں کو ویجی لنس آگاہی ہفتہ کے موقع پر حلف برداری کی تقریب منائی گئی۔ایس ایس پی کشتواڑ شفقت حسین بٹ نے تمام افسران جوانوں کے ساتھ مل کر کورپشن کے خاتمے اور ہر قسم کی بدعنوانی کے خلاف کام کرنے کا عہد پڑھ کر سنایا۔ ایک تنظیم کے طور پر ہم اپنے تمام کاموں کے سلسلے میں دیانتداری، شفافیت اور گڈ گورننس کے اعلیٰ ترین معیارات کو برقرار رکھنے کے لیے جوش کے ساتھ کام کریں گے۔ ہم رشوت کی پیشکش قبول نہیں کریں گے اور ایمانداری اور دیانتداری کے کلچر کو فروغ دیں گے۔
لوگوں کے درمیان علیحدگی پسندی، فرقہ وارانہ منافرت کیلئے این سی ذمہ دار
30 سال بعد بھی فاروق عبداللہ پنڈتوں کی وادی واپسی کی حوصلہ شکنی کر رہے ہیں: پریا سیٹھی
جموں//سینئر بی جے پی لیڈ وبی جے پی ہیڈکوارٹر کی انچارج اور سابق وزیر جموں و کشمیر پریا سیٹھی نے جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر فاروق عبداللہ کو تقسیم کی سیاست اور نفرت کی دیواروں کو گرانے پر خطبہ دینے پر تنقید کی۔ پریا سیٹھی نے کہا کہ "یہ ایک 'المیہ' ہے کہ کئی دہائیوں سے نفرت اور تقسیم کی سیاست کے بیج بونے اور دہشت گردی کی حمایت اور کشمیری پنڈتوں کی زبردستی ہجرت کے ذریعے اسی کا پرچار کرنے کے بعد، فاروق عبداللہ ایک بار پھر نفرت کی دیواریں گرانے کے خطبے دے کر جموں کے لوگوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ لیکن جموں کے لوگ اب ان کی فرقہ وارانہ سیاست کو پوری طرح سمجھ چکے ہیں۔سابق وزیر نے مزید کہا کہ وہ اس وقت وزیراعلیٰ تھے جب وادی سے کشمیری پنڈتوں کی زبردستی انخلاء ہوئی تھی اور وہ کشمیر کی وادی سے تقریباً 7 لاکھ کے پی ایس کی جبری انخلاء کے ذمہ دار ہیں۔یہ جبری اخراج ان کے پوشیدہ ایجنڈے کا نتیجہ تھا جس کے لیے دنیا کی کئی اقوام نے ان کی مذمت کی تھی کیونکہ وہ 1989-90 میں سابقہ ریاست جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ تھے۔پریا سیٹھی نے کہا کہ وہ حیران ہیں کہ کے پی کے لوگوں کی وادی میں واپسی کی حوصلہ افزائی اور خیرمقدم کرنے کے بجائے، میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے آج کہا ہے کہ جب تک وادی میں سازگار ماحول نہیں بنتا تب تک پنڈتوں کی واپسی ممکن نہیں ہے۔پریا نے کہا کہ آج اس نے قوم کو چونکا دیا ہے اور میڈیا کی خبریں پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ پنڈتوں کی جبری نقل مکانی کے 30 سال بعد بھی فاروق عبداللہ جیسے لوگ خیبر پختونخواہ کی وادی میں واپسی میں دلچسپی نہیں رکھتے کیونکہ انہیں واپسی کی ترغیب دینے کی بجائے۔ وہ کہہ رہا ہے کہ پنڈتوں کی واپسی ممکن نہیں۔پریا سیٹھی جو این ڈبلیو سی کی خصوصی مدعو ہیں نے مزید کہا کہ فاروق عبداللہ جیسے لیڈروں نے ماضی میں بھی ملک کی شبیہ خراب کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ فاروق عبداللہ جو آج سیاسی پناہ کے لیے شدت سے ترس رہے ہیں کبھی پاکستان کی دھنوں پر رقص کرتے تھے۔انہوں نے کہا کہ یہ فاروق عبداللہ ہی تھے جن کے دور حکومت میں کشمیر نے دھمکیوں، عصمت دری، چنیدہ قتل، کے پی کی ہجرت کا مشاہدہ کیا اور جب پوری وادی جل رہی تھی وہ بزدلوں کی طرح اس جگہ کو چھوڑ کر لندن چلے گئے اور تمام کشمیریوں بشمول اقلیتوں کو نیچا دکھایا۔ اس وقت.جموں کے تشخص پر فاروق عبداللہ کی فرضی تشویش کا مذاق اڑاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کی تین نسلیں جموں و کشمیر خطوں کے لوگوں کو پابند کرنے کے بجائے لوگوں میں علیحدگی پسندی اور فرقہ وارانہ منافرت کی ذمہ دار ہیں۔
کویندر نے مستحقین میں ای۔شرم کارڈ تقسیم کئے
کہابی جے پی لوگوں کو 70 سال سے زیادہ کے مصائب سے نجات دلائے گی
جموں: سابق نائب وزیر اعلیٰ کویندر گپتا نے ایک رجسٹریشن کیمپ کے دوران غیر منظم کارکنوں کو ای۔شرم کارڈ تقسیم کئے۔سابق نائب وزیر اعلیٰ نے کئی غیر منظم کارکنوں کو کارڈ حوالے کیے، جو اب ملک میں کہیں بھی ہوں، سرکاری سکیموں کے فوائد حاصل کر سکیں گے۔کویندر گپتا نے اپنے خطاب میں کہا کہ مرکز میں بی جے پی کی قیادت والی حکومت غیر منظم شعبے میں مزدوروں کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی فلاح و بہبود کے لیے سرکاری اسکیموں کو نافذ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پورٹل غیر منظم کارکنوں کا پہلا قومی ڈیٹا بیس ہے جس میں تارکین وطن مزدور، تعمیراتی کارکن، ٹمٹم اور پلیٹ فارم ورکرز شامل ہیں جو غیر منظم شعبے کے کارکنوں کو سماجی شعبے کی اسکیموں کے فوائد پہنچانے میں سہولت فراہم کرتا ہے۔کویندر نے مزید کہا"پورٹل کو آدھار کے ساتھ جوڑا گیا ہے اور اس میں رجسٹرڈ کارکنوں کے نام، پیشہ، پتہ، تعلیمی قابلیت، مہارت کی اقسام اور خاندانی تفصیلات وغیرہ کی تفصیلات ہوں گی۔ اس طرح یہ ان کی ملازمت کے زیادہ سے زیادہ احساس کو قابل بنائے گا اور انہیں سرکاری اسکیموں کے فوائد حاصل کرنے کے قابل بنائے گا۔ کوئی بھی کارکن جو غیر منظم شعبے میں کام کر رہا ہے اور اس کی عمر 16-59 کے درمیان ہے، وہ ای۔شرم پورٹل پر رجسٹر کرنے کا اہل ہے۔ مہاجر مزدور، ٹمٹم کارکن، پلیٹ فارم ورکرز، زرعی کارکن، منریگا ورکرز، ماہی گیر، دودھ والے، آشا ورکرز، آنگن واڑی ورکرز، اسٹریٹ فروش، گھریلو ملازمین، رکشہ چلانے والے اور غیر منظم شعبے میں اسی طرح کے دیگر پیشوں میں مصروف دیگر کارکنان سبھی اہل ہیں‘‘۔ کویندر نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی بہت ساری عوامی فلاحی اسکیمیں لے کر آئے ہیں جو لوگوں کی زندگی کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم مودی کی رہنمائی میں جو مختلف اسکیمیں شروع کی گئی ہیں ان کا مقصد عام آدمی کو سہولیات فراہم کرنا ہے۔کویندر نے کہا کہ بی جے پی جموں و کشمیر کے لوگوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے اور لوگوں کو ان تکالیف سے نجات دلانے میں ہر ممکن مدد کرے گی جن کا وہ گزشتہ 70 سالوں سے لگاتار آنے والی حکومتوں کے رویے کی وجہ سے سامنا کر رہے ہیں۔
ڈی ڈی سی چیئر پرسن پر بھاری رقم ہڑپنے کا مبینہ الزام
الزام بے بنیاد ،سیاسی سازش، کنبے کی مدد کی ہے: ڈی ڈی سی چیئرپرسن رام بن
محمد تسکین
بانہال// ضلع رام بن کی تحصیل گول کے اندھ علاقے تعلق رکھنے والے ایک کنبے نے ضلع ترقیاتی کونسل چیئرپرسن اور نیشنل کانفرنس لیڈر پر مبینہ طور ریلوے میں دو بچوں کو نوکریاں فراہم کرنے کے نام پر بھاری رقم ہڑپنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ضلع ترقیاتی کونسل چیئرپرسن ڈاکٹر شمشادہ شان نے اس الزام کی سخت الفاظ میں تردید کرتے ہوئے اسے مخالفین کی ایک سازش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ رقم شکایت کنندگان کے زمین کے معاوضہ کی ہے اور ان کے آپسی جھگڑے کی وجہ سے یہ رقم ان کے بنک اکاؤنٹ میں ڈال کر واپس لی گئی تھی۔ منگل کے روز موضع اندھ تحصیل گول ضلع رام بن سے تعلق رکھنے والے باپ بیٹے شمس الدین نائیک اور محمد افضل نائیک نے ایک مقامی کانگریس لیڈر محمد امین بٹ کے ہمراہ سنگلدان میں ایک پریس کانفرنس میں ڈی ڈی سی چیئر پرسن رامبن ڈاکٹر شمشادہ شان پر سنگین الزامات عائد کئے۔ اپنی پیری کی عمر کو پہنچے بزرگ شمس الدین نائیک اور ان کے بیٹے محمد افضل نے کہا کہ ان کی بہت ساری اراضی ریلوے پروجیکٹ کی تعمیر کی زد میں آئی اور اس سے کافی رقم وصول بھی ہوئی اور بہت رقم ابھی شمالی ریلوے سے لینا باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اِس دوران موجودہ چیئرپرسن شمشادہ شان نے ان کے دو بیٹوں کو ریلوے میں مستقل نوکریاں فراہم کرنے کیلئے ان سے مبینہ طور پر ساڑھے بیس لاکھ روپئے کی رقم لی جبکہ پانچ لاکھ روپئے کی رقم بطور اْدھار لے گئیں لیکن چار سال بعد بھی ان کی رقم واپس ادا نہیں کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب چار سالوں سے وہ یہ رقم واپس ادا نہیں کر رہی ہیں جس کے ثبوت ( بنک سٹیٹمنٹ) ان کے پاس ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ایک تحریری درخواست کرائم برانچ جموں اور ایس ایس پی رام بن کو بھی گئی ہیں لیکن بقول ان کے اس پر کوئی کاروائی نہیں کی گئی ہے۔ اس موقع پر کانگریس کے ایک لیڈر نے بھی ڈی ڈی سی چیئر پرسن پر سخت الزامات لگائے اور اس کنبے سے لی گئی رقم کی کہانی بیان کی اور اس پر کاروائی کی اپیل کی۔ اس سلسلے میں جب ڈی سی چیئر پرسن رام بن ڈاکٹر شمشادہ شان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ بہت پرانا ہے اور اس کی طرف سے اس کنبے پر کی کئی گئی مدد کا اب یہ صلہ دیا جارہا ہے اور اس کیلئے ایک مقامی کانگریس لیڈر سمیت میڈیا کے کئی مخالفین پچھلے کئی مہینے سے کام کر رہے ہیں تاکہ مجھے بلاوجہ کسی نہ کسی طرح سے بدنام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہانی 2014 کی ہے اور یہ زمین جاگیردارنہ طور سے ہوتے ہوئے جھگڑے کا شکار تھی اور اس رقم کو شکایت کرنے والوں نے اپنے نو مخالفین زمینداروں کے ڈر کی وجہ سے میرے بنک کھاتے میں ڈالا تھا اور یہ رقم ریلوے کی زد میں آنے والی ان کی زمین کا معاوضہ تھا اور یہ معاملہ کورٹ میں بھی رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الزام لگانے والوں کے کہنے پر ہی یہ رقم میرے اکاؤنٹ سے ہوتے ہوئے بعد میں ان کو ادا کی گئی تھی کیونکہ وہ زمین کے آپسی جھگڑے کی وجہ سے اس رقم کو میرے کھاتے سے بائی پاس کرکے گئے ہیں کیا اور اسوقت کے سرکاری ملازمین سمیت اس کے کئی گواہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے گول سنگلدان کے علاقوں میں سینکڑوں لوگوں کو ریلوے میں روزگار فراہم کرنے کیلئے کام کیا ہے اور الزام لگانے والے شمس الدین نائیک اور محمد افضل نائیک کے ایک ایک بیٹے کو بغیر کسی معاوضے کے ریلوے میں نوکری فراہم کرائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساڑھے بیس لاکھ روپئے کی رقم نوکری کے کسی اعلیٰ عہدے کیلئے بھی درکار نہیں ہو گی اور اگر وہ رشوت لیتی تو وہ اسے اپنے بنک کھاتے میں کیوں ڈالتیں۔