نیشنل کانفرنس لیڈران کاسرحدی علاقوں کادورہ
جموں//نائب صدرجموں کشمیرنیشنل کانفرنس ایس گردیپ سنگھ ساسن نے صوبہ جموں کے تفصیلی دورے کے دوران آرایس پورہ کے سرحدی علاقوں کاجائزہ لے کر سرحدی گولہ باری سے متاثرہ علاقوں مثلاً عبدلیاں، رنگ پور، سچیت گڑھ، بگا، سیرین وغیرہ کے لوگوں کے ساتھ ملاقات کی اوران کی پریشانیوں کے بارے میں جانکاری حاصل کی۔مختلف مقامات پرعوامی میٹنگوں سے خطاب کرتے ہوئے پی ڈی پی اوربی جے پی حکومت پرعوام کے مسائل اورسرحدی لوگوں کی پریشانیوں کودورکرنے میں ناکام رہنے کاالزام عائد کیا۔ انہوں نے کہاکہ سرحدی علاقوں میں لوگ اپنے گھربارکوچھوڑکرمشکلات جھیل رہے ہیں لیکن افسوس ہے کہ حکومت انہیں سہولیات فراہم کرنے میں بھی کوئی بھی دلچسپی ظاہرنہیں کی رہی ہے۔ساسن نے سرحدی مکینوں کومعاوضہ دینے کامطالبہ کیا۔انہوں نے کہاکہ نام نہادترقی پسندلیڈروں نے سرکاری مشینری کوجام کرکے رکھاہواہے جس کی وجہ سے عوام مشکلات سے دوچارہے۔دورے کے دوران دلجیت شرما ضلع صدررورل وومن ونگ نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ عوام کی حقیقی نمائندہ جماعت نیشنل کانفرنس کوتعاون دیں اورموقعہ پرست جماعتوں کے خلاف ووٹ دیں اورنیشنل کانفرنس کے امیدواروں کوکامیاب کریں۔اس دوران راکیش شرما، جنک راج، نینادیوی، دویندرسنگھ،پرنس شرماودیگران نے بھی خیالات کااظہارکیا۔
ایس ای سی سی کی ڈاٹاکی تکمیل کیلئے اقدامات
سانبہ ضلع میں96 گرام سبھائوں کاشیڈول جاری
جموں//ضلع انتظامیہ سانبہ نے ایس ای سی سی ڈاٹا کے ادھورے کام کوپایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے خصوصی گرام سبھائوں کے انعقادکاشیڈول جاری کیاہے۔تفصیلات کے مطابق دیہی ترقی انتظامیہ کے مطابق پی ایم اے وائی کے تحت مالی امداد فراہم کرنے کے لئے باقی ماندہ مستحق معاملوںکو ایس ای سی سی ڈاٹامیں شامل کرنے کا معاملہ وزیر برائے دیہی ترقی ، پنچایت راج ، قانون و انصاف عبدالحق خان اور مرکزی سر کار کے ساتھ باقاعدگی کے ساتھ اٹھایاجاتا رہا ہے ۔ 15فروری 2018کو محکمہ دیہی ترقی کا جائزہ لینے کی غرض سے مرکزی وزیر برائے دیہی ترقی نریندرا سنگھ تومر کی جانب سے طلب کی گئی ایک میٹنگ کے دوران بھی یہ معاملہ اٹھایا گیا تھا اور یہ فیصلہ لیا گیا کہ باقی ماندہ تمام مستحق معاملوں ایس ای سی سی ڈاٹا میں شامل کرنے کے لئے ریاست بھر میں سپیشل گرام سبھائوں کا انعقاد کیا جائے گاتاکہ ان معاملوں کو حتمی صورت دی جاسکے۔ان گرام سبھائوں کے انعقاد کے لئے 19فروری سے 27فروری تک کا ایک شیڈول جاری کیا گیا ہے جسے مقامی اخبارات میں شائع کرنے کے علاوہ عوامی مقامات پر پوسٹر بھی چسپاں کئے گئے ہیںتاکہ ہر خاص عام اس بارے میں آگا ہ ہوسکے۔اس سلسلے میں بلاک گھگوال کی پنچائت نونتھ میں صرف ایک گرام سبھا کا انعقاد ہوسکا۔ جس کی صدارت اسسٹنٹ کمشنر ڈیولپمنٹ سانبہ اعجاز قیصر نے کی ۔جس میں ہر مکتبہ خیال کے لوگوں کے علاوہ ضلع پنچائت آفیسر پرویز نائک ، بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر گھگوال بھوانی اتری نے بھی شرکت کی ۔ اس میٹنگ کے دوران باقی ماندہ تمام مستحق افراد کی فہرست تیار کرکے اسے حتمی شکل دی گئی اس فہرست حتمی منظوری کے لئے ضلع ترقیاتی کمشنر سانبہ کو پیش کیا جائے گا ضلع میں کل 96گرام سبھائوں کا انعقاد کی جائے گاجس کے تحت 9بلاکوں پر مشتمل 96 پنچائیتوں کو لایا جائے گا ۔
گرلزہائرسکینڈری سکول ریہاڑی میں ورکشاپ کاانعقاد
جموں//گرلز ہائر سکیڈری سکول ریہاڑی جموں میںواٹر اینڈ سینی ٹیشن سے متعلق کانسٹی چیونسی سطح کی ایڈوکیسی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے ست شرما ایم ایل اے ویسٹ نے وزیر اعظم کے صحت و صفائی کے پروگرام کو من و عن عملی جامہ پہنانے کی ضرورت پر زور دیا ۔ اس ورکشاپ کا اہتمام نیشنل ڈیولپمنٹ فائونڈیشن جموں و کشمیر نے محکمہ پی ایچ ای ، آبپاشی و فلد کنٹرول کے اشتراک سے کیا ہے ۔ ایس ای پی ایچ ای اربن سرکل جموںاجے وزیر نے اس موقعہ پر نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا جبکہ ایگزکیٹوانجیئنرپی ایچ ای ڈوثزن سٹی نے شکریہ کی تحریک پیش کی ۔صاف و شفاف پانی اور اس کے منصفانہ سے متعلق جن ریسورس پرسنز نے اپنے خیالات کا اظہار کیاان میںانجینر پی کے نندا ، ڈاکٹر شاہد شامل ہیں ۔اس موقعہ پر سی ڈی پی اومائی گرنٹ جموںنہاگپتا،محکمہ پی ایچ ای کے اہلکار ، سیکٹورل آفیسرز،آنگن واڑی و آشا ورکرزاور معزز شہری بھی موجود تھے۔ست شرما نے اس موقعہ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس قسم کی ورکشاپوں کا اہتمام کرنے کے لئے متعلقین کو مبارک باد پیش کی۔
پی ۔ایچ ڈی ڈگری تفویض
جموں//مختار احمد ولد عبدالعزیز وبشیرہ بی محلہ ڈونگس وارڈ نمبر ۳ پونچھ کو شعبۂ اردو جموں یونیورسٹی کی طرف سے پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری تفویض کی گئی ہے ۔مذکورہ ریسرچ اسکالر کے تحقیقی مقالے کاموضوع ’’ممتاز مفتی :فکر وفن‘‘تھااورانہوں نے اسسٹنٹ پروفیسرشعبہ اُردوجموں یونیورسٹی ڈاکٹر عبدالرشید منہاس کی زیر نگرانی مقالہ مکمل کیا۔
روہنگیائی بچوں کے سرکاری اسکولوں میں داخلے پرپنتھرس پارٹی کااعتراض
یو این آئی
جموں//جموں وکشمیر نیشنل پنتھرس پارٹی نے جموں میں مقیم روہنگیا پناہ گزینوں کو ریاست کی سیکورٹی اور آپسی بھائی چارہ کے لئے خطرہ قرار دیتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کو فوراً سے پیشتر جموں سے باہر نہیں نکالا گیا تو پنتھرس پارٹی جموں سے قومی راجدھانی دہلی تک احتجاجی مہم چھیڑ دے گی۔ پنتھرس پارٹی کا یہ بیان حکمران جماعت پی ڈی پی کے ترجمان اعلیٰ محمد رفیع میر کے بیان کہ ’جموں میں روہنگیا پناہ گزینوں کے قیام کو مذہب کی عینک سے نہ دیکھا جائے‘ کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔ پنتھرس پارٹی کے درجنوں کارکنوں نے جمعرات کو یہاں چیئرمین ہرش دیو سنگھ کی قیادت میں روہنگیا اور بنگلہ دیشی پناہ گزینوں کی جموں میں موجودگی کے خلاف احتجاج کیا۔ احتجاجی کارکنوں جنہوں نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈس اٹھا رکھتے تھے، نے اس موقعہ پر بی جے پی کا پتلا نذر آتش کیا۔ انہوں نے ’این سی، پی ڈی پی، بی جے پی ، کانگریس روہنگیا کو جموںمیں بسانا بند کرو بند کرو۔ روہنگیا بنگلہ دیشی جموں چھوڑ دو جموں چھوڑ دو‘ کے نعرے لگائے۔ ہرش دیو سنگھ نے احتجاج کے حاشئے پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی سرکار پناہ گزینوں کو تمام سہولیات بشمول بجلی ، پانی اور ان کے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں داخلہ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اہلیان جموں کو ایک جٹ ہوکر ان پناہ گزینوں کو جموں بدر کرنا ہوگا۔ ہرش دیو سنگھ نے کہا ’روہنگیا پناہ گزینوں کو جموں میں بسانے کے لئے جتنا کانگریس ذمہ دار ہے اتنا ہی بی جے پی بھی ہے۔ جہاں کانگریس کے وقت انہیں یہاں بسایا گیا، وہیں بی جے پی سرکار نے ان کو پناہ گاہیں فراہم کیں۔ ان کو بجلی اور پانی کے کنکشن دیے گئے۔ ان کے آدھار کارڈ بنائے گئے۔ سرکاری اسکولوں میں ان کے بچوں کو داخلہ دیا گیا۔ ان کے اسٹیٹ سبجیکٹ تک بنائے گئے‘۔ انہوں نے کہا’ گذشتہ برس اسمبلی اجلاس کے دوران اس بات کا خلاصہ ہوا تھا کہ ان کو اسٹیٹ سبجیکٹ بھی فراہم کئے گئے ہیں۔ بی جے پی پی ڈی پی سرکار نے کہا تھا کہ اسٹیٹ سبجیکٹ فراہم کرنے والے عہدیداروں کے خلاف کاروائی کی جائے گی ، لیکن اس سرکار کی طرف سے کوئی ایکشن نہ لئے جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ بی جے پی نے کشمیری جماعتوں کی دباؤ میں آکر ان روہنگیا پناہ گزینوں کو پورا سپورٹ دینا شروع کردیا ہے۔ ایسا نظر آرہا ہے کہ حکومت ان کو مستقل طو رپر بسانا چاہتی ہے۔ پنتھرس پارٹی اس کی کڑی مذمت کرتی ہے‘۔ پنتھرس پارٹی چیئرمین نے کہا کہ اہلیان جموں کو ایک جٹ ہوکر ان پناہ گزینوں کو جموں بدر کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا ’ہم یہاں کی سول سوسائٹی ، دانشور طبقہ اور نوجوانوں سے اپیل کرنا چاہتے ہیں کہ روہنگیا پناہ گزینوں کے خلاف ان گنت کرمنل کیسز درج ہیں اور ان کا یہاں رہنا آنے والے وقت میں سیکورٹی کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ ثابت ہوسکتا ہے۔ سنجوان ملٹری کیمپ پر گذشتہ ہفتہ ہوئے فدائین حملے میں ان کی شمولیت ثابت ہوئی ہے۔ چونکہ بی جے پی نے پی ڈی پی کے سامنے سرینڈر کردیا ہے، میرا ماننا ہے کہ جموں کے لوگوں کو ایک جٹ ہوکر ان لوگوں کو یہاں سے نکالنا ہوگا‘۔ مسٹر ہرش دیو نے روہنگیا پناہ گزینوں کو ریاست میں آپسی بھائی چارے کے لئے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ’یہ لوگ ہمارے آپسی بھائی چارہے کے لئے ایک بڑا خطرہ ہیں۔ ان کو اگر جلد سے جلد یہاں سے نہیں نکالا گیا تو پنتھرس پارٹی اس مہم کو جموں سے دہلی تک لے جائے گی‘۔ پنتھرس پارٹی کے اس بیان سے قبل پی ڈی پی ترجمان اعلیٰ محمد رفیع نے ایک انگریزی روزنامے کو بتایا کہ روہنگیا پناہ گزینوں کے خلاف چلائی جارہی نفرت آمیز مہمات پریشان کن اور قابل مذمت ہیں۔ واضح رہے کہ بی جے پی اور پنتھرس پارٹی پہلے سے ہی جموں میں روہنگیائی مسلمانوں کی موجودگی کے خلاف ہیں۔ جموں میں اگرچہ مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے قریب تین لاکھ رفیوجی بھی رہائش پذیر ہیں، تاہم بی جے پی اور پنتھرس پارٹی انہیں ہر ایک سہولیت فراہم کئے جانے کے حق میں ہیں۔ حکومتی اعداد وشمار کے مطابق جموں کے مختلف حصوں میںمقیم میانمار کے تارکین وطن کی تعداد محض 5 ہزار 700 ہے۔ یہ تارکین وطن جموں میں گذشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ سے مقیم ہیں۔ گذشتہ برس فروری کے اوائل میں جموں شہر میں چند ہورڈنگز نمودار ہوئیں جن کے ذریعے پنتھرس پارٹی کے لیڈروں نے روہنگیائی اور بنگلہ دیشی مسلمانوں کو جموں چھوڑنے کے لئے کہا تھا۔ مرکزی سرکار کی جانب سے گذشتہ برس سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ دائر کیا گیا جس میں روہنگیا مسلمانوں کو ملک کی سلامتی کے لئے سنگین خطرہ قرار دیا گیا۔ تاہم نیشنل کانفرنس کے کارگذار صدر اور ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ جموں وکشمیر میں یہ خطرہ مابعد 2014 ء پیش رفت کا پیدا کردہ ہے۔
پٹوار ایسو سی ایشن کی ہڑتال دوسرے روزبھی جاری رہی
جموں//پٹوار ایسو سی ایشن کی طرف سے اپنے مطالبات کے حق میں شروع کی گئی چارروزہ علامتی ہڑتال دوسرے روزبھی جاری رہی۔۔ ڈی سی دفترجموں کے احاطے میںایسو سی ایشن کے عہدیداران بشمول ریاستی صدرپٹوارایسوسی ایشن سجادصدیقی، سینئر نائب صدر مشتاق احمدگنائی ،چیف آرگنائزیشن شاہ اقبال ،ونے کمار،صوبائی صدرفاروق ملک سابق ریاستی صدررمن راج شرما، صوبائی عہدیداران ، ضلع صدرجموں کلیم احمد، ضلع صدرسانبہ محمدامجدملک ودیگران نے احتجاج کیا۔اس سلسلے میں زعمائوں کا کہنا ہے کہ متعلقہ حکام کے ساتھ کی جانے والی میٹنگیں ناکام رہی ہیں جس کے نتیجہ میں وہ اپنی مانگوں کو منوانے کے لئے ہڑتالی روش اپنانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ان کی مانگ ہے ہے کہ گریجویٹ پٹواریوں کی گریڈ پے 2400سے بڑھا کر 2800کی جائے، پچھلے چار برس سے پٹواریوں اورگرداوروں کی ڈی پی سی منعقدکی جائے، نائب تحصیلداروں کی راست بھرتی کا سلسلہ بند کیا جائے، ان کے الائونسوں میں اضافہ کرنے کے علاوہ جن مقامات پر پٹوار خانے تعمیر نہیں ہیں وہاں کرایہ پر عمارتیں مہیا کروائی جائیں ، محکمہ جاتی انکوائری سیل کو فعال بنایا جائے ۔
پروفیسربھیم سنگھ کی فائرنگ کامعاملہ سلامتی کونسل میں اُٹھانے کی تجویز
جموں//نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی پروفیسر بھیم سنگھ نے ہندستان کے صدر پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر آئین کی دفعہ 92 کے تحت جموں و کشمیر میں سیاسی بحران اور دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لئے جموں و کشمیر حکومت کو فوری طور پر تحلیل کردیں، جس سے پورے ملک کے امن اور قومی اتحاد کو خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ پروفیسربھیم سنگھ نے پی ڈی پی-بی جے پی حکومت پر ریاست کی موجودہ صورتحال کے لئے ذمہ دار ہونے کا الزام لگایا۔پروفیسربھیم سنگھ نے ہندستان کے صدر سے درخواست کی کہ وہ آج صبح قابل اعتماد نیوز ایجنسیوں کے ا سپانسر اخبارات کی رپورٹوں پر نظر ڈالیں، کیونکہ پورا ہندستان صدر کے ایک مضبوط فیصلہ کا انتظار کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سیاسی پارٹی یا دوسرے پر الزام لگانے یا الزام لگا کر سیاسی جماعتوں کو اپنے ووٹ کو بڑھانے میں مدد نہیں کرنی چاہئے، کیونکہ پورا ملک سیاسی حالات میں فوری تبدیلی کا انتظار کر رہا ہے اور یہ تبھی ممکن ہے، جب جموں و کشمیر میں امن بحال ہو گا۔پروفیسر بھیم سنگھ نے صدر سے درخواست کی کہ اڑی، بارہمولہ، تھجال، تلواڑی، چرانڈا میں صورتحال کا جائزہ لیں جہاں لوگوں کو ان کے گھروں سے جانے کو میڈیا کی طرف سے دکھایا جارہا ہے۔ کشمیر میں حکومت کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ '' ہم نے متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو نکالنے کے لئے کئی گاڑیاں رکھی ہیں۔ اگر ہنگامی صورت حال میں اضافہ ہوا تو ایمبولینسیں تیار ہیں۔ '' سرحدی اضلاع، پونچھ، راجوری اور جموں کی صورتحال بارہمولا اور اننت ناگ سے بھی خراب ہے۔انہوں نے صدر سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کا معاملہ سلامتی کونسل میں اٹھانے کی درخواست کی۔
کلاکیندرمیں مصوری نمائش کا افتتاح
ریاست کے ثقافتی اور ادبی ورثے کو تحفظ دینے کی ضرور ت :ہانجورہ
جموں/زراعت کے وزیر غلام نبی لون ہانجورہ نے کلا کیندر جموں میں مصوری نمائش کا افتتاح کیا جس کا اہتمام جموں وکشمیر کلچرل اکیڈیمی نے سہ روزہ کلچرل فیسٹول کے تحت کیا ہے ۔اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ ریاست کے گونا گوں ثقافتی اور ادبی ورثے کو نئی پود میں عام کرنے کے ساتھ ساتھ اس سے مستقبل کے لئے بھی تحفظ دیاجانا چاہیئے۔اس موقعہ پر وزیر نے مصوری فن پاروں کا غور سے معائینہ کیا ۔انہوں نے ریاست کے تینوں خطوں میں ثقافتی سرگرمیاں عمل میں لانے اور مقامی ٹیلنٹ کو اُجاگر کرنے کے لئے اکیڈیمی کی ستائش کی۔اس دوران کلچرل اکیڈیمی کے سیکرٹری ڈاکٹر عزیز حاجنی نے کہا کہ اکیڈیمی ریاست بھر میں اس طرح کے پروگراموں کا انعقاد کر رہی ہے تاکہ ثقافتی ورثے کو تحفظ دیا جاسکے ۔انہوں نے مزید کہا کہ اکیڈیمی کشمیرمیں عنقریب ہی ایک آر گیلری قائم کرے گی۔اس موقعہ پر کئی اہم دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔
بے گھررفیوجی کنبوں کی یک مُشت بازآبادکاری
جاوید مصطفی میر نے عمل کی پیش رفت کا جائزہ لیا
جموںڈیزاسٹر منیجمنٹ ، امداد و باز آباد کاری کے وزیر جاوید مصطفی میر نے ایک میٹنگ کے دوران پی او جے کے اور چھمب کے بے گھر کنبوں کی ایک بار سٹلمنٹ کے لئے مرکزی معاونت کے تحت ہو رہی پیش رفت کا جائزہ لیا۔سکیم کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ یہ سکیم ریاست کے لئے وزیر اعظم ترقیاتی پیکیج کا ایک اہم حصہ ہے جس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ رفیو جی کنبے چھوٹے کار خانے چلانے کے ساتھ ساتھ کاشتکاری کریں یا مویشیوی پالیں تاکہ انہیں کچھ آمدن حاصل ہوسکے ۔اس سکیم میں ریاستی حصہ 308روپے ہوگا جبکہ مرکز کا حصہ 549692روپے ہوگا اور یوں ہر ایک بے گھر کنبے کو 5.5لاکھ روپے کی معاونت دی جائے گی۔ وزیرنے اس سکیم کی تفصیل محکمہ کی ویب سائٹ پر اَپ ڈیٹ کرنے کی بھی ہدایت دی۔انہوں نے متعلقہ ترقیاتی کمشنروں کو ہدایت دی کہ وہ اس سکیم کے لئے اہل بے گھر کنبوں کی جانچ کریں تاکہ تیز تر بنیادوں پر ایک شفاف طریقے پر اُن کے معاملات نمٹائے جاسکیں۔التوا میں پڑے معاملات کے فوری نپٹارے کے حوالے سے وزیر نے چیف سیکرٹری کو ہدایت دی کہ وہ یہ معاملہ مرکزی وزارت داخلہ کے ساتھ اٹھائے ۔انہوں نے نوڈل افسروں سے کہا کہ وہ مستحقین کی فہرستیں اپنے اپنے دفاتر میں چسپاں کریں۔ڈویژنل کمشنر جموں ہمنت کمار ، ڈپٹی کمشنر جموں راجیو رنجن ، ڈپٹی کمشنر سانبہ شتیل نندا کے علاوہ کئی دیگر افسران بھی اس موقعہ پر موجود تھے۔