وزیراعلی کے ہاتھوں محکمہ اعلی تعلیم کے دو تخلیقی مجّلوں کا اجراء
محکمہ اعلی تعلیم کے کابینہ وزیر سید الطاف بخاری، نائب وزیر پریا سیٹھی، چیف سیکرٹری بی بی ویاس، پرنسپل سیکرٹری محکمہ اعلی تعلیم ڈاکٹر اصغر حسن ساموں اور فائنانس سیکرٹری نوین چودھری کے علاوہ متذکرہ تمام اعلی تکنیکی تعلیمی اداروں کے سربراہان نے شرکت کی..اس موقعہ پر جہاں محکمہ اعلی تعلیم سے جڑے مختلف معاملات اور سرگرمیوں کا وزیر اعلی نے جائزہ لیا وہیں محکمہ اعلی تعلیم کی جانب سے تقریباً ہر شعبے میں متعارف کئے جا رہے تحقیقی مجلوں میں سے دو شعبوں حساب اور کمپیوٹرس کے تحقیقی جرنلز کا اجراء کیا گیا، ان دونوں کتابوں کا یہ افتتاحی شمارہ ہے، جرنلز کی اشاعت کے اسی تسلسل میں، اس کے بعد مختلف زبانوں میں بھی تحقیقی جرنلز متعارف کئے جا رہے ہیں، اردو ہندی انگریزی سنسکرت عربی پنجابی ڈوگری کشمیری فارسی کے علاوہ سوشل سائنس اور دیگر سائنسی اور تکنیکی مضامین میں بھی ان مجلوں کو تیار کیا جا رہا ہے اس موقعہ پر اصغر حسن ساموں کے اس تصور کی خوب تعریف کرتے ہوئے وزیراعلی محبوبہ مفتی نے تحقیقی جرنلز کے اجراء کی اس پہل کو تعلیم کے سیکٹر میں ترقی کے حوالے سے ایک اہم قدم کہاوزیر تعلیم سید الطاف بخاری نے بھی اس بات کا اظہار کیا کہ اساتذہ کے تحقیقی جوہر کو متحرک رکھنے میں یہ جرنل اور مجلے کلیدی حیثیت کے حامل ہیں،،بے شک اصغر صاحب ایک بہت تاریخی کام کرنے جا رہے ہیں.. ڈاکٹر اصغر حسن ساموں نے اس میٹنگ میں جہاں ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے متعلق تمام سرگرمیوں کے بارے میں ایک تفصیلی ڈاکومنٹ پیش کیا وہیں انہوں نے ان درجنوں جرنلز کے بیک وقت آغاز کی وجوہات پر بھی کھل کے روشنی ڈالی..اصغر ساموں نے کہا کہ یہ جرنلز جہاں اپنے اپنے مضمون کی تازہ ترین تحقیقات کا جائزہ لیتے رہیں گے وہیں زبان کلچر ثقافت آرٹ ادب صحافت تاریخ تحقیق کے حوالے سے بھی ریاست و بیرون ریاست ہو رہی پیش رفت کا دستاویزی ریکارڈ جمع کرتے جائیں گے … اصغر ساموں نے کہا کہ محکمہ اعلی تعلیم جہاں قدم قدم پر نیے کالجوں نئی یونیورسٹیوں نیے اداروں کو متعارف کر رہا ہے وہیں طلباء اور ان سے متعلق اساتذہ کے معیار کی بتدریج بہتری میں بھی سنجیدگی سے دلچسپی لے رہا ہے، انھوں نے کہا تعلیم کے بنیادی انفراسٹرکچر کو مضبوط کرنے کے ہی مقابلے پر وہ ذھن بھی تیار کرنا لازمی ہے جو ان اداروں کو عالمی تعلیم کے اداروں کے مقابلے پر لے آے گا ..اصغر ساموں نے جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ بقیہ جرنلز کا کام بھی زور و شور پر جاری ہے، جہاں محکمہ کی اساتذہ ان تحقیقی مراسلوں کو قلم بند کرنے میں مصروف ہیں وہیں ریاست و بیرون ریاست کے ہر اس نامور ادیب محقق نقاد اور مترجم کو بھی ان مجلوں میں مہمان قلم کار کی طور پر شامل کیا جا رہا ہے جو ان حوالوں سے عالمی اور قومی پیمانے کے شہرت کا حامل ہے ، ان جرنلز کی رسائی اساتذہ اور طلباء کے علاوہ عام عوام تک بھی ممکن بنائی جا رہی ہے .. پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر اصغر حسن ساموں کے مطابق بیشتر مجلے مارچ کے وسط تک منظر عام پر آ جاییں گے، جہاں ان مقالوں کو کتابی صورت میں لایا جا رہا ہے وہیں انہیں محکمہ کی ویب سائٹ پر بھی بازابطہ مشتہر کیا جائے گا تا کہ ایک عام طالب علم اور اسکالر بھی ان کا فائدہ لے سکے .. کوشش کی جا رہی ہے کہ محکمہ کی ویب سائٹ کے ذریعہ ملک و بیرون ملک کے تحقیقی مراکز تک بھی ان کتابوں کی رسائی ممکن ہو، تا کہ اسکالر اور قاری اپنی سہولت سے ان کتابوں کو اپنے سسٹم پر محفوظ کر سکیں..
شہدکی مکھیاں پالنے سے متعلق بیداری کیمپ کاانعقاد
روزگارکے پچاس ہزار مواقعے پیداکرنے کامنصوبہ KVIBکے زیرغور:حنابٹ
جموں//حکومت ہند کے ہنی مشن سے متعلق مقامی آبادی کوجانکاری فراہم کرنے کے لیے جموں کے علاقہ گجن سو مڑھ میں شہد کی مکھیاں پالنے سے متعلق ایک روزہ بیداری کیمپ کاانعقاد کیاگیا۔ اس موقعہ پر کھادی اینڈ ولیج انڈسٹریز بورد کمیشن کی چیئرپرسن ڈاکٹرحناشفیع بٹ مہمان خصوصی تھیں جبکہ بی جے پی کے ایم ایل اے سکھ نندن چودھری بطور اعزازی مہمان تھے۔اس کے علاوہ انیل کمارشرمااسسٹنٹ ڈائریکٹرکے وی آئی سی اورعلاقہ کے سرپنچ اورمقامی لوگ بھی موجودتھے۔ڈاکٹرحنابٹ نے کہاکہ کے وی آئی سی نے کسانوں، قبائل اوردیگرلوگوں کے لیے روزگارکے پچاس ہزار مواقعے معرضِ وجود میں لانے کامنصوبہ تیارکیاہے تاکہ بھارت میں اگلے سال کے دوران شہدکی مکھیاں پالنے کے شعبہ کوفروغ مل سکے۔ انہوں نے کہاکہ شہدکی مکھیاں پالنے کے کاروبارسے وابستہ پیشہ ورلوگ سالانہ پچاس ہزارروپے کماسکتے ہیں ۔ڈاکٹرحنانے کہاکہ کے وی آئی سی سے استفادہ کرنے والوں کوبنیادی ڈھانچہ ،ٹریننگ اور پارکنگ کی سہولیات ملک بھرمیں قائم 12 ہزار مراکز کے ذریعہ فراہم کرتاہے ۔تقریب کے دوران وزیراعظم کے ایمپلائمنٹ جنریشن پروگرام کے بارے میں بھی جانکاری فراہم کی گئی۔انیل کمار شرما نے اس سکیم کے خدوخال بیان کرتے ہوئے کہاکہ اس سکیم کامقصد دیہی اورشہری علاقوں کے لوگوں کوروزگارکے مواقعے فرام کرنا ہے ۔شرکاء کوبتایاگیاکہ اس سکیم کوکے وی آئی سی کے وی سی آئی بی اور ڈی آئی سی کے ذریعہ عملی جامہ پہنایاجائے گا۔
سوامی انوراگا نندپوری آشرم کے ٹرسٹیوں کااجلاس
ٹرسٹ مخالف بیانات کی مذمت،قانونی کارروائی کافیصلہ
جموں//سوامی انوراگا نندپوری آشرم ؍ٹرسٹ مٹھی میرہ کے ٹرسٹیوں اورممبران نے جے اینڈکے سنت سماج کے صدراورکثیرتعدادمیں لوگوں کی موجودگی میں انودیوی نامی خاتون اوراس کے ساتھیوں کی طرف سے ٹرسٹ کے ممبران وعہدیداران کے خلاف دیئے گئے بیان کی شدیدالفاظ میں مذمت کی۔ یہاںجاری پریس ریلیزکے مطابق ایک میٹنگ کے دوران مقررین نے کہاکہ مٹھی میرا تحصیل اکھنور کے مقام پرواقع آشرم میں سوامی انوراگا پوری جی مہاراج کے نام پرٹرسٹ قائم کیاگیاہے ۔یہ ٹرسٹ بھی سیلان والی ،کھوڑ، پرگوال ،مڑھ وغیرہ میں قائم ٹرسٹوں کی طرز پرہی کام کرے گااورضرورت مندوں کوامدادفراہم کرنااس کااہم مقصد ہے۔مقررین نے کہاکہ اس ٹرسٹ کوباقاعدہ طورپرذمہ داراتھارٹی سے رجسٹرڈ کروایا ہے لیکن ایک خاتون انودیوی ٹرسٹ کے کام میں بلاجوازمداخلت کرنے کے ساتھ ٹرسٹ کے خلاف بیان بازی کررہی ہے جس کی وجہ سے عقیدت مندوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ انودیوی کاٹرسٹ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اوراپیل کی گئی ان کے کسی بھی بیان پرتوجہ نہ دی جائے۔آشرم کے سنت نے کہاکہ انودیوی اوراس کے ساتھی پہلے ہی کچھ مجرمانہ جرائم میں ملوث ہیں جن کے بارے میں سب جانتے ہیں۔اس دوران ٹرسٹیوں اورٹرسٹ صدرنے فیصلہ لیاکہ انودیوی اوراس کے ساتھیوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
کرگل میںایرانی انقلاب اسلامی کی برسی پرتقریب
کرگل ؍؍اسلامی جمہوری ایران کے انتالیسویں سالگرہ یوم اللہ دنیابھر کی طرح ضلع کرگل میں بھی نہایت جوش وخروش سے منایا گیا ۔جس میںکثیرتعداد میں عاشقان ولایت وپیروان انقلاب نے شرکت کی ۔ذرائع کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے یوم آزادی یعنی یوم اللہ کے مناسبت سے گیارہ فروری کی شب شروع ہوتے ہی ضلع بھرمیںجگہ جگہ چراغان کرکے طاغوتی نظام حکومت کی زوال اور اسلامی حکومت کی فتح وکامرانی پر جشن منایا ،اس سلسلے میں ضلع صدر مقام کرگل میں امام خمینی میموریل ٹرسٹ کرگل کے زیر اہتمام نکالئے گئے ۔جس میں کرگل قصبے کے گردونواح سے تعلق رکھنے والے ہزاروں لوگوں نے شرکت کرکے انقلاب اسلامی ایران کے شہیدوں کو خراج تحسین اداکیا گیا ۔اس مناسبت سے علی الصبح کرگل قصبے کے ملحقہ دیہاتوں سے عاشقان انقلاب اسلامی ایران نے الگ الگ جلوسوں کی صورت میں کرگل قصبے کا رخ کیا اور نماز ظہر تک یہ جلوس حسینی پارک کرگل میں جمع ہوئے جہاں پر نمازظہرین اداکرنے کے بعد ایک اجتماعی جلوس برآمدہواجو مین بازارلالچوک سے ہوتے ہوئے جامع مسجد سے واپس پھر حسینی پارک پہنچ کر اختتامی جلسہ کے بعد یہ جلوس منتشر ہوا۔جلوس میں شامل لوگوں نے ہاتھوں میں پلے کاڈزاُٹھائے ہوئے تھے جس پہ بانی انقلاب اسلامی ایران حضرت ایت اللہ روح اللہ الخمینی اور مقام معظم رہبری کے عکس چسپان کرنے کے علاوہ اسلام اور اسلامی جمہوری ایران کے حق میں نعرے درج تھے ۔جبکہ جلوس شامل لوگوں نے اسلام اور نظام جمہوری ایران کے حق میں اور استکبار جہان امریکا،اسرائیل اوراس کے اتحادیوں کے خلاف فلک شگاف نعرے بلند کررہے تھے ۔تاہم پبلک پارک کرگل میں اختتامی جلسے سے چیرمین امام خمینی میموریل ٹرسٹ حجتہ الاسلام والمسلمین شیخ محمدصادق رجائی ،نگران کونسل کے چیرمین حجتہ الاسلام والمسلمین شیخ محمدمحقق ،وائس چیرمین امورسیاسی مولاناعباس کرارای اوردیگر لوگوں نے خطاب کیا اس موقع پر چیرمین حجتہ الاسلام والمسلمین شیخ محمد سادق رجائی نے ایران انقلاب کو باطل قوت پر حق کا فتح قرار دیا دیتے ہوئے کہا کہ انقلاب اسلام ایران نے شنہشاہیت کے خاتمہ کرکے ایک نظام ولایت تشکیل دی اورآج دنیا کے استعماری طاقتیں نظام جمہوری اسلامی ایران سے اپنے وجودخطر میں دیکھ رہے ہیں آج دنیاکے مستسقفین چاہئے فلسطین میں ہو،لبنان میں ،یمن میں یا بحرین میں اپنے حق کے لئے لڑرہے ہیں یہ سب انقلاب اسلامی ایران کے بدولت ہیں کیونکہ فی الوقت جمہوری اسلامی ایران آج مستسعفین جہاں کے لئے ظالموں کے خلاف ہمہ وقت تیارہے اورحقیقت میںنظام ولایت مادی کو معنویت میں میں بدل نے ،باطل کو حق کی قبضے میں لانے ،ظلم کو عدل اورانصاف میں بدلنے کاہی نام ہے۔ ادھر انجمن صاحب الزمان کے جانب سے سب ڈو یژن سانکواور تحصیل تے سورومیں بھی یوم اللہ نہایت عقیدت اوراحترام سے منایا گیا،جس میں سخت کڑاکے کے سردی کے باجودبھی عاشقان انقلاب نے ہزاروںکے تعدادمیں شرکت کی ۔ذرائع کے مطابق تحصیل تے سورومیں ۱۱فروری کے شام کو جمہوری اسلامی ایران کے آزادی کے انتالیسویں سالگرہ کے مناسبت سے وادی سوروکے اطراف اکناف میں لوگوں نے چراغان کرکے طاغوتی نظام حکومت کی زوال اور اسلامی حکومت کی فتح وکامرانی پر جشن منایا ۔جبکہ اس سے قبل بسیج بقیتہ اللہ سوروکے جانب سے مکتب مہدیہ تے سورومیں نوجوان بچوں کواسلامی انقلاب سے روشناس کرانے کی غرض سے نقاشی اور مقالہ نگاری کا پروگرام کا اہتمام کیا گیا تھا۔جس میں جماعت ۵ سے لیکر ۱۲ جماعت تک کے طلبہ وطالبات نے شرکت کی ،اور صبح ہوتے ہی سوروکے گوشہ وکنارکے گاوٗں گاوٗں سے لوگ الگ الگ جلوس کی صورت میں آستانے عالیہ تے سورومیں جمع ہوناشروع ہوا۔جلوس میں شامل لوگوں نے ہاتھوں میں انقلابی نعروں سے سجے ہوئے پلے کاڈزاور بینرز اُٹھائے ہوئے اسلامی انقلاب اورجمہوری اسلامی ایران کے حق میں اور غاصہیونی حکومت ،امریکا واسرائیل کے خلاف فلگ شگاف نعرے بلندکررہے تھے ۔ استانے عالیہ تے سوروکے احاطے میں ایک عظیم الشان اختتامی جلسہ منعقدہواجس کا آغازتلاوت کلام پاک سے کیا۔اس کے بعدحجتہ الاسلام آغاسید جعفررضوی ،مولانامنصورعلی اوردیگر لوگوں نے خطاب کرتے ،ہوئے یوم اﷲکی فضیلت پر روشنی ڈالی ۔ادھر کرگل قصبے سے متصل واقع باغ خمینی میں بھی گیارہ فروری کی شب یوم اللہ کے مناسبت سے ایک مجلس منعقدہوا جس میں حجتہ الاسلام شیخ محمدحسن قاسمی نے فلسفہ یوم اللہ کی فضیلت پر روشنی ڈالی ۔
اسمبلی و کونسل کارروائی ،غیر معینہ عرصہ کیلئے ملتوی
نیوز ڈیسک
جموں//جموں وکشمیر قانون سا ز اسمبلی کے سپیکرکویندر گپتا نے اسمبلی کے پروسیجر اینڈ کنڈیکٹ آف بزنسز رول 16کے تحت اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے 27دِن کے بجٹ سیشن کے بعد ایوان کو غیر معینہ عرصہ کے لئے ملتوی کردیا۔ادھر قانون ساز کونسل کے چئیرمین حاجی عنائت علی نے جموں و کشمیر میں رولز آف پروسیجرس اینڈ کنڈکٹ آف بزنس کے رول16 کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے ایوان کی کاروائی کو غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دیا۔اپنے مختصر خطاب میں چئیرمین نے ایوان کی کاروائی کو احسن طریقے سے چلانے کے لئے ممبران کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ403 سٹارڈ سوالات موصول ہوئے جن میں سے356 اُٹھائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ189 موصول ہوئے ان سٹارڈ سوالات میں سے169 بجٹ اجلاس کے دوران اُٹھائے گئے۔انہوں نے کہا کہ موصول ہوئے 4 شارٹ ٹرم سوالات میں سے2 کو اُٹھایا گیا۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح اجلاس کے دوران13 پرائیویٹ ممبرریزلیوشن موصول ہوئے جن میں سے7 پر بحث و تمحیص ہوئی۔چئیرمین نے مزید بتایا کہ موصول ہوئے27 ریزلیوشنز میں سے13 کو بحث کے لئے اُٹھایا گیا جن میں سے2 ریزلیوشن پاس کئے گئے۔انہوں نے کہا کہ موصول ہوئے90 توجہ دلاؤ نوٹسوں میں سے41 کو اجلاس کے دوران اُٹھایا گیا۔انہوں نے کہا کہ موصول ہوئے 21 بلوں کو بھی ایوان نے پاس کیا۔
دو روزہ سیدہ کائنات کانفرنس اختتام پذیر
جموں//ادارہ اسلامیہ فاطمۃ الزہرا کے زیراہتمام دو روزہ سیدہ کائنات کانفرنس اختتام پذیر ہو گئی ہے۔اس دوران کانفرنس ہذامیں کثیرتعدادمیں لوگوں نے شرکت کرکے جیدعلماء کرام کے خطابات سے اپنے قلوب کومنورکیا۔اس موقعہ پرجامعۃ البنات یونیورسٹی حیدرآباد کے سربراہ اعلیٰ مولانا مفتی ڈاکٹر مستان علی مہمان خصوصی تھے۔انہوں نے اسلام میں خواتین کی اہمیت پر ایک مدلل خیالات کااظہارکیا اور ساتھ ہی ساتھ ادارہ اسلامیہ فاطمۃ الزہرا قادری محلہ رگوڑہ سدرہ جموں میں جامعۃ البنات یونیورسٹی کا مرکز قائم کرنے کا اعلان کیا جس سے ادارے کی طالبات اور دوسرے طالبِ علم بھی فائدہ حاصل کر پائیں گے جس میں مولوی ،منشی اور منشی کامل دوسالہ کورس شامل ہیں کانفرنس کے مقرر خصوصی حضرت مولانا مفتی صغیر احمد جوکھن پوری بریلی شریف سے تشریف لائے تھے۔علاوہ ازیںکانفرنس ہذامیں کئی سیاسی شخصیات نے بھی شرکت فرمائی جن میں سابقہ وزیر اور ممبر اسمبلی کنگن میاں الطاف احمد صاحب اور گوجر بکروال ایڈوائزری بورڈ کے سابقہ وایس چیئرمین چوہدری ظفر علی کھٹانہ ودیگران شامل ہیں۔میاں الطاف احمد نے ادارہ فاطمۃ الزہرا سے فراغت حاصل کرنے والی طالبات میں اسناد تقسیم کئے۔اس موقعہ پر کانفرنس کی صدارت اور نگرانی مولانا مفتی نذیر احمد قادری سربراہِ اعلیٰ ادارۂ اسلامیہ فاطمۃ الزہرا فرما رہے تھے اورانہوں نے کانفرنس میں شرکت کرنے والے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔
نٹرنگ کاڈراما کالگ ہودافیسٹیول ممبئی میں پیش
جموں//نٹرنگ نے اُس وقت ایک نیاسنگ میل طے کیاجب ریاست جموں وکشمیرکے پہلے گروپ نے ’’اروشی ٹھاکور‘کی ہدایت کاری کے تحت کالگ ہودافیسٹیول ممبئی میں ’ان ہرشوز ‘‘ڈراماپیش کیا جسے ناظرین نے بہت پسند کیااورسراہا۔ اس ڈراما کی کہانی ایک تعلیم یافتہ اورخوبصورت لڑکی پرمشتمل تھی جوکہ ہمیشہ اچھے اورمعیاری پوشاک کی عادی ہوتی ہے کیونکہ وہ گھر کی اکلوتی اولاد ہوتی ہے اسی لیے اس سے سبھی پیارکرتے ہیں ۔لاڈ پیارمیں پڑھ لکھ کر جوان ہوئی اس لڑکی کے اپنے خیالات ،اپنی ایک سوچ ہوتی ہے اوروہ کسی کی سوچ اورخیالات ہرگزقبول کرنے کے لیے راضی نہیں ہوتی ۔جن فنکاروں نے اس ڈرامامیں حصہ لیاان میں انم ملک ، اروشی ٹھاکوررانا ، وریندرشرما،گوتم شرما، پرشوتم شرما ،منوج کمارللوترہ، اوردیگران شامل ہیں۔
سرکاری سکولوں کے نتائج میں بہتری کیلئے اقدامات
پروفیسر مٹو کی صدارت میں کمیٹی میٹنگ منعقد
جموں//وزیر اعلیٰ کے مشیر پروفیسر امیتابھ مٹو نے سرکاری سکولوں کے نتائج میں بہتری لانے کے سلسلے میں حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی کی میٹنگ کی صدارت کی۔میٹنگ میں سکولی تعلیم کے سیکرٹری فاروق احمد شاہ، ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن جموں، سپیشل سیکرٹری اعلیٰ تعلیم اور جوائنٹ ڈائریکٹر پلاننگ برائے سکولی تعلیم بھی موجود تھے۔میٹنگ میں فیصلہ لیا گیا کہ ریاست کے 200 ایجوکیشنل زونز سے100 ہیڈ ماسٹر اور100 ماسٹروں کو ماسٹر ٹریننگ کے لئے بیرون ملک بھیجا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ قدم ریاست کے سرکاری سکولوں میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے معاون ثابت ہوگا۔میٹنگ میں یہ بھی فیصلہ لیا گیا کہ ریاست میں تعلیمی معیارمیں مزید بہتری لانے کے لئے کچھ سرکاری سکولوں کا کام کاج پبلک پرائیویٹ پارٹنر شِپ موڈ کے تحت ہاتھ میں لیا جائے گا ۔امیتابھ مٹو نے سرکاری سکولوں میںمعیار تعلیم کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے سرکاری سکولوں میں مسابقتی تعلیمی نظام کو بھی معروض وجود میں لانے کی ضرورت پر زور دیا۔سیکرٹری سکولی تعلیم نے سرکاری سکولوں میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لئے محکمہ کی جانب سے اُٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں جانکاری دی۔ انہوں نے بتایا کہ غیر تسلی بخش کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے تعلیمی اداروں کے41 ہیڈ ماسٹروں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی گئی ہے۔
سنجواں حملے میں فوجیوںکی ہلاکت پر پنتھرس پارٹی کا اظہارافسوس
جموں//جموں وکشمیر نیشنل پنتھرس پارٹی کی جموں ،گاندھی نگر ہیڈکوارٹر میں ہوئی ایک میٹنگ میں گزشتہ روز سنجوان (جموںکے شہر) میں دہشت گردانہ حملہ ایک شہری سمیت پانچ فوجیوں کی ہلاکت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیاگیا۔پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی پروفیسر بھیم سنگھ نے امن پسند شہر جموں میں ایک شہری سمیت پانچ فوجیوں کی سفاکانہ اور غیرانسانی ہلاکت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔تعزیتی پیغام میں صدر جمہوریہ رامناتھ کووند پر زور دیا گیا کہ جموں وکشمیر میں گورنر راج لگایا جائے جہاں کی حکومت خواتین او ر فوجیوں سمیت معصوم شہریوں کو تحفظ فراہم کرانے میں مکمل ناکام ثابت ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں معصوم لوگوں کی ہلاکت اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاستی پولیس اور انتظامیہ قاتلوں کے سفاکانہ حملہ سے معصوم لوگوں یہاں تک کہ فوجیوں کی جانوں کی حفاظت کرنے میں ناکام ہیں۔پروفیسر بھیم سنگھ نے ریاست کی وزیراعلی محبوبہ مفتی سے فوری طورپر استعفی کا مطالبہ کیا، جن کی حکومت جموں میں معصوم لوگوں کوتحفظ فراہم کرانے میں ناکام رہی ہے۔انہوں نے وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ سے بھی کہا کہ وہ جموں وکشمیر کی صورتحال کو سمجھیں جس سے انہیں ریاست کے گورنر نے واقف کرایا ہے۔ انہو ںنے جموں وکشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں سے ریاست میں گورنر راج لگوانے کے لئے متحدہونے کی اپیل کی جو ریاست کے لوگوں کو مزید اموات اور تباہی سے بچانے کا واحد راستہ ہے۔میٹنگ میں موجود لوگوں میں پنتھرس پارٹی کے چیرمین ہرشدیو سنگھ، صدر بلونت سنگھ منکوٹیا، پی کے گنجو ، چودھری محمد اقبال ، مسٹر بنسی لال شرماایڈوکیٹ، جنرل سکریٹری انیتا ٹھاکر،کوآرڈی نیشن سکریٹری جگدیو سنگھ ، سریش گپتا، اے، ایس پرمجیت سنگھ مارشل ، نریش چب، شنکرسنگھ چب گگن پرتاپ سنگھ پرشوتم پریہار، ٹھاکر وریندر سنگھ اور دیگر موجود تھے۔