گل چین سنگھ چاڑک نے کٹھوعہ میں عوامی مسائل سنے
جموں// ڈوگرہ صدر سبھا کے صدر گل چین سنگھ چاڑک نے تنظیم کے دیگر ممبران کے ہمراہ کھٹوعہ کا دورہ کیا ۔اس دوران انہوں نے ایک پبلک دربار سے خطاب کیااور لوگوں کے مسائل بھی سنے ۔ میٹنگ کے دوران لوگوں کو اس بات کا یقین دلایا گیا کہ ان کے مسائل پر غور کیا جائے گا اور علاقہ میں ڈوگرہ برادری سے تعلق رکھنے والے تمام سیاسی و سماجی معاملات پر غور کیا جائے گا تا کہ علاقہ میں امن و امان کے ساتھ ساتھ آپسی بھائے چارہ قائم رہے ۔سبھا کے صدر کے ہمراہ نائب صدر کولکرن سنگھ جموال اور دوسرے عہداداران موجود تھے ۔اس دوران کٹھوعہ چپٹر کے صدر شری کرن سنگھ کے علاوہ ببلو جسروٹیہ ، کلبیر سنگھ،سشما اوتار،بھجن کور،لال دین ،گنگو رائو سنگھ ، انو گپتا اور پریہ اندھوترا وغیرہ نے خطاب کیا۔
بٹوال برادری کاموہن لال لکھوترہ کوخراج
جموں//بٹوال آف انڈیا کے چیرمین جی آر کیتھ ودیگر ممبران نے ویر چکر لانس نائک موہن لال لکھوترہ کو ان کے 71ویں جنم دن پر خراج عقیدت پیش کیا۔اس دوران تنظیم کے چیر مین نے موہن لال کے کارناموں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ لانس نائک موہن لال 8جیکلئی کے ایک ہونہار جوان تھے جو 7دسمبر 1971کو جموں کشمیر میں ملک کی حفاظت کے فرائض انجام دیتے دیتے ہوئے اپنی جان ملک کے نام کر گئے ۔اس روز انہیں مشین گن چلانے پرتعینات کیا گیا تھا اور دشمنوں نے پکٹ پر بھاری گولہ بارود کے ساتھ حملہ کر دیا انکے تبادلے میں کشمکش کرتے ہوئے انہوں نے دم توڑ دیا اور اس لڑائی کے دوران تقریباً 19فوجی جوان شہید ہوگئے تھے۔ہند وپاک کی اس لڑائی میں بہادری کا مظاہرہ کرنے والے اس فوجی جوان کو ہندوستان کے صدر کی طرف سے ویر چکرکا خطاب انعام دیا گیا۔ اس دوران تنظیم کے سیکر ٹری آر ایل کیتھ نے کہا کہ ہمیںان پر فخر ہے کیوں کہ انہوں نے اپنی زند گی کا نذرانہ ملک کیلئے پیش کیا۔
عبدالحمیدچوہدری کاآرایس پورہ کادورہ
آتشزدگی سے ہوئے نقصانات کاجائزہ لیا
جموں//پیپلزڈیموکریٹک پارٹی کے چیف کوآرڈی نیٹر نے وائس چیئرمین گوجربکروال مشاورتی بورڈگلزارکھٹانہ ،وائس چیئرمین ایس سی مشاورتی بورڈ بھوشن لال ڈوگرہ کے ہمراہ آرایس پورہ کے کرالی گائوں کادورہ کرکے آتشزدگی سے ہوئے نقصانات کاجائزہ لیااورلوگوں سے بات چیت کرکے ان کی پریشانیوں کے بارے میں جانکاری حاصل کی۔اس موقعہ پر پی ڈی پی لیڈرعبدالحمیدچوہدری نے لوگوں کوہرممکن امدادکی یقین دہانی کرائی اور انتظامیہ کوہدایت دی کہ متاثرہ کنبوں کی امدادکیلئے معقول انتظامات کئے جائیں۔انہوں نے کہاکہ حکومت لوگوں کی پریشانیوں سے باخبرہے۔انہوں نے نقصانات پردُکھ کااظہارکرتے ہوئے متاثرہ کنبوں کے ساتھ یکجہتی کااظہارکیا۔
منیال نے صحت کے منظر نامے کا جائیزہ لیا
سرینگر//صحت کے وزیر ڈاکٹر دویندر منیال اور قانون ساز اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر نذیر احمد گریزی نے ایک میٹنگ کے دوران گریز سیکٹر میں صحت منظر نامے پر غور و خوض کیا ۔ ڈی جی ہیلتھ سروسز کشمیر ڈاکٹر سلیم الرحمان ، مشن ڈائریکٹر این ایچ ایم یشپال شرما کے علاوہ محکمہ صحت کے اعلیٰ افسران میٹنگ میں موجود تھے ۔ گریز سیکٹر میں بہتر طبی سہولیات اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کیلئے کئی معاملات پر سیر حاصل بحث ہوئی ۔ حلقہ انتخاب گریز میں سب ڈسٹرکٹ اور پی ایچ سیز میں ڈاکٹروں و نیم طبی عملے کی کمی کے ردِ عمل میں وزیر نے محکمہ صحت کے حکام کو ہدایت دی کہ وہ خالی پڑی آسامیوں کو پُر کرنے کیلئے اقدامات کریں ۔
آنگن واڑی ورکروں وہیلپروں کی ہڑتال کے 4ماہ مکمل
جموں//محکمہ سماجی بہبودکے آئی سی ڈی ایس پروجیکٹ کے تحت تعینات آنگن واڑی ورکر اورہیلپراپنے مطالبات کولے کرکام چھوڑہڑتال کے 120ویں دن بھی شدومدسے جاری رہی ۔تفصیلات کے مطابق سوموار کے روزآنگن واڑی ورکرز اینڈہیلپرس یونین جموں کے پرچم تلے سمن سوری کی قیادت میں پریس کلب کے باہراحتجاجی دھرنادیا۔اس دوران یہ ورکر اپنے مطالبات جن میں آنگن واڑی ورکروں کی ماہانہ اجرت میں اضافہ اورواجب الادامشاہروں کی ادائیگی سرفہرست ہیں کی حمایت اورریاستی حکومت کے خلاف نعرے بازی کررہی تھیں۔اس دوران میڈیاسے بات کرتے ہوئے سمن سوری نے کہاکہ ہم اپنے مطالبات کولے کرلگ بھگ گذشتہ سودنوںسے احتجاجی ریلیاں اوردھرنے دے رہی ہیں لیکن اس کے باوجودسرکارہماری مانگوں پرکوئی توجہ نہیں دے رہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کوچاہیئے کہ وہ آنگن واڑی ورکروں اورہیلپروں کی جائزاوردیرینہ مانگوں کوپوراکرنے کی منظوری دیں ۔انہوں نے کہاکہ اگرحکومت نے ہماری مانگیں پوری نہ کیں توہم اپنے احتجاج میں شدت لانے کیلئے مجبورہوجائیں گے ۔سمن سوری نے مزیدکہاکہ آنگن واڑی ورکروں اورہیلپروں کوبالترتیب 3600اور1800روپے ماہانہ معمولی سا مشاہرہ دیاجاتاہے لیکن دہلی ودیگرریاستوں میں آنگن واڑی ورکروں اورہیلپروں کی تنخواہ بالترتیب 10ہزاراور6ہزارروپے ماہانہ ہے ۔انہوں نے کہاکہ جوکام یہاں پرآنگن واڑی ورکرس کرتی ہیں ،وہی کام دہلی ودیگرریاستوں کی ورکرس بھی کرتی ہیں توپھرتنخواہ میں تفاوت اورناانصافی کیوں ؟۔انہوں نے کہاکہ حکومت کے خواتین کوبااختیاربنانے کے دعوے بے بنیادہیں۔انہوں نے کہاکہ تاحال ہم ریاستی حکومت سے مایوس ہیں لیکن وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی سے امیدکرتی ہیں کہ بحیثیت خاتون ہمارے جذبات کی قدرکریںاورہماری مانگوں کوپوراکرنے کیلئے اقدامات اٹھائیں۔انہوں نے مزیدکہاکہ ہماری ہڑتال کی وجہ سے گذشتہ 100دنوں سے پورے خطے کے آنگن واڑی مراکزبندہیں۔آنگن واڑی ورکروہیلپر احتجاجی مظاہرے کے دوران مشاہرے میں اضافہ اورواجب الادا مشاہروں کی ادائیگی کے علاوہ سینارٹی فہرستیں جاری کرنے ، پنشن سکیم لاگوکرنے اورریٹائرمنٹ کے وقت آنگن ورکروں اورہیلپروں کے حق میں بالترتیب دولاکھ اورایک لاکھ گریجویٹی منظورکرنے کی مانگیں کررہی تھیں۔قابل ذکرہے کہ ریاست جموں وکشمیرمیں لگ بھگ 28ہزارآنگن واڑی ورکراورہیلپرس کام کررہی ہیں۔
بنی میں رہبرتعلیم ٹیچروں کااحتجاج
حافظ قریشی
بنی //رہبر تعلیم ٹیچروں نے بنی میں حکومت کے خلاف احتجاج کیا ۔اس دوران مظاہرین تنخواہوں کی واگزاری ،تبادلہ ومستقل پالیسی وتنخواہوں کی ڈی لنکنگ کا مطالبہ کررہے تھے۔اس دوران مظاہرین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اگر اساتذہ کے مطالبات کو لے نہیں کرتی تو اساتذہ کام چھوڑ ہڑتال جاری رکھیں گے ۔انہوں نے دو دن کی کام چھوڑ ہڑتال کا آغاز کیا گیاہے ۔آر ای ٹی بنی فورم کے صدر راج مشرا نے کہا کہ گزشتہ تین برس سے حکومت نے تنخواہوں کو سٹریم لائن کرنے کے لئے کوئی مناسب اقدامات نہیں اٹھائے ہیں صرف حکومت یقین دہانی میں ہی سراب ثابت ہوئی ہے اور ان کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ کے آرڈر اور پانچ سال کی سروس کے باوجود بھی اساتذہ کی ٹایم باؤنڈ پرمْوشن نا معلوم کن وجوہات کی بنا پر روک رکھی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اگر ہمارے مطالبات کو حل نہیں کرتی ہے تو رہبر تعلیم ٹیچر کام چھوڑ ہڑتال پر بیٹھیں گے جس سے اسکولی طلبہ کی تعلیم پر سخت اثرات مرتب ہوں گے۔