سرینگر/نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبد اللہ نے کہا ہے کہ کشمیر میں پائیدار امن صرف بات چیت سے ہی ممکن ہے اور مرکز کو حریت لیڈروں کے ساتھ مذاکرات کرنے چاہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر فوج طالبان کے ساتھ بات چیت کی تجویز دے سکتی ہے تو مرکز کو چاہئے کہ وہ مسئلہ کشمیر حل کرنے کیلئے حریت قیادت سے بات کرے۔
خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق فاروق نے نئی دلی میں منعقدہ ایک مباحثے میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ حریت لیڈروں کے پاس بھارتی پاسپورٹ ہیں اور ماضی میں اُن کے ساتھ اٹل بہاری واجپائی نے بھی مذاکرات کئے ہیں۔
انہوں نے کہا''فوج اور طاقت کا استعمال کشمیر حل میں کبھی سود مند ثابت نہیں ہوسکتا ہے۔ پائیدار امن حاصل کرنے کیلئے مذاکرات ضروری ہیں''۔
انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ آنے والے لوک سبھا انتخابات کے بعد کشمیر حل کیلئے بات چیت شروع ہوجائے گی۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہر الیکشن نے ملک کو متحد کرنے کے بجائے تقسیم ہی کیا ہے۔
فاروق نے کہا''نئی دلی اور کشمیر کے مابین بھروسے کی کمی ہے اور پورے ملک کے اندر نفرت کا ماحول قائم کیا گیا ہے''۔