جموں//بھارتیہ جنتا پارٹی پرجموں کشمیرکومذہبی بنیادوں پر”تقسیم“کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے پیپلزڈیموکریٹک پارٹی کی صدراورسابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ مرکزی حکومت نے مرکزی زیرانتظام علاقہ کوبیچنے کےلئے رکھا ہے۔محبوبہ مفتی نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ جموں کشمیرکوحکومت نے باہر کے لوگوں کو فروخت کرنے کےلئے رکھا ہے۔پیپلزڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت نے جومنصوبے اور پروجیکٹ سابق ریاست میںشروع کئے تھے،انہیں مرکز میں بھاجپا کی قیادت والی حکومت نے بندکیاہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ شراب کی پالیسی کے تحت شراب کی دکانوں کاٹھیکہ باہر کے لوگوں کو دیاگیا ہے ۔شراب جموں کشمیر کے لوگ پییں گے اور منافع باہر کے لوگوں کو جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تمام بڑے پروجیکٹ بشمول کان کنی باہر کے لوگوں کو دیئے گئے ہیں ۔محبوبہ مفتی جو جموں میں ریلائنس کے سٹور کھولنے کے خلاف تاجروں کے بندھ کال کی حمایت کررہی ہیں ،نے کہا کہ یہ اسٹور چھوٹے دکانداروں کاکاروبار تباہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جوکچھ بھی ہے ،بھاجپا حکومت اس کو تجارتی گھرانوں کو فروخت کررہی ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں محبوبہ مفتی نے کہا کہ پہلے جو کچھ بھی سرمایہ کاری ہم نے حاصل کی تھی،اُسے تباہ کیا گیا۔انہوں نے یہاں اپنا بوریابسترسمیت لیا ہے اور وہ واپس چلے گئے ہیں ۔محبوبہ نے مزیدکہا کہ پہلے کشمیرمیں بندھ ہوا کرتے تھے لیکن اب یہ جموں میں ہورہے ہیں ۔انہوں نے بھاجپا پرلوگوں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کابھی الزام لگایا۔انہوں نے کہا کہ جموں کشمیرمیں یہ لوگ (تقسیم کرواور حکومت کرو) کی پالیسی کا تجربہ کررہے ہیں اوربعد میں اُسے باقی ریاستوں میں عملایا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ بھاجپا ہر کسی کو جو کوئی مسئلہ اُٹھاتا ہے ،ملک دمشن قرار دیتی ہے ،ایک سردار جی خالصتانی بن جاتا ہے ،ہمیں پاکستانی کہاجاتا ہے ،بھاجپا والے صرف اپنے آپ کو ہندوستانی کہتے ہیں ۔سابق وزیراعلیٰ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ موجودہ مرکزی حکومت کی کشمیر کے بارے میں کوئی واضح پالیسی نہیں ہے۔