معلومات
شیخ ولی محمد
مردم شماری کی تاریخ:دنیا میں مردم شماری کی تاریخ بہت پرانی ہے ۔تاریخی حوالوں سے پتہ چلتا ہے کہ 3800بی سی ای میں سب سے پہلی مردم شماری کی گئی جبکہ 2عیسوی میں چین میں مردم شماری کرانے کا تذکرہ ملتا ہے ۔6صدی عیسوی میں جب آ خری پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰ ؐ کی مکہ مکرمہ میں ولادت باسعادت ہوئی تو منصب نبوت پر فائز ہونے کے بعد انھوں نے دعوت وتبلیغ کا کام شروع کیا ۔کفار مکہ کی طرف سے مخالفت کی وجہ سے انھیں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مدینہ کی طرف ہجرت کرنا پڑی ۔مدینہ میں جب اسلامی ریاست قائم ہوئی تو مسلمانوں کو کافروں اور یہودیوں کے خلاف بہت سارے جنگوں اور غزوات میں شرکت کرنی پڑی ۔افرادی قوت وغیرہ کا ریکارڈ رکھنے کے لیے اس دور میں مردم شماری کا تذکرہ ملتا ہے ۔بعد میں جب اسلامی ریاست کا پھیلاؤ بڑھتا گیا تو دور خلافت میں مردم شماری کی مشق کو عمل میں لایا گیا ۔خلیفہ دوئم حضرت عمر فاروقؓ کے دور خلافت میں جب فتوحات کا سلسلہ بڑھتا گیا اور مالی حالت بہتر ہوئی تو بیت المال کی تقسیم اور اس کاریکارڈ رکھنے کے لیے منظم انداز میں پہلی بار مردم شماری کی گئی ۔تاریخی حوالوں سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت معاویہ کے زمانے میں مردم شماری میں شیر خوار بچوں کا اندارج بھی کیا گیا ۔
ہندوستان میں مردم شماری:ہندوستان میں مردم شماری کا آ غا ز 1872 میں ہوا جبکہ پہلی مکمل اور باقاعدہ مردم شماری 1881 میں کی گئی ۔1949 کے بعد یہ عمل وزارت داخلہ امور کے تحت ہر 10 سال بعد انجام دیا جاتا ہے ۔اس طرح آزادی کے بعد 1951,1961,1971,1981,1991,2001,2011 میں اب تک 7 مرتبہ مردم شماری کی گئی ۔2021میں کووڈ لاک ڈاؤن کی وجہ سے مردم شماری نہیں کی گئی ۔15سال کے طویل عرصے کے بعد اب مردم شماری 2027کا آ غاز ہوچکا ہے۔چونکہ مردم شماری کا طویل عمل ایک لمبےمراحل پر مشتمل ہے، اس کے مکمل اعداد و شمار 2سال کے بعد منظر عام پر آ تےہیں۔ مرکزی سرکار کی سربراہی میں ریاستوں اور یونین ٹیریٹریز کے تعاون و اشتراک سے 30لاکھ اہلکاروں کے ذریعے مردم شماری مکمل کی جائے گی جس کے لیے 11718کروڑ کی رقم ریلیز کی گئی ہے ۔ مردم شماری 2011 اور مردم شماری 2027کے انتظامی یونٹس کا اگر مقابلہ کیا جائے تو یہ حقیقت عیاں ہے کہ اب انتظامی یونٹس کی تعداد کافی حد تک بڑھ گئی ہے ۔Census2011کے دوران ملک میں کل 35 ریاستیں و یوٹیز،640ڈسٹرکٹ ،5924سب ڈسٹرکٹ ، 4041 سٹیچری ٹاون،3892 سینسس ٹاؤنز اور 640932 گاؤں تھے جبکہ 2027کی مردم شماری کے دوران 38ریاستیںع و یوٹیز،784ڈسٹرکٹ ،7092سب ڈسٹرکٹ ،5128سٹیچری ٹاؤنز،4580سینسس ٹاؤنز اور 639902گاؤں شامل ہیں ۔ملک کی دوسری ریاستوں کی طرح جموں و کشمیر یو ٹی میں بھی مردم شماری کے پہلے مرحلے کی شروعات ہوچکی ہے ۔رجسٹرار جنرل اینڈ سینسس کمشنر آ ف انڈیا نے اس سلسلے میں 27784 فیلڈ اہلکاروں کی منظوری دی ہے جن میں 23774شمار کنندگان Enumerators اور 4014نگران Supervisors شامل ہیں جبکہ اضافی Reserve عملہ اس کے علاؤہ ہوگا ۔ موثر تربیت کی خاطرفیلڈ اہلکاروں کی ٹریننگ بھی شروع ہو چکی ہے ۔
مردم شماری کی معلومات: مردم شماری کی مشق دو مراحل پر مشتمل ہے۔پہلا مرحلہ House listing and House Census ہوگا جبکہ دوسرے مرحلے میں اشخاص کی گنتی کی جائے گی ۔پہلا مرحلہ مئی سے ستمبر 2026 تک ہوگا جبکہ آ خری مرحلہ 2027 میں مکمل کیا جائے گا ۔ پہلے مرحلے میں نہ صرف رہائشی گھروں اور دیگر ڈھانچوں اور مکانات کا اندارج کیا جائے گا بلکہ ان میں میسر سہولیات کو بھی ریکارڈ کیا جائے گا ۔ہاوءس لیسٹنگ اینڈ ہاؤسنگ سینسس شیڈول میں جن معلومات کا اندراج کیا جائے گا، ان میں یہ چیزیں شامل ہیں: بلڈنگ نمبر ،سینسس نمبر ،دیواروں،فرش اور چھت میں استعمال کیاگیامیٹریل( کیچڑ،لکڑی،پتھر،سیمنٹ گھاس،بیمبو، پلاسٹک، پالیتھین،اینٹ،ٹایلز،کنکریٹ،جی آ ی میٹل وغیرہ)،مکان کا مقصداستعمال( رہائش،دکان،دفتر،سکول،کالج،ہوٹل،گیسٹ ہاؤس، ہسپتال،فیکٹری،ورکشاپ،عبادت گاہ،دیگر استعمال،خالی)،مکان میں رہائش پزیر افراد کی تعداد ،گھر کے سربراہ کا نام اور اس کی جنس،ملکیت مکان ،رہائشی کمروں کی تعداد ،رہایش پذیر شادی شدہ جوڑے،پینے کے پانی کا سورس( نلکہ،کنواں،ہینڈ پمپ،ٹیوب ویل،چشمہ،دریا،تالاب وغیرہ)واٹر سورس کی دستیابی ،سورس آ ف لایٹ( بجلی ،مٹی کا تیل ،سولر،دوسرا)رہائش میں بیت الخلاء کی سہولت ،پانی فضلہ کی نکاسی ،باتھنگ سہولت ،کچن کی دستیابی ،کھانے پکانے کا ایندھن ،ریڈیو،ٹی وی،کمپیو ٹر،لیپ ٹاپ،ٹیلی فون، موبایل، باءسیکل،سکوٹر،موٹر سایکل،موپڈ،کار،جیپ،وین،بینک سروسز کی دستیابی۔سینسس کے دوسرے مرحلے میں Household Schedule میں جو تفصیلات درج کی جائے گی وہ اس طرح ہیں: گھر میں رہائش پذیر سبھی افراد کے نام،سربراہ سے رشتہ،جنس،تاریخ پیدائش ،شادی شدہ یا غیر شادی شدہ ،عمر بوقت شادی ،مذہب،ذات،کسی قسم کی معذوری،مادری زبان،دوسری زبانیں ،خواندگی،تعلیمی ادارے میں حاضری،کام کی سرگرمی،پیشہ،سیلف ایمپلائمنٹ ،کلاس آ ف ورک،نان اکنامک سرگرمی،روزگار کی تلاش،جاے پیدائش ،ہجرت کی کیفیت ،ہجرت کی وجہ وغیرہ ۔
مردم شماری کی اہمیت:مردم شماری عوامی پالیسی اور حکمرانی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ یہ ضروری ڈیٹا فراہم کرتی ہے جو حکومت کو وسائل مختص کرنے ،فلاحی منصوبے ڈیزائن کرنے اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی منصوبہ بندی میں مدد کرتا ہے ۔مثال کے طور پر رہائشی حالات سے متعلق ڈیٹا شہری ترقیاتی اقدامات کی رہنمائی کر سکتا ہے جبکہ آ بادیاتی معلومات تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال کی پالیسیوں کو متاثر کر سکتی ہے ۔مردم شماری انتخابی حلقوں کی حدبندی اور ریاستوں اور مقامی اداروں کو فنڈز کی تقسیم کی بنیاد بھی بنتی ہے ۔لہذا درست اور جامع اعداد و شمار مساوی ترقی اور موثر حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے بہت اہم ہے ۔یہ ایک حقیقت ہے کہ اعدادوشمار خود بولتے ہیں ،وہ کسی تبصرے یا تشریح کے محتاج نہیں ہوتے۔اب اگر سینسسCensus کا ڈیٹا Quality Data نہ ہوتو اس کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہو سکتے۔
مردم شماری اور ہماری ذمہ داری:مردم شماری کسی بھی ملک کی منصوبہ بندی وسائل کی تقسیم اور ترقی کے لیے ایک بنیادی اور قومی فریضہ ہے لہذا ہم سب پر یہ زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ شمار کنندگان Enumerators کو اپنے گھر کے بارے میں مکمل اور درست معلومات فراہم کریں ۔گھر کی ساخت ،کمروں کی تعداد اور موجود سہولیات سے متعلق سوالات کے صحیح جوابات دیں۔گھر میں موجود تمام افراد بشمول بچوں ،بزرگوں اور معذور افراد کا اندراج یقینی بنائیں ۔مردم شمار ی کے عملے کے ساتھ اخلاق اور تہذیب سے پیش آ ئیں اور ان کے پوچھے گئے سوالات کا دیانتداری سے جواب دیں۔ہندوستان میں پہلی بار یہ مردم شماری ڈیجیٹل Digital طریقے سے کی جا رہی ہے لہذا حکومتی اداروں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ مردم شماری پر تعینات عملے کو ضروری ٹراینگ فراہم کی جائے ۔اوراس قومی عمل کو پائے تکمیل تک پہنچانے کے لیے انھیں ضروری ڈیجیٹل آ لات فراہم کیے جائیں ۔اس Census میں پہلی بار شہریوں کی سہولیت کے لیے Self Enumeration (خود شماری) کا آ پشن بھی رکھا گیا ہے ۔شہری اپنے گھر کی تفصیلات Online بھی درج کرواسکتا ہے ۔
[email protected]