فہم و فراست
پیر اقبال رشید
جیسے وسیع اور متنوع ملک کے لیے مردم شماری محض آبادی گننے کا عمل نہیں بلکہ قومی منصوبہ بندی، ترقیاتی حکمتِ عملی اور سماجی ڈھانچے کو سمجھنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ ہر دس سال بعد ہونے والی مردم شماری حکومت کو یہ جاننے میں مدد دیتی ہے کہ ملک میں کتنے لوگ رہتے ہیں، ان کی تعلیمی، معاشی اور سماجی حالت کیا ہے اور عوام کو کن بنیادی سہولیات کی ضرورت ہے۔ اب جبکہ 2027 کی مردم شماری کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں، پورا ملک اس اہم عمل کی جانب متوجہ ہے کیونکہ یہ مردم شماری کئی اعتبار سے تاریخی اور منفرد مانی جا رہی ہے۔اصل میں 2021 میں مردم شماری ہونی تھی لیکن کورونا وبا(COVOD- 19) نے نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا کے نظامِ زندگی کو متاثر کیا۔ لاک ڈاؤن، سماجی دوری اور صحت کے خطرات کے باعث حکومت کو مردم شماری ملتوی کرنا پڑی۔ اب کئی سال بعد حکومت اسے جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ 2027 میں منعقد کرنے جا رہی ہے۔ اس بار مردم شماری کے طریقۂ کار میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ موبائل ایپس، ٹیبلیٹس، آن لائن Self Enumeration اور ڈیجیٹل ڈیٹا بیس کے استعمال سے یہ عمل پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیز، شفاف اور مؤثر ہوگا۔
مردم شماری کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ حکومت کی تقریباً تمام ترقیاتی پالیسیاں انہی اعداد و شمار کی بنیاد پر تیار کی جاتی ہیں۔ اگر کسی علاقے میں آبادی زیادہ ہو تو وہاں مزید اسکول، اسپتال، سڑکیں اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ اسی طرح بے روزگاری، خواندگی، غریبی اور رہائشی مسائل کے اعداد و شمار حکومت کو یہ فیصلہ کرنے میں مدد دیتے ہیں کہ کن شعبوں پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ گویا مردم شماری ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ملک اپنی اصل تصویر دیکھتا ہے۔
2027 کی مردم شماری کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ اسے مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ماضی میں مردم شماری کے فارم کاغذوں پر بھرے جاتے تھے اور بعد میں ان کا ریکارڈ کمپیوٹرائز کیا جاتا تھا، جس میں کافی وقت لگتا تھا اور غلطیوں کے امکانات بھی زیادہ ہوتے تھے۔ اب مردم شماری کے اہلکار موبائل یا ٹیبلیٹ کے ذریعے براہِ راست معلومات درج کریں گے جو فوری طور پر مرکزی سرور تک پہنچ جائیں گی۔ اس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ شفافیت اور درستگی بھی بڑھے گی۔ عوام کو آن لائن خود معلومات درج کرنے کی سہولت بھی دی جائے گی تاکہ شہری اپنے گھروں سے ہی مردم شماری میں حصہ لے سکیں۔
مردم شماری کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعے ملک کی معاشی اور سماجی حقیقت سامنے آتی ہے۔ کتنے لوگ بے روزگار ہیں، کتنے تعلیم یافتہ ہیں، خواتین کی شرحِ خواندگی کیا ہے، دیہی علاقوں میں بنیادی سہولیات کی کیا حالت ہے—یہ سب معلومات حکومت کے لیے نہایت اہم ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مردم شماری کو کسی بھی ملک کی ترقی کا بنیادی ستون قرار دیا جاتا ہے۔
اس بار مردم شماری کے حوالے سے سب سے زیادہ بحث ذات پات کی گنتی یعنی Caste Census پر ہو رہی ہے۔ ملک میں ایک طویل عرصے سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ مختلف ذاتوں اور طبقات کی صحیح تعداد معلوم کی جائے تاکہ سماجی انصاف کی پالیسیوں کو مؤثر بنایا جا سکے۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ ذات پر مبنی درست اعداد و شمار سے حکومت کو پسماندہ طبقات کی حالت سمجھنے اور ان کے لیے بہتر پالیسیاں بنانے میں مدد ملے گی۔ دوسری طرف مخالفین کا خیال ہے کہ اس سے سماج میں تقسیم کا رجحان بڑھ سکتا ہے۔ بہرحال، یہ موضوع سیاسی، سماجی اور معاشی اعتبار سے نہایت اہم بن چکا ہے۔
مردم شماری کا اثر صرف حکومتی منصوبہ بندی تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے نتائج سیاست اور جمہوری نظام پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ مستقبل میں حلقہ بندیوں، ریزرویشن اور نمائندگی کے معاملات میں مردم شماری کے اعداد و شمار کلیدی کردار ادا کریں گے۔ اسی لیے مختلف سیاسی جماعتیں بھی اس عمل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
دیہی علاقوں میں مردم شماری کے حوالے سے بیداری پیدا کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ آج بھی بہت سے لوگ اس عمل کی اہمیت سے پوری طرح واقف نہیں ہیں۔ بعض افراد معلومات دینے سے ہچکچاتے ہیں جبکہ کچھ لوگ غلط معلومات فراہم کرتے ہیں۔ حالانکہ مردم شماری میں دی گئی معلومات خفیہ رکھی جاتی ہیں اور انہیں صرف قومی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ عوام میں اعتماد پیدا کیا جائے اور انہیں بتایا جائے کہ صحیح معلومات فراہم کرنا ان کی قومی ذمہ داری ہے۔
تعلیمی ادارے، میڈیا اور سماجی تنظیمیں اس بیداری مہم میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اسکولوں اور کالجوں میں طلبہ کو مردم شماری کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے خاندانوں اور معاشرے میں بھی شعور پیدا کر سکیں۔ میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ سنسنی خیزی کے بجائے تعمیری انداز میں عوام کو اس عمل کی افادیت سے روشناس کرائے۔
ٹیکنالوجی کے استعمال کے باوجود کچھ چیلنجز بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ ملک کے دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت محدود ہے اور بہت سے لوگ ڈیجیٹل نظام سے پوری طرح واقف نہیں ہیں۔ اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے علاقوں میں خصوصی انتظامات کرے تاکہ کوئی بھی فرد مردم شماری کے عمل سے محروم نہ رہے۔ اسی طرح ڈیٹا کی حفاظت اور رازداری بھی ایک اہم مسئلہ ہے جس پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہوگا۔
مردم شماری کسی بھی قوم کے مستقبل کی منصوبہ بندی کا بنیادی ذریعہ ہوتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک اپنی پالیسیاں درست اعداد و شمار کی بنیاد پر تیار کرتے ہیں، اسی لیے وہ تیزی سے ترقی کرتے ہیں۔ اگر ہندوستان کو بھی ایک مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ ملک بننا ہے تو درست اور شفاف مردم شماری ناگزیر ہے۔ عوام اور حکومت دونوں کو مل کر اس قومی فریضے کو کامیاب بنانا ہوگا۔آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ مردم شماری 2027 صرف آبادی کی گنتی نہیں بلکہ ہندوستان کے مستقبل کی تعمیر کا ایک اہم مرحلہ ہے۔ یہ عمل ملک کی حقیقی تصویر دنیا کے سامنے لائے گا اور حکومت کو ترقی کے نئے راستے متعین کرنے میں مدد دے گا۔ اگر عوام ایمانداری اور ذمہ داری کے ساتھ اس عمل میں حصہ لیں اور حکومت شفافیت کو یقینی بنائے تو یہ مردم شماری ملک کی ترقی، سماجی انصاف اور قومی خوشحالی کی جانب ایک تاریخی قدم ثابت ہوگی۔
مردم شماری۔2027 ؔ ترقی، منصوبہ بندی اور قومی تعمیر کا اہم مرحلہ