عشرۂ اخیر میں اعتکاف پر بیٹھنے والے خوش نصیبوں کو مندرجہ ذیل دستور العمل کی پابندی کرنی چاہئے کیونکہ وہ دربارِ خدا وندی میں اسی مقصد کے لئے حاضر ہوا ہے ،اس کا ایک ایک لمحہ نہایت قیمتی ہے ۔
٭ مغرب کی نماز کے بعد کم از کم چھ رکعت نفل اور زیادہ سے زیادہ بیس رکعت نفل اوابین ادا کریں۔پھر آیت الکرسی اور چاروں قل پڑھ کر بدن پر دم کریں ،اس کے بعد مختصر آرام کریں اور پھر نماز عشا ء کی تیاری اور صف اول اور تکبیر اولیٰ کا اہتمام کریں۔
٭عشاء کی نماز اور تراویح سے فارغ ہوکر علم دین حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنے کی نیت سے کسی مستند اور معتبر دین کتاب کا مطالعہ کریں،یا کسی مستند و معتبر عالم دین کے درس میں شرکت کریں (اگر ایسا درس ہوتا ہو)،نیز شب ِقدر میں مطالعہ سے فارغ ہوکر جب تک طبیعت میں بشاشت رہے ،ذکر و تلاوت اور نوافل میں مشغول رہیں اور جب سونے کو طبیعت چاہے تو پوری طرح سنت کے مطابق قبلہ رو ہوکر (اگر ممکن ہو)سوجائیں۔
٭موسم گرما میں رات تین بجے نیند سے بیدار ہوجائیں ۔طبعی ضروریات سے فارغ ہوکر سنت کے مطابق وضو کریں اور تحیتہ المسجد ۔تحیتہ الوضو اور تہجد کی نفلیں ادا کریں،نیز نوافل سے فارغ ہوکر کچھ دیر خاموشی سے ذکر و تسبیح میں مشغول رہیں۔پھر خامشی سے خوب رو رو کر اپنے جملہ مقاصد ِحسنہ اور فلاح ِدارین کی دعا مانگیں۔
٭صبح صادق سے کوئی پون گھنٹہ پہلے سحری کھائیں اور سحری سے فارغ ہوکر نماز فجر کی تیاری کریں ،صف اور تکبیر اولیٰ کا خیال رکھیں جب تک نماز کے انتظار میں رہیں اور استغفار کرتے رہیں۔
٭نماز فجر سے فارغ ہوکر آیت الکرسی اور چاروں قل پڑھ کر پورے جسم پر دَم کریں اور سبحان اللہ ،الحمداللہ ،اللہ اکبر ،استغفراللہ اور درود شریف کی ایک ایک تسبیح پڑھیں۔
٭اشراق کے وقت کم از کم دو اور زیادہ سے زیادہ آٹھ رکعت نفل ادا کریں اور پھر آرام کریں اور چاشت کے وقت بیدار ہوکر کم از کم دو اور زیادہ سے زیادہ بارہ رکعت نفل چاشت ادا کریں اور جتنا ہوسکے صحیح تلفظ کے ساتھ کلام اللہ کی تلاوت کریں۔
٭جب زوال ہوجائے تو چار رکعت نفل سنن زوال ادا کریں اور نماز ظہر میں صف اول میں بیٹھیں اور تکبیر اولیٰ کا اہتمام کریں اور ظہر سے فارغ ہوکر صلواٰۃ التسبیح پڑھیں اور تلاوت کریں پھر اگر تھکن محسوس ہو تو کچھ آرام کرلیں۔
٭نماز عصر سے کوئی آدھ گھنٹہ پہلے بیدار ہوجائیں ،وضو کرکے تحیتہ الوضو اور دیگر نوافل پڑھ کر نماز عصر کا انتظار کریں اور اس سے فارغ ہوکر مختصر تلاوت کریں پھر تسبیحات ادا کریں جن کا اوپر ذکر گزرا ہے، پھر ہمہ وقت نہایت گراں قدر ہے ،اس کو افطار کی تیاری میں ضائع نہ ہونے دیں۔
٭جو باتیں حالت ِاعتکاف میں مکروہ اور منع ہیں ان سے مکمل طور پر اجتناب کریں جن کی تفصیل اعتکاف کے مکروہات میں آتی ہیں، ان سے مطلع رہنے کے لئے ان کا باربارغور سے مطالعہ کریں۔
٭معتکف پر لازم ہے کہ صف اول میں خود آکر بیٹھے ،خود اگر کہیں اور ہوا ور تولیہ اور چادر وغیرہ سے اپنے لئے مخصوص جگہ روکے رکھے، ایسا نہ کرے ۔
٭ اپنے ہر قول و فعل ،نشست و برخاست اور طرز عمل سے دوسرے معتکفین اور نمازیوں کو تکلیف پہنچانے سے بچانے کا اہتمام کرے اور اپنی صفائی کا بھی خیال رکھے اور مسجد کی صفائی کا بھی اہتمام رکھے۔
٭اپنی اور دیگر احباب اور متعلقین کی عفو و بخشش مغفرت کی سر توڑ کوشش کے لئے ہمہ وقت دعا گو رہے ،رحمت ِالہیٰ کا اُمیدوار رہے اور مایوسی کو ہرگز راہ نہ دے۔
مر سلہ: دارلعلوم رحیمیہ ، بانڈی پورہ کشمیر