مختلف محکموں کے عارضی ملازمین تنخواہوں سے محروم
حسین محتشم
پونچھ//محکمہ دیہی ترقی ،محکمہ پی ایچ ای، محکمہ بجلی، محکمہ تعمیرات عامہ و دیگر شعبہ جات میںبطور عارضی ملازم کام کرنے والے نوجوان کئی کئی ماہ سے تنخواہوںسے محروم ہوکر کسمپرسی کاشکار بنے ہوئے ہیں ۔ان ملازمین کو پہلے ہی حکومت کی طرف سے بہت قلیل تنخواہ دی جاتی ہے اور وہ بھی وقت پر ادا نہیں ہوتی ۔سرکار کی جانب سے اگر چہ ان ملازموں کو ہمیشہ یہ یقین دہانی دی جاتی رہی ہے کہ انہیں مستقل کیا جائے گا لیکن وقت پر اجرت بھی نہیں ملتی ۔جعفر حیاتپوری نامی نوجوان کاکہناہے کہ ان ملازموں کے ساتھ ہمیشہ نا انصافی ہوتی رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان عارضی ملازموں کو نہ عید پر تنخواہ دی جاتی ہے اور نہ ہی دیوالی پر۔انہوں نے کہا کہ عید قربان پر بھی محکمہ پی ایچ ای کے ملازم ہڑتال پر تھے اور سرکار سے مطالبہ کرتے رہے کہ ان کو بقایا تنخواہیں دی جائیں تاکہ وہ بھی اپنے بچوں کے ساتھ عید منا سکیں لیکن افسوس کہ ان کی نہیں سنی گئی۔انہوں نے کہا کہ اب جب دیوالی جو کہ ہندوستان کا ایک بہت بڑا تہوار ہے،قریب ہے کے موقعہ پر بھی عارضی ملازموں کو بقایا تنخواہیں واگزار نہیں کی جارہی ۔انہوں نے ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سے اپیل کی کہ وہ ان تمام ملازموں کو دیوالی سے قبل تنخواہیں واگزار کرنے کی ہدایا ت جاری کریں ۔
ڈرگ انسپکٹر نے ادویہ دوکانوں کا معائنہ کیا
جاوید اقبال
مینڈھر//ڈرگ انسپکٹر پونچھ اشتیاق احمد بابا نے مینڈھرکادورہ کرکے دوائیاں کی دوکانوں کا معائنہ کیا ۔اس موقعہ پر انہوںنے دوائیوں کاکاروبار کرنے والے دوکانداروں کو ہدایت دی کہ وہ سبھی کام قانونی طور پر کریں اورکوئی بھی ایسا کام انجام نہ دیاجائے جو غیر قانونی ہو ۔ انہوںنے کہاکہ غلط کرنے والے کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔اس دوران انہوںنے فروخت کی جارہی دوائیوں کا معائنہ بھی کیا اور کہاکہ مریضوں کو زائد المیعاد دوائیاں فروخت نہ کی جائیں اور نہ ہی وہ ادویات بھی رکھی جائیں جن پر پابندی عائد کی جاچکی ہے ۔
راجوری میں محکمہ صحت کا ریکارڈ ضبط
راجوری //مالی بے ضابطگیوں کی شکایات پر ضلع انتظامیہ نے نیشنل ہیلتھ مشن اور محکمہ صحت کی دیگر سیکشن کا ریکارڈ ضبط کرلیاہے ۔ذرائع نے بتایاکہ اے ڈی ڈی سی راجوری ، اے آر ٹی او راجوری ، ضلع ٹریجری افسر اور پولیس پر مشتمل ایک ٹیم نے چیف میڈیکل افسر راجوری کا اچانک معائنہ کیا اور وہاں جائزہ لینے کے بعد این ایچ ایم اور دیگر سیکشن کا ریکارڈ ضبط کرلیا ۔ذرائع نے بتایاکہ اس سلسلے میں ضلع انتظامیہ کی طرف سے تحقیقات شروع کردی گئی ہے ۔ضلع انتظامیہ کے ایک سینئر افسر نے بتایاکہ مزید تفصیلات بہت جلد سامنے لائی جائیںگی ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ نیشنل ہیلتھ مشن کے افسران حال ہی میں اس وقت تنقید کا نشانہ بنے جب ڈپٹی کمشنر نے ان کی طرف سے مرتب کی گئی ایف ایم پی ایچ ڈبیلوز کی فہرست کو بے ضابطگیوں کی وجہ سے کالعدم قرار دیاگیا اور پولیس سے ا س بارے میں کیس درج کرنے کا کہاگیا۔
منشیات فروش پر پی ایس اے عائد
راجوری //راجوری پولیس نے منشیات کے دھندے میں ملوث ایک شخص پر پبلک سیفٹی ایکٹ عائد کیاہے ۔پولیس ذرائع کے مطابق نثار احمد عرف کرشتا ماما ولد عبدالغنی ساکن چندی مڑھ تحصیل سرنکوٹ ضلع پونچھ حال وارڈ نمبر دس راجوری کو منشیات اور مجرمانہ نوعیت کے کئی معاملات میں ملوث پایاگیا جس کو گرفتار کرنے کے بعد اس پر پی ایس اے عائد کیاگیاہے تاکہ سماج کو ایسے عناصر سے بچایاجاسکے اور آئندہ کوئی ایسی حرکت نہ کرے ۔پولیس کے مطابق یہ سخت اقدام اس لئے اٹھایاگیاہے تاکہ سماج کو منشیات کی لعنت سے پاک کیاجاسکے ۔ منشیات فروش کو مرکزی جیل کوٹ بلوال جموں منتقل کیاگیاہے ۔پولیس ذرائع نے بتایاکہ اس کے خلاف پولیس تھانہ راجوری اور سٹی پولیس راجوری میں کئی کیس درج ہیں ۔ایس ایس پی راجوری یوگل منہاس نے لوگوںسے اپیل کی ہے کہ وہ منشیات کے خلاف کارروائی میں تعاون دیں ۔
کشمیری زبان متعارف کرانے پر اظہار تشکر
طارق شال
تھنہ منڈی// ڈگری کالج تھنہ منڈی میں محکمہ تعلیم کی طرف سے کشمیری مضمون متعارف کرنے پر مقامی لوگوں نے شکریہ ادا کیاہے ۔ بیو پارمنڈل تھنہ منڈی، مغل روڈ جوائنٹ ایکشن کمیٹی، راجوری ڈیولپمنٹ فورم،پرنسپل بوائز ہائر اسکنڈری اسکول تھنہ منڈی اور پرنسپل گرلزہائر اسکنڈری اسکول تھنہ منڈی نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ ریاستی وزیر تعلیم سید الطاف احمد بخاری اور پرنسپل سکری ٹری ڈاکٹر اصغر حسین سامون نے تعلیمی میدان میں انقلاب لایاہے ۔انہوںنے ڈگری کالج تھنہ منڈی میں کشمیر ی مضمون متعارف کرنے پر ریاستی وزیرتعلیم اور پرنسپل سکر یٹری کا شکریہ ادا کیا اور کہاکہ ایسے اقدامات سے زبان کی ترویج و اشاعت ہوگی ۔
گیسو تراشی میں ملوثین کیخلاف کارروائی پر زور
مینڈھر//کانگریس کی ریاستی سکریٹری پروین سرور خان نے سرکار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پچھلے کئی ماہ سے لگاتار عورتوں کی چوٹیاں کاٹی جا رہی ہیں لیکن ابھی تک سیکورٹی ایجنسیوں کوکچھ پتہ ہی نہیں چل پایا۔اپنے ایک بیان میں انہوںنے کہاکہ خواتین ڈری ہوئی ہیں اور ریاست میں اس سلسلے میں احتجاج کئے جارہے ہیں۔ان کاکہناتھاکہ لوگوں کی انگلیاں ایجنسیوں کے اہلکاروںپر اٹھ رہی ہیں کیونکہ گذشتہ روز گورسائی علاقہ میں آرمی کے ایک نوجوان کو رات کے دو بجے پکڑ کر لوگوں نے پولیس کے حوالے کیا جس کے بعد شکوک و شبہات میں مزید اضافہ ہوگیاہے ۔انہوںنے کہاکہ فوری طور پر ایسے افراد کا پتہ چلایاجائے جو اس کام میں ملوث ہیں نہیں تو لوگوں میں سخت غم وغصہ ہے اور وہ کسی کو غلطی سے بھی پکڑ کر ماردیںتو ذمہ دار کون ہوگا۔انہوںنے سوال کیاکہ ایک فوجی اہلکار کو کیا حق بنتاہے کہ وہ رات کی تاریکی میں اپنی ڈیوٹی سے کئی میل دور آدھی رات کو گھومے پھرے ۔انہوںنے کہاکہ اگر یہ سلسلہ رکانہیں تو خطہ پیر پنچال میں بھی احتجاج شروع ہوجائے گااس لئے حکومت حالات خراب ہونے سے قبل ہی اقدامات کرے ۔
ڈپٹی کمشنر نے دیوالی انتظامات کا جائزہ لیا
راجوری میں انتظامی سطح پر دیوالی کی تقریب منانے کا فیصلہ
راجوری//ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری ڈاکٹر شاہد اقبال چوہدری نے دیوالی کی تقریب منعقد کرنے کافیصلہ کرتے ہوئے انتظامات کاجائزہ لیا ۔افسران کے ساتھ منعقدہ ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہاکہ ضلع انتظامیہ کی طرف سے دیوالی منانے کیلئے ایک تقریب منعقد کی جائے گی۔انہوںنے اس تقریب کے اہتمام کیلئے ضلع سوشل ویلفیئر افسر اور ضلع انفارمیشن افسر کو نوڈل افسران مقرر کیاہے ۔میٹنگ میں اس بات کافیصلہ لیاگیاکہ پٹاخے چار جگہوں پرانے بس اڈہ ، نئے بس اڈہ ، ڈائٹ گرائونڈ اور پرانے پمپ ہائوس میں سرکائے جائیںگے ۔ڈپٹی کمشنر نے محکمہ مال کے افسران کو ہدایت دی کہ وہ حفاظتی اقدامات کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ سٹال لگانے کی اجازت دیں ۔اس دوران سیکورٹی ، امن و قانون ، ٹریفک قوانین ، پانی و بجلی کی سپلائی ، صفائی ، طبی خدمات اور دیگر سہولیات کی فراہمی کاجائزہ بھی لیاگیااور ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ وہ ہر ممکن اقدام کریں ۔میٹنگ میں اے سی آر عبدالقیوم میر ، سی پی او عبدالحمید ، سی ای او آر ڈی اے طاہر فردوس ، ایگزیکٹو انجینئر ان ، صدر بیوپار منڈل راجیش گپتا اور صدر سناتن دھرم سبھا دنیش شرما بھی موجو دتھے ۔
تاربندی ہٹائی جائے :شہزاد ملک
سرحدی مکینوں کا جینا حرام ہوکر رہ گیا
جاوید اقبال
مینڈھر//سائیں ناتھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر شہزاد ملک نے کہاہے کہ فوری طور مرکزی و ریاستی سرکار بالاکوٹ کے اندر تار بندی کو ہٹا کر اسے سرحد پر لگائے تاکہ لوگ آزادی سے اپناکام کرسکیں اور انہیں کسی طرح کی کوئی مشکل پیش نہ آئے ۔اپنے ایک بیان میںانہوں نے کہا کہ بالاکوٹ میں دو ایسی پنچائتیں ہیں جو پوری طرح تار بندی کے اندر ہیں جبکہ بالاکوٹ پنچائت کا آدھا حصہ بھی تار بندی کے اندر ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ تار بندی سے عام لوگوں کو نقصان ہو رہا ہے کیونکہ جب سرحدی تنائو کے بیچ فائرنگ کا سلسلہ جاری ہو جاتا ہے تو کئی لوگ زخمی ہو جاتے ہیں جن کو فوری طور منتقل کرنا بہت مشکل ہو تا ہے اور خون بہہ جانے سے لوگوں کی موت بھی ہوسکتی ہے ۔ان کاکہناہے کہ فوج تمام گیٹ بند کرکے مورچوں کے اندر چلی جاتی ہے تو زخمی لوگوںکو فوری طور منتقل نہیں کیاجا سکتا جس سے لوگوں کو کئی قسم کی دشواریوں کا سامنارہتاہے ۔انہوںنے کہا کہ رات کے وقت سرحد پر بسنے والے لوگوں میں سے اگر کوئی بیمار ہو جاتا ہے تو اس کو رات کے وقت لوگ ہسپتالوں تک بھی نہیں پہنچا سکتے کیونکہ رات کے وقت تمام گیٹ فوج بند کر دیتی ہے اور زیادہ تر سڑک کا حصہ تار بندی کے اندر ہے ۔انہوںنے کہاکہ اس مسئلے کا ایک ہی حل ہے کہ تاربندی کو سرحد پر لیجایاجائے اورلوگوںکو آزادی کے ساتھ رہنے دیاجائے ۔ان کاکہناتھاکہ فوج کا کام سرحدوں کی حفاظت کرناضرور ہے لیکن تاربندی کو ہٹایاجائے جس کی وجہ سے لوگ قیدی بن کر رہ گئے ہیں اور انہیں اپنے گھروں اور زمینوں میں بھی جانے کی اجازت نہیں ۔