عبدالقیوم شاہ
عالمی تنظیم ’ٹرانسپیرنسی انٹرنیشل‘ ہر سال 180 ممالک کی فہرست جاری کرتی ہے، جس میں ہر ملک میں جاری کورپشن کی مناسبت سے اس کی درجہ بندی ہوتی ہے۔ تازہ فہرست اس سال جنوری میں جاری کی گئی تو بھارت پچھلے سال کے مقابلے میں ایک پائیدان اوپر ہوگیا تھا، یعنی کورپشن کے خلاف حکومتی اقدامات نے نمایاں نتائج برآمد کئے تھے۔ بھارت 86 سے 85 نمبر تک پہنچ گیا تھا۔ لیکن پاکستان پچھلے سال کے مقابلے 16 درجے گِر کر 140 پر پایا گیا۔ یہ بہت حوصلہ افزا بات ہے کہ ہمارے ملک میں کورپشن کا ناسْور سْست رفتار سے ہی سہی مگر زوال کی طرف گامزن ہے۔ لیکن جموں کشمیر میں اس اچھی خبر کے اثرات نہیں ملتے۔ رشوت خْوری نے ہماری انتظامیہ کے بڑے حصے کو مشکوک بنادیا ہے۔ یہاں تک کہ سابق گورنر ستیہ پال ملک نے برملا اس کا اعتراف بھی کیا ہے۔ راشی افسروں کے خلاف جموں کشمیر کا اینٹی کورپشن بیورو (اے سی بی)آئے روز کارروائیاں کرتا ہے، لیکن مکان تعمیر کرنے کی اجازت ہو یا سرکاری ملازمتوں کے لئے تقرری بورڈ کی فہرست، ہر طرف الزامات، عدالتوں کے احکام امتناع اور خرد برد کی خبریں آرہی ہیں۔
محکمہ مال اس سب میں خاص توجہ چاہتا ہے۔ کیونکہ یہ محکمہ نہایت حساس ہے۔ اس کی کارکردگی پر لوگوں کے زندگیوں کا دارومدار ہے۔ جولائی کے وسط میں اے سی بی نے سرینگر کی شالہ ٹینگ تحصیل میں تحصیل دار اور نائب تحصیل دار کو رنگے ہاتھوں لاکھوں روپے کی طے شدہ رشوت کی پہلی قسط لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا۔
محکمہ مال انتظامیہ کی اہم کڑی ہوتا ہے۔ ملکیتی و غیرملکیتی اراضی کی خریدوفروخت، زرعی اراضی کی نشاندہی اور سرکاری اراضی کی حفاظت کے علاوہ باشندگی کی اسناد اور آمدنی کی اسناد وغیرہ کا اجراء بھی اسی محکمے کے ذمے ہے۔ ہر زون میں درجنوں پٹواری، گرداوار اور دیگر کارکن تحصیل دار اور نائب تحصیل دار کی ماتحتی میں کام کرتے ہیں۔ ایسے میں اسی نازک اور حساس میں کرپشن کا بازار گرم ہونا نہایت افسوسناک بات ہے۔
حکومت کی طرف سے راشی افسروں کی سرکوبی قابل تعریف ہے، لیکن کیا لوگ ایسی چند کارروائیوں سے اطمینان کا سانس لیں گے؟ کیا ماضی میں افسر پکڑے نہیں گئے؟ ایک واقعہ اخبار کی سرخی بن جاتا ہے، چند دن بحث ہوتی ہے اور بس، پھر وہی گورکھ دھندا شروع ہوجاتا ہے۔
لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے درست فیصلہ لیا ہے کہ کورپشن کے خاتمے کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ رشوت خوری اور مالی بے ضاطگیوں کے تئیں انتظامیہ کے برداشت کی حد صفر ہوگی۔ حکومت نے انتظامیہ کو فعال بنانے کی غرض سے سول سروس ضابطوں میں ترمیم کی تھی۔ نااہل اور تساہل پسند اور راشی افسروں کو چلتا کیا جانا تھا۔ لیکن شائد ابھی اس سمت میں کوئی نمایاں قدم نہیں اْٹھایا گیا تاکہ انتظامیہ پر منڈلا رہے کورپشن کے گِِدوں کی سرکوبی ہوتی۔
حقیقت یہ ہے کہ افسرشاہی کا جو کلچر پچھلے سو سال میں برصغیر میں پروان چڑھا ہے اْس کی وجہ سے افسران کی اکثریت سمجھتی ہے کہ وہ حاکم ہے اور لوگ محکوم اور ان کی ٹھاٹ باٹ ، موٹی تنخواہ، مرعات اور ماتحتوں کی جی حضوری انہیں ورثے میں ملے ہیں۔ وہ خود پبلک سرونٹ نہیں پبلک پاور سمجھتے ہیں۔
محکمہ مال ہی نہیں سبھی محکمہ جات سے کورپشن کے دیمک کو اْکھاڑ پھینکنے کے لئے اْن بڑے مگرمچھوں کو بھی بے نقاب کرنا ہوگا جو مقامی حالات میں انتظامیہ کی بعض اکائیوں کو ساتھ ملا کر ایک ہمہ جہتی مافیا قائم کرچکے ہیں۔ اس ضمن میں اگر مزید قانون سازی بھی کرنا پڑے تو ایل جی انتظامیہ کو اسمبلی کے پیچیدہ عمل کا سامنا نہیں، انتظامی کونسل کی ایک نشست میں یہ ہوسکتا ہے۔
[email protected]
رابطہ۔7780882411،9469679449