ایک منحوس اور تاریک دور ختم ہونے کو ہے اب نئے روشن دور کی شروعات ہونے والی ہے اس دور کی شروعات ایک ایسے انسان نے کی ہے جو محبت اور شفقت کے دلدادہ ہیں ان کا شبھ نام شری کلدیپ شرما ہے جو جموں سے تعلق رکھتے ہیں انہوں نے ایک مسلم کو اپنی جائیداد بطور عطیہ پیش کی ان کے اس اقدام نے تاریخ رقم کی ہے بلکہ تمام مذاہب کے درمیان ایک پُل تعمیرکیا ہے ۔
اس سے متاثر ہوکر راقم الحروف نے ایک نظم تحریر کی ہے جس میں ان کے لئے خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے اور اس کے علاوہ اس نظم میں پنڈتوں کی واپسی اور تمام مذاہب کے لوگوں کے درمیان اتحادواتفاق پربھی زور دیا گیا ہے ؎
محبت کی دنیا اب تعمیر ہوگی
نفرت مٹانے کی اکسیر ہوگی
چمن کا یہ بلبل پھولوں کا ورما
محبت کا داعی کلدیپ شرما
سارے دلوں میں یہ تاثیر ہوگی
محبت کی دنیا اب تعمیر ہوگی
چھٹنے لگے یہ عداوت کے بادل
مایوس ہوئے ہیں سارے یہ ارذل
خوابِ امن کی یہ تعبیر ہوگی
محبت کی دنیا اب تعمیر ہوگی
خدا کی یہ دنیا شفقت بھری ہے
انسانیت بس انمول زری ہے
رحمت نبی ؑ کی وہ تفسیر ہوگی
محبت کی دنیا اب تعمیر ہوگی
اخوت کا عالم رونق بھرا ہے
گلشن ہمارا اسی سے ہرا ہے
نبھائیں ایک ساتھ تقدیر ہوگی
محبت کی دنیا اب تعمیر ہوگی
ہم سے ہوئے دور ان کو بلائیں
شمعِ الفت ہم روز جلائیں
صدائے امن کی وہ تنویر ہوگی
محبت کی دنیا اب تعمیر ہوگی
ہندو مسلمان سکھ اور نصران
ایک ہی مٹی ہے انواع انسان
اتحاد کی وہ زنجیر ہوگی
محبت کی دنیا اب تعمیر ہوگی
قائم رہے گا یہ اتفاق ہمارا
روشن اسی سے یہ نیلا سیارہ
غمگین بشیر کی یہ تحریر ہوگی
محبت کی دنیا اب تعمیر ہوگی
غمگین بشیر
رابطہ 9797982737 خانہ گنڈ , ترال کشمیر