جموں//ریاستی عوام خاص طورپرمسلم آبادی کو دھیرے دھیرے احساس ہوتاجارہاہے کہ یہاں انتظامیہ نام کی کوئی چیزنہیں ہے اورمحکمہ بجلی کے نئے وزیر سنیل کمارشرما اورصوبائی انتظامیہ ماہ رمضان کے دوران بجلی جیسی اہم اوربنیادی ضرورت کی فراہمی میں مکمل طورپرنظرآئی ہے ۔جموں خطہ میںماہ رمضان میں بجلی کی اضافی کٹوتی کے سبب مسلم طبقہ میں زبردست بے چینی پائی جارہی ہے،ماہ رمضان کے پہلے دوہفتوں میں خطہ جموں میں بجلی کی آنکھ مچولی کا سلسلہ عروج پررہا۔ اگر چہ حکومت اورصوبائی انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ رمضان کے دوران ان سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایاجائے گا لیکن مسلم علاقوں میں تراویح، سحری اور افطار کے وقت اکثربجلی کاٹ دی جاتی رہی، خطہ جموں کے دوردرازعلاقوں میںپینے کے صاف پانی کی بھی قلت سپلائی نہیں ہورہی۔ حکومتی دعووئوں کے برعکس ماہ مقدس رمضان المبارک کے ابتدائی دوہفتوں میں اس با ت کا احساس ہوگیا ہے کہ یہاںحکومت وانتظامیہ نام کی کوئی چیز نہیں۔ پینے کے صاف پانی اور بجلی کی عدم فراہمی کے سبب پہلے روز ہی روزہ داروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ ا۔حیران کن امر یہ ہے کہ اس مرتبہ صوبائی یا ضلع سطح پر جموں یاخطہ کے دیگر اضلاع میںانتظامیہ کی طرف سے رمضان المبارک کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لئے میٹنگیں منعقدہونے کے باوجودانتظامیہ کی ہدایات کاکوئی اثردیکھنے کونہیں مل رہاہے۔جموں کے مسلم اکثریتی علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت اور بجلی کی آنکھ مچولی کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ مقامی لوگوں نے کشمیرعظمیٰ کو بتایاکہ بٹھنڈی، سنجواں، سدھڑا، جانی پور، بجالتہ، مجین، نگروٹہ، سیری ،پنجگرائیں،چاٹہ، بیلی چرانہ، بشیر گوجر بستی ،تحصیل بھلوال کے دھنوں،رانجن،گھروٹہ، جنڈیال ،رتی کنئی ،سروٹ وغیرہ کے علاوہ جہاں جہاں مسلم آبادی ہے وہاں پربجلی سپلائی کانظام نہایت ناقص ہے۔بیشترمسلم بستیوں صبح سحری اور افطار کے وقت بھی کئی علاقوں میں بجلی کاٹ دی گئی۔لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سے قبل ماہ رمضان المبارک کے پیش نظر صوبائی سطح پر کابینہ درجہ کا وزیر اجلاس کی صدارت کرتے تھے جس میں صوبائی وتمام ضلع سطح کی انتظامیہ کو ہدایات دی جاتی تھیں کہ مسلم علاقوں میں پینے کے صاف پانی، بجلی ، راشن کی فراہمی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ مساجد، خانقاہوں، عیدگاہوں کے آس پاس صفائی ستھرائی کا خاص انتظام کیاجائے لیکن اس مرتبہ وزیرنے ایسی کوئی میٹنگ منعقدنہیں کی۔ انہوں نے الزام عائد کیاکہ سرکار نے صوبہ جموں کو اس مرتبہ یکسر نظر انداز کیا ہے۔ ماضی کی طرح عین نماز تراویح اور سحری وافطاراوقات کے وقت بجلی کٹوتی کا سلسلہ شروع کیاگیاہے۔ صوبہ جموں میں گرمی کا آغاز ہونے کے ساتھ ہی بجلی کا بحران گہرا ہو تا ہے گر چہ محکمہ بجلی کے وزیرسنیل شرمانے وزارت کاقلمدان ہے ، نے یقین دہانی کرائی تھی کہ صوبہ جموں میں بجلی کی مسلسل ترسیل بحال رکھنے کی کوشش کی جائے گی لیکن عملی طور کچھ نہیں ہورہا۔اس سلسلے میںسدھڑا جموں کے لوگوں کاکہناہے کہ ہم بجلی کی آنکھ مچولی سے تنگ آچکے ہیں ۔جموں میں بڑھتی ہوئی گرمی کی شدت میں بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے لوگوں میں تشویش اورغم وغصے کی لہرپائی جارہی ہے ۔یہاں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقہ میں بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی کی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات سے دوچار ہونا پڑتا ہے کیوں کہ علاقہ کے لوگوں کا مکمل انحصار بجلی پر ہے ۔علاقہ کے مسلم طبقہ کا کہنا ہے کہ سرکار نے اس بات کا دعویٰ کیا تھا کہ رمضان کے مہینے میں بجلی کی کٹوتی نہیں کی جائے گی لیکن اس کے برعکس علاقہ میں اس کا الٹا ہو رہا ہے افطاری کے وقت بجلی چلی جاتی ہے اور پانی کی دستیابی بھی یقینی نہیں بنائی جارہی ہے ۔علاقہ کے لوگوں نے سرکار سے اپیل کی ہے کہ وہ بجلی کی دستیابی کے لئے محکمہ کے اعلی افسران کو فوری ہدایات جاری کریںتا کہ علاقہ کے لوگوں کو معمول کی زندگی گزارنے میں کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ خطہ پیر پنچال اور چناب میں بھی بجلی وپانی کی عدم دستیابی کی شکایات ہیں۔ مینڈھر سے محمدجاوید نامی شہری نے بتایاکہ ایک ماہ قبل انتظامیہ یہ دعوے کرنا شروع کر دیتی ہے کہ رمضان المبارک کے دوران لوگوں کو بجلی وپانی سمیت تمام سہولیات میسر کرائی جائیں گیں لیکن عملی طور کچھ نہیں ہورہا۔ انہوں نے بتایاکہ علاقہ میںپہلے روز ہی سحری کے عین موقع پر بجلی کاٹی گئی۔لوگوں نے انتظامیہ کے اس رویہ پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ الیکٹرانک وپرنٹ میڈیا کے ذریعہ وزرا اور اعلیٰ حکام بیانات جاری کر کے عوام کو گمراہ کر تے ہیں جبکہ عملی طور کوئی اقدام نہیں اٹھایاجاتا۔ عوام نے حکومت سے سوال کیا ہے کہ اس مرتبہ کیونکر جموں میں صوبائی وضلع سطح پر رمضان کے پیش نظر میٹنگوں کا انعقاد نہیں کیاگیا۔ اس سے پہلے انتظامیہ اور عوام کا مشترکہ اجلاس ہوتا تھا جس میں سے اس بارے تفصیلی بات چیت ہوتی تھی۔ عوام نے حج واقاف کے وزیرذوالفقارچودھری سے بھی گلہ کیا ہے کہ اس مرتبہ جموں کو کیوں نظر انداز کیاجارہاہے۔ عوام نے رمضان المبارک میں پانی، بجلی ، غذائی اجناس اور صفائی ستھرائی جیسی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے پرزور دیا ہے۔ اقلیتی طبقہ کو ہراساں کرنے،پریشان کرنے وانہیں استحصال کاشکاربنانے کے الزامات حقائق پہ مبنی ہیں،محکمہ بجلی کاقلمدان سنیل شرما کے پاس ہے،اوروہ بھاجپاسے ہیں، اب مسلم آبادی کیساتھ یہ سلوک کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ مسلم طبقہ کواحساس دلایاجارہاہے کہ یہاں بھاجپاکاراج ہے۔اپوزیشن جماعتیں پہلے ہی الزام تراشی کررہی ہیں کہ جموں وکشمیرمیں ناگپور کاایجنڈا چل رہاہے لیکن رمضان کے مقدس ماہ میں بجلی کی بے تحاشہ کٹوتی سے یہ الزامات اب عوامی حلقوں میں حقیقت لگنے لگے ہیں۔