جموں //محکمہ خوراک ورسدات اور عوامی تقسیم کاری پر نئے فیئر پرائز شاپ کی الاٹمنٹ میں ہیرا پھیری کا الزام عائد کرتے ہوئے حزب اختلاف کے ممبران نے ایوان زیرین میں سرکار کے خلاف سخت نعرہ بازی کرتے ہوئے پرانی فہرست کو منسوخ کرکے از سر نو صاف وشفاف طریقہ کار سے دوبارہ اس عمل کو شروع کرنے کا مطالبہ کیا اس بیچ ممبر اسمبلی کنگن میاں الطاف احمد اور ممبر اسمبلی بارہمولہ جاوید احمد بیگ کے درمیان سخت تلخ کلامی بھی ہوئی ۔ سخت شور شرابہ اور ہنگامہ آرائی کے باعث معمول کی کارروائی تقریبا آدھ گھنٹہ تک ممکن نہیں ہو سکی ۔سخت احتجاج کو دیکھتے ہوئے پارلیمانی امور کے وزیر نے مداخلت کی اور ممبران کو یقین دلایا جس کے بعد معاملہ ٹھنڈا ہوا ۔قانون ساز اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران بی جے پی ممبر اسمبلی راجو جسروٹیہ کے ایک سوال کا جواب دیتے چودھری ذوالفقار نے بتایا کہ 4388نئے فیئر پرائز دکانیں منظور ہوئے ہیں جس میں سے 1085کو منظوری دی گئی ہے ۔جس پر ضمنی سوالات پوچھتے ہوئے ممبران نے سرکار سے وضاحت مانگی کہ محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری کی طرف سے فیئرپرائس شاپس کی الاٹمنٹ کیلئے کس طرح کا طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے اور کس طرح کے قواعد و ضوابط وضع کئے گئے ہیں ۔انہوں نے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر اُن کے اسمبلی حلقہ میں صرف فئیر پرائز شاپ منظور ہوئے ہیں جن میں سے بیشتر سابق ایم ایل اے کے کہنے پر دئے گئے تو پھر اس میں کون سا صاف وشفاف طریقہ کار تھا۔ اس دوران اگرچہ وقفہ سوالات ختم ہوا، تاہم وقفہ صفر کے دورا ن اپوزیشن کے ممبران نے پھر سے یہی معاملہ اٹھایا ۔ ممبر اسمبلی خانیار علی محمد ساگر ،ممبر اسمبلی سونا واری محمد اکبر لون ،میاں الطاف احمد ،کانگریس ایم ایل اے اندروال جی ایم سروڑی ، حکم محمد یاسین ،محمد یوسف تاریگامی ، الطاف احمد کلو ، اشفاق جبار ، شمیمہ فردوس ، اپنی نشستوں سے کھڑے ہوئے اور وزیر کوگھیرتے ہوئے کہا کہ انہیں ممبران اسمبلی کو اعتماد میں لئے بغیر ہی ان فئیر پرائز شاپ کی تقسیم کاری عمل لائی گئی ہے ،جس پر اگرچہ چودھری ذوالفقار اپنی نشست سے کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ کبھی کبار ایسا ہوتا ہے کہ ممبران اسمبلی کی مرتب کردہ فہرستیں ان کے حلقوں کے لوگوں کو بھی قابل قبول نہیں ہوتیں۔ اس پراپوزیشن ممبران دوبارہ اپنی نشستوں سے کھڑے ہوئے اور احتجاج کرنے لگے۔ممبر اسمبلی نگروٹہ نے سجاد غنی لون کا نام لیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے جو بھی فرستیں مرتب کی ہیں اُس میں انہوں نے ایم ایل اے کو اعتماد میں لیا ہے اُس کے بعد ہی یہ فرستیں عمل میں لائی ہیں لہذا سب وزراء کو ایم ایل اے کو خاطر میں لینا چاہئے ۔ممبران نے اس دوران سرکار کے خلاف جم کر نعرہ بازی کرتے ’بندربانٹ بند کرو ‘کے نعرے لگائے جس کی وجہ سے کچھ منٹوں تک ایوان میں سخت شورشرابہ دیکھنے کو ملا ۔ممبر اسمبلی کنگن میاں الطاف نے کہا کہ یہ ایک سنگین معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی تقسیم کاری صاف وشفاف طریقے سے عمل میں لائی جانی چاہئے تھی ۔ممبر اسمبلی کولگام نے کہا کہ ایک ایم ایل اے اتنا محتاج نہیں ہے او ر نہ ہی اس معمولی چیز کیلئے ہم کسی کے سامنے ہاتھ جوڑیں گے لیکن ہمارا مطالبہ ہے کہ اگر آپ کسی جگہ پر یہ شاپ کھولتے ہیں تو اُس کیلئے ایک طریقہ کار ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر اس کی تقسیم کاری صاف وشفاف طریقے سے ہوئی ہے تو پھر جو عمر صاحب کے اسمبلی حلقہ میں ہوا وہ کون سا صاف وشفا ف طریقہ تھا ۔اس پر سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بھی اپنی نشست سے کھڑے ہوئے اور کہا کہ یہ کسی کے اسمبلی حلقہ کا سوال نہیں ہے کہ وہاں کیا ہوا ہے ۔انہوں نے وزیر سے محاطب ہو کر کہا ہے کہ ’اگر آپ کو اس بات کا یقین ہے کہ شاپس شفاف انداز میں کھولی جائیں گی تو پرانے تمام آرڈر منسوخ کیجئے ‘‘۔انہوں نے پرانی فہرستوں کو منسوخ کرکے شفاف طریقے پر نئی فہرست مرتب کرنے کا مطالبہ کیا ۔عمر عبداللہ نے کہا کہ ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے لیکن ایک صاف وشفاف طریقہ کار اُس کیلئے ضروری ہے اس پر دوبارہ وزیر خوراک اپنی نشست سے کھڑے ہوئے اور کہا کہ پرانے فیئر پرائس شاپ کو منسوخ نہیں کیا جا سکتا بلکہ جو نئے اب کھولے جائیں گے اُس میں ممبر اسمبلی کو اعتماد میں لیکر یہ عمل مکمل کیا جائے گا جس پر دوبارہ ممبران اپوزیشن کے ممبران نے احتجاج شروع کیا جبکہ حزب اقتدار کے ممبران نے بھی انہیں اعتماد میں لینے کا مطالبہ کیا ۔ ممبر ان نے اس دوران پھر سے’ بندربانٹ بند کرو ‘کے نعرے لگائے ۔اس پر ممبر اسمبلی بارہمولہ جاوید حسین بیگ اپنی نشست سے کھڑے ہوئے اور کہا کہ ایم ایل اے جو کہتے ہیں اعتبار کے حساب سے درست ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایم ایل اے اپوزیشن میں ہو یا پھر سرکار میں لوگ ایم ایل اے پر اعتبار کرتے ہیں ،رہی بات اس پر بحث کرنے کی تو اس میں پھر ماضی بھی آئے گا ۔جاوید بیگ کی زبان سے یہ بات نکلتے ہی اپوزیشن پھر برہم ہوئی اور ممبر اسمبلی کنگن میاں الطاف احمد نے جاوید بیگ پر برس پڑے اور اپوزیشن نے احتجاج کرنا شروع کیا ،میاں الطاف نے کہا کہ مظفر حسین بیگ صاحب بھی یہاں آئے تھے2002میں وہ بھی کہتے تھے میں حساب لوں گا پھر کیا حساب لیا جس پر دونوں ممبران کے درمیان بحث وتکرار اور تو ں توں مین میں ہوئی ۔جاید بیگ کو سخت شور شرابہ کے بیچ یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ بیگ صاحب یہاں نہیں ہیں پھر کیوں اُن کا نام اس ہاوس میں اچھالا گیا ۔شور شرابے کے بیچ باقی کچھ بھی سنائی نہیں دے رہا تھا۔احتجاج میں شدت آنے کے بعد اسمبلی کے اسپیکر کوندرگپتا نے پارلیمانی امور کے وزیر کو ہدایت دی کی و ہ اُس پر بیان دیں جس کے بعد پارلمانی امور کے وزیر عبدالرحمان ویری نے ممبران کو یقین دلایا کہ فئیر پرائز شاپ صاف وشفاف طریقے سے کھولے جائیں گے اور اس کیلئے پہلے ہی متعلقہ وزیر نے یقین دہانی کرائی ہے اور اس یقین دہانی کے بعد ممبران خاموش ہو گئے ۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے ممبر اسمبلی نگروٹہ دیوندر سنگھ رانا نے کہا کہ اس عمل میں بندربانٹ ہوئی ہے اس کیلئے حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے ممبران نے یہ کہا کہ اس کی تقسیم کاری میں ایک صاف وشفاف طریقہ کار ہونا چاہئے تاکہ ہمارے بے روزگار نوجوان کو روزگار فراہم ہو ۔انہوں نے کہا کہ سرکار نے ابھی تک جو 1000دکانیں دی ہیں اُن میں یہ الزام ہے کہ گھوٹالہ ہوا ہے بندربانٹ ہوئی ہے اُس کے خلاف آواز اٹھائی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جو اس میں بندبانٹ ہو رہی ہے ہم اس کے خلاف ہیں اور بے روزگار نوجوانوں کے ساتھ ایک بہت بڑا دھوکہ ہے ۔