سرینگر//جہانگیر چوک میں میڈیا سے وابستہ افراد پر پولیس لاٹھی چارج سے مبینہ طور پرمتعدد صحافیوں کے زخمی ہونے کے واقعہ کی اہم سیاسی لیڈروں نے شدید مذمت کی ہے۔ عاشورہ جلوس پر پولیس ایکشن کی عکس بندی کررہے فوٹو جرنلسٹوں پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور ان کو پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کو انجام دینے سے روک دیا۔ فوٹو جرنلسٹ وسیم اندرابی کاکہنا ہے کہ ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد جہانگیر چوک میں محرم جلوس کور رہے تھے اورپولیس نے ایس ایچ او کی قیادت میں بلا کسی جواز کے مارنا پیٹنا شروع کیا اورکہا کہ وہ ہمارے خلاف ایف آئی آر درج کرینگے۔ مذکورہ فوٹو جرنلسٹ نے کہاکہ ’وہ دیگر ہم پیشہ ساتھیوں کے ہمراہ پیشہ وارانہ فرائض انجام دے رہے تھے اور یہ کوئی جرم نہیں ہے‘۔سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہاکہ جموں وکشمیر پولیس اہلکاروں کی طرف سے سرینگر میں صحافیوں کو بے رحمی سے پیٹتے ہوئے دیکھنا افسوسناک ہے، یہ لوگ اپنے پیشہ وارانہ فرائض انجام دے رہے تھے ۔ انہوںنے کہا کہ یہ لوگ خبریں نہیں بناتے اور نہ ہی کہانی بنانے کیلئے واقعات تخلیق کرتے ہیں، مجھے امید ہے کہ جموںو کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر کا دفتر ان واقعات کو دوبارہ پیش نہ آنے کو یقینی بنائینگے‘‘۔ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے بھی ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’’ذرائع ابلاغ افغانستان کی موجودہ صورتحال اور انسانی بحران پر گھنٹوں مباحثوں پر صرف کر رہا ہے لیکن کیا وہ کشمیر میں اپنی برادری سے وابستہ لوگوں کے لئے بات کریں گے، جنہیں آج اپنے فرائض منصبی کی انجام دہی کے دوران سیکورٹی فورسز نے زد کوب کیا‘۔پیپلز کانفرنس نے اپنے ٹویٹ میں کہا’’صحافیوں کی بے رحمانہ پٹائی انتہائی قابل مذمت ہے، ہم بغیر کسی احتساب کے اس طرح کی کارروائی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں‘‘۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ قانون کے حمایتی قانون کے بنیادی اصولوں کو منہدم کرنے کے لئے نکل آئے ہیں۔