یواین آئی
ممبئی/ ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سنیل گواسکر نے ورک لوڈ مینجمنٹ کے نام پر کھلاڑیوں کی مسلسل روٹیشن پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ضرورت سے زیادہ تبدیلیاں قومی ٹیم میں منتخب ہونے کی اہمیت کو کم کر رہی ہیں۔آئرلینڈ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کے آغاز اور بین الاقوامی کرکٹ کے مصروف شیڈول کے تناظر میں گواسکر نے کہا کہ اگر کھلاڑیوں کو بار بار آرام دینے کے لیے ٹیم میں مسلسل ردوبدل کیا جاتا رہا تو “انڈیا کیپ” حاصل کرنے کا اعزاز اپنی وقعت کھو سکتا ہے ، چاہے ملک میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ جدید کرکٹ میں ورک لوڈ مینجمنٹ یقیناً ضروری ہے ، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ قومی ٹیم میں جگہ حاصل کرنا آسان ہو جائے ۔گواسکر کے مطابق” ہندوستانی ٹیم کی کیپ دی جانی چاہیے ، لیکن صرف اس لیے نہیں دی جانی چاہیے کہ کسی مستقل کھلاڑی کو آرام دیا جا رہا ہے ۔”انہوں نے مطالبہ کیا کہ سینئر کھلاڑیوں کے استعمال کے لیے ایک واضح اور متوازن نظام بنایا جائے تاکہ نہ ان پر ضرورت سے زیادہ بوجھ ڈالا جائے اور نہ ہی انہیں غیر ضروری طور پر ٹیم سے باہر رکھا جائے ۔سابق کپتان نے یہ بھی تجویز دی کہ سینئر کرکٹرز کو ہر سال کم از کم ایک ماہ کا مکمل آرام دیا جانا چاہیے ۔ان کا کہنا تھا کہ تینوں فارمیٹس میں مسلسل کرکٹ کھیلنے سے کھلاڑیوں میں تھکاوٹ، انجری اور کارکردگی میں کمی کے خطرات بڑھ جاتے ہیں، جس سے طویل مدت میں ٹیم کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔گواسکر کے یہ ریمارکس افغانستان کے خلاف حالیہ ہوم سیریز کے بعد سامنے آئے ہیں، جہاں شبھمن گل کی قیادت میں ہندوستانی ٹیم نے عمدہ کارکردگی دکھائی جبکہ کے ایل راہل سمیت کئی بلے بازوں نے نمایاں کھیل پیش کیا۔