بانہال//سب ڈویژن رامسو کے مقامی پڑھے لکھے بیروزگار نوجوانوں نے فورلین پروجیکٹ کیلئے مامور تعمیراتی کمپنیوں کی طرف سے بیرون ضلع سے مزدورں اور سیکورٹی گارڈوں کی تعیناتی کے خلاف احتجاج کیا اور نیشنل ہائے وے اتھارٹی آف انڈیا اور فلائی اور بنانے کیلئے لائی گئی ایک نئی ہی تعمیراتی کے خلاف نعرے بلند کئے۔رامسو اور مکروٹ کے مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ رامسو میں فورلین تعمیراتی کمپنی مقامی افراد کو مزدوری کے حق سے بھی محروم رکھنا چاہتی ہے جبکہ فورلین پروجیکٹ کیلئے اپنی مقامی لوگوں کی زمینیں ، مکان اور پھلدار درختوں کو کوڑیوں کے بھاﺅ بیچا اور لوگوں کی اس قربانی کے بعد ہی فورلین شاہراہ کی تعمیر ممکن ہو پارہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ فورلین شاہراہ کی تعمیراتی کمپنیوں نے جنگل راج قائم کر رھا ہے اور یہاں کام کرنے والے ورکروں ، مزدروں اور سیکورٹی گارڈز کو بہت کم اجرتیں دی جارہی ہیں جو لیبر قوانین کی صریحا خلاف ورزی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ رامسو سب ڈویژن کے علاقوں میں فورلین شاہراہ کے فلائی اور تعمیر کرنے کیلئے آئی ایک نئی تعمیراتی کمپنی نے مقامی آبادی کو نظر انداز کرکے مزدور اور سیکورٹی گارڈ بھی باہر سے درآمد کئے ہیں جس کی وجہ سے مقامی لوگوں ، بیروزگار نوجوانوں اور مقامی ہنرمندوں میں کمپنی کے خلاف سخت غم و غصہ پایا جارہا ہے۔ مقامی عوامی نمائندوں نے ضلع انتظامیہ رام بن سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ وہ مقامی لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کے اپنے وعدے کو ترجیح پر پورا کریں ۔ انہوں نے موجودہ صورتحال اور انصافی کو ختم نہ کرنے کی صورت میں احتجاجی مظاہروں کا بھی انتباہ دیا ہے۔مقامی لوگوں کا ایک وفد تحصیلدار رامسو اور ایس ایچ او رامسو سے بھی ملا اور انہیں میمورنڈم پیش کیا جس میں تعمیراتی کمپنی کو مقامی لوگوں کو روزگار دینے کا پابند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ۔اس سلسلے میں بات کرنے پر بلاک ترقیاتی چیئرمین رامسو بلاک شفیق احمد کٹوچ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ قومی شاہراہ کی کشادگی کیلئے جاری تعمیراتی کام کی وجہ سے شاہراہ پر واقع رامسو اور مکرکوٹ کے علاقوں میں عوام کا کاروبار ختم ہوگیا اور سڑک کی کھدائی کی وجہ سے سینکڑوں رہائشی گھر تباہ ہوگئے ہیں اور درجنوں لوگوں کو ابھی تک معاوضہ ادا نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعمیراتی کمپنی مقامی لوگوں کو مزدوری اور حفاظتی گارڈ کے روزگار سے بھی محروم رکھنا چاہتی جو بالکل ناقابل قبول ہوگا اور اس کے خلاف ہر سطح پر آواز بلند کی جائے گی۔ سنیچر کی شام تک شاہرہ پر واقع مکرکوٹ میں بیرون اضلاع سے جائے گئے سیکورٹی گارڈوں کی تعیناتی کے خلاف ہنگامہ آرائی کا سلسلہ جاری تھا ۔