عظمیٰ نیوزسروس
جموں// ادھم پور انتظامیہ نے منگل کے روز ضلع میں فوج کی نئی متعارف کردہ کیموفلاج وردی کی غیر مجاز فروخت پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے تاکہ فرضی شناخت اور وردی کے غلط استعمال کے واقعات کو روکا جا سکے۔یہ حکم وردی کے مبینہ غلط استعمال کی اطلاعات کے بعد جاری کیا گیا، جس پر خدشہ ظاہر کیا گیا کہ سماج دشمن عناصر اس کا استعمال کر کے خود کو فوجی اہلکار ظاہر کر سکتے ہیں۔ حکام کے مطابق اس نوعیت کے واقعات سنگین سیکورٹی خدشات کو جنم دیتے ہیں اور انہیں سختی سے روکنا ضروری ہے۔ضلع مجسٹریٹ منگا شیرپا، جنہوں نے یہ حکم جاری کیا، نے کہا کہ ادھم پور میں فوج کی بڑی موجودگی ہے اور یہ علاقہ ناردرن کمانڈ ہیڈکوارٹر سمیت کئی دفاعی تنصیبات کے قریب واقع ہے، جس کی وجہ سے یہ معاملہ نہایت حساس بن جاتا ہے۔انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا’’انتظامیہ کی جانب سے ایک حکم جاری کیا گیا ہے جس کے تحت بھارتی فوج کی نئی طرز کی کیموفلاج وردی کی فروخت پر پابندی عائد کی گئی ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد فرضی شناخت کے واقعات کو روکنا اور یہ یقینی بنانا ہے کہ مجاز کپڑا اور وردی صرف مجاز فوجی اہلکار ہی استعمال کریں تاکہ کسی بھی قسم کے غلط استعمال کے امکانات ختم کیے جا سکیں۔ضلع مجسٹریٹ نے کہا’’یہاں فوج سے متعلق دکانوں کی بڑی تعداد موجود ہے کیونکہ اس علاقے میں فوجی اہلکاروں کی موجودگی زیادہ ہے، اسی لیے یہ پابندی عائد کی گئی ہے‘‘۔انتظامیہ نے ہدایت دی ہے کہ ضلع کی کوئی بھی غیر مجاز دکان مسلح افواج کی نئی ڈیزائن کردہ کیموفلاج وردی یا اس سے متعلق کپڑا فروخت نہیں کرے گی۔ عمل درآمد کرنے والی ٹیموں کو سخت نگرانی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت دی گئی ہے۔ڈی سی نے مزید کہا’’ادھم پور کے متعلقہ ایس ایچ او کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی بھی دکان ایسا کپڑا فروخت نہ کرے جس کا استعمال لوگ فوجی اہلکاروں کی نقالی کے لیے کر سکیں‘‘۔حکام نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ چوکس رہیں اور فوجی طرز کے کپڑوں کی غیر قانونی فروخت یا غلط استعمال کی کسی بھی اطلاع کو فوری طور پر انتظامیہ یا پولیس کے علم میں لائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔