فلسطین جو آج کل اسرائیل کے ساتھ چل رہے تنازعے کے سبب پھر ایک بار سُرخیوں میں آیا ہے فی الحال ایک غیر معینی معرکہ آرائی کا شار ہے۔ قارئین اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ مشرقی یروشلم میں قائم متبرک و مقدس مسجد الاقصیٰ پر رواں ماہ اسرائیلی پولیس کی طرف سے دعویٰ بول دیا گیا جس میں مسجد میں نماز ادا کر رہے افراد کے زخمی ہونے کی خبر موصول ہوئی۔ اس واقعے کے فوراََ بعد تشدد بھڑک اُٹھا اور پولس اور شہریوں کے بیچ جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا ۔ اگرچہ ہر بار اسرائیل اور فلسطین کے بیچ ہونے والی معرکہ آرائیوں کے پیچھے کوئی نہ کوئی فوری وجہ ہوتی ہے لیکن فلسطین جیسے خطے میں اسرائیلی تشد کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ بالخصوص ۱۹۴۸ء کی عرب -اسرائیل جنگ کے بعد۔
حالیہ تنائو کُچھ اس طرح شروع ہوا کہ شیخ جراح سے فلسطینی مسلمانوں کوبلاجواز نِکالنے کے خلاف لوگ سراپا احتجاج تھے اور احتجاجیوں کا ٹکرائو اُن یہودیوں کے ساتھ ہوا جو Jerusalem Day منانے جا رہے تھے۔ تھوڑی تفصیل میں جائیں تو ۶ مئی کو یروشلم میں فلسطینیوں کی طرف سے احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا جس میں اسرائیلی سپریم کورٹ کے اُس فیصلے کو چیلنج کیا جا رہا تھا جس میں فلسطینیوں کو شیخ جراح سے نِکالے جانے کا حکم دیا گیا تھا ۔ اسرائیلی تشدد کا یہ سلسلہ ماہِ رمضان کی ۲۷ ویں شب میں شروع ہوا جب کچھ اسرائیلی فوجی مسجدِ اقصیٰ میں داخل ہو کر نمازیوں کو نشانہ بنانے لگے۔ اس تمام تر صورتحال نے اسرائیلی پولیس اور فلسطینی مسلمانوں کے بیچ جھڑپوںکے سلسلے کو جنم دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے جنگی صورتحال پیدا ہوئی جس میں غزہ میں مقیم حماس نے اسرائیل پر میزائیل داغے اور اسرائیل نے غزہ پہ ہوائی سٹرائیکس کر کے غزہ کی بستیوں کو تہس نہس کرنا شروع کر دیا۔معرکہ آرائی میں تاحال فلسطین میں شہید ہونے والوں کی تعداد ۱۰۰ سے تجاوز کر گئی ہے جِن میں کافی حد تک خواتین اور بچے میں شامِل ہیں ۔ اسرائیل کی اس کاروائی نے نتیجے میں پوری دنیا میں اور خصوصاََمسلم دنیا میں غم و غصے کا اظہار کیا جانے لگا اور اسرائیل کی مذمت کی جانے لگی۔ مذمت کا سلسلہ برطانوی اور امریکی علاقوں میں بھی دیکھنے کو ملا ۔ اگرچہ چند ایک اقوام جو قومِ یہود کی ہر مزموم سازش کو حکمتِ عملی اور ملکی سالمیت کا جواز دے کر اپنے یہودی آقائوں کو خوش کرنا چاہتے ہیں لیکن اسرائیل کی وکالت یا مزمت کرنے سے قبل اور فلسطین کی موجودہ کیفیت کو سمجھنے کے لئے اس کی جغرافیہ اور تاریخی پسِ منظر کو سمجھنا ضروری ہے۔
اسرائیل – فلسطین تنازعہ کا پسِ منظر
دراصل فلسطین اقوامِ متحدہ کی ڈِمارکیشن سے ۱۹۴۷ء میں ایک بڑے سے خطے کی تقسیم سے وجود میں آیا جو ۱۹۱۷ء تک خلافتِ عثمانیہ کا حصہ تھا۔ پورے خطے کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا، مسلم اکثریت والا اور اسلامی تاریخ کے اعتبار سے اہم فلسطین اور یہودی اکثریت والا خطہ اسرائیل۔ یہ تقسیم عرب دنیا کے حق میں نہیں تھا اور قومِ یہود کی طرف جانبداری پر مبنی تھا جس کی وجہ سے عرب -اسرائیل کے بیچ ۱۹۴۸ء میں ایک تباہ کُن جنگ چھڑی ۔ اس جنگ کے نتیجے میں اسرائیل نے مزید علاقوں کو قبضے میں لیا۔ مذکورہ جنگ کے بعد اقوامِ متحدہ کی مداخلت سے ایک لکیر Green Line کھینچ کر دو علاقوں کو الگ کیا گیا تھا ۔ مشرقی خطہ جو کہ اُردن کی طرف تھا اُسے ویسٹ بنک(West Bank) کے نام سے جانا جانے لگا کیونکہ یہ دریائے اُردن کے مغرب میں واقع تھا ۔ اس گرین لائین کی حیثیت بھی کُچھ ہندوپاک کے مابین کھینچی گئی لائین آف کنٹرول کی جیسی ہے جو کہ انٹرنیشنل بارڈر نہیں مانی جا سکتی بلکہ محظ ایک جنگ بندی لائین ہے۔ نیز گرین لائین کو بھی عبور نہیں کیا جا سکتا تھا بصورتِ دیگراسے جنگ بندی معاہدہ کی خلاف ورزی سے تعبیر کیا جا سکتا تھا۔ ۱۹۶۷ء میں اسرائیل نے فلسطینیوں پہ قیامت ڈھائی جسے چھ دِن پر مشتمل جنگ(Six Days war) کے طور یاد کیا جاتاہے۔ اس شہہ روزہ مختصر مگر تباہ کُن جنگ میں اسرائیل نے پورے علاقے پہ اپنے قدم جمالئے اور گرین لائین کو عبور کرتے ہوئے ویسٹ بنک کو بھی اپنے تصرف میں لایا۔ اب اسرائل بلکہ مسئلہ فلسطین کے ورثاء کے پاس تین راستے تھے۔زبر دستی ہڑپ کئے گئے ویسٹ بنک کو اسرائیل کے ساتھ ضم ہونے دینا ، ویسٹ بنک کو واپس اُردن کے حوالے کرنا یا پھر فلسطینیوں کو علیحدہ ریاست بنانے دینا جو کہ فلسطین کا حق بھی تھا۔ ان میں سے کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے ہی اسرائیلی شہریوں نے ویسٹ بنک میں دراندازی کر کے اس متنازعہ علاقے میں بستیاں آباد کرنا شروع کیا۔ قوامِ متحدہ کے مطابق بھی یہ عمل نہایت ہی غیر ذمہ دارانہ تھی ،"Policy and practices of Israel in establishing settlements of Palestinian and other Arab territories occupied since 1967 have no legal validity. " ۔ اقوامِ متحدہ کے اس مئوقف کے پیچھے سیکیورٹی کائونسل کی کئی قرارداد ہیں جیسے کہ Security council Resolutions 237 of 14 June 1967, 252 of 21 May 1968 and 298 of September 1971 ۔واضع رہے ۱۹۶۷ کی اس جنگ سے قبل ہی ۱۹۶۴ء میں فلسطین کو آزاد کرانے کے لئے Palestine Liberation Organisation وجود میں آئی تھی ۔ PLO نامی اس آرگنائیزیشن کو ۱۹۷۴ء میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی نمائیندگی کے لئے مدعو کیا گیا ۔ بہر کیف یہودیوں کی دراندازی سے جہاں فلسطین کی Demography میں واضع تبدیلی رونما ہوئی وہیں اب اس یہودیوں اور عربیوں کی بِکھری بستیوں نے اس فیصلے میں مزید مشکل پیدا کر دی کہ آیا یہ علاقہ علیحدہ فلسطینی ریاست میں تبدیل کر کے فلسطینیوں کی دیرینہ مانگ پوری کی جائے یا پھر یہودی ملک اسرائیل میں ضم ہونے دیا جائے۔ اسرائیل کی ایک ممکنہ گہری سازش کے تحت یہاں آباد ہونے والے یہودیوں کو حکومت کی طرف سے سہولتیں مِلنے لگیں جس سے فلسطین کی زمین میں مزید یہودی آباد ہونے کے لئے وارد ہوئے ۔ اس سے فلسطینی مسلمانوں میں اضطرابی کیفیت پیدا ہوئی اور احتجاجی سلسلہ شروع ہوا ۔ نیز یہودیوں اور مسلمانوں کے بیچ تنائو کافی وقت تک کھِنچتا چلا گیا جس کو دبانے کے لئے یہودیوں نے پھر سے ایک ڈپلومیٹک دائو کھیلتے ہوئے آسلو ایکارڈ (Oslo Accord) تیار کئے۔ آسلو ایکارڈ دو معاہدوں پر مشتمل ہے ۔ پہلے ایکارڈ یعنی "Declaration Of Principles on interim self-government arrangements" پر ۱۹۹۳ء میں واشنگٹن میں دستخط ہوئے جبکہ دوسرے ایکارڈ یعنی " Israeli-Palestinian Interim Agreement on the west bank and Gaza strip جسے Taba Agreement کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ، اس پر طابا مصر میں دستخط ہوئے۔ یہ معاہدے امریکی صدر بل کلنٹن کی ثالثی سے PLO اور اسرائیل کے بیچ طئے پائے تھے۔ ان ایکارڈس کے مطابق ویسٹ بنک تین علاقوں میں تقسیم ہوا :
A پہلا حصہ : یہ علاقہ فلسطین کے مکمل کنٹرول میں دیا گیا جس کا مطلب یہ ہے کہ اس علاقے کی حکومت اور اس علاقے کی سیکیورٹی فلسطین کے ہاتھ میں رہے گی۔ یہ ویسٹ بنک کا لگ بھگ 18% علاقہ ہے۔
B دوسرا حصہ : یہ علاقہ جُزوی طور فلسطین کنٹرول میں دیا گیا جہاں فلسطینی حکومت تو قائم ہوگی لیکن یہاں کی سیکورٹی امورات اسرائیلی یہودیوں کے ہاتھ میں رہیں گے۔ یہ علاقہ ویسٹ بنک کے لگ بھگ 22% رقبے پر مشتمل ہے۔
Cتیسرا اور سب سے بڑا خطہ: یہ علاقہ جو کہ ویسٹ بنک کا لگ بھگ 60% علاقہ ہے مکمل اسرائیلی کنٹرول میں دیا گیا۔
اسرائیلی تسلط، جنگ و معاہدہ کے نہ تھمنے والے سلسلے کے بعد تاحال ویسٹ بنک میں ۱۶۷ فلسطینی خطے اور ۲۳۰ یہودی Settlements موجود ہیں ۔
فلسطین میں مسلمانوں اور یہودیوں کے بیچ تلخی جو کہ یہودیوں کے زبردستی کئے گئے Settlements سے پیدا ہوئی تھی پہلے سے ہی تھی البتہ اس میں مزید اُبھال تب آیا جب ۲۰۰۵ء میں غزہ سے یہودیوں کو نکالا جانے لگا۔ غزہ ایک Self-Governed فلسطینی خطہ ہے جو جغرافیائی لحاظ ہے ویسٹ بنک سے علیحدہ ہے ۔ غزہ بحیرئہ روم کے کنارے آباد ہے جس کی ۱۱ کلومیٹر سرحد مصر سے ملتی ہے اور ۵۱ کلومیٹر سرحد اسرائیل سے ملتی ہے۔ اگرچہ ویسٹ بنک اور غزہ موجودہ نقشے کے حساب سے الگ ہیں لیکن یہ دونوں فلسطین کا حصہ مانے جا سکتے ہیں ۔ اس عمل سے ویسٹ بنک میں یہودیوں کی درندازی مزید بڑھنے لگی ۔ قارئین حضرات کے لئے اسے واضع کرنا لازمی تھا کہ موجودہ حالت و حیثیت تنازعئہ فلسطین کی کیا ہے۔ اب واپس رُخ کرتے ہیں حالیہ جاری تنازعہ کی طرف۔
موجودہ تنازعہ کے فوری اسباب
اسرائیلی یہود اور فلسطینی مسلمانوں کے بیچ کے اس صدیوں پُرانے مسئلے کی موجودہ حئیت کو سمجھنے کے بعد اب ۲۰۲۱ء کے اس وقت چل رہے معرکے کے فوری اسباب کو سمجھنا آسان ہوگا۔ جیسا کہ راقم مضمون کے آغاز میں ہی عرض کر چُکا ہے کہ موجودہ تشدد اُس وقت پیش آیا جب فلسطینی ، اسرائیل کی سپریم کورٹ کے اُس حکمنامے کے خلاف سراپا احتجاج تھے جِس میں فلسطینیوں کو اُن کی پُشتنی زمین شیخ جراح سے نِکالے جانے کو آئینی اور قانونی جواز بخشنے کی مزموم کوشش کی گئی۔ شیخ جراح مشرقی یروشلم کا علاقہ ہے جو صلاح الدین ایوبی کے طبیب حسام الدین الجراحی کے نام سے آباد ہوا تھا۔ ۱۹۴۸ء میں ہوئی عرب اسرائیل جنگ کے ما بعد جہاں مسلم اکثریت والا اور مسجدِ اقصیٰ کی مناسبت سے نہایت ہی اہم بلکہ کُلہم مسلمانوں کی شہہ رگ یروشلم دو حصوں میں بٹ گیاتھا۔ اسرائیل کے حصے میں آنے والا مغربی یروشلم اور اُردُن کے حصے میں آیا ہوا مشرقی خطہ۔ اِن دونوں خطوں کے درمیان شیخ جراح ایک No man's land کی حیثیت سے رہ گیا۔ مابعد اس کے ۱۹۶۷ء میںشہ روزہ جنگ کے دوران اسرائیل نے کئی علاقوں پہ قبضہ جمایا اور اسی بیچ شیخ جراح کو ناحق اپنے قبضے میں لیا۔ آج اسی شیخ جراح سے پُشتنی باشندگان کو گھروں سے بے گھر کر کے اُن کی جائیداد پہ یہودی قبضہ کررہے ہیں۔ جس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ رمضان کے آخری عشرہ میں چل رہے تھے۔ احتجاجی مسلمانوں کے ساتھ یہودی اُلجھ پڑے جس سے تشدد بھڑک اُٹھا ۔ ظاہری طور اسی کے انتقام میں اسرائیلی پولس نے مسجد اقصیٰ پہ ۷ مئی کو دعوا بول دیا اور مسلمانانِ فلسطین کو عتاب کا نشانہ بناتے ہوئے لگ بھگ ۳۰۰ فلسطینیوں کو زخمی کر دیا جب فلسطینی مسلمان تراویح کی نماز ادا کر رہے تھے۔ ۷ مئی کی رات اسلامی کلینڈر کے مطابق متبرک و مقدس لیلۃ القدر کے طور منائی جا رہی تھی۔ پولس کی اس بربریت کا جواز پیدا کرتے ہوئے پولس نے دعوے کیا کہ مسجدِ اقصیٰ میں کُچھ افراد سنگباری کرنے کی غرض سے پتھر جمع کر کے بیٹھیں ہیں جو ماحول کو بِگھاڑنے کی فراق میں ہیں ۔ مسجدِ اقصیٰ پر اس غیر اخلاقی اور انسان سوز حملے کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے اس گستاخی کے جواب میں غزہ سے حماس اور Palestinian Islamic Jihad گروپ نے ۱۰ مئی کو اسرائیل پہ راکٹ داگنے شروع کر دیئے۔ تاحال حملوں اور جوبی حملوں کا سلسلہ جاری ہے جس میں اسرائیل کی طرف سے بھاری بمباری سے فلسطینیوں کی شہادتیں ۱۰۰ سے تجاوز کر گئیں ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔جبکہ غزہ کی طرف سے راکٹ حملوں میں اسرائیل سے بھی جانی نُقصان کی اطلاعات موصول ہوتی رہیں لیکن اسرائیل اپنے نقصان کو زیادہ تُو ل اس لئے بھی نہیں دے رہا کہ اُس نے مغرب سے لے کر مشرق تک جو رعب اور دبدبہ قائم کیا تھا وہ کہیں ٹائیں ٹائیں فِش نہ ہو جائے۔ کیوںکہ ممکنہ میزائیل حملوں سے روکنے کے لئے جو اسرائیل نے Iron Dome نامی تکنالوجی کا خوب ڈنڈورا پیٹتے ہوئے پوری دُنیا پہ دبدبہ بِٹھا رکھا تھا وہ اُس وقت پاش پاش ہوا جب Iron Dome ، حماس کے سینکڑوں میزائیلوں کو بیک وقت روکنے میں بالکل ناکام رہی اور اسرائیل کے Tel Aviv کے علاوہ کئی اہم مقامات پر میزائیلوں نے تباہی مچائی۔
حالیہ تنازعہ کے ممکنہ نتائج
اسرائیل کی طرف سے اس طرح کی کاروائیاں غزہ یا یروشلم پہ عرصئہ دراز سے جاری ہیں بلکہ ابھی تک ہزاروں فلسطینی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔ بلکہ یروشلم کو اسرائیل کے دارالخلافہ کے طور بھی مشتہر کیا جا چُکا ہے جس کا ساتھ سابقہ امریکی صدر ڈونالڑ ٹرمپ نے کیا تھا۔ اب مزید یروشلم کی سیاسی حیثیت کے تئیںا س حملے کے فوری نتائیج کیا ہو سکتے ہیں اس کے بارے میں کھُلے طور کُچھ کہنا مُشکل ہے البتہ نیتن یاہو کو آنے والے انتخابات میں سیاسی فائیدہ حاصل ہونے کے امکانات واقعی بڑھ گئے ہیں۔ جیسا کہAristotle نے کہا تھا کہ کسی بھی قوم پر ایک حکمران یا ایک تاناشاہ کے طور کامیاب ہونے کے لئے تین چیزوں میں سے کسی ایک کا سہارا لینا لازمی بنتا ہے اور وہ ہیں Ethos، Logos اور Pathos ۔ پیتھوس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کا ایموشنل بلیک میل کر کے اُن کے ذہن میں اپنی یہ شبیہہ اُتارنا کہ میں ہی واحد ایسا شخص ہوں جو پوری قوم میں لوگوں پر حکومت کرنے کا حق دار ہے۔ دوسرا نتیجہ یہ کہ مسلم اقوام کو ایک مرتبہ پھر یہ موقعہ ملا کہ وہ یک جھُٹ ہو کر قبلہ اوّل کو مزید اسرائیلی قبضے سے بچانے کی تک و دو کریں ۔جو کچھ پچھلے چند روز سے دیکھا جا رہا ہے مسلم اقوام میں خاصی بے چینی محسوس کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے یقیناََ ان میں خاصا رابطہ اور مشاورت کا دور بھی شروع ہو گیا ہے۔ یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اگر مسلم اقوام نے یہ موقعہ گنوا دیا تو پھر غزہ یا یروشلم کو مزید تباہی سے بچانا بعید از امکان ہوگا۔ معصوم بچوں اور نہتی عورتوں کی چیخ و پُکار ، زمین بوس ہوئی عمارتیں اور ویران گلی کوچے یہی سدا دیتے ہیں کہ کہیں سے اس خون ریزی کو روکنے کی کوشش کی جائے۔ کہیں سے کوئی راحت کی سانس لینے کا موقعہ فراہم ہو۔ وہیں دوسری طرف بے گھر ہونے کے خدشے سے دوچار شیخ جراح کے مقیم اس آرزو میں دنیا سے سوال کرتے ہیں کہ اُنہیں اُن کے وجود سے الگ کرنے کی کوششوں کو کب ختم کیا جائے اور جب اُنہیں سکون کی زندگی بسر کرنے کا موقعہ فراہم کیا جائے؟ فی الحال ضرورت اس بات کی ہے کہ غزہ پر ہو رہے مظالم کو روکنے کی کوششیں تیز کی جائیں جس کے لئے عرب ممالک سمیت مشرقِ وسطیٰ کو آگے آنا ہوگا۔
رابطہ۔ہردوشیواہ زینہ گیر،سوپور کشمیر
فون۔9149468735