بلال احمد پرے
خالق ِ کائنات نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ۔ اس سے وہ سب کچھ سِکھلایا، جس سے وہ دنیا میں اپنی زندگی گزار سکتا ہے ۔ اسی زندگی کو گُزر بسر کرنے کے لئے معاشی جدوجہد بھی ضروری ہے ۔ تاکہ انسان اپنی ضروریات کو اپنے آپ پورا کر سکیں ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’ اور ہم نے تمہیں زمین میں رہنے کی جگہ دی اور اس میں تمہارے لئے روزی کے اسباب پیدا کئے ۔‘‘ (الاعراف۔ 10) ۔یہاں ہر انسان کو اپنی زندگی گزارنے کے لئے کسی نہ کسی ظاہری معاشی اَسباب کا سہارا لینے کی ہدایت دی گئی ہے اور انسان کو بے کار بیٹھنے، کاہل و سُست بننے اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے سے منع فرمایا گیا ہے ۔ لہٰذا بے کار بیٹھنے سے ہمیشہ گریز کرنا چاہئے ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’ پھر جب نماز ادا ہو جائے، تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو ۔‘‘ (الجمعہ: 10) یعنی نماز جمعہ کے لئے اذان کے فوراً بعد معاش کمانے، تجارت کرنے و دیگر کام کاج میں مشغول رہنے پر جو پابندی عائد ہوئی تھی، اس پابندی کو اب نماز ادا ہوتے ہی ہٹا دیا گیا ہے ۔ یہاں نماز جمعہ کے بعد دوبارہ روزگار حاصل کرنے کو کہا جاتا ہے ۔
چونکہ اسلام بے کار بیٹھنے کا روادار نہیں ۔ کُتبِ سیرت کی ورق گردانی سے بھی پتہ چلتا ہے کہ امام الانبیاء، شفیع المذنبین، ختم الرسل، خیر الانام سرورکونین پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت پر سرفراز ہونے سے پہلے ہی معاشی سرگرمیاں اختیار کی تھیں ۔ حالانکہ مکہ المکرمہ میں رہتے ہوئے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اہل مکہ کی بکریاں چند قیراط کے عوض میں چراتے تھے ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کسی پر بوجھ بننے کے بجائے اپنی روزی روٹی خود کمانا چاہئے اور کام پر اُجرت لینا، مزدوری کرنا، کوئی پیشہ ورانہ خدمات پر اجارہ داری کرنا نہ غیر شرعی ہے اور نہ سنت نبوی کے خلاف ہے ۔
بے روزگاری کا خاکہ:
بے روزگاری کا مسئلہ اس وقت انتہائی سنگین بن چکا ہے ۔ ملک کے دیگر ریاستوں کی طرح جموں و کشمیر میں بھی بے روزگاری کی شرح میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ جو اس وقت کل ملا کر32 فیصدی تک پہنچ گئی ہے اور خواتین میں بے روزگاری کی شرح 67.3 فیصد پہنچ چکی ہے ۔ حالیہ ہی میں یہاں ایک مؤقر روزنامہ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر یوٹی میں نومبر 2025 تک رجسٹرڑ بے روزگاروں کی تعداد 357328 تک پہنچ چکی ہے ۔ جس میں سےبالترتیب 233845 اور 127301 بے روزگار مرد و خواتین ہیں۔ اس رجسٹریشن کے تناسب سے سب سے زیادہ بے روزگاری ضلع اننت ناگ میں ہے جن کی تعداد 32298 تک پہنچ گئی ہے ۔ اس کے بعد ضلع پلوامہ جہاں یہ تعداد 28671 ہے ۔ جب کہ ضلع کشتواڑ میں یہ تعداد سب سے کم 8870 ہے ۔ اقتصادی تھنک ٹینک Centre for Monitoring Indian Economy یعنی (CMIE) نے بھی اپنی تازہ ترین رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا ہے ۔
دیکھا جائے تو موجودہ لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ یہاں کے بے روزگار نوجوانوں کو انتہائی صاف و شفاف اور منصفانہ طریقے سے میرٹ کی بنیاد پر روزگار کے وسائل فراہم کرتے آئے ہیں ۔ جو واقعی قابل تعریف اور خوش آئند اقدام ہے ۔ جے کے ایس ایس بی (JKSSB) اور پی ایس سی (JKPSC) جیسے اداروں سے مختلف آسامیوں کے لئے بہت ہی شفاف انداز سے انتخاب دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ امید ہے کہ یہ عمل اسی طرح مستقبل میں بھی رہے گا ۔
بے روزگاری کی اس بڑھتی ہوئی تعداد کو کم کرنے کے لئے سرکار کی طرف سے مشن یوتھ اور مشن یوا (Mission Youth and Mission Yuva) اپنا غیر معمولی کردار ادا کر رہا ہے ۔ جس کے اندر سوا چار لاکھ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا عزم اٹھایا گیا ہے ۔ اس مقصد کے تحت 1.37 لاکھ اینٹرپرنورشپ یونٹ ڈال دئے جائیں گے ۔ جس میں اکثر خود روزگار، اسٹارٹ اپ اور کیپیسٹی بلڈنگ (capacity building) پر زور دیا جا رہا ہے ۔ اس طرح کے اقدامات سے بے روزگاری کی شرح میں بہت حد تک قابو پایا جا سکتا ہے ۔
روزگار کے مواقع کھونے نہ دیں :
بے روزگار نوجوانوں کو چاہئے کہ جموں و کشمیر یوٹی سطح کے سبھی بڑے مسابقتی امتحانات میں شرکت کرنے کے لئے اپنے آپ کو قبل از وقت تیار کر کے رکھیں اور امتحان کے متعلق تمام جانکاری حاصل کر کے اپنے اندر جوش و جذبہ پیدا کریں ۔ قومی سطح پر مختلف زمروں کے لیے مشتہر نوٹیفیکیشن کو بھی سنجیدہ لیں اور جہاں کہیں موقع ملے، وہاں ضرور اپنا درخواست جمع کریں ۔حال ہی میں JKPSC کی طرف سے اسٹنٹ پروفیسر ہاڑرولوجی (Hydrology) اور آرکیٹیکچر (Architecture) کی سبھی اسامیوں کے لئے کسی بھی خواہشمند امیدوار نے امتحان میں مطلوب نمبرات سے کامیابی حاصل نہیں کیں ۔ اسی طرح اسٹنٹ ڈائریکٹر (ٹیکنیکل کاڑر) کے لئے کسی بھی امیدوار کے پاس مطلوب ڈگری یا تجربہ نہیں تھا ۔ گزشتہ ہفتہ اسلامک یونیورسٹی اونتی پورہ کی ایک نوٹیفکیشن کے تحت میڈیکل اسٹنٹ اور اسپورٹس اسٹنٹ زمروں کے لیے کسی بھی خواہشمند امیدوار نے مطلوب نمبرات سے امتحان کو پاس نہیں کیا ۔ جب کہ جے ٹی اے جیومیٹکس (JTA Geomatics) کی اسامی کے لئے صرف ایک امیدوار نے امتحان پاس کیا ہے ۔ اسی طرح جے ٹی او آرکیٹیکچر (JTA Architecture) اور ڑرافٹس مین (Draftsman) کی اسامیوں کے لیے صرف دو دو امیدواروں نے امتحان پاس کیا ہے ۔ اسی طرح Works Supervisor کے لئے صرف تین امیدواروں نے امتحان پاس کیا ہے ۔
مضمون تحریر کرنے تک JKSSB اور JKPSC کی طرف سے کئی زمروں کے لئے نوٹیفکیشن اجراء کی گئی تھی ۔ اس کے علاوہ کشمیر یونیورسٹی سرینگر، سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر، گاندربل اور اسلامک یونیورسٹی اونتی پورہ کی طرف سے ٹیچنگ و نان ٹیچنگ کے تحت گروپ اے، بی اور سی کے لئے بھی نوٹیفکیشن شائع کر دی گئی ہے ۔ جس کے لیے درخواست جمع کرنے کی تاریخ ابھی بدستور جاری ہے ۔لہٰذا بے روزگار نوجوانوں کو اپنے اندر ایسے سبھی امتحانات میں کامیابی حاصل کرنے کا شوق و زوق، محنت، لگن، دلچسپی اور جنون پیدا کرنا چاہئے ۔ کامیاب امیدواروں سے صلح و مشورہ لینا چاہئے ۔ جس کسی بھی امیدوار نے اپنے اندر صلاحیت، ذہانت اور محنت کرنے کا جذبہ پیدا کیا، وہ بہ آسانی اپنے منزل مقصود کو پانے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔
یہ تلخ حقیقت ہے کہ موجودہ وقت میں سبھی پڑھے لکھے نوجوانوں کو سرکاری نوکریاں ملنا ناممکن ہے جس کی وجہ سے بے شمار نوجوانوں سے بیروزگاری کا تناسب بڑھتا جا رہا ہے ۔ اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ دیگر ذرائع معاش تو بے شمار میسر ہیں، لیکن انسان کے اندر کام کرنے کی لگن، دلچسپی اور جوش موجود ہواور اکثر زمروں کے لیے تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنرمندی کی ضرورت ہوتی ہے ۔
امید اور کشمکش کے کامیاب نوجوان :
دیکھا جائے تو معاشی طور مستحکم انسان ہی دوسرے ضرورت مندوں کی امداد کر سکتا ہے اور مزید فلاح و بہبود کے کاموں میں حصّہ لے سکتا ہے ۔ قرآن کریم کی تعلیمات سے بھی یہی ہدایت ملتی ہے کہ اللہ کی راہ میں صرف ضرورت سے زائددولت ہی خرچ کی جائے ۔ جس میں سے دوسروں کا حق ہے ۔ (البقرہ؛ 219) ۔ اسی طرح حدیث نبوی ؐ کی تعلیمات ’’کہ اپنی زائد سواری یا کھانا اس سے لوٹا دے، جس کے پاس سواری یا کھانا نہیں،‘‘ جیسے مبارک ارشاد سے عدل و انصاف پر مبنی معاشی تقسیم کاری کا درس ملتا ہے ۔
اگر آپ اپنے آس پڑوس میں نظر دیکھیں گے تو آپ کو کئی ایسے لوگ نظر آئیں گے جو میٹرک یا بارھویں جماعت میں ناکام ہو کر بھی اپنی منزل سے نہیں بھاگے ہیں ۔ کئیں ایسے لوگ اس طرح کے ملیں گی جنہوں نے اپنی مرضی کے میدان سے ہٹ کر روزگار کے دوسرے مواقع میں اپنی قسمت آزمائی کی ہے ۔ اسی طرح کئی ایسے لوگ بھی ملیں گے جنہوں نے مسلسل چالیس سال کی عمر تک امید اور کشمکش کو نہیں چھوڑا، یہاں تک کہ اپنے منزل تک رسائی حاصل کیں ۔
الغرض اس طرح کی امید، جدوجہد اور موقع پانے سے بے روزگاروں کو سماج میں بہترین مقام حاصل ہو سکتا ہے ۔بے شک ’’امید‘‘ زندگی کا لنگر ہے ،اس کا سہارا چھوڑدینے سے انسانی کشتی گہرے پانی میں ڈوب جاتی ہے ،لیکن فضول اُمیدوں سے بچنا چا ہئے کیونکہ جھوٹی امیدیں احمقوں کا سرمایہ رہی ہیں۔ لہٰذا ایسے سبھی افراد کو محنت کر کے خود روزگار کمانے کی کوشش کرنی چاہئے اور بے کار بیٹھنے سے ہر وقت اجتناب کرنا چاہئے، کیونکہ بے کار بیٹھنے سے نہ صرف انسان کی ذہنی، معاشی، سماجی، اخلاقی کمزوری کا باعث بن سکتی ہے بلکہ سماج کی اقتصادی حالت کے لئے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے ۔
(رابطہ ۔ 9858109109)
[email protected]
�������������������