شخصیات
محمد شفیع ساگر
غلام نبی ضیا کی پیدائش مشکوہ کے ایک معزز اور متوسط خاندان میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم پرائمری اسکول مشکوہ سے حاصل کی، جبکہ مڈل اسکول مراد باغ سے آٹھویں جماعت کامیابی سے مکمل کی۔ بعد ازاں ہائی اسکول دراس سے میٹرک کیا اور ہائر سیکنڈری اسکول کرگل سے ٹی ڈی سی کی ڈگری حاصل کی۔ تعلیم کے بعد محکمۂ ڈاک میں بطور پوسٹل اسسٹنٹ خدمات کا آغاز کیا۔
ریڈیو اور ٹی وی سے دلچسپی ابتدا ہی سے ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو رہی۔ دورانِ ملازمت ڈسٹنس ایجوکیشن کے ذریعے انسٹی ٹیوٹ آف جرنلزم، نئی دہلی سے جرنلزم کی ڈگری حاصل کی، جو ان کے شوق کو باقاعدہ پیشہ ورانہ سمت دینے کا سبب بنی۔
غلام نبی ضیا ہمیشہ قوم اور ملت کی خدمت میں پیش پیش رہے ہیں۔ انہیں اپنے علاقے کے لوگوں سے اور یہاں کی تہذیب و ثقافت سے گہرا اور والہانہ لگاؤ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موصوف آج بھی سماج کے مسائل کے بارے میں متفکر دکھائی دیتے ہیں اور سماجی ترقی کے سفر میں سرگرم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی میں کئی اُتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔انہی میں سے چند واقعات قارئین کی دلچسپی کے لیے قلم بند کیے جا رہے ہیں۔
فیروز احمد (ڈی سی) کے دور میں دراس میں چار زیڈ ای اوز کی ٹرانسفر کے معاملے پر حالات کشیدہ ہوئے اور کرفیو تک نوبت آئی۔ اس نازک مرحلے پر غلام نبی ضیا نے مفاہمت اور دانشمندی سے اختلافات کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی عرصے میں چند باہمت نوجوانوں کے ساتھ مل کر “شائنگ اسٹار” کے نام سے ایک این جی او قائم کی۔
انہوں نے اُس وقت کے سیاسی رہنماؤں، بشمول حاجی غلام نبی کھربو، حاجی رزاق نگوی، حاجی شفیع میراور کریم محمد گوشن کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا۔ مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کا خاتمہ ہوا۔ بعد ازاں ڈی سی فیروز کی موجودگی میں ایک شاندار پروگرام اور پولو میچ کا انعقاد کیا گیا، جبکہ کرگل انتظامیہ کو دراس ڈاک بنگلہ میں مدعو کیا گیا۔ یہ اقدام اتحاد و ہم آہنگی کی روشن مثال ثابت ہوا، اور اس موقع پر “شائنگ اسٹار” کو 5000 روپے کا کیش ایوارڈ دیا گیا۔
اسی سال غلام نبی ضیا کو کرگل انتظامیہ کی جانب سے یومِ جمہوریہ پر ضلع سطح کا پہلا اعزاز ملا۔ بعد ازاں یوتھ ہوسٹل ایسوسی ایشن آف انڈیا سے وابستہ ہوئے۔ اس دوران اُس وقت کے اسپورٹس منسٹر موکُل واسنک سے ملاقات ہوئی، جن کے تعاون سے ہر سال دراس کے 15 لڑکوں اور لڑکیوں کو دہلی میں یومِ جمہوریہ کی تقریبات دکھانے کا پروگرام شروع کیا گیا، جو چار برس تک کامیابی سے جاری رہا۔
وزارتِ اسپورٹس کے تعاون سے پولو اور دیگر کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد کیا، جبکہ ان کی کوششوں سے پہلی بار دراس سے سانکو/من من ٹاپ کی جانب یوتھ ہوسٹل ایسوسی ایشن کے تحت ٹریکنگ پروگرام کا آغاز ہوا، جس سے دراس سیاحت کے نقشے پر نمایاں ہوا۔
ملٹنسی کے مشکل دور میں سری نگر میں نیشنل انٹیگریشن کیمپ منعقد کیا۔ بعد ازاں دراس میں لداخ کا پہلا این آئی سی منعقد ہوا، جس میں تقریباً 200 نوجوانوں نے شرکت کی۔ اس تسلسل کو زانسکار تک بڑھایا گیا۔
انہوں نے یوتھ ہوسٹل ایسوسی ایشن آف انڈیا کے تحت ہماچل پردیش میں 15 روزہ ٹریکنگ پروگرام میں دو سال بطور کو-ڈائریکٹر خدمات انجام دیں اور 2002میں بھوپال میں پہلے یوتھ اُتسو کی قیادت کی۔
سماجی خدمات کے اعتراف میں ریاستی گورنر ایوارڈ سے نوازے گئے۔ کرگل جنگ کے دوران ملکی و بین الاقوامی میڈیا کے ساتھ کام کیا اور انتظامیہ کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھا۔ اُس وقت کے ڈی سی شیلن کوبرا اور دیگر افسران نے خدمات کو سراہا، جبکہ 14 کور کے کمانڈر ارجن رائے کی جانب سے سند اور انعام دیا گیا۔
سری نگر میں ملٹنسی کے بعد پہلی بار بخشی اسٹیڈیم میں پولو میچ کے انعقاد میں نمایاں کردار ادا کیا۔ آرمی کے سدبھاونہ پروگرام کے تحت 32 مختصر فلمیں تیار کیں، جس پر ناردرن کمانڈ کی جانب سے ایوارڈ حاصل کیا۔
لیہ کے سیلاب کے دوران لیہ انتظامیہ نے یومِ جمہوریہ اعزاز سے نوازا۔ مختلف سماجی تنظیموں، بشمول سرحد اور گاندھی گلوبل فیملی کے ساتھ بھی فعال کردار ادا کیا۔
صحافت کے میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ کرگل کے پہلے اخبار “کرگل نمبر” میں بطور صحافی کام کیا، بعد ازاں پرنٹ میڈیا سے الیکٹرانک میڈیا کی جانب رخ کیا اور ای ٹی وی کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ ان کا مقصد دراس اور لداخ کو عالمی سطح پر متعارف کرانا تھا، جس میں خاطر خواہ کامیابی حاصل ہوئی۔ آج بھی بطور صحافی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
غلام نبی ضیا کی زندگی ایک دلچسپ کتاب کی طرح ہے ۔ان کی زندگی ایک ایسے چراغ کی طرح ہے جو وقت کی تیز و تُند آندھیاں بھی نہ بجھا سکیں ۔ ایک ایسا چراغ جو آج بھی جگمگاتے ہوئے لوگوں کی رہنمائی کر رہا ہے ۔ آج ان کا اپنا اخبار رائزنگ لداخ کے نام سے شائع ہو رہا ہے جس میں لداخ کے مسائل اور خبریں اردو اور انگریزی زبان میں لوگوں تک پہنچ رہی ہیں ۔ غلام نبی ضیا صاحب پچھلے تین سال سے کشمیر عظمی سے بھی منسلک ہیں ۔
کرگل جنگ کے زمینی حقائق پر مبنی ان کی کتاب آخری مراحل میں ہے۔